52- بَاب ثَوَابِ الْقُرْآنِ
۵۲- باب: تلاوتِ قرآن کے ثواب کا بیان
3779- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " الْمَاهِرُ بِالْقُرْآنِ مَعَ السَّفَرَةِ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ، وَالَّذِي يَقْرَؤُهُ يَتَتَعْتَعُ فِيهِ، وَهُوَ عَلَيْهِ شَاقٌّ لَهُ أَجْرَانِ اثْنَانِ "۔
* تخريج: خ/تفسیر القرآن ۷۹ (۴۹۳۷)، م/المسافرین ۳۸ (۷۹۸)، د/الصلاۃ ۳۴۹ (۱۴۵۴)، ت/فضائل القرآن ۱۳ (۲۹۰۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۱۰۲)، وقد أخرجہ: حم (۶/۴۸، ۹۴، ۹۸، ۱۱۰، ۱۷۰، ۱۹۲، ۲۳۹، ۲۶۶)، دي/فضائل القرآن ۱۱ (۳۴۱۱) (صحیح)
۳۷۷۹- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جو شخص قرآن کے پڑھنے میں ماہر ہو، وہ معزز اور نیک سفراء (فرشتوں) کے ساتھ ہو گا، اور جو شخص قرآن کو اٹک اٹک کر پڑھتا ہو اور اسے پڑھنے میں مشقت ہوتی ہو تو اس کو دو گنا ثواب ہے''۱؎۔
وضاحت۱؎: ایک تلاوت کا، دوسرے محنت کرنے کا۔
3780- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَنَا شَيْبَانُ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " يُقَالُ لِصَاحِبِ الْقُرْآنِ إِذَا دَخَلَ الْجَنَّةَ: اقْرَأْ وَاصْعَدْ، فَيَقْرَأُ وَيَصْعَدُ بِكُلِّ آيَةٍ دَرَجَةً، حَتَّى يَقْرَأَ آخِرَ شَيْئٍ مَعَهُ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۴۲۲۶، ومصباح الزجاجۃ:۱۳۲۰)، وقد أخرجہ: حم (۳/۴۰) (صحیح) (سند میں عطیہ العوفی ضعیف راوی ہیں، لیکن دوسرے طریق سے یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الصحیحہ: ۲۲۴۰، صحیح أبی داود : ۱۳۱۷)
۳۷۸۰- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''قرآن کی تلاوت کرنے والے سے، یا حافظ قرآن سے جب وہ جنت میں داخل ہو گا کہا جائے گا: ''پڑھتا جا اور اوپر چڑھتا جا، تو وہ پڑھتا اور چڑھتا چلا جائے گا، وہ ہر آیت کے بدلے ایک درجہ ترقی کرتا چلا جائے گا، یہاں تک کہ جو اسے یاد ہو گا وہ سب پڑھ جائے گا''۔
3781- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " يَجيئُ الْقُرْآنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَالرَّجُلِ الشَّاحِبِ، فَيَقُولُ: أَنَا الَّذِي أَسْهَرْتُ لَيْلَكَ، وَأَظْمَأْتُ نَهَارَكَ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۹۵۳، ومصباح الزجاجۃ: ۱۳۲۱)، وقد أخرجہ:حم (۵/۳۴۸، ۳۵۲، ۳۶۱)، دي/فضائل القران ۱۵ (۳۴۳۴) (حسن) (سند میں بشیر بن مہاجر لین الحدیث ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: الصحیحہ: ۲۸۳۷)
۳۷۸۱- بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''قیامت کے دن قرآن ایک تھکے ماندے شخص کی صورت میں آئے گا، اور حافظ قرآن سے کہے گا کہ میں نے ہی تجھے رات کو جگائے رکھا، اور دن کو پیاسا رکھا'' ۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی دن کو صوم رکھتا تھا اور رات کو قرآن پڑھتا یا قرآن سنتا تھا پس سننے والوں کو بھی ایسا ہی کہے گا۔
3782- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ أَنْ يَجِدَ فِيهِ ثَلاثَ خَلِفَاتٍ عِظَامٍ سِمَانٍ؟ " قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: " فَثَلاثُ آيَاتٍ يَقْرَؤُهُنَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلاتِهِ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ ثَلاثِ خَلِفَاتٍ سِمَانٍ عِظَامٍ " ۔
* تخريج: م/المسافرین ۴۱ (۸۰۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۴۷۱)، وقد أخرجہ: حم (۲/۳۹۶، ۴۶۶، ۴۹۶) دي/فضائل القرآن ۱ (۳۳۵۷) (صحیح)
۳۷۸۲- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ جب وہ اپنے گھر لوٹ کر جائے تو اسے تین بڑی موٹی حاملہ اونٹنیاں گھر پر بندھی ہوئی ملیں؟ ''ہم نے عرض کیا: ہاں (کیوں نہیں) آپ ﷺ نے فرمایا: ''تم میں سے جب کوئی شخص صلاۃ میں تین آیتیں پڑھتا ہے، تو یہ اس کے لئے تین بڑی موٹی حاملہ اونٹنیوں سے افضل ہیں''۔
3783- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الأَزْهَرِ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " مَثَلُ الْقُرْآنِ مَثَلُ الإِبِلِ الْمُعَقَّلَةِ، إِنْ تَعَاهَدَهَا صَاحِبُهَا بِعُقُلِهَا أَمْسَكَهَا عَلَيْهِ، وَإِنْ أَطْلَقَ عُقُلَهَا ذَهَبَتْ "۔
* تخريج: م/المسافرین ۳۲ (۷۸۹)، ت/القراء ات ۱۰۰ (۲۹۴۲)، (تحفۃ الأشراف: ۷۵۴۶)، وقد أخرجہ: خ/فضائل القرآن ۲۳ (۵۰۳۱)، ن/الافتتاح ۳۷ (۹۴۳)، ط/القرآن ۴ (۶)، حم (۲/۱۷، ۲۳، ۳۰، ۶۴، ۱۱۲) (صحیح)
۳۷۸۳- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''قرآن کی مثال بندھے ہوئے اونٹ کی طرح ہے جب تک مالک اسے باندھ کر دیکھ بھال کرتا رہے گا تب تک وہ قبضہ میں رکھے گا، اور جب اس کی رسی کھول دے گا تو وہ بھاگ جائے گا''۱؎۔
وضاحت۱؎: اس لیے حافظ قرآن کو چاہئے کہ وہ پابندی سے قرآن کریم کی تلاوت کرتا رہے، کیونکہ اگر وہ اسے پڑھنا ترک کر دے گا، تو بھول جائے گا پھر اس کی ساری محنت ضائع ہو جائے گی۔
3784- حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: " قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: قَسَمْتُ الصَّلاةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي شَطْرَيْنِ، فَنِصْفُهَا لِي وَنِصْفُهَا لِعَبْدِي،وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ " قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " اقْرَئُوا: يَقُولُ الْعَبْدُ: {الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ}، فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: حَمِدَنِي عَبْدِي،وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ، فَيَقُولُ: {الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ}،فَيَقُولُ: أَثْنَى عَلَيَّ عَبْدِي، وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ، يَقُولُ: {مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ} فَيَقُولُ اللَّهُ: مَجَّدَنِي عَبْدِي، فَهَذَا لِي، وَهَذِهِ الآيَةُ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي نِصْفَيْنِ، يَقُولُ الْعَبْدُ: {إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ}، يَعْنِي: فَهَذِهِ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي، وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ، وَآخِرُ السُّورَةِ لِعَبْدِي، يَقُولُ الْعَبْدُ: { اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ، صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ}،فَهَذَا لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ " ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۰۴۵)، وقد أخرجہ: م/الصلاۃ ۱۱ (۳۹۵)، د/الصلاۃ ۱۳۶ (۸۲۱)، ت/تفسیر الفاتحۃ ۲ (۱) (۲۹۵۳)، ن/الافتتاح ۲۳ (۹۱۰)، ط/الصلاۃ ۹ (۳۹) حم (۲/۲۴۱، ۲۵۰، ۲۸۵، ۲۹۰، ۴۵۷، ۴۷۸) (صحیح)
۳۷۸۴- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ''اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں نے صلاۃ کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے، آدھا میرے لئے ہے، اور آدھا میرے بندے کے لئے، اور میرے بندے کے لئے وہ ہے جو وہ مانگے''، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''تم پڑھو!، جب بندہ {الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے میری حمد ثنا بیان کی، اور بندے کے لئے وہ ہے جو وہ مانگے، اور جب بندہ {الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ } کہتا ہے تو اللہ تعالی فرماتا ہے: میرے بندے نے میری تعریف کی، اور میرے بندے کے لئے وہ ہے جو وہ مانگے، پھر جب بندہ {مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ} کہتا ہے تو اللہ تعالی فرما تا ہے: میرے بندے نے میری عظمت بیان کی تو یہ میرے لئے ہے، اور یہ آیت میرے اور میرے بندے کے درمیان آدھی آدھی ہے، یعنی پھر جب بندہ {إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ} کہتا ہے تو اللہ تعالی فرماتا ہے: یہ آیت میرے اور میرے بندے کے درمیان آدھی آدھی ہے، اور میرے بندے کے لئے وہ ہے جو وہ مانگے، اور سورت کی اخیر آیتیں میرے بندے کے لئے ہیں، پھر جب بندہ {اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ، صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ} کہتا ہے تو اللہ فرماتا ہے: یہ میرے بندہ کے لئے ہے اور میرے بندے کے لئے وہ ہے جو وہ مانگے''۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی میں اپنے بندے کو سیدھی راہ بتلائوں گا، سورہ فاتحہ میں سات آیتیں ہیں، پہلی تین آیتوں میں تو خاص اللہ تعالی کی عظمت کا بیان ہے، اور پچھلی تین آیتوں میں بندہ دعا کرتا ہے، تو وہ بندے سے متعلق ہیں، اور ایک آیت یعنی
{إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ} یہ اللہ تعالی اور بندے دونوں کے درمیان ہے کیونکہ اس میں بندے نے اپنا حال بیان کیا ہے، اور اللہ تعالی کی بڑائی بھی اس نکلتی ہے کہ وہی عبادت اور استعانت کے لائق ہے، اور ساتویں آیت:
{غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلاالضَّالِّينَ} ہے اور چھٹی آیت:
{أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ} پر ختم ہوتی ہے، اس حدیث سے اور اس معنی کی دوسری احادیث سے معلوم ہوا کہ بسم اللہ الرحمن الرحیم سورہ فاتحہ کی مستقل آیت نہیں ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔
3785- حَدَّثَنَاأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ الْمُعَلَّى قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " أَلا أُعَلِّمُكَ أَعْظَمَ سُورَةٍ فِي الْقُرْآنِ قَبْلَ أَنْ أَخرُجَ مِنَ الْمَسْجِدِ؟ " قَالَ: فَذَهَبَ النَّبِيُّ ﷺ لِيَخْرُجَ، فَأَذْكَرْتُهُ فَقَالَ: " الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَهِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ الَّذِي أُوتِيتُهُ "۔
* تخريج: خ/تفسیر الفاتحۃ ۱ (۴۴۷۴)، تفسیرالأنفال ۳ (۴۶۴۷)، وتفسیر الحجر ۳ (۴۷۰۳)، فضائل القرآن ۹ (۵۰۰۶)، د/الصلاۃ ۳۵۰ (۱۴۵۸)، ن/الافتتاح ۳۶ (۹۱۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۰۴۷)، وقد أخرجہ: ط/الصلاۃ ۷ (۳۷)، حم (۳/۴۵۰، ۴/۲۱۱)، دي/الصلاۃ ۱۷۲ (۱۵۳۳)، فضائل القرآن ۱۲ (۳۴۱۶) (صحیح)
۳۷۸۵- ابو سعید بن معلّیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ''کیا میں مسجد سے نکلنے سے پہلے تمہیں وہ سورت نہ سکھاؤں جو قرآن مجید میں سب سے عظیم سورت ہے، پھر آپ ﷺ جب مسجد سے باہر نکلنے لگے تو میں نے آپ کو یاد دلایا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''وہ سورت ''الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ '' ہے جوسبع مثانی ہے، اور قرآن عظیم ہے، جو مجھے عطا کیا گیا ہے''۱؎۔
وضاحت۱؎: سورہ فاتحہ کو ''سبع'' اس لئے کہا گیا کہ اس میں سات آیات ہیں، اور ''مثانی'' کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اس سورہ میں سات الفاظ مکرر آئے ہیں، اور بعض کا کہنا ہے کہ یہ سورہ ہر صلاۃ میں متعدد بار پڑھی جاتی ہے، اس لئے اسے مثانی کہا گیا۔
3786- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبَّاسٍ الْجُشَمِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: " إِنَّ سُورَةً فِي الْقُرْآنِ، ثَلاثُونَ آيَةً، شَفَعَتْ لِصَاحِبِهَا، حَتَّى غُفِرَ لَهُ: { تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ} "۔
* تخريج: د/الصلاۃ ۳۲۷ (۱۴۰۰)، ت/فضائل القرآن ۹ (۲۸۹۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۵۵۰)، وقد أخرجہ: دي/فضائل القرآن ۲۳ (۳۴۵۳) (صحیح)
۳۷۸۶- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''قرآن میں ایک سورت ہے جس میں تیس آیتیں ہیں وہ اپنے پڑھنے والے کے لئے (اللہ تعالیٰ سے) سفارش کرے گی، حتیٰ کہ اس کی مغفرت کر دی جائے گی، اور وہ سورہ {تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ} ہے''۔
3787- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلالٍ، حَدَّثَنِي سُهَيْلٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ}، تَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ "۔
* تخريج: ت/فضائل القرآن ۱۱ (۲۸۹۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۶۷۱)، وقد أخرجہ: م/ المسافرین ۴۵ (۸۱۲) (صحیح)
۳۷۸۷- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول ﷺ نے فرمایا: ''{قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} (یعنی سورہ اخلاص) (ثواب میں) تہائی قرآن کے برابر ہے''۱؎۔
وضاحت۱؎: کیونکہ قرآن کریم تین قسم کے مضامین پر مشتمل ہے: توحید باری تعالیٰ، اخبار امم اور احکام شریعت، اور اس سورہ میں عقیدہ توحید کو بہت خوش اسلوبی سے بیان کیا گیا ہے، اس لیے اس کو ایک تہائی قرآن کے برابر کہا گیا ہے۔ دیکھئے تفسیر سورہ اخلاص تالیف شیخ الإسلام ابن تیمیہ۔
3788- حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلاَّلُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ}، تَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۵۰)، وقد أخرجہ: ت/فضائل القرآن ۱۱ (۲۸۹۹)، دي/فضائل القرآن ۲۴ (۳۴۷۵) (صحیح)
۳۷۸۸- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''{قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ}(یعنی سورہ اخلاص) (ثواب میں) تہائی قرآن کے برابر ہے''۔
3789- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ الأَوْدِيِّ، عَنْ عَمْرِوبْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " اللَّهُ أَحَدٌ، الْوَاحِدُ الصَّمَدُ، تَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۰۰۱، ومصباح الزجاجۃ: ۱۳۲۲)، وقد أخرجہ: حم (۴/۱۲۲) (صحیح)
۳۷۸۹- ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''{اللَّهُ أَحَدٌ،الْوَاحِدُ الصَّمَدُُ} (یعنی سورہ اخلاص ثواب میں) تہائی قرآن کے برابر ہے''۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی یہ کلمات ثواب میں تہائی قرآن کے برابر ہیں بعض نسخوں میں یوں ہے:
{قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ الصَّمَدُ} تہائی قرآن کے برابر ہے۔