• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَمِ اتَّخَذَ مِمَّا يَخْلُقُ بَنَاتٍ وَأَصْفَاكُم بِالْبَنِينَ ﴿١٦﴾
کیا اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں سے بیٹیاں تو خود رکھ لیں اور تمہیں بیٹوں سے نوازا۔ (١)
١٦۔١ اس میں ان کی جہالت اور سفاہت کا بیان ہے جو انہوں نے اللہ کے لیے اولاد بھی ٹھہرائی ہوئی ہے جسے یہ خود ناپسند کرتے ہیں۔ حالانکہ اللہ کی اولاد ہوتی تو کیا ایسا ہی ہوتا کہ خود تو اس کی لڑکیاں ہوتیں اور تمہیں وہ لڑکوں سے نوازتا۔

وَإِذَا بُشِّرَ‌ أَحَدُهُم بِمَا ضَرَ‌بَ لِلرَّ‌حْمَـٰنِ مَثَلًا ظَلَّ وَجْهُهُ مُسْوَدًّا وَهُوَ كَظِيمٌ ﴿١٧﴾
(حالانکہ) ان میں سے کسی کو جب اس چیز کی خبر دی جائے جس کی مثال اس نے (اللہ) رحمٰن کے لیے بیان کی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ پڑ جاتا ہے اور وہ غمگین ہو جاتا ہے۔

أَوَمَن يُنَشَّأُ فِي الْحِلْيَةِ وَهُوَ فِي الْخِصَامِ غَيْرُ‌ مُبِينٍ ﴿١٨﴾
کیا (اللہ کی اولاد لڑکیاں ہیں) جو زیورات میں پلیں اور جھگڑے میں (اپنی بات) واضح نہ کر سکیں؟ (١)
١٨۔١ يُنَشَّؤُا نُشُوءٌ سے ہے، بمعنی تربیت اور نشوونما۔ عورتوں کی دو صفات کا تذکرہ بطور خاص یہاں کیا گیا ہے۔ ۱۔ ان کی تربیت اور نشوونما زیورات اور زینت میں ہوتی ہے، یعنی شعور کی آنکھیں کھولتے ہی ان کی توجہ حسن افزا اور جمال افروز چیزوں کی طرف ہو جاتی ہے۔ مقصد اس وضاحت سے یہ ہے کہ جن کی حالت یہ ہے، وہ تو اپنے ذاتی معاملات کے درست کرنے کی بھی استعداد و صلاحیت نہیں رکھتیں۔ ۲۔ اگر کسی سے بحث و تکرار ہو تو وہ اپنی بات بھی صحیح طریقے سے (فطری حجاب کی وجہ سے) واضح نہیں کر سکتیں نہ فریق مخالف کے دلائل کا توڑ ہی کر سکتی ہیں۔ یہ عورت کی وہ دو فطری کمزوریا ں ہیں جن کی بنا پر مرد حضرات عورتوں پر ایک گونہ فضیلت رکھتے ہیں۔ سیاق سے بھی مرد کی یہ برتری واضح ہے، کیوں کہ گفتگو اسی ضمن میں یعنی مرد و عورت کے درمیان جو فطری تفاوت ہے، جس کی بنا پر بچی کے مقابلے میں بچے کی ولادت کو زیادہ پسند کیا جاتا تھا، ہو رہی ہے۔

وَجَعَلُوا الْمَلَائِكَةَ الَّذِينَ هُمْ عِبَادُ الرَّ‌حْمَـٰنِ إِنَاثًا ۚ أَشَهِدُوا خَلْقَهُمْ ۚ سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْأَلُونَ ﴿١٩﴾
اور انہوں نے فرشتوں کو جو رحمٰن کے عبادت گزار ہیں عورتیں قرار دے لیا۔ کیا ان کی پیدائش کے موقع پر یہ موجود تھے؟ ان کی یہ گواہی لکھ لی جائے گی اور ان سے (اس چیز کی) باز پرس کی جائے گی۔ (١)
١٩۔١ یعنی جزا کے لیے۔ کیونکہ فرشتوں کے بنات اللہ ہونے کی کوئی دلیل ان کے پاس نہیں ہو گی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَقَالُوا لَوْ شَاءَ الرَّ‌حْمَـٰنُ مَا عَبَدْنَاهُم ۗ مَّا لَهُم بِذَٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ ۖ إِنْ هُمْ إِلَّا يَخْرُ‌صُونَ ﴿٢٠﴾
اور کہتے ہیں اگر اللہ چاہتا تو ہم ان کی عبادت نہ کرتے۔ انہیں اس کی کچھ خبر نہیں، (١) یہ تو صرف اٹکل پچو (جھوٹ باتیں) کہتے ہیں۔
٢٠۔١ یعنی اپنے طور پر اللہ کی مشیت کا سہارا، یہ ان کی ایک بڑی دلیل ہے کیونکہ ظاہراً یہ بات صحیح ہے کہ اللہ کی مشیت کے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا، نہ ہو سکتا ہے۔ لیکن یہ اس بات سے بے خبر ہیں کہ اس کی مشیت، اس کی رضا سے مختلف چیز ہے۔ ہر کام یقیناً اس کی مشیت ہی سے ہوتا ہے لیکن راضی وہ انہی کاموں سے ہوتا ہے جن کا اس نے حکم دیا ہے نہ کہ ہر اس کام سے جو انسان اللہ کی مشیت سے کرتا ہے، انسان چوری، بدکاری، ظلم اور بڑے بڑے گناہ کرتا ہے، اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو کسی کو یہ گناہ کرنے کی قدرت ہی نہ دے فوراً اس کا ہاتھ پکڑ لے، اس کے قدموں کو روک دے اس کی نظر سلب کر لے۔ لیکن یہ جبر کی صورتیں ہیں جب کہ اس نے انسان کو ارادہ و اختیار کی آزادی دی ہے تاکہ اسے آزمایا جائے، اسی لیے اس نے دونوں قسم کے کاموں کی وضاحت کر دی ہے، جن سے وہ راضی ہوتا ہے ان کی بھی اور جن سے ناراض ہوتا ہے، ان کی بھی۔ انسان دونوں قسم کے کاموں میں سے جو کام بھی کرے گا، اللہ اس کا ہاتھ نہیں پکڑے گا، لیکن اگر وہ کام جرم و معصیت کا ہو گا تو یقیناً وہ اس سے ناراض ہو گا کہ اس نے اللہ کے دیئے ہوئے اختیار کا استعمال غلط کیا۔ تاہم یہ اختیار اللہ دنیا میں اس سے واپس نہیں لے گا، البتہ اس کی سزا قیامت والے دن دے گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَمْ آتَيْنَاهُمْ كِتَابًا مِّن قَبْلِهِ فَهُم بِهِ مُسْتَمْسِكُونَ ﴿٢١﴾
کیا ہم نے انہیں اس سے پہلے کوئی (اور) کتاب دی ہے جسے یہ مضبوط تھامے ہوئے ہیں۔ (١)
٢١۔١ یعنی قرآن سے پہلے کوئی کتاب، جس میں ان کو غیر اللہ کی عبادت کرنے کا اختیار دیا گیا ہے جسے انہوں نے مضبوطی سے تھام رکھا ہے؟ یعنی ایسا نہیں ہے بلکہ تقلید آبا کے سوا ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَلْ قَالُوا إِنَّا وَجَدْنَا آبَاءَنَا عَلَىٰ أُمَّةٍ وَإِنَّا عَلَىٰ آثَارِ‌هِم مُّهْتَدُونَ ﴿٢٢﴾
(نہیں نہیں) بلکہ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک مذہب پر پایا اور ہم انہی کے نقش قدم پر چل کر راہ یافتہ ہیں۔

وَكَذَٰلِكَ مَا أَرْ‌سَلْنَا مِن قَبْلِكَ فِي قَرْ‌يَةٍ مِّن نَّذِيرٍ‌ إِلَّا قَالَ مُتْرَ‌فُوهَا إِنَّا وَجَدْنَا آبَاءَنَا عَلَىٰ أُمَّةٍ وَإِنَّا عَلَىٰ آثَارِ‌هِم مُّقْتَدُونَ ﴿٢٣﴾
اسی طرح آپ سے پہلے بھی ہم نے جس بستی میں کوئی ڈرانے والا بھیجا وہاں کے آسودہ حال لوگوں نے یہی جواب دیا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو (ایک راہ پر اور) ایک دین پر پایا اور ہم تو انہی کے نقش پا کی پیروی کرنے والے ہیں۔

قَالَ أَوَلَوْ جِئْتُكُم بِأَهْدَىٰ مِمَّا وَجَدتُّمْ عَلَيْهِ آبَاءَكُمْ ۖ قَالُوا إِنَّا بِمَا أُرْ‌سِلْتُم بِهِ كَافِرُ‌ونَ ﴿٢٤﴾
(نبی نے) کہا بھی کہ اگرچہ میں تمہارے پاس اس سے بہتر (مقصود تک پہنچانے والا) طریقہ لے کر آیا ہوں جس پر تم نے اپنے باپ دادوں کو پایا، تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم اس کے منکر ہیں جسے دے کر تمہیں بھیجا گیا ہے۔ (١)
٢٤۔١ یعنی اپنے آبا کی تقلید میں اتنے پختہ تھے کہ پیغمبر کی وضاحت اور دلیل بھی انہیں اس سے نہیں پھیر سکی۔ یہ آیت اندھی تقلید کے بطلان اور اس کی قباحت پر بہت بڑی دلیل ہے (تفصیل کے لیے دیکھئے فتح القدیر، للشوکانی)۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَانتَقَمْنَا مِنْهُمْ ۖ فَانظُرْ‌ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ ﴿٢٥﴾
پس ہم نے ان سے انتقام لیا اور دیکھ لے جھٹلانے والوں کا کیسا انجام ہوا؟

وَإِذْ قَالَ إِبْرَ‌اهِيمُ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ إِنَّنِي بَرَ‌اءٌ مِّمَّا تَعْبُدُونَ ﴿٢٦﴾
اور جبکہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد سے اور اپنی قوم سے فرمایا کہ میں ان چیزوں سے بیزار ہوں جن کی تم عبادت کرتے ہو۔

إِلَّا الَّذِي فَطَرَ‌نِي فَإِنَّهُ سَيَهْدِينِ ﴿٢٧﴾
بجز اس ذات کے جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور وہی مجھے ہدایت بھی کرے گا۔ (١)
٢٧۔١ یعنی جس نے مجھے پیدا کیا ہے وہ مجھے اپنے دین کی سمجھ بھی دے اور اس پر ثابت قدم بھی رکھے گا، میں صرف اسی کی عبادت کروں گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَجَعَلَهَا كَلِمَةً بَاقِيَةً فِي عَقِبِهِ لَعَلَّهُمْ يَرْ‌جِعُونَ ﴿٢٨﴾
اور (ابراہیم علیہ السلام) اسی کو اپنی اولاد میں بھی باقی رہنے والی بات (١) قائم کر گئے تاکہ لوگ (شرک سے) باز آتے رہیں۔ (١)
٢٨۔١ یعنی اس کلمۂ [لا إِلَهَ إِلا الله] کی وصیت اپنی اولاد کو کر گئے۔ جیسے فرمایا ﴿وَوَصَّى بِهَا إِبْرَاهِيمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ﴾ (البقرة: ۱۳۲) بعض نے جَعَلَهَا میں فاعل اللہ کو قرار دیا ہے۔ یعنی اللہ نے اس کلمے کو ابراہیم عليہ السلام کے بعد ان کی اولاد میں باقی رکھا اور وہ صرف ایک اللہ کی عبادت کرتے رہے۔
٢٨۔٢ یعنی اولاد ابراہیم میں یہ موحدین اس لیے پیدا کیے تاکہ ان کے توحید کے وعظ سے لوگ شرک سے باز آتے رہیں۔ لَعَلَّهُمْ میں ضمیر کا مرجع اہل مکہ ہیں یعنی شاید اہل مکہ اس دین کی طرف لوٹ آئیں جو حضرت ابراہیم عليہ السلام کا دین تھا جو خالص توحید پر مبنی تھا نہ کہ شرک پر۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَلْ مَتَّعْتُ هَـٰؤُلَاءِ وَآبَاءَهُمْ حَتَّىٰ جَاءَهُمُ الْحَقُّ وَرَ‌سُولٌ مُّبِينٌ ﴿٢٩﴾
بلکہ میں نے ان لوگوں کو اور ان کے باپ دادوں کو سامان (اور اسباب) دیا (١)، یہاں تک کہ ان کے پاس حق اور صاف صاف سنانے والا رسول آگیا۔ (٢)
٢٩۔١ ہاں سے پھر ان نعمتوں کا ذکر ہو رہا ہے جو اللہ نے انہیں عطا کی تھیں اور نعمتوں کے بعد عذاب میں جلدی نہیں کی بلکہ انہیں پوری مہلت دی، جس سے وہ دھوکے میں مبتلا ہو گئے اور خواہشات کے بندے بن گئے۔
٢٩۔٢ حق سے قرآن اور رسول سے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ مراد ہیں۔ مُبِينٌ رسول کی صفت ہے، کھول کر بیان کرنے والا یا جن کی رسالت واضح اور ظاہر ہے، اس میں کوئی اشتباہ اور خفا نہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلَمَّا جَاءَهُمُ الْحَقُّ قَالُوا هَـٰذَا سِحْرٌ‌ وَإِنَّا بِهِ كَافِرُ‌ونَ ﴿٣٠﴾
اور حق کے پہنچتے ہی یہ بول پڑے کہ یہ تو جادو ہے اور ہم اس کے منکر ہیں۔ (١)
٣٠۔١ قرآن کو جادو قرار دے کر اس کا انکار کر دیا اور اگلے الفاظ میں حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تحقیر و تنقیص کی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَقَالُوا لَوْلَا نُزِّلَ هَـٰذَا الْقُرْ‌آنُ عَلَىٰ رَ‌جُلٍ مِّنَ الْقَرْ‌يَتَيْنِ عَظِيمٍ ﴿٣١﴾
اور کہنے لگے، یہ قرآن ان دونوں بستیوں میں کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہیں کیا گیا۔ (١)
٣١۔١ دونوں بستیوں سے مراد مکہ اور طائف ہے اور بڑے آدمی سے مراد اکثر مفسرین کے نزدیک مکے کا ولید بن مغیرہ اور طائف کا عروہ بن مسعود ثقفی ہے۔ بعض نے کچھ اور لوگوں کے نام ذکر کیے ہیں تاہم مقصد اس سے ایسے آدمی کا انتخاب ہے جو پہلے سے ہی عظیم جاہ و منصب کا حامل، کثیر المال اور اپنی قوم میں مانا ہوا ہو، یعنی قرآن اگر نازل ہوتا تو دونوں بستیوں میں سے کسی ایسی ہی شخصیت پر نازل ہوتا نہ کہ محمد ﷺ پر، جن کا دامن دولت دنیا سے بھی خالی ہے، اور اپنی قوم میں قیادت و سیادت کے منصب پر بھی فائز نہیں ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَهُمْ يَقْسِمُونَ رَ‌حْمَتَ رَ‌بِّكَ ۚ نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُم مَّعِيشَتَهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۚ وَرَ‌فَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَ‌جَاتٍ لِّيَتَّخِذَ بَعْضُهُم بَعْضًا سُخْرِ‌يًّا ۗ وَرَ‌حْمَتُ رَ‌بِّكَ خَيْرٌ‌ مِّمَّا يَجْمَعُونَ ﴿٣٢﴾
کیا آپ کے رب کی رحمت کو یہ تقسیم کرتے ہیں؟ (١) ہم نے ہی ان کی زندگانیء دنیا کی روزی ان میں تقسیم کی ہے اور ایک کو دوسرے سے بلند کیا ہے تاکہ ایک دوسرے کو ماتحت کر لے (٢) جسے یہ لوگ سمیٹتے پھرتے ہیں اس سے آپ کے رب کی رحمت بہت ہی بہتر ہے۔ (٣)
٣٢۔١ رحمت، نعمت کے معنی میں ہے، اور یہاں سب سے بڑی نعمت، نبوت، مراد ہے۔ استفہام انکار کے لیے ہے۔ یعنی یہ کام ان کا نہیں ہے کہ رب کی نعمتیں بالخصوص نعمت نبوت یہ اپنی مرضی سے تقسیم کریں، بلکہ یہ صرف رب کا کام ہے کیونکہ وہی ہر بات کا علم اور ہر شخص کے حالات سے پوری واقفیت رکھتا ہے، وہی بہتر سمجھتا ہے کہ انسانوں میں سے نبوت کا تاج کس کے سر پر رکھنا ہے اور اپنی وحی و رسالت سے کس کو نوازنا ہے۔
٣٢۔٢ یعنی مال و دولت، جاہ و منصب اور عقل و فہم میں ہم نے یہ فرق و تفاوت اس لیے رکھا ہے تاکہ زیادہ مال والا، کم مال والے سے، اونچے منصب والا چھوٹے منصب داروں سے، اور عقل و فہم میں حظ وافر رکھنے والا، اپنے سے کم تر عقل و شعور رکھنے والے سے کام لے سکے۔ اللہ تعالیٰ کی اس حکمت بالغہ سے کائنات کا نظام بحسن و خوبی چل رہا ہے۔ ورنہ اگر سب مال میں، منصب میں، علم و فہم میں، عقل و شعور میں اور دیگر اسباب دنیا میں برابر ہوتے تو کوئی کسی کا کام کرنے کے لیے تیار نہ ہوتا، اسی طرح کم تر اور حقیر سمجھے جانے والے کام بھی کوئی نہ کرتا۔ یہ احتیاج انسانی ہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے فرق و تفاوت کے اندر رکھ دی ہے جس کی وجہ سے ہر انسان دوسرے انسان بلکہ انسانوں کا محتاج ہے، تمام حاجات و ضروریات انسانی، کوئی ایک شخص، چاہے وہ ارب پتی ہی کیوں نہ ہو، دیگر انسانوں کی مدد حاصل کیے بغیر خود فراہم کر ہی نہیں سکتا۔
٣٢۔٣ اس رحمت سے مراد آخرت کی وہ نعمتیں ہیں جو اللہ نے اپنے نیک بندوں کے لیے تیار کر رکھی ہیں۔
 
Top