• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مختصر صحیح بخاری مترجم۔’’ التجرید الصریح لاحادیث الجامع الصحیح ''

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابُ الصَّلاَةِ بَيْنَ السَّوَارِي فِي غَيْرِ جَمَاعَةٍ
بغیر جماعت کے ستونوں کے درمیان نماز پڑھنا (درست ہے)​

(317) عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، حَدِيْثُ دُخُولِ النَّبيِّ ﷺ الْكَعْبَةَ قَالَ فَسَأَلْتُ بِلاَلاً حِينَ خَرَجَ مَا صَنَعَ النَّبِيُّ ﷺ قَالَ جَعَلَ عَمُودًا عَنْ يَسَارِهِ وَ عَمُودًا عَنْ يَمِينِهِ وَ ثَلاَثَةَ أَعْمِدَةٍ وَرَائَهُ وَ كَانَ الْبَيْتُ يَوْمَئِذٍ عَلَى سِتَّةِ أَعْمِدَةٍ ثُمَّ صَلَّى وَ فِيْ رِوَايَةٍ : عَمُودَيْنِ عَنْ يَمِينِهِ *
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما رسول اللہ ﷺ کے کعبہ میں داخل ہونے کی حدیث بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کعبہ میں داخل ہوئے ۔ میں نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا (جب وہ باہر آگئے) کہ نبی ﷺ نے (کعبہ کے اندر) کیا کیا ؟ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپ ﷺ نے ایک ستون کو اپنی بائیں جانب کر لیا اور ایک ستون کو اپنی داہنی جانب اور تین ستونوں کو پیچھے کر لیا اور نماز پڑھی اور اس وقت کعبہ چھ ستونوں پر (بنا ہوا) تھا ۔ ایک دوسری روایت میں ہے (امام مالک رحمہ اللہ کہتے ہیں) کہ دو ستونوں کو اپنی داہنی جانب کر لیا ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابُ الصَّلاَةِ إِلَى الرَّاحِلَةِ وَالْبَعِيرِ وَالشَّجَرِ وَالرَّحْلِ
سواری،اونٹ ، درخت اور کجاوہ کی طرف نماز پڑھنا​

(318) عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهُ كَانَ يُعَرِّضُ رَاحِلَتَهُ فَيُصَلِّي إِلَيْهَا قُلْتُ أَفَرَأَيْتَ إِذَا هَبَّتِ الرِّكَابُ قَالَ كَانَ يَأْ خُذُ هَذَا الرَّحْلَ فَيُعَدِّلُهُ فَيُصَلِّي إِلَى آخِرَتِهِ أَوْ قَالَ مُؤَخَّرِهِ وَ كَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَفْعَلُهُ *
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ اپنی سواری کو چوڑائی میں بٹھا دیتے تھے اور اس کی طرف (منہ کر کے) نماز پڑھتے تھے (عبید اللہ راوی نے نافع راوی سے پوچھا)کہ جب سواریاں چرنے کے لیے چلی جاتیں(توپھر آپ ﷺ کیا کرتے تھے؟) وہ بولے کہ آپ ﷺ کجاوے کو لے لیتے تھے پھر اس کے پچھلے حصے کی طرف یا (یہ کہا کہ) اس کے آخری حصے کی طرف نماز پڑھ لیتے تھے اور ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی یہی کرتے تھے ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابُ الصَّلاَةِ إِلَى السَّرِيرِ
تخت یا چارپائی کی طرف (منہ کر کے) نماز پڑھنا (درست ہے)​

(319) عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ أَعَدَلْتُمُونَا بِالْكَلْبِ وَالْحِمَارِ لَقَدْ رَأَيْتُنِي مُضْطَجِعَةً عَلَى السَّرِيرِ فَيَجِيئُ النَّبِيُّ ﷺ فَيَتَوَسَّطُ السَّرِيرَ فَيُصَلِّي فَأَكْرَهُ أَنْ أُسَنِّحَهُ فَأَنْسَلُّ مِنْ قِبَلِ رِجْلَيِ السَّرِيرِ حَتَّى أَنْسَلَّ مِنْ لِحَافِي *
ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ نے کہا کیا تم لوگوں نے ہمیں کتے اور گدھے کے برابر کر دیا؟ بے شک میں نے اپنے آپ کو چارپائی پر لیٹا ہوا دیکھا اور نبی ﷺ تشریف لاتے تھے تو چارپارئی کے بیچ میں (کھڑے ہو کر) نماز پڑھتے اور میں اس بات کو برا جانتی تھی کہ (نماز میں) آپ ﷺ کے سامنے رہوں پس میں چارپائی کے پایوں کی طرف نکل جاتی یہاں تک کہ اپنے لحاف سے باہر ہو جاتی ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابُ يَرُدُّ الْمُصَلِّي مَنْ مَرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ
نمازی ، اپنے سامنے سے گزرنے والے کو واپس کردے​

(320) عَن أَبي سَعِيدِ نِالْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّه، كَانَ يُصَلِّي فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ إِلَى شَيْئٍ يَسْتُرُهُ مِنَ النَّاسِ فَأَرَادَ شَابٌّ مِنْ بَنِي أَبِي مُعَيْطٍ أَنْ يَجْتَازَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَدَفَعَ أَبُوسَعِيدٍ فِي صَدْرِهِ فَنَظَرَ الشَّابُّ فَلَمْ يَجِدْ مَسَاغًا إِلاَّ بَيْنَ يَدَيْهِ فَعَادَ لِيَجْتَازَ فَدَفَعَهُ أَبُوسَعِيدٍ أَشَدَّ مِنَ الأُولَى فَنَالَ مِنْ أَبِي سَعِيدٍ ثُمَّ دَخَلَ عَلَى مَرْوَانَ فَشَكَا إِلَيْهِ مَا لَقِيَ مِنْ أَبِي سَعِيدٍ وَ دَخَلَ أَبُو سَعِيدٍ خَلْفَهُ عَلَى مَرْوَانَ فَقَالَ مَا لَكَ وَ لِابْنِ أَخِيكَ يَا أَبَا سَعِيدٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ ﷺ يَقُولُ’’ إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ إِلَى شَيْئٍ يَسْتُرُهُ مِنَ النَّاسِ فَأَرَادَ أَحَدٌ أَنْ يَجْتَازَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَلْيَدْفَعْهُ فَإِنْ أَبَى فَلْيُقَاتِلْهُ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ ‘’
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن کسی چیز کی طرف (منہ کر کے) نماز پڑھ رہے تھے جو ان کو لوگوں سے چھپاتی تھی پس ایک جوان نے جو (قبیلہ) بنی ابی معیط سے تھا، یہ چاہاکہ ان کے آگے سے نکل جائے تو سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے اس کے سینہ میں دھکا دیا، پس اس جوان نے کوئی سبیل نکلنے کی ، سوائے ان کے آگے کے نہ دیکھی تو پھر اس نے چاہا کہ نکل جائے ۔ پس ابو سعید رضی اللہ عنہ نے پہلے سے زیادہ سخت اسے دھکا دیا، اس پر اس نے ابو سعید رضی اللہ عنہ کی بے حرمتی کی۔ اس کے بعد وہ مروان کے پاس گیا اور ابو سعید رضی اللہ عنہ سے جو معاملہ ہوا تھا اس کی مروان سے شکایت کی اور اس کے پیچھے (پیچھے) ابو سعید رضی اللہ عنہ (بھی) مروان کے پاس گئے تو مروان نے کہا کہ اے ابو سعید!تمہارا اور تمہارے بھائی کے بیٹے کا کیا معاملہ ہے؟ ابو سعید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص کسی ایسی چیز کی طرف نماز پڑھ رہاہو جو اسے لوگوں سے چھپائے پھر کوئی شخص اس کے سامنے سے نکلنا چاہے تو اسے چاہیے کہ اسے ہٹا دے اور اگر وہ نہ مانے تو اس سے لڑے، اس لیے کہ وہ شیطان ہی ہے ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابُ إِثْمِ الْمَارِّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي
نماز پڑھنے والے کے سامنے سے گزرنے والے کا گناہ​

(321) عَنْ أَبِي جُهَيْمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ‘’لَوْ يَعْلَمُ الْمَارُّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي مَاذَا عَلَيْهِ مِنَ الإِثْمِ لَكَانَ أَنْ يَقِفَ أَرْبَعِينَ خَيْرًا لَهُ مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ ‘’ قَالَ الرَّاوِي: لاَ أَدْرِي أَ قَالَ أَرْبَعِينَ يَوْمًا أَوْ شَهْرًا أَوْ سَنَةً *
سیدنا ابو جہیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’اگر نماز پڑھنے والے کے سامنے سے گزرنے والا یہ جان لیتا کہ اس پر کس قدر گناہ ہے، تو بے شک اسے چالیس …تک کھڑا رہنا بھلا معلوم ہوتا اس بات سے کہ اس کے سامنے سے نکل جائے۔‘‘ (ابو نضر) راوی ٔحدیث کہتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ چالیس دن کہا یا چالیس مہینے یا چالیس برس۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابُ الصَّلاَةِ خَلْفَ النَّائِمِ
سوئے ہوئے آدمی کے پیچھے نماز پڑھنا​

(322) عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يُصَلِّي وَ أَنَا رَاقِدَةٌ مُعْتَرِضَةٌ عَلَى فِرَاشِهِ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ أَيْقَظَنِي فَأَوْتَرْتُ -
ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ بے شک رسول اللہ ﷺ نماز پڑھ رہے ہوتے تھے اور میں عرض کے بل آپ ﷺ کے سامنے بستر پر سو رہی ہوتی تھی۔ پس جب آپ ﷺ وتر پڑھنے کا ارادہ فرماتے تو مجھے جگا دیتے تو میں بھی وتر پڑھ لیتی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابُ إِذَا حَمَلَ جَارِيَةً صَغِيرَةً عَلَى عُنُقِهِ فِي الصَّلاَةِ
اگر حالت نماز میں کسی چھوٹی لڑکی کو اپنی گردن پر اٹھائے (تو کچھ مضائقہ نہیں)​

(323) عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَانَ يُصَلِّي وَ هُوَ حَامِلٌ أُمَامَةَ بِنْتَ زَيْنَبَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَ لِأَبِي الْعَاصِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ فَإِذَا سَجَدَ وَضَعَهَا وَ إِذَا قَامَ حَمَلَهَا *
سیدنا ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز پڑھتے تھے اور آپ ﷺ (اسی حالت میں) ابوالعاص بن ربیعہ بن عبد الشمس کی بیٹی امامہ بنت زینب، بنت رسول اللہ ﷺ کو اٹھائے ہوتے تھے، پھر جب سجدہ کرتے تو ان کو اتار دیتے اور جب کھڑے ہوتے تو ان کو اٹھا لیتے۔ (سیدہ زینب رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی ، امامہ نواسی اور ابوالعاص داماد تھے)۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابُ الْمَرْأَةِ تَطْرَحُ عَنِ الْمُصَلِّي شَيْئًا مِنَ الأَذَى
( کیا جائز ہے کہ) عورت نماز پڑھنے والے (کے جسم) سے ناپاکی کی کوئی چیز ہٹا دے ؟​

(324) حَدِيْثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي دُعَائِ النَّبِيِّ ﷺ عَلَي قُرَيْشٍ يومَ وَضَعُوا عَلَيْهِ السَّلَى تَقَدَّمَ وَ قَالَ هُنَا فِي آخِرِهِ سُحِبُوا إِلَى الْقَلِيبِ قَلِيبِ بَدْرٍ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ‘’ وَ أُتْبِعَ أَصْحَابُ الْقَلِيبِ لَعْنَةً ‘’
سیدنا عبداللہ بن مسعودکی حدیث ، نبی ﷺ کی قریش پر بددعا کرنے کے بارے میں، جو کہ آپ ﷺ نے قریش پر اس دن کی تھی جس دن انھوں نے آپ پر اوجھڑی رکھ دی تھی ، پہلے گزر چکی ہے (دیکھیے حدیث : ۱۷۸) اور اس روایت میں اتنا زیادہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد وہ گھسیٹ کر بدر ؔکے کنویں میں ڈال دیے گئے ۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اس کنویں والوں پر لعنت کی گئی ہے ۔ ‘‘
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
کتاب موقیت الصلاۃ
نماز کے اوقات کا بیان


بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلاَةِ وَفَضْلِهَا
نماز کے اوقات اور ان کی فضیلت(کا بیان)​

(325) عَنْ أَبِي مَسْعُوْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّه، دَخَلَ عَلَى المُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ وَ قَد أَخَّرَ الصَّلاةَ يَوْمًا وَ هُوَ بِالْعِرَاقِ فَقَالَ مَا هَذَا يَا مُغِيرَةُ أَلَيْسَ قَدْ عَلِمْتَ أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ نَزَلَ فَصَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ثُمَّ صَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ثُمَّ صَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِﷺ ثُمَّ صَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ثُمَّ صَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ثُمَّ قَالَ بِهَذَا أُمِرْتُ *
سیدنا ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، جبکہ وہ عراق میں تھے اور ایک دن نماز میں تاخیر ہو گئی تھی، کہا کہ اے مغیرہ! ( تم نے) یہ کیا کیا ؟ تم نہیں جانتے کہ (ایک دن) جبریل علیہ السلام تشریف لائے ہوئے اور انھوں نے نماز پڑھی تو رسول اللہ ﷺ نے (بھی) پڑھی، پھر (دوسری) نماز پڑھی تو رسول اللہ ﷺ نے بھی پڑھی، پھر (تیسری) نماز پڑھی تو رسول اللہ ﷺ نے بھی پڑھی ، پھر (چوتھی) نماز پڑھی تو رسول اللہ ﷺ نے بھی پڑھی، پھر (پانچویں) نماز پڑھی تو رسول اللہ ﷺ نے بھی پڑھی، پھر جبریل علیہ السلام نے کہا کہ مجھے اسی طرح حکم ہوا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابٌ : الصَّلاَةُ كَفَّارَةٌ
نماز (گناہوں) کا کفارہ ہے​

(326) عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ أَيُّكُمْ يَحْفَظُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فِي الْفِتْنَةِ قُلْتُ أَنَا كَمَا قَالَهُ قَالَ إِنَّكَ عَلَيْهِ أَوْ عَلَيْهَا لَجَرِيئٌ قُلْتُ فِتْنَةُ الرَّجُلِ فِي أَهْلِهِ وَ مَالِهِ وَ وَلَدِهِ وَجَارِهِ تُكَفِّرُهَا الصَّلاَةُ وَالصَّوْمُ وَالصَّدَقَةُ وَالأَمْرُ وَالنَّهْيُ قَالَ لَيْسَ هَذَا أُرِيدُ وَ لَكِنِ الْفِتْنَةُ الَّتِي تَمُوجُ كَمَا يَمُوجُ الْبَحْرُ قَالَ لَيْسَ عَلَيْكَ مِنْهَا بَأْسٌ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّ بَيْنَكَ وَ بَيْنَهَا بَابًا مُغْلَقًا قَالَ أَيُكْسَرُ أَمْ يُفْتَحُ قَالَ يُكْسَرُ قَالَ إِذًا لاَ يُغْلَقُ أَبَدًا قُلْنَا أَكَانَ عُمَرُ يَعْلَمُ الْبَابَ قَالَ نَعَمْ كَمَا أَنَّ دُونَ الْغَدِ اللَّيْلَةَ إِنِّي حَدَّثْتُهُ بِحَدِيثٍ لَيْسَ بِالأَغَالِيْطِ فَسُئِلَ مَنِ الْبَابُ فَقَالَ عُمَرُ *
سیدناحذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ لوگ امیر المومنین عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو انھوں نے کہا کہ فتنہ کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کی حدیث تم میں سے کسے یاد ہے؟ میں نے کہا کہ مجھے (بالکل اسی طرح) یاد ہے جیسا کہ آپ ﷺ نے فرمایا ۔ امیرالمومنین عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ پھر بیان کیجیے تو میں نے کہا کہ آدمی کا وہ فتنہ جو اس کی بیوی اور اس کے مال اور اولاد میں ہوتا ہے نماز ، روزہ ، صدقہ اور امر (بالمعروف) اور نہی (عن المنکر) اس کو مٹا دیتا ہے۔ امیرالمومنین عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں یہ نہیں (پوچھنا) چاہتا بلکہ وہ فتنہ جو دریا کی طرح موج زن ہو گا۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اے امیر المومنین! اس فتنہ سے آپ کو کچھ خوف نہیں کیونکہ آپ ( رضی اللہ عنہ ) کے اور اس کے درمیان ایک بند دروازہ ہے ۔ امیر المومنین عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اچھا : وہ دروازہ توڑ ڈالا جائے گا یا کھولا جائے گا؟ تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ توڑ ڈالا جائے گا۔ پھر امیر المومنین عمر رضی اللہ عنہ نے کہا تو پھر(وہ دروازہ) کبھی بند نہ ہو گا۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ کیا عمر رضی اللہ عنہ اس دروازے کو جانتے تھے ؟ انھوں نے کہا ہاں (اس طرح جانتے تھے) جیسے (تم جانتے ہو) کہ دن کے بعد رات ہو گی۔ (سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ ) نے وہ حدیث بیان کی جو غلط نہ تھی۔ پس ان سے (دروازے کا) پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ دروازہ ’’ امیر المؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تھے ۔ ‘‘

(327) عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلاً أَصَابَ مِنَ امْرَأَةٍ قُبْلَةً فَأَتَى النَّبِيَّ ﷺ فَأَخْبَرَهُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّوَجَلَّ { أَقِمِ الصَّلاَةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ } فَقَالَ الرَّجُلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ! أَلِي هَذَا قَالَ لِجَمِيعِ أُمَّتِي كُلِّهِمْ *
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کسی (اجنبی) عورت کو بوسہ دے دیا پھر وہ نبی ﷺ کے پاس حاضر ہوا اور آپ ﷺ سے بیان کیا تو اللہ بزرگ و برتر نے یہ آیت نازل فرما دی:’’نماز کو دن کے سروں میں اور کچھ رات گئے قائم کرو بے شک نیکیاں برائیوں کو مٹادیتی ہیں۔‘‘ تو وہ شخص بولا کہ اللہ کے رسول! کیا یہ میرے ہی لیے ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ’’میری تمام امت کے لیے ہے ۔‘‘

(328) وَ عَنْهُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي رِوَايَةٍ لِمَن عَمِلَ بِهَا مِنْ أُمَّتِي *
ایک اور روایت میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے : ’’میری امت میں سے ہر ایک (صغیرہ گناہ کا) کام کرنے والے کے لیے (یہ کفارہ) ہے۔‘‘
 
Top