• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَ‌بِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٧٣﴾
پس (اے انسانو اور جنو!) تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

لَمْ يَطْمِثْهُنَّ إِنسٌ قَبْلَهُمْ وَلَا جَانٌّ ﴿٧٤﴾
ان کو ہاتھ نہیں لگایا کسی انسان یا جن نے اس سے قبل۔

فَبِأَيِّ آلَاءِ رَ‌بِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٧٥﴾
پس اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کے ساتھ تم تکذیب کرتے ہو؟

مُتَّكِئِينَ عَلَىٰ رَ‌فْرَ‌فٍ خُضْرٍ‌ وَعَبْقَرِ‌يٍّ حِسَانٍ ﴿٧٦﴾
سبز مسندوں اور عمدہ فرشوں پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے۔ (١)
٧٦۔١ رفرف مسند، غالیچہ یا اس قسم کا عمدہ فرش عَبْقَرِيٍّ ، ہر نفیس اور اعلیٰ چیز کو کہا جاتا ہے۔ نبی ﷺ نے حضرت عمر رضی الله عنہ کے لیے یہ لفظ استعمال فرمایا [فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا يَفْرِي فِرْيَة] (البخاری، كتاب المناقب، باب فضل عمر- وصحيح مسلم ، فضائل الصحابة، باب من فضائل عمر رضی الله عنہ) ”میں نے کوئی عبقری ایسا نہیں دیکھا جو عمر کی طرح کام کرتا ہو“۔ مطلب یہ ہے کہ جنتی ایسے تختوں پر فروکش ہوں گے جس پر سبز رنگ کی مسندیں، غالیچے اور اعلیٰ قسم کے خوبصورت منقش فرش بچھے ہوں گے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَ‌بِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٧٧﴾
پس (اے جنو اور انسانو!) تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟ (١)
٧٧۔١ یہ آیت اس سورت میں اکتیس مرتبہ آئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں اپنی اقسام و انواع کی نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے اور ہر نعمت یا چند نعمتوں کے ذکر کے بعد یہ استفسار فرمایا ہے، حتیٰ کہ میدان محشر کی ہولناکیوں اور جہنم کے عذاب کے بعد بھی یہ استفسار فرمایا ہے، جس کا مطلب ہے کہ امور آخرت کی یاد دہانی بھی نعمت عظیمہ ہے تاکہ بچنے والے اس سے بچنے کی سعی کر لیں۔ دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ جن بھی انسانوں کی طرح اللہ کی ایک مخلوق ہے بلکہ انسانوں کے بعد یہ دوسری مخلوق ہے جسے عقل و شعور سے نوازا گیا ہے اور اس کے بدلے میں ان سے صرف اس امر کا تقاضا کیا گیا ہے کہ وہ صرف ایک اللہ کی عبادت کریں۔ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔ مخلوقات میں یہی دو ہیں جو شرعی احکام و فرائض کے مکلف ہیں، اسی لیے انہیں ارادہ و اختیار کی آزادی دی گئی ہے تاکہ ان کی آزمائش ہو سکے، تیسرے، نعمتوں کے بیان سے یہ بھی ثابت ہوا کہ اللہ کی نعمتوں سے فائدہ اٹھانا جائز و مستحب ہے۔ یہ زہد و تقویٰ کے خلاف ہے اور نہ تعلق مع اللہ میں مانع، جیسا کہ بعض اہل تصوف باورکراتے ہیں۔ چوتھے، بار بار یہ سوال کہ تم اللہ کی کون کون سی نعمتوں کی تکذیب کرو گے؟ یہ توبیخ اور تہدید کے طور پر ہے، جس کا مقصد اس اللہ کی نافرمانی سے روکنا ہے، جس نے یہ ساری نعمتیں پیدا اور مہیا فرمائیں۔ اسی لیے نبی ﷺ نے اس کے جواب میں یہ پڑھنا پسند فرمایا۔ لا بِشَيْءٍ مِنْ نِعَمِكَ رَبَّنَا نُكَذِّبُ فَلَكَ الْحَمْدُ "اے ہمارے رب ہم تیری کسی بھی نعمت کی تکذیب نہیں کرتے، پس تمام تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں" (سنن الترمذی، والصحيحة للألباني) لیکن اندرون صلاۃ اس جواب کا پڑھنا مشروع نہیں۔

تَبَارَ‌كَ اسْمُ رَ‌بِّكَ ذِي الْجَلَالِ وَالْإِكْرَ‌امِ ﴿٧٨﴾
تیرے پروردگار کا نام بابرکت ہے (١) جو عزت و جلال والا ہے۔
٧٨۔١ تَبَارَكَ، برکت سے ہے جس کے معنی دوام و ثبات کے ہیں۔ مطلب ہے اس کا نام ہمیشہ رہنے والا ہے، یا اس کے پاس ہمیشہ خیر کے خزانے ہیں۔ بعض نے اس کے معنی بلندی اور علو شان کے کیے ہیں اور جب اس کا نام اتنا بابرکت یعنی خیر اور بلندی کا حامل ہے تو اس کی ذات کتنی برکت اور عظمت ورفعت والی ہو گی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
سورة الواقعة

(سورة الواقعة مکی ہے اور اس میں چھیانوے آیتیں اور تین رکوع ہیں)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

إِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُ ﴿١﴾
جب قیامت قائم ہو جائے گی۔ (١)
١۔١ واقعہ بھی قیامت کے ناموں میں سے ہے، کیونکہ یہ لامحالہ واقع ہونے والی ہے، اس لیے اس کا یہ نام بھی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
لَيْسَ لِوَقْعَتِهَا كَاذِبَةٌ ﴿٢﴾
جس کے واقع ہونے میں کوئی جھوٹ نہیں۔

خَافِضَةٌ رَّ‌افِعَةٌ ﴿٣﴾
وہ پست کرنے والی اور بلند کرنے والی ہو گی۔ (١)
٣۔١ پستی اور بلندی سے مطلب ذلت اور عزت ہے۔ یعنی اللہ کے اطاعت گزار بندوں کو یہ بلند اور نافرمانوں کو پست کرے گی، چاہے دنیا میں معاملہ اس کے برعکس ہو۔ اہل ایمان وہاں معزز و مکرم ہوں گے اور اہل کفر و عصیان ذلیل و خوار۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِذَا رُ‌جَّتِ الْأَرْ‌ضُ رَ‌جًّا ﴿٤﴾
جبکہ زمین زلزلہ کے ساتھ ہلا دی جائے گی۔

وَبُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّا ﴿٥﴾
اور پہاڑ بالکل ریزہ ریزہ کر دیئے جائیں گے۔ (١)
٥۔١ رَجًّا کے معنی حرکت و اضطراب (زلزلہ) اور بس کے معنی ریزہ ریزہ ہو جانے کے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَكَانَتْ هَبَاءً مُّنبَثًّا ﴿٦﴾
پھر وہ مثل پراگندہ غبار کے ہو جائیں گے۔

وَكُنتُمْ أَزْوَاجًا ثَلَاثَةً ﴿٧﴾
اور تم تین جماعتوں میں ہو جاؤ گے۔ (١)
٧۔١ أَزْوَاجًا: أَصْنَافًا کے معنی میں ہے۔

فَأَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ ﴿٨﴾
پس داہنے ہاتھ والے کیسے اچھے ہیں داہنے ہاتھ والے۔ (١)
٨۔١ اس سے عام مومنین مراد ہیں جن کو ان کے اعمال نامے دائیں ہاتھوں میں دیئے جائیں گے جو ان کی خوش بختی کی علامت ہو گی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَأَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ ﴿٩﴾
اور بائیں ہاتھ والوں کا کیا حال ہے بائیں ہاتھ والوں کا۔ (١)
٩۔١ اس سے مراد کافر ہیں جن کو ان کے اعمال نامے بائیں ہاتھوں میں پکڑائے جائیں گے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ ﴿١٠﴾
اور جو آگے والے ہیں وہ تو آگے والے ہی ہیں۔ (١)
١٠۔١ ان سے مراد خواص مومنین ہیں، یہ تیسری قسم ہے جو ایمان قبول کرنے میں سبقت کرنے اور نیکی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو قرب خاص سے نوازے گا، یہ ترکیب ایسے ہی ہے، جیسے کہتے ہیں، تو تو ہے اور زید زید، اس میں گویا زید کی اہمیت اور فضیلت کا بیان ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أُولَـٰئِكَ الْمُقَرَّ‌بُونَ ﴿١١﴾
وہ بالکل نزدیکی حاصل کیے ہوئے ہیں۔

فِي جَنَّاتِ النَّعِيمِ ﴿١٢﴾
نعمتوں والی جنتوں میں ہیں۔

ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ ﴿١٣﴾
(بہت بڑا) گروہ اگلے لوگوں میں سے ہو گا۔

وَقَلِيلٌ مِّنَ الْآخِرِ‌ينَ ﴿١٤﴾
اور تھوڑے سے پچھلے لوگوں میں سے۔ (١)
١٤۔١ ثُلَّةٌ، اس بڑے گروہ کو کہا جاتا ہے جس کا گننا ناممکن ہو۔ کہا جاتا ہے کہ اولین سے مراد حضرت آدم عليہ السلام سے لے کر نبی ﷺ تک کی امت کے لوگ ہیں اور آخرین سے امت محمدیہ کے افراد۔ مطلب یہ ہے کہ پچھلی امتوں میں سابقین کا ایک بڑا گروہ ہے، کیونکہ ان کا زمانہ بہت لمبا ہے جس میں ہزاروں انبیاء کے سابقین شامل ہیں ان کے مقابلے میں امت محمدیہ کا زمانہ (قیامت تک) تھوڑا ہے، اس لیے ان میں سابقین بھی بہ نسبت گزشتہ امتوں کے تھوڑے ہوں گے۔ اور ایک حدیث میں آتا ہے۔ جس میں نبی ﷺ نے فرمایا ہے کہ مجھے امید ہے کہ تم جنتیوں کا نصف ہو گے (صحیح مسلم: ۲۰۰) تو یہ آیت کے مذکورہ مفہوم کے مخالف نہیں۔ کیونکہ امت محمدیہ کے سابقین اور عام مومنین ملا کر باقی تمام امتوں سے جنت میں جانے والوں کا نصف ہو جائیں گے، اس لیے محض سابقین کی کثرت (سابقہ امتوں میں) سے حدیث میں بیان کردہ تعداد کی نفی نہیں ہو گی۔ مگر یہ قول محل نظر ہے اور بعض نے اولین و آخرین سے اسی امت محمدیہ کے افراد مراد لیے ہیں۔ یعنی اس کے پہلے لوگوں میں سابقین کی تعداد زیادہ اور پچھلے لوگوں میں تھوڑی ہو گی۔ امام ابن کثیر نے اسی دوسرے قول کو ترجیح دی ہے۔ اور یہی زیادہ درست معلوم ہوتا ہے یہ جملہ معترضہ ہے، ﴿فِي جَنَّاتِ النَّعِيمِ﴾ اور ﴿عَلَى سُرُرٍ مَوْضُونَةٍ﴾ کے درمیان۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
عَلَىٰ سُرُ‌رٍ‌ مَّوْضُونَةٍ ﴿١٥﴾
یہ لوگ سونے کی تاروں سے بنے ہوئے تختوں پر۔

مُّتَّكِئِينَ عَلَيْهَا مُتَقَابِلِينَ ﴿١٦﴾
ایک دوسرے کے سامنے تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے۔ (١)
١٦۔١ مَوْضُونَةٌ بنے ہوئے جڑے ہوئے۔ یعنی مذکورہ جنتی سونے کے تاروں سے بنے اور سونے جواہر سے جڑے ہوئے تختوں پر ایک دوسرے کے سامنے تکیوں پر بیٹھے ہوں گے یعنی رو در رو ہوں گے نہ کہ پشت بہ پشت۔

يَطُوفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُونَ ﴿١٧﴾
ان کے پاس ایسے لڑکے جو ہمیشہ (لڑکے ہی) (١) رہیں گے آمد و رفت کریں گے۔
١٧۔١ یعنی وہ بڑے نہیں ہوں گے کہ بوڑھے ہو جائیں نہ ان کے خد و خال اور قد و قامت میں کوئی تغیر واقع ہو گا، بلکہ ایک ہی عمر اور ایک ہی حالت پر رہیں گے، جیسے نوعمر لڑکے ہوتے ہیں
 
Top