14- بَاب الْمَشْيِ إِلَى الصَّلاةِ
۱۴- باب: صلاۃ کے لئے چل کر مسجد جانے کا بیان
774- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ أَتَى الْمَسْجِدَ لا يَنْهَزُهُ إِلا الصَّلاةُ، لا يُرِيدُ إِلا الصَّلاةَ، لَمْ يَخْطُ خَطْوَةً إِلا رَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً، وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً، حَتَّى يَدْخُلَ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ كَانَ فِي صَلاةٍ، مَا كَانَتِ الصَّلاةُ تَحْبِسُهُ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۵۵۲) (الف)، وقد أخرجہ: خ/الأذان ۳۰ (۶۴۷)، د/الصلاۃ ۴۹ (۵۵۹)، ت/الجمعۃ ۷۰ (۳۳۰)، حم (۲/۱۷۶) (صحیح)
۷۷۴- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جب کوئی شخص اچھی طرح وضو کرے، پھر مسجد آئے، اور صلاۃ ہی اس کے گھر سے نکلنے کا سبب ہو، اور وہ صلاۃ کے علاوہ کوئی اور ارادہ نہ رکھتا ہو، تو ہر قدم پہ اللہ تعالی اس کا ایک درجہ بلند کرتا ہے اور ایک گناہ مٹاتا ہے، یہاں تک کہ مسجد میں داخل ہو جائے، پھر مسجد میں داخل ہو گیا تو جب تک صلاۃ اسے روکے رکھے صلاۃ ہی میں رہتا ہے''۔
775- حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ الْعُثْمَانِيُّ، مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، وَأَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: <إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلاةُ فَلا تَأْتُوهَا وَأَنْتُمْ تَسْعَوْنَ، وَأْتُوهَا تَمْشُونَ، وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ، فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا، وَمَافَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا>۔
* تخريج: حدیث سعید بن المسیب أخرجہ: م/المساجد ۲۸ (۶۰۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۱۰۳)، وحدیث أبي سلمۃ أخرجہ: م/المساجد ۲۸ (۶۰۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۱۲۸)، وقد أخرجہ: خ/الاذان ۲۱ (۶۳۶)، الجمعۃ ۱۸ (۹۰۸)، د/الصلاۃ ۵۵ (۵۷۲)، ت/الصلاۃ ۱۲۷ (۳۲۷)، ن/الإمامۃ ۵۷ (۸۶۲)، ط/الصلاۃ ۱ (۴)، حم (۲/۲۷۰، ۲۸۲، ۳۱۸، ۳۸۲، ۳۸۷، ۴۲۷، ۴۵۲،۴۶۰، ۴۷۲، ۴۸۹، ۵۲۹، ۵۳۲، ۵۳۳)، دي/الصلاۃ ۵۹ (۱۳۱۹) (صحیح)
۷۷۵- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جب صلاۃ کے لئے اقامت کہہ دی جائے تو دوڑتے ہوئے نہ آؤ، بلکہ اطمینان سے چل کر آؤ، امام کے ساتھ جتنی صلاۃ ملے پڑھ لو، اور جو چھوٹ جائے اسے پوری کرلو''۱؎۔
وضاحت۱؎: امام ترمذی نے کہا: علماء نے اس مسئلہ میں اختلاف کیا ہے، بعضوں نے کہا: جب تکبیر اولیٰ چھوٹ جانے کا ڈر ہو تو جلد چلے، اور بعضوں سے دوڑنا بھی منقول ہے، اور بعضوں نے جلدی چلنا، اور دوڑنا دونوں کو مکروہ کہا ہے، اور کہا ہے کہ سہولت اور اطمینان سے چلنا چاہئے، امام احمد اور اسحاق کا یہی قول ہے، اور یہی صحیح ہے، اور اس حدیث میں ایسا ہی حکم ہے دوڑنے اور جلدی کرنے میں سوائے پریشانی کے کوئی فائدہ نہیں۔
776- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ ابْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: <أَلا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يُكَفِّرُ اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا وَيَزِيدُ بِهِ فِي الْحَسَنَاتِ؟>، قَالُوا: بَلَى، يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: <إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عِنْدَ الْمَكَارِهِ، وَكَثْرَةُ الْخُطَى إِلَى الْمَسَاجِدِ، وَانْتِظَارُ الصَّلاةِ بَعْدَ الصَّلاةِ>۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۴۰۴۶، ومصباح الزجاجۃ: ۲۹۲)، وقد أخرجہ: حم (۳/۳، ۱۶، ۹۵) (حسن صحیح)
۷۷۶- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ''کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جس سے اللہ گناہوں کو معاف کرتا اور نیکیوں میں اضافہ کرتا ہے؟''، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: ہاں، ضرور بتائیے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: ''دشواری و ناپسندیدگی کے باوجود پورا وضو کرنا، مسجدوں کی جانب دور سے چل کر جانا، اور ایک صلاۃ کے بعد دوسری صلاۃ کا انتظار کرنا''۱؎۔
وضاحت۱؎: وضو کا پورا کرنا یہ ہے کہ سب اعضاء کو پانی پہنچائے کوئی مقام سوکھا نہ رہے، اور آداب و سنن کے ساتھ وضو کرے، اور مسجدوں کی جانب دور سے چل کر جانے کا یہ مطلب ہے کہ مسجد مکان سے دور ہو اور جماعت کے لئے وہاں جائے، جتنی مسجد زیادہ دور ہو گی اتنے ہی قدم زیادہ اٹھانے پڑیں گے، اور ہر قدم پر ثواب ملتا رہے گا، اور ایک صلاۃ کے بعد دوسری صلاۃ کے انتظار میں مسجد میں بیٹھا رہنا بڑا ثواب ہے، دوسری حدیث میں ہے کہ انتظار میں برابر صلاۃ کا ثواب ملتا رہے گا۔
777- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ الْهَجَرِيِّ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ؛ قَالَ: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَلْقَى اللَّهَ غَدًا مُسْلِمًا، فَلْيُحَافِظْ عَلَى هَؤُلاءِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ، حَيْثُ يُنَادَى بِهِنَّ، فَإِنَّهُنَّ مِنْ سُنَنِ الْهُدَى، وَإِنَّ اللَّهَ شَرَعَ لِنَبِيِّكُمْ ﷺ سُنَنَ الْهُدَى، وَلَعَمْرِي، لَوْ أَنَّ كُلَّكُمْ صَلَّى فِي بَيْتِهِ، لَتَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ، وَلَوْ تَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ لَضَلَلْتُمْ، وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا يَتَخَلَّفُ عَنْهَا إِلا مُنَافِقٌ، مَعْلُومُ النِّفَاقِ، وَلَقَدْ رَأَيْتُ الرَّجُلَ يُهَادَى بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ حَتَّى يَدْخُلَ فِي الصَّفِّ، وَمَا مِنْ رَجُلٍ يَتَطَهَّرُ فَيُحْسِنُ الطُّهُورَ، فَيَعْمِدُ إِلَى الْمَسْجِدِ فَيُصَلِّي فِيهِ، فَمَا يَخْطُو خَطْوَةً إِلا رَفَعَ اللَّهُ لَهُ بِهَا دَرَجَةً، وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۹۴۹۵)، وقد أخرجہ: م/المساجد ۴۴ (۶۵۴)، د/الصلاۃ ۴۷ (۵۵۰)، ن/الإمامۃ ۵۰ (۸۵۰)، حم (۱/۳۸۲، ۴۱۴، ۴۱۵) (صحیح) (سند میں ابراہیم بن مسلم لین الحدیث ہیں، اور صحیح مسلم میں ''ولعمری'' کے بغیر یہ حدیث ہے، نیز ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: ۵۵۹، والإرواء: ۴۸۸ )
۷۷۷- عبد اللہ بن مسعو د رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جس شخص کو خوشی ہو کہ وہ کل اللہ تعالی سے اسلام کی حالت میں ملاقات کرے تو جب اور جہاں اذان دی جائے ان پانچوں مصلیوں کی پابندی کرے، کیوں کہ یہ ہدایت کی راہیں ہیں، اور اللہ تعالی نے تمہارے نبی کے لئے ہدایت کے راستے مقرر کئے ہیں، قسم سے اگر تم میں سے ہر ایک اپنے گھر میں صلاۃ پڑھ لے، تو تم نے اپنے نبی کا راستہ چھوڑ دیا، اور جب تم نے اپنے نبی کا راستہ چھوڑ دیا تو گم راہ ہو گئے، ہم یقینی طور پر دیکھتے تھے کہ صلاۃ سے پیچھے صرف وہی رہتا جو کھلا منافق ہوتا، اور واقعی طور پر (عہد نبوی ﷺ میں) ایک شخص دو آدمیوں پر ٹیک دے کر مسجد میں لایا جاتا، اور وہ صف میں شامل ہوتا، اور جو شخص اچھی طرح وضو کرے اور مسجد کا ارادہ کرکے نکلے، پھر اس حالت میں صلاۃ پڑھے، تو وہ جو قدم بھی چلے گا ہر قدم پر اللہ تعالی اس کا ایک درجہ بلند فرمائے گا، اور ایک گناہ مٹا دے گا''۱؎۔
وضاحت۱؎: اس حدیث سے صاف طور پر ثابت ہوتا ہے کہ صلاۃ باجماعت فرض ہے، جمہور علماء اس کو سنت مؤکدہ کہتے ہیں، ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس کے چھوڑ دینے کو گمراہی قرار دیا، ابو داود کی روایت میں ہے کہ تم کافر ہو جاؤ گے، تارک جماعت کو منافق بتلایا اگر وہ اس کا عادی ہے، ورنہ ایک یا دو بار کے ترک سے آدمی منافق نہیں ہوتا، ہاں نفاق پیدا ہوتا ہے، کبھی کبھی مسلمان بھی جماعت سے پیچھے رہ جاتا ہے۔
778- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التُّسْتَرِيُّ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْمُوَفَّقِ أَبُو الْجَهْمِ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "مَنْ خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ إِلَى الصَّلاةِ فَقَالَ: ''اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِحَقِّ السَّائِلِينَ عَلَيْكَ، وَأَسْأَلُكَ بِحَقِّ مَمْشَايَ هَذَا، فَإِنِّي لَمْ أَخْرُجْ أَشَرًا وَلا بَطَرًا وَلا رِيَائً وَلا سُمْعَةً، وَخَرَجْتُ اتِّقَائَ سُخْطِكَ وَابْتِغَائَ مَرْضَاتِكَ، فَأَسْأَلُكَ أَنْ تُعِيذَنِي مِنَ النَّارِ وَأَنْ تَغْفِرَ لِي ذُنُوبِي، إِنَّهُ لا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلا أَنْتَ''، أَقْبَلَ اللَّهُ عَلَيْهِ بِوَجْهِهِ، وَاسْتَغْفَرَ لَهُ سَبْعُونَ أَلْفِ مَلَكٍ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۴۲۳۲، ومصباح الزجاجۃ: ۲۹۳)، وقد أخرجہ: حم (۳/۲۱)
(ضعیف) (سند میں عطیہ العوفی، فضیل بن مرزوق اور فضل بن موفق سب ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: الضعیفہ: ۲۴)
۷۷۸- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جو شخص اپنے گھر سے صلاۃ کے لئے نکلے اور یہ دعا پڑھے:''اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِحَقِّ السَّائِلِينَ عَلَيْكَ، وَأَسْأَلُكَ بِحَقِّ مَمْشَايَ هَذَا، فَإِنِّي لَمْ أَخْرُجْ أَشَرًا وَلا بَطَرًا وَلا رِيَاءً وَلا سُمْعَةً، وَخَرَجْتُ اتِّقَاءَ سُخْطِكَ وَابْتِغَاءَ مَرْضَاتِكَ، فَأَسْأَلُكَ أَنْ تُعِيذَنِي مِنَ النَّارِ وَأَنْ تَغْفِرَ لِي ذُنُوبِي، إِنَّهُ لا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلا أَنْتَ''
(اے اللہ! میں تجھ سے اس حق۱؎ کی وجہ سے مانگتا ہوں جو مانگنے والوں کا تجھ پر ہے، اور اپنے اس چلنے کے حق کی وجہ سے، کیوں کہ میں غرور، تکبر، ریا اور شہرت کی نیت سے نہیں نکلا، بلکہ تیرے غصے سے بچنے اور تیری رضا چاہنے کے لئے نکلا، میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو مجھے جہنم سے پناہ دے دے، اور میرے گناہوں کو معاف کر دے، اس لئے کہ گناہوں کو تیرے علاوہ کوئی نہیں معاف کر سکتا) تو اللہ تعالی اس کی جانب متوجہ ہو گا، اور ستر ہزار فرشتے اس کے لئے دعائے مغفرت کریں گے''۔
وضاحت۱؎: اگرچہ اللہ تعالیٰ پر کسی کا کوئی ایسا حق لازم نہیں ہے جس کا کرنا اس کو ضروری ہو کیونکہ وہ ہمارا مالک و مختار ہے جو چاہے سو کرے، اس سے کسی کی مجال نہیں کہ کچھ پوچھ بھی سکے، پر ہمارے مالک نے اپنی عنایت اور فضل سے بندوں کے حق اپنے ذمے لئے ہیں، جن کو وہ ضرور پورا کرے گا، اس لئے کہ وہ سچا ہے، اس کا وعدہ بھی سچا ہے، اہل سنت کا یہی مذہب ہے۔
معتزلہ اپنی گمراہی سے یہ خیال کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ پر نیک بندوں کو جنت میں لے جانا، اور بروں کو سزا دینا واجب ہے اور ہم یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ایسا وعدہ کیا ہے، لیکن واجب اس پر کچھ نہیں ہے، نہ کسی کا کوئی زور بھی اس پر چل سکتا ہے، نہ کسی کی مجال ہے کہ اس کے سامنے کوئی ذرا بھی چون وچرا کر سکے، اگر وہ چاہے تو دم بھر میں سب بد کاروں اور کافروں اور منافقوں کو بخش دے، اور ان کو جنت میں لے جائے، اور جتنے نیک اور عابد اور متقی بندے ہیں، ان سب کو جہنم میں ڈال دے، غرض یہ سب کچھ اس کی قدرت کے لحاظ سے ممکن ہے، اور اس کو ایسا اختیار ہے، اگرچہ ایسا ظہور میں نہ آئے گا، کیونکہ اس کا وعدہ سچا ہے، اور اس نے وعدہ کیا ہے کہ نیک بندوں کو میں جنت میں لے جاؤں گا، اور کافروں کو جہنم میں، ایسا ہی ہو گا اور اس کی بعینہ مثال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ خاتم النبیین ہیں، اور آپ کا مثل نہیں بناؤں گا، لیکن اگر وہ چاہے تو دم بھر میں آپ کی مثل ہزاروں لاکھوں بندے بنا ڈالے کیونکہ اس کی قدرت بے انتہا وسیع ہے، اور افسوس ہے کہ ایک ایسی کھلی بات بعض لوگوں کے سمجھ میں نہیں آتی۔
779- حَدَّثَنَا رَاشِدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ رَاشِدٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <الْمَشَّائُونَ إِلَى الْمَسَاجِدِ فِي الظُّلَمِ، أُولَئِكَ الْخَوَّاضُونَ فِي رَحْمَةِ اللَّهِ>۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۵۵۵، ومصباح الزجاجۃ: ۲۹۴) (ضعیف) (اس حدیث کی سند میں ابو رافع اسماعیل بن رافع ضعیف ہیں، نیز ولید بن مسلم مدلس ہیں، اور یہاں عنعنہ سے روایت کی ہے، نیز ملاحظہ ہو: ا لضعیفہ: ۲۰۵۹)
۷۷۹- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''تاریکیوں میں مسجدوں کی جانب چل کر جانے والے ہی (قیامت کے دن) اللہ تعالی کی رحمت میں غوطہ مارنے والے ہیں''۔
780- حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحُلَبِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْحَارِثِ الشِّيرَازِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمِيمِيُّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <لِيَبْشَرِ الْمَشَّائُونَ فِي الظُّلَمِ إِلَى الْمَسَاجِدِ بِنُورٍ تَامٍّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ>۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۴۶۷۶، ومصباح الزجاجۃ: ۲۹۵) (صحیح) (طرق و شواہد کی وجہ سے یہ ضعیف ہے، ورنہ ابراہیم الحلبی صدوق ہیں، لیکن غلطیاں کرتے ہیں، اور یحییٰ شیرازی مقبول ہیں، عراقی نے اسے حسن غریب کہا ہے، نیز حاکم نے اس کی تصحیح کی ہے، اور ذہبی نے موافقت کی ہے، (مستدرک الحاکم ۱/ ۲۱۲)، اور ابن خزیمہ نے بھی تصحیح کی ہے، نیز ملاحظہ ہو: تراجع الألبانی: رقم: ۵۶۴، وصحیح ابی داود: ۵۷۰)
۷۸۰- سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''تاریکیوں میں (صلاۃ کے لئے) چل کر جانے والے خوش ہو جائیں کہ ان کے لئے قیامت کے دن کامل نور ہو گا''۔
781- حَدَّثَنَا مَجْزَأَةُ بْنُ سُفْيَانَ بْنِ أَسِيدٍ مَوْلَى ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الصَّائِغُ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < بَشِّرِ الْمَشَّائِينَ فِي الظُّلَمِ إِلَى الْمَسَاجِدِ بِالنُّورِ التَّامِّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۴۰۱، ومصباح الزجاجۃ: ۲۹۶) (صحیح) (سند میں سلیمان بن داود الصائغ ضعیف ہیں، لیکن دوسری سند سے یہ صحیح ہے، تراجع الألبانی: رقم: ۵۶۴، نیز بوصیری نے دس شاہد کا ذکر لیا ہے)
۷۸۱- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: ''تاریکیوں میں مسجدوں کی جانب چل کر جانے والوں کو قیامت کے دن کامل نور کی بشارت سنا دو''۔