• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مختصر صحیح بخاری - زین العابدین احمد بن عبداللطیف - حصہ سوم (یونیکوڈ)

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ اگر عورت کو ایام (حیض) میں طلاق دی جائے تو یہ طلاق بھی شمار کی جائے گی
(۱۸۷۳)۔ سیدنا ابن عمرؓ سے ہی روایت ہے، کہتے ہیں کہ (ایام حیض میں جو نے طلاق دی تھی) وہ میرے حق میں ایک طلاق شمار کی گئی۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ (اگر) کوئی شخص طلاق دے (تو) کیا مرد کو طلاق دیتے وقت عورت کی طرف متوجہ ہونا ضروری ہے ؟
(۱۸۷۴)۔ ام المومنین عائشہؓ کہتی ہیں کہ جون کی بیٹی (نکاح کے بعد) جب رسول اللہﷺ کے ہاں آئی اور آپﷺ اس کے قریب گئے تو وہ کہنے لگی میں تجھ سے اللہ کی امان چاہتی ہوں آپﷺ نے اس سے فرمایا :'' تو نے بہت بڑے کی امان مانگی۔ (جا) اپنے رشتہ داروں میں مل جا۔ ''

(۱۸۷۵)۔ ایک دوسری روایت میں سیدنا ابواسیدؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ اس (عورت دختر جون) کے پاس گئے اور اس کے ہمراہ اس کی دایہ اس کی دودھ پلانے والی بھی تھی۔ نبیﷺ نے اس سے کہا کہ اپنا نفس تو میرے حوالے کر دے۔ '' اس نے جواب دیا کہ کہیں ملکہ بھی بازاری لوگوں کو اپنا نفس ہبہ کر سکتی ہے ؟(پھر)کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے سوچا کہ اپنا ہاتھ اس پر رکھ کر اسے تسکین دیں وہ بولی کہ میں تجھ سے اللہ کی امان مانگتی ہوں۔ آپﷺ نے فرمایا :'' تو نے بڑے پناہ دینے والے کی امان مانگی۔ '' پھر ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا :'' اے ابواسید ! اپنے دو کپڑے رازقی پہنا کر اس کے کنبہ والوں کے پاس پہنچا دے۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ جو شخص تین طلاقیں دینا جائز رکھتا ہے۔
(۱۸۷۶)۔ ام المومنین عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ رفاعہ قرظی کی بیو ی نے آ کر رسول اللہﷺ سے عرض کی کہ یا رسول اللہ ! مجھے رفاعہ نے طلاق دی پھر طلاق بائنہ (غیر رجعی)ہو گئی۔ اس کے بعد میں نے عبدالرحمن بن زبیر قرظی سے نکاح کیا (مگر) وہ نا مرد ہے۔ آپﷺ نے فرمایا :'' شاید تو رفاعہ کے پاس لوٹنا چاہتی ہے ، تو نہیں (لوٹ سکتی) جب تک وہ (عبدالرحمن) تیرا مزہ نہ چکھ لے اور تو اس کا مزہ نہ چکھ لے۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ اللہ کا فرمان '' اے نبی ! جو چیز تیرے واسطے حلال ہے اسے تو حرام کیوں کرتا ہے ؟''(سورۂ تحریم۔ :۱)
(۱۸۷۷)۔ ام المومنین عائشہؓ فرماتی ہیں رسول اللہﷺ کو حلوہ اور شہد بہت مرغوب تھا اور آپﷺ کی عادت مبارکہ تھی کہ عصر کی نماز پڑھ کر اپنی بیویوں کے پاس جاتے تھے اور ان میں سے کسی سے بوس و کنار بھی کرتے۔ (ایک دن) ام المومنین حفصہ بنت عمرؓ کے پاس گئے اور معمول سے زیادہ ٹھہرے رہے۔ (اس سے) مجھے غیرت آئی اور میں نے اس کا سبب دریافت کیا تو کسی نے مجھ سے کہا کہ ان (ام المؤمنین حفصہؓ) کو ان کی قوم کی کسی عورت نے شہد کا ایک ڈبہ بطور تحفہ بھیجا تھا۔ انہوں نے وہ شہد آپﷺ کو پلا یا (اس وجہ سے دیر ہو گئی)۔ میں نے کہا واللہ ! میں تو کچھ حیلہ کروں گی۔ انھوں نے ام المومنین سودہؓ سے کہا کہ جب نبیﷺ تمہارے پاس آئیں تو تم کہنا کہ شاید آپ نے مغافیر کھایا ہے ، نبیﷺ تجھ سے انکار کریں گے پھر تو یہ کہنا کہ یہ بد بو آپ کے منہ سے مجھے کیسی آتی ہے ؟ جب وہ تجھ سے کہیں کہ میں نے حفصہ (رضی اللہ عنہ) کے پاس شہد پیا ہے تو تم کہنا کہ شاید اس (شہد) کی مکھیوں نے درخت عرفط کا رس چوسا ہو گا اور میں بھی یہی کہوں گی اور اے صفیہ ! تم بھی یہی کہنا۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ سودہؓ کہتی تھیں کہ رسول اللہﷺ (آ کر) دروازہ پر کھڑے ہی ہوئے تھے کہ میں نے تیرے خوف کے باعث اس بات کے کہنے کا جو تو نے مجھ سے کہی تھی ارادہ کر لیا۔ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہﷺ سودہؓ کے قریب پہنچے اس نے آپﷺ سے کہا کہ یا رسول اللہ ! کیا آپ نے مغافیر کھایا ہے ؟ آپﷺ نے فرمایا :'' نہیں '' وہ بولی پھر آپ کے منہ سے مجھے بد بو کیسی آتی ہے ؟ آپﷺ نے جواب دیا کہ مجھے حفصہ نے تھوڑا سا شہد پلایا ہے ، وہ بولی شاید اس کی مکھی نے عرفط کا رس چوسا ہو گا۔ جب آپ میرے پاس آئے تو میں نے بھی آپﷺ سے یہی کہا اور جب صفیہؓ کے پاس گئے تو انھوں نے بھی یہی کہا اور جب آپ حفصہؓ کے پاس دوبارہ تشریف لے گئے تو حفصہؓ نے کہا کہ یا رسول اللہ ! میں آپ کے پینے کے لیے شہد لاؤں ؟ آپﷺ نے فرمایا :'' مجھے شہد کی حاجت نہیں ''۔ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ سودہؓ نے کہا واللہ ! ہم نے رسول اللہﷺ کو شہد پینے سے محروم کر دیا ہے۔ میں نے کہا ارے چپ رہو (کہیں رسول اللہﷺ کو نہ خبر ہو جائے)۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ خلع (کا کیا حکم ہے) اور اس میں طلاق کیسے ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کا یہ قول '' اور تمہیں حلال نہیں کہ تم نے انھیں جو دے دیا ہے اس میں سے کچھ بھی لو ، ہاں یہ اور بات ہے کہ دونوں کو اللہ کی حدیں قائم نہ رکھ سکنے کا خوف ہو ''(البقرۃ :۲۲۹)
(۱۸۷۸)۔ سیدنا ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ سیدنا ثابت قیسؓ کی بیوی نے آ کر نبیﷺ سے عرض کی کہ یا رسول اللہ ! میں (اپنے شوہر) ثابت سے قیس سے (جو ناراض ہوں تو) کسی بری عادت یا دینی برائی سے ناراض نہیں ہوں لیکن میں یہ برا سمجھتی ہوں (جبکہ اس سے میری طبیعت بیزار ہے) کہ کہیں میں حالت اسلام میں کفران (نعمت) میں مبتلا نہ ہو جاؤں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا :'' کیا تو اس کا باغ واپس دے دے گی (جو اس نے تجھے حق مہر میں دیا ہے)'' وہ بولی جی ہاں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا :'' (اے ثابت !) اپنا باغ لے لے اور اسے ایک طلاق دے دے۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ نبیﷺ کا بریرہؓ کے شوہر کی سفارش کرنا (بریرہ اس کو قبول کرے اور اس سے جدا نہ ہو)
(۱۸۷۹)۔ سیدنا ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ بریرہ کا شوہر غلام تھا جس کا نام مغیث تھا گویا کہ میں دیکھ رہاہوں وہ (بیچارہ) اس کے پیچھے روتا پھر رہا ہے اور اس کے آنسو ڈاڑھی پر ٹپ ٹپ گر رہے ہیں تو رسول اللہﷺ نے سیدنا عباسؓ سے فرمایا :'' اے عباس ! کیا تم کو مغیث کی بریرہ سے محبت اور بریرہ کی مغیث سے عداوت پر تعجب نہیں آتا؟'' پھر نبیﷺ نے فرمایا :'' اے بریرہ ! تو اس کے پاس چلی جا (تو اچھا ہے)۔ '' وہ بولی کہ یا رسول اللہ ! کیا آپ مجھے یہ حکم فرماتے ہیں ؟ آپﷺ نے فرمایا :'' (نہیں) ! میں تو صرف سفارش کرتا ہوں۔ ''تو اس (بریرہ) نے جواب دیا کہ مجھے اس کی حاجت نہیں ہے۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ لعان کا بیان۔
(۱۸۸۰)۔ سیدنا سہل بن سعد ساعدیؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :'' میں اور یتیم کی پرورش کرنے والا جنت میں اس طرح (قریب قریب) ہوں گے او ر آپﷺ نے انگوٹھے کے ساتھ والی (شہادت کی) انگلی اور درمیانی انگلی سے اشارہ کیا اور دونوں انگلیوں کے درمیان تھوڑا سا فرق باقی رکھا۔
فائدہ : امام بخاری نے اس حدیث سے ان لوگوں کا ردّ کیا ہے جو طلاق وغیرہ میں تو اشارے کو روا مانتے ہیں مگر لعان میں نہیں تو یہاں سے واضح کیا کہ اشارے کو لعان وغیرہ میں بھی روار کھا جائے گا۔ دوسری بات کہ لعان کی مکمل احادیث پہلے گزر چکی ہیں اس لیے یہاں ان کو تکر ار کے ڈر سے دوبارہ نہیں لکھا گیا۔ '' (محمود الحسن اسد)
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ اگر (شوہر) اشارتاً کہے کہ یہ میرا بچہ نہیں ہے۔
(۱۸۸۱)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبیﷺ کے پاس آیا اور کہا کہ یا رسول اللہ ! میرے ہاں ایک کالا بچہ ہوا ہے ، آپﷺ نے فرمایا :'' کیا تیرے پاس اونٹ ہیں ؟'' وہ بولا جی ہاں۔ آپﷺ نے پوچھا :'' ان کا رنگ کیسا ہے ؟'' وہ بولا سرخ رنگ ہے۔ آپﷺ نے پوچھا :'' کیا ان میں کوئی خاکستری (خاکی) رنگ کا بھی ہے ؟'' اس نے کہا جی ہاں۔ آپﷺ نے فرمایا :'' یہ کہاں سے ہو گیا ؟'' وہ بولا شاید مادہ کی کسی رگ نے یہ رنگ کھینچ لیا ہو۔ تو آپﷺ نے فرمایا : ''تیرے بیٹے کا رنگ بھی کسی رگ نے کھینچ لیا ہو گا (چنانچہ وہ خود ہی قائل ہو گیا کہ اس کا شبہ غلط تھا)۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ (امام کا لعان کر نے والوں سے کہنا کہ) ایک نہ ایک تم میں سے ضرور جھوٹا ہے ، آیا کوئی تو بہ کرتا ہے ؟
(۱۸۸۲)۔ سیدنا عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے لعان کرنے والے مرد اور عورت سے فرمایا :'' اللہ تعالیٰ تم دونوں سے حساب لینے والا ہے۔ ایک تو تم میں سے ضرور جھوٹا ہے ، تم میں مفارقت ہونی چاہیے۔ '' شوہر نے کہا کہ میرا مال (کہاں گیا)؟ آپﷺ نے فرمایا :'' اگر تو سچا ہے تب بھی تم نے اس سے دخول تو کیا ہے ، اس کے بدلے میں وہ مال گیا اور اگر تو نے (زنا کی) عورت پر جھوٹی تہمت لگائی ہے تو پھر تو تجھے واقعی نہ ملنا چاہیے۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب: سوگ والی عورت کا سرمہ لگانا (ناجائز ہے)۔
(۱۸۸۳)۔ ام المومنین ام سلمہؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت کا خاو ند فوت ہو گیا اور اس کی آنکھیں دکھنے لگیں تو لوگوں نے آ کر رسول اللہﷺ سے سرمہ لگانے کی اجازت مانگی۔ آپﷺ نے فرمایا :'' وہ سرمہ نہیں لگا سکتی حالانکہ پہلے سے لباس اور برے مکان میں عدت پوری کرنا پڑتی تھی اور جب ایک سال تمام ہوتا (تو عدت سے اس طرح باہر ہوتی تھی کہ) کتا گزرتا اور وہ اس کو مینگنی مارتی تھی ، ہر گز سرمہ جائز نہیں جب تک چار ماہ دس دن نہ گزر جائیں۔ ''
 
Top