- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٧٣﴾
پس (اے انسانو اور جنو!) تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
لَمْ يَطْمِثْهُنَّ إِنسٌ قَبْلَهُمْ وَلَا جَانٌّ ﴿٧٤﴾
ان کو ہاتھ نہیں لگایا کسی انسان یا جن نے اس سے قبل۔
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٧٥﴾
پس اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کے ساتھ تم تکذیب کرتے ہو؟
مُتَّكِئِينَ عَلَىٰ رَفْرَفٍ خُضْرٍ وَعَبْقَرِيٍّ حِسَانٍ ﴿٧٦﴾
سبز مسندوں اور عمدہ فرشوں پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے۔ (١)
٧٦۔١ رفرف مسند، غالیچہ یا اس قسم کا عمدہ فرش عَبْقَرِيٍّ ، ہر نفیس اور اعلیٰ چیز کو کہا جاتا ہے۔ نبی ﷺ نے حضرت عمر رضی الله عنہ کے لیے یہ لفظ استعمال فرمایا [فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا يَفْرِي فِرْيَة] (البخاری، كتاب المناقب، باب فضل عمر- وصحيح مسلم ، فضائل الصحابة، باب من فضائل عمر رضی الله عنہ) ”میں نے کوئی عبقری ایسا نہیں دیکھا جو عمر کی طرح کام کرتا ہو“۔ مطلب یہ ہے کہ جنتی ایسے تختوں پر فروکش ہوں گے جس پر سبز رنگ کی مسندیں، غالیچے اور اعلیٰ قسم کے خوبصورت منقش فرش بچھے ہوں گے۔
پس (اے انسانو اور جنو!) تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
لَمْ يَطْمِثْهُنَّ إِنسٌ قَبْلَهُمْ وَلَا جَانٌّ ﴿٧٤﴾
ان کو ہاتھ نہیں لگایا کسی انسان یا جن نے اس سے قبل۔
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٧٥﴾
پس اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کے ساتھ تم تکذیب کرتے ہو؟
مُتَّكِئِينَ عَلَىٰ رَفْرَفٍ خُضْرٍ وَعَبْقَرِيٍّ حِسَانٍ ﴿٧٦﴾
سبز مسندوں اور عمدہ فرشوں پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے۔ (١)
٧٦۔١ رفرف مسند، غالیچہ یا اس قسم کا عمدہ فرش عَبْقَرِيٍّ ، ہر نفیس اور اعلیٰ چیز کو کہا جاتا ہے۔ نبی ﷺ نے حضرت عمر رضی الله عنہ کے لیے یہ لفظ استعمال فرمایا [فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا يَفْرِي فِرْيَة] (البخاری، كتاب المناقب، باب فضل عمر- وصحيح مسلم ، فضائل الصحابة، باب من فضائل عمر رضی الله عنہ) ”میں نے کوئی عبقری ایسا نہیں دیکھا جو عمر کی طرح کام کرتا ہو“۔ مطلب یہ ہے کہ جنتی ایسے تختوں پر فروکش ہوں گے جس پر سبز رنگ کی مسندیں، غالیچے اور اعلیٰ قسم کے خوبصورت منقش فرش بچھے ہوں گے۔