• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَاكِهِينَ بِمَا آتَاهُمْ رَ‌بُّهُمْ وَوَقَاهُمْ رَ‌بُّهُمْ عَذَابَ الْجَحِيمِ ﴿١٨﴾
جو انہیں ان کے رب نے دے رکھی ہیں اس پر خوش خوش ہیں، (١) اور ان کے پروردگار نے انہیں جہنم کے عذاب سے بھی بچا لیا ہے۔
١٨۔١ یعنی جنت کے گھر، لباس، کھانے، سواریاں، حسین و جمیل بیویاں (حورعین) اور دیگر نعمتیں ان سب پر وہ خوش ہوں گے، کیونکہ یہ نعمتیں دنیا کی نعمتوں سے بدرجہا بڑھ کر ہوں گی اور (مَا لا عَيْنٌ رَأَتْ وَلا أُذُنٌ سَمِعَتْ وَلا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ) کا مصداق۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
كُلُوا وَاشْرَ‌بُوا هَنِيئًا بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ﴿١٩﴾
تم مزے سے کھاتے پیتے رہو ان اعمال کے بدلے جو تم کرتے تھے۔ (١)
١٩۔١ دوسرے مقام پرفرمایا ﴿كُلُوا وَاشْرَبُوا هَنِيئًا بِمَا أَسْلَفْتُمْ فِي الأَيَّامِ الْخَالِيَةِ﴾ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کی رحمت حاصل کرنے کے لیے ایمان کے ساتھ اعمال صالحہ بہت ضروری ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
مُتَّكِئِينَ عَلَىٰ سُرُ‌رٍ‌ مَّصْفُوفَةٍ ۖ وَزَوَّجْنَاهُم بِحُورٍ‌ عِينٍ ﴿٢٠﴾
برابر بچھے ہوئے شاندار تختے پر تکیے لگائے ہوئے۔ (١) اور ہم نے ان کے نکاح بڑی بڑی آنکھوں والی (حوروں) سے کر دیئے ہیں۔
٢٠۔١ مَصْفُوفَةٍ، ایک دوسرے کے ساتھ ملے ہوئے۔ گویا وہ ایک صف ہیں۔ یا بعض نے اس کا مفہوم بیان کیا ہے کہ ان کے چہرے ایک دوسرے کے سامنے ہوں گے، جیسے میدان جنگ میں فوجیں ایک دوسرے کے سامنے ہوتی ہیں۔ اس مفہوم کو قرآن میں دوسری جگہ ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ ﴿عَلَى سُرُرٍ مُتَقَابِلِينَ﴾ (الصافات: ۴۴) ”ایک دوسرے کے سامنے تختوں پر فروکش ہوں گے“۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّ‌يَّتُهُم بِإِيمَانٍ أَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّ‌يَّتَهُمْ وَمَا أَلَتْنَاهُم مِّنْ عَمَلِهِم مِّن شَيْءٍ ۚ كُلُّ امْرِ‌ئٍ بِمَا كَسَبَ رَ‌هِينٌ ﴿٢١﴾
اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد نے بھی ایمان میں ان کی پیروی کی ہم ان کی اولاد کو ان تک پہنچا دیں گے اور ان کے عمل سے ہم کچھ کم نہ کریں گے، (١) ہر شخص اپنے اپنے اعمال کا گروی ہے۔ (٢)
٢١۔١ یعنی جن کے باپ اپنے اخلاص و تقویٰ اورعمل و کردار کی بنیاد پر جنت کے اعلیٰ درجوں پر فائز ہوں گے، اللہ تعالیٰ ان کی ایماندار اولاد کے بھی درجے بلند کرکے، ان کو ان کے باپوں کے ساتھ ملا دے گا۔ یہ نہیں کرے گا کہ ان کے باپوں کے درجے کم کرکے ان کی اولاد والے کمتر درجوں میں انہیں لے آئے۔ یعنی اہل ایمان پر دو گونہ احسان فرمائے گا۔ ایک تو باپ بیٹوں کو آپس میں ملا دے گا تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں، بشرطیکہ دونوں ایماندار ہوں۔ دوسرا یہ کہ کم تر درجے والوں کو اٹھا کر اونچے درجوں پر فائز فرما دے گا۔ ورنہ دونوں کے ملاپ کا یہ طریقہ بھی ہو سکتا ہے کہ اے کلاس والوں کو بی کلاس دے دے، یہ بات چونکہ اس کے فضل و احسان سے فروتر ہو گی، اس لیے وہ ایسا نہیں کرے گا بلکہ بی کلاس والوں کو اے کلاس عطا فرمائے گا۔ یہ تو اللہ کا وہ احسان ہے جو اولاد پر، آبا کے عملوں کی برکت سے ہو گا اور حدیث میں آتا ہے کہ اولاد کی دعا و استغفار سے آباء کے درجات میں بھی اضافہ ہوتا ہے ایک شخص کے جب جنت میں درجے بلند ہوتے ہیں تو وہ اللہ سے اس کا سبب پوچھتا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تیری اولاد کی تیرے لیے دعائے مغفرت کرنے کی وجہ سے (مسند احمد ج۲ ص۵۰۹) اس کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں آتا ہے کہ ”جب انسان مر جاتا ہے تو اس کے عمل کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے۔ البتہ تین چیزوں کا ثواب، موت کے بعد بھی جاری رہتا ہے ایک صدقۂ جاریہ۔ دوسرا، وہ علم جس سے لوگ فیض یاب ہوتے رہیں اور تیسری، نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرتی ہو۔ (مسلم، كتاب الوصية، باب ما يلحق الإنسان من الثواب بعد وفاته)۔
٢١۔۲ رَهِينٌ بمعنی مَرْهُونٍ (گروی شدہ چیز) ہر شخص اپنے عمل کا گروی ہو گا۔ یہ عام ہے، مومن اور کافر دونوں کو شامل ہے اور مطلب ہے کہ جو جیسا (اچھا یا برا) عمل کرے گا، اس کے مطابق (اچھی یا بری) جزا پائے گا۔ یا اس سے مراد صرف کافر ہیں کہ وہ اپنے اعمال میں گرفتار ہوں گے، جیسے دوسرے مقام پر فرمایا ﴿كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ رَهِينَةٌ، إِلا أَصْحَابَ الْيَمِينِ﴾ (المدثر: ۳۸-۳۹) ”ہر شخص اپنے اعمال میں گرفتار ہو گا۔ سوائے اصحاب الیمین (اہل ایمان) کے“۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَأَمْدَدْنَاهُم بِفَاكِهَةٍ وَلَحْمٍ مِّمَّا يَشْتَهُونَ ﴿٢٢﴾
ہم ان کے لیے میوے اور مرغوب گوشت کی ریل پیل کر دیں گے۔ (١)
٢٢۔١ أَمْدَدْنَاهُمْ بمعنی زِدْنَاهُمْ، یعنی خوب دیں گے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
يَتَنَازَعُونَ فِيهَا كَأْسًا لَّا لَغْوٌ فِيهَا وَلَا تَأْثِيمٌ ﴿٢٣﴾
(خوش طبعی کے ساتھ) ایک دوسرے سے جام (شراب) چھینا جھپٹی کریں گے (۱) جس شراب کے سرور میں تو بیہودہ گوئی ہو گی نہ گناہ۔ (۲)
٢٣۔١ يَتَنَازَعُونَ، يَتَعَاطَونَ وَيَتَنَاوَلُونَ۔ ایک دوسرے سے لیں گے۔ یا پھر وہ معنی ہیں جو فاضل مترجم نے کیے ہیں۔ کاس، اس پیالے اور جام کو کہتے ہیں جو شراب یا کسی اور مشروب سے بھرا ہوا ہو۔ خالی برتن کو کاس نہیں کہتے۔ (فتح القدیر)
٢٣۔۲ اس شراب میں دنیا کی شراب کی تاثیر نہیں ہو گی، اسے پی کر نہ کوئی بہکے گا کہ لغو گوئی کرے نہ اتنا مدہوش اور مست ہو گا کہ گناہ کا ارتکاب کرے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَيَطُوفُ عَلَيْهِمْ غِلْمَانٌ لَّهُمْ كَأَنَّهُمْ لُؤْلُؤٌ مَّكْنُونٌ ﴿٢٤﴾
اور ان کے ارد گرد ان کے نو عمر غلام پھر رہے ہوں گے، گویا کہ وہ موتی تھے جو ڈھکے رکھے تھے۔ (١)
٢٤۔١ یعنی جنتیوں کی خدمت کے لیے انہیں نو عمر خادم بھی دیئے جائیں گے جو ان کی خدمت کے لیے پھر رہے ہوں گے اور حسن و جمال اور صفائی و رعنائی میں وہ ایسے ہوں گے جیسے موتی، جسے ڈھک کر رکھا گیا ہو، تاکہ ہاتھ لگنے سے اس کی چمک دمک ماند نہ پڑے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ يَتَسَاءَلُونَ ﴿٢٥﴾
اور آپس میں ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال کریں گے۔ (١)
٢٥۔١ ایک دوسرے سے دنیا کے حالات پوچھیں گے کہ دنیا میں وہ کن حالات میں زندگی گزارتے اور ایمان و عمل کے تقاضے کس طرح پورے کرتے رہے؟
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قَالُوا إِنَّا كُنَّا قَبْلُ فِي أَهْلِنَا مُشْفِقِينَ ﴿٢٦﴾
کہیں گے کہ اس سے پہلے ہم اپنے گھر والوں کے درمیان بہت ڈرا کرتے تھے۔ (١)
٢٦۔١ یعنی اللہ کے عذاب سے۔ اس لیے اس عذاب سے بچنے کا اہتمام بھی کرتے رہے، اس لیے کہ انسان کو جس چیز کا ڈر ہوتا ہے، اس سے بچنے کے لیے وہ تگ و دو بھی کرتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَمَنَّ اللَّـهُ عَلَيْنَا وَوَقَانَا عَذَابَ السَّمُومِ ﴿٢٧﴾
پس اللہ تعالیٰ نے ہم پر بڑا احسان کیا اور ہمیں تیز و تند گرم ہواؤں کے عذاب سے بچا لیا۔ (١)
٢٧۔١ سَمُومٌ، لو، جھلس ڈالنے والی گرم ہوا کو کہتے ہیں، جہنم کے ناموں میں سے ایک نام بھی ہے۔
 
Top