• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

فہم توحید

عکرمہ

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 27، 2012
پیغامات
658
ری ایکشن اسکور
1,871
پوائنٹ
157
محمدﷺاللہ کے رسول ہیں
اقرار توحید کے بعد رسالت محمدی کی شہادت بھی ضروری ہے۔
دلیل رسالت:
اللہ تعالیٰ کا ارشادہے:
لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِيْزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيْصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِيْنَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ(سورۃ التوبہ:۱۲۸)
’’دیکھو! تم لوگوں کے پاس ایک رسول ﷺ آیا ہے جو خود تم ہی میں سے ہے ، تمہارا نقصان میں پڑنا اس پر شاق ہے ، تمہاری فلاح کا وہ حریص ہے ، ایمان لانے والوں کے لیے وہ شفیق اور رحیم ہے‘‘
نیز اللہ عز وجل نے فرمایا:
وَ اللّٰهُ يَعْلَمُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُهٗ(سورۃ المنافقون:۱)
’’اوہ اللہ جانتا ہے کہ تم بے شک اس کے رسول ہو‘‘
شہادت رسالت سے مراد:
رسالت کی گواہی کا مطلب یہ ہے کہ زبان سے اقرار کرتے ہوئے تہ دل سےاس امر کی قطعی و یقینی تصدیق کی جائے کہ محمدﷺاللہ کے بندے ہیں اوراس کی جانب سے تمام انسانوں اور جنوں کے لیے رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں۔
ارکان:
رسالت محمدی کی شہادت کے دو ارکان ہیں:
1:
آپﷺکی رسالت کا اعتراف
اس کی دلیل اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:
مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ(سورۃ الفتح:۲۹)’’محمدﷺاللہ کے رسول ہیں‘‘
2:
اللہ کے لیے آپﷺکی عبودیت کا اظہار
اس کی دلیل یہ ہے کہ باری تعالیٰ نے اعلیٰ واشرف مقامات کا تذکرہ کرتے ہوئے نبی مکرمﷺکو عبودیت کے لقب سے نوازا ہے۔انہی میں سے ایک مقام وہ ہےجہاں آپﷺکے اپنے رب کو پکارنے کا ذکر ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَّ اَنَّهٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰهِ يَدْعُوْهُ كَادُوْا يَكُوْنُوْنَ عَلَيْهِ لِبَدًا(سورۃ الجن:۱۹)
’’اور یہ کہ جب اللہ کا بندہ اُس کو پکارنے کے لیے کھڑا ہوا تو لوگ اُس پر ٹوٹ پڑنے کے لیے تیار ہوگئے۔‘‘

پس آپﷺرسول ہیں۔آپﷺکو جھٹلایا نہیں جا سکتا اور اللہ کے عبد ہیں۔جن کی پرستش نہیں کی جاسکتی۔
شہادت رسالت کی شرائط اور تقاضے:

نبی مکرمﷺکی رسالت کی گواہی کےتقاضے اور شرائط چار ہیں:
1:آپﷺنے جو خبر دی ہےاس میں آپﷺکی تصدیق کی جائے۔
2:آپﷺکے حکم کی اطاعت کی جائے۔
3:جن امور میں آپﷺنے منع فرمایا اور سختی سے روکا ہےان سے اجتناب کیا جائے۔
4:اللہ تعالیٰ کی عبادت صرف آپﷺہی کے مقرر کردہ طریقے پر کی جائے یعنی عبادت رب میں شریعت محمدﷺکی پابندی کی جائے
 

عکرمہ

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 27، 2012
پیغامات
658
ری ایکشن اسکور
1,871
پوائنٹ
157
شرک کی تعریف اور اقسام

تعریف شرک:
لغوی طور پر اس کے معنی ہیں:الاشراک والمقارنۃ یعنی کسی کو شریک ٹھہرانا اور ایک شے کو دوسری سے ملانا۔
شرعی اعتبار سے اس کا مفہوم یہ ہےکہ ان امور میں غیراللہ کو اللہ کے برابر قرار دیا جائےجو صرف اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہیں۔
اقسام شرک:
اس کی دو قسمیں ہیں:
شرک اکبر:
اس سےمراد ہر وہ شرک ہےجسے شارع نے مطلق رکھا ہے۔اس کے ارتکاب سے انسان دین کے دائرے سے نکل جاتا ہے۔
شرک اصغر:
ہر وہ قول یا فعل جس پر کفریا شرک کا اطلاق شرعاً ثابت ہواورشرعی دلائل سے یہ معلوم ہوکہ اس کا مرتکب دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوتا۔
شرک اکبر اور شرک اصغر میں فرق:

شرک اکبر:یہ انسان کو ملت اسلامیہ سے خارج کر دیتا ہے۔
شرک اصغر:یہ دائرہ اسلام سے خارج نہیں کرتا۔
شرک اکبر:اس کا ارتکاب کرنے والا ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔
شرک اصغر:اس کا مرتکب اگر جہنم میں داخل ہوا تو دائمی طور پر اس میں نہ رہے گا۔یہ تمام اعمال کو ضائع نہیں کرتا بلکہ ریا کاری سےصرف وہی عمل برباد ہوتا ہےجس میں یہ موجود ہو۔
شرک اکبر:اس سے خون اورمال مباح ہو جاتا ہے۔
شرک اصغر:یہ شرک جان اور مال کو مباح نہیں کرتا۔
 

عکرمہ

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 27، 2012
پیغامات
658
ری ایکشن اسکور
1,871
پوائنٹ
157
شرک اکبر کی اقسام

اس کی چار قسمیں ہیں جو درج ذیل ہیں:
۱ دعا اور پکار کا شرک:
اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:
فَاِذَا رَكِبُوْا فِي الْفُلْكِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ اِذَا هُمْ يُشْرِكُوْنَۙ(سورۃ العنکبوت:۶۵)
’’جب یہ لوگ کشتی پر سوار ہوتے ہیں تو اپنے دین کو اللہ کے لیے خالص کر کے اس سے دعا مانگتے ہیں ، پھر جب وہ انہیں بچا کر خشکی پر لے آتا ہے تو یکا یک یہ شرک کرنے لگتے ہیں‘‘
۲قصد و ارادہ اور نیت کاشرک:
اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:
مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا وَ زِيْنَتَهَا نُوَفِّ اِلَيْهِمْ اَعْمَالَهُمْ فِيْهَا وَ هُمْ فِيْهَا لَا يُبْخَسُوْنَ۔اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ اِلَّا النَّارُ وَ حَبِطَ مَا صَنَعُوْا فِيْهَا وَ بٰطِلٌ مَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ(سورۃ ھود:۱۵،۱۶)
’’جو لوگ بس اس دنیا کی زندگی اور اس کی خوشنمائیوں کے طالب ہوتے ہیں ان کی کارگزاری کا سارا پھل ہم یہیں ان کو دے دیتے ہیں اور اس میں ان کے ساتھ کوئی کمی نہیں کی جاتی ۔مگر آخرت میں ایسے لوگوں کے لیے آگ کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ (وہاں معلوم ہو جائے گا کہ )جو کچھ انہوں نے دنیا میں بنایا وہ سب ملیا میٹ ہوگیا اور اب ان کا سارا کیا دھرا محض باطل ہے‘‘
۳ اطاعت کا شرک:
قرآن شریف کی یہ آیت اس کی دلیل ہے:
اِتَّخَذُوْۤا اَحْبَارَهُمْ وَ رُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ الْمَسِيْحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِيَعْبُدُوْۤا اِلٰهًا وَّاحِدًا لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ سُبْحٰنَهٗ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ(سورۃ التوبہ:۳۱)
’’انہوں نے اپنے علماء اور درویشوں کو اللہ کے سوا اپنا ربّ بنا لیا ہے۔ اور اسی طرح مسیح ؑ ابن مریم کو بھی ۔ حالانکہ ان کو ایک معبود کے سوا کسی کی بندگی کرنے کا حکم نہیں دیا گیا تھا، وہ جس کے سوا کوئی مستحق عبادت نہیں، پاک ہے وہ ان مشرکانہ باتوں سے جو یہ لوگ کرتے ہیں‘‘
بغیر کسی شک وشبہ کے اس آیت کی تفسیر یہ ہے کہ:معصیت خداوندی میں علماء ومشائخ کی اطاعت کی جائے،یہاں انہیں پکارنا مراد نہیں۔چنانچہ سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کے استفسار پر نبی کریمﷺنے بھی یہی تشریح فرمائی تھی۔حضرت عدی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا تھا کہ ہم تو اس کی عبادت نہیں کرتے تھے۔آپﷺنے واضح کیا کہ اللہ کی نافرمانی میں عالموں اور دریشوں کی پیروی ہی درحقیقت ان کی عبادت ہے۔
((جامع الترمذی،أبواب التفسیر،باب ومن تفسیر سورۃ التوبۃ،ح:۳۰۹۵))​
۴محبت کا شرک:
اس کی دلیل اللہ عزوجل کا یہ فرمان ہے:
وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يَّتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَنْدَادًا يُّحِبُّوْنَهُمْ۠ كَحُبِّ اللّٰهِ(سورۃ البقرہ:۱۶۵)
’’کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ کے سوا دوسروں کو اس کا ہمسر اور مدِّ مقابل بناتے ہیں اور ان کے ایسے گرویدہ ہیں جیسی اللہ کے ساتھ گرویدگی ہونی چاہیے۔‘‘
 

عکرمہ

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 27، 2012
پیغامات
658
ری ایکشن اسکور
1,871
پوائنٹ
157
شرک اکبر اور شرک اصغر کی مثالیں

شرک اکبر کی مثالیں:
شرک اکبر کی دو صورتیں ہیں۔ان دونوں کی الگ الگ مثالیں درج ذیل ہیں:
شرک اکبر جلی:
غیر اللہ کے لیے ذبح کرنا یا نذر ماننا۔اللہ کے علاوہ کسی اور ہستی سے فریاد رسی چاہنا یا اسے مدد کے لیے پکارنا۔
شرک اکبر خفی:
منافقین کا شرک اور ریاکاری،اسی طرح تکلیف و مصیبت کا خوف رکھنا،اس لیے کہ یہ ان امور میں غیر اللہ کا ڈر اور خوف ہے،جن پر سوائے اللہ کے اور کوئی قدرت نہیں رکھتا۔
شرک اصغر کی مثالیں:
اس کی بھی دو قسمیں ہیں:
شرک اصغر جلی:
اللہ کے علاوہ کسی اور کی قسم کھانا،یہ کہنا کہ جو اللہ اور تم چاہو،یا یہ کہنا کہ اگر اللہ اور فلاں نہ ہوتا(تو یوں ہو جاتا)
شرک اصغر خفی:
معمولی ریاکاری،بدشگونی لینا یا کسی شے کی نحوست کا اعتقاد رکھنا۔
شرک بچنے کی ایک نافع دعا:

سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہﷺنے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا:
((أَيُّهَا النَّاسُ، اتَّقُوا هَذَا الشِّرْكَ، فَإِنَّهُ أَخْفَى مِنْ دَبِيبِ النَّمْلِ))
’’اے لوگو!شرک سے بچ جاؤ کیونکہ یہ چیونٹی کے چلنے کی آواز سےبھی زیادہ پوشیدہ ہے‘‘
کسی نے عرض کیا یا رسول اللہﷺہم اس سے کیسے بچ سکتے ہیں جبکہ یہ چیونٹی کے رینگنے کی آواز سے بھی زیادہ مخفی ہے؟
آپﷺنے فرمایا:’’تم یوں کہا کرو‘‘
((اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ نُشْرِكَ بِكَ شَيْئًا نَعْلَمُهُ، وَنَسْتَغْفِرُكَ لِمَا لَا نَعْلَمُ))
’’یا اللہ ہم اس بات سے تیری پناہ میں آتے ہیں کہ ہم جانتے بوجھتے کسی کو تیرا شریک ٹھہرائیں اور لا علمی میں ہونے والی خطاؤں سے تجھ سے بخشش کے طلب گار ہیں‘‘
(مسند احمد،ج:۴/ص:۴۰۳)
 

عکرمہ

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 27، 2012
پیغامات
658
ری ایکشن اسکور
1,871
پوائنٹ
157
شرک کی تاریخ

بنی آدم کا اصل عقیدہ توحید تھا،شرک بعد میں طاہر ہوا،جیسا کہ سیدناابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا:
’’کَانَ بَیْنَ آَدَمَ وَ نُوْح عَشْرَۃَ قُرُوْن کُلُّھُمْ عَلَی التَّوْحِیْدِ‘‘
’’سیدنا آدم اور سیدنا نوح علیہما السلام کے مابین دس صدیوں کا زمانہ تھا اور اس سارے عرصے میں لوگ عقیدہ توحید پر ہی قائم تھے‘‘
روئے زمین پر سب سے پہلا شرک:
شرک سب سے پہلے سیدنا نوح علیہ السلام کی قوم میں ظہور پذیر ہوا۔جب انہوں نے نیک اور صالح لوگوں کے بارے میں غلو کرنا شروع کردیااوران کی تصویریں بنانے لگےاس کا نتیجہ یہ ہواکہ اللہ کے ساتھ ان کی بھی عبادت کرنے لگے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا نوح علیہ السلام کوان کی طرف رسول بنا کر بھیجا،جو ان کو توحید کی طرف بلاتے تھے۔
قوم موسی علیہ السلام میں شرک کا ظہور:
ان لوگوں میں شرک کاآغازاس وقت ہوا جب انھوں نے بچھڑے کی پرستش شروع کردی۔
نصاریٰ میں شرک کی ابتداء:
عیسائیوں میں شرک کا عقیدہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر اٹھائے جانے کے بعد پیدا ہوا۔یہ پولس کی کارستانی تھی اس نےدھوکے اور فریب سے کام لیتے ہوئے،سیدنا مسیح علیہ السلام پر ایمان لانے کا دعوی کیا اور نصاریٰ کے مذہب میں تثلیث،صلیب کی پوجا اوردیگر شرکیہ خرافات کی امیزش کردی۔
سرزمین عرب میں شرک کی آمد:
یہاں شرک کی آمد عمرو بن لحی الخزاعی کے ہاتھوں ہوئی،اس نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے دین کو بدل ڈالا تھا۔یہ ارضِ حجاز میں بت لے کر آیا اور لوگوں کو ان کی عبادت کا حکم دیا۔
امت محمدیہﷺمیں شرک کاآغاز:
مسلمانوں میں شرک کی ابتداء چوتھی صدی ہجری کے بعد فاطمیوں نے کی۔جب انہوں نے قبروں پر مشاہد(اجتماع گاہوں)کی تعمیر شروع کی،اسلام میں مختلف لوگوں کے میلاد منانے کی بدعت ایجاد کی اور صالحین کے بارے میں غلواور مبالغہ آمیزی سے کام لینے لگے۔
اسی طرح راہ صواب سے ہٹا ہوا تصوف بھی امت میں شرک کا اہم سبب ہےجو مختلف سلسلوں کے مشائخ اور بزرگوں کے بارے میں غلو پر مبنی ہے۔
 

عکرمہ

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 27، 2012
پیغامات
658
ری ایکشن اسکور
1,871
پوائنٹ
157
شرک کی سنگینی اور اس کی سزا

1
جو شرک سے توبہ کیے بغیر مر گیا،اللہ اس کی بخشش نہ فرمائے گا،

اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:
اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِهٖ وَ يَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَآءُ(سورۃ النساء:۴۸)
’’اللہ بس شرک ہی کو معاف نہیں کرتا ، اس کے ماسوا دوسرے جس قدر گناہ ہیں وہ جس کے لیے چاہتا ہے معاف کر دیتا ہے‘‘
2 شرک کا مرتکب دائرہ اسلام سے خارج اور اس کی جان ومال مباح ہے،
اس کی دلیل قرآن مجید کی یہ آیت ہے:
فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِيْنَ حَيْثُ وَجَدْتُّمُوْهُمْ وَ خُذُوْهُمْ وَ احْصُرُوْهُمْ(التوبہ:۵)
’’پس جب حرام مہینے گزر جائیں تو مشرکین کو قتل کرو جہاں پاؤ اور انہیں پکڑو اور گھیرو‘‘
3 مشرک کا کوئی عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول نہیں،اگر اس نے کوئی نیک عمل کیا ہوگاتوشرک سے وہ ضائع اور برباد ہو جائے گا۔
اس کی دلیل اللہ عزوجل کا یہ ارشاد ہے:
وَ قَدِمْنَاۤ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰهُ هَبَآءً مَّنْثُوْرًا(الفرقان:۲۳)
’’اور جو کچھ بھی ان کا کیا دھرا ہے۔ اُسے لے کر ہم غبار کی طرح اُڑا دیں گے‘‘
نیز فرمایا:
وَ لَقَدْ اُوْحِيَ اِلَيْكَ وَ اِلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكَ لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ(الزمر:۶۵)
’’تمہاری طرف اور تم سے پہلے گزرے ہوئے تمام انبیاء کی طرف یہ وحی بھیجی جا چکی ہے کہ اگر تم نے شرک کیا تو تمہارا عمل ضائع ہو جائے ،گا اور تم خسارے میں رہو گے‘‘
4 مشرک پر جنت حرام اور وہ دائمی جہنمی ہے،
اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:
اِنَّهٗ مَنْ يُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَ مَاْوٰىهُ النَّارُوَ مَا لِلظّٰلِمِيْنَ مِنْ اَنْصَارٍ(المائدہ:۷۲)
’’جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا اُس پر اللہ نے جنت حرام کر دی اور اُس کا ٹھکانا جہنم ہے اور ایسے ظالموں کا کوئی مدد گار نہیں‘‘
 

عکرمہ

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 27، 2012
پیغامات
658
ری ایکشن اسکور
1,871
پوائنٹ
157
نواقض اسلام

نواقض اسلام سے مراد وہ امور ہیں جو اسلام کو نقصان پہنچاتے اور اسے باطل کردیتے ہیں۔یہ بہت سے ہیں لیکن سب سے خطرناک اور زیادہ تروقوع پذیر ہونے والے دس ہیں۔
1 عبادت الہٰی میں شرک،غیر اللہ کے لیے جانور ذبح کرنا بھی اسی میں شامل ہےجیسے کوئی شخص کسی جن یا صاحب قبر کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیےجانور ذبح کرے۔
اس کی دلیل اللہ عزوجل کا یہ فرمان ہے:
اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِهٖ وَ يَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَآءُ(سورۃ النساء:۴۸)
’’اللہ بس شرک ہی کو معاف نہیں کرتا ، اس کے ماسوا دوسرے جس قدر گناہ ہیں وہ جس کے لیے چاہتا ہے معاف کر دیتا ہے‘‘
2 جو اللہ رب العزت اور اپنے مابین واسطے تلاش کرتا،انہیں پکارتا،ان سے سوال کرتا اور ان پر بھروسہ وتوکل کرتا ہےوہ بالاجماع کافر ہے۔

٣ جو مشرکوں کو کافر قرار نہیں دیتا یاان کے کفر میں شک کرتا ہےیاان کے عقیدہ و مذہب کو درست سمجھتا ہے،تو ایسا شخص کافر ہے۔
4
جو یہ اعتقاد رکھےکہ رسول معظمﷺکے علاوہ کسی دوسرے شخص کی ہدایت و رہنمائی آپﷺکی لائی ہوئی ہدایت سےزیادہ کامل ہےیاکسی اور کا فیصلہ آپﷺکے فیصلے سے بہتر ہےجیسا کہ بعض لوگ طاغوتوں کے فیصلوں کوآپﷺکے احکامات پر ترجیح دیتے ہیں،تو ایسا شخص کا فرہوجاتا ہے۔
5
جس نے نبی مکرمﷺکی لائی ہوئی شریعت میں سے کسی شے کو ناپسند جانایا اس سے نفرت کی تو وہ کافر ہےخواہ وہ اس پر عمل پیراہی کیوں نہ ہو۔
6
جس نے دین پیغمبرﷺکی کسی شے کا استہزاء کیا یا اس کے ثواب و عقاب کا مذاق اڑایا،وہ کافر ہو گیا۔اس کی دلیل اللہ عزو جل کا یہ فرمان ہے:
قُلْ اَبِاللّٰهِ وَ اٰيٰتِهٖ وَ رَسُوْلِهٖ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُوْنَ۠۔لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِيْمَانِكُمْ (التو بۃ:۶۵،۶۶)
’’ان سے کہو ’’کیا تمہاری ہنسی دل لگی اللہ اور اس کی آیات اور اس کے رسول ﷺ ہی کے ساتھ تھی؟۔اب عذرات نہ تراشو ۔ تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا ہے‘‘
7
جادو بھی کفر ہے۔صرف و عطف یعنی دل کو پھیرنے اور نرم کرنے کا عمل بھی اسی میں شامل ہے۔جو جادو کرےیا اس پر اظہار رضامندی ظاہر کرےوہ کافر ہے۔
اس کی دلیل اللہ رب العزت کا یہ فرمان ہے:
وَ مَا يُعَلِّمٰنِ مِنْ اَحَدٍ حَتّٰى يَقُوْلَاۤ اِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ(البقرہ:۱۰۲)
’’حالانکہ یہ کسی کو سکھاتے نہیں تھےجب تک اس کو خبردار نہ کردیں کہ ہم تو بس آزمائش کے لیے ہیں تو تم کفر میں نہ پڑجانا‘‘
8
مسلمانوں کے خلاف مشرکوں کی امداد و معاونت کرنا بھی کفر ہے
اس کی دلیل یہ ارشاد ربانی ہے:
وَ مَنْ يَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّهٗ مِنْهُمْ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ(المائدہ:۵۱)
’’اور تم میں سے جو ان کو اپنا دوست بنائے گاتووہ انہی میں سے ہے‘‘
9
جو شخص یہ اعتقاد رکھے کہ بعض لوگوں کے لیے شریعت محمدﷺسے روگردانی(خروج)درست ہےوہ کافر ہے۔
اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:
وَ مَنْ يَّبْتَغِ غَيْرَ الْاِسْلَامِ دِيْنًا فَلَنْ يُّقْبَلَ مِنْهُ وَ هُوَ فِي الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ(آل عمران:۸۵)
’’اور جو اسلام کےسوا کسی اوردین کا طالب بنےگاتووہ اس سے ہرگزقبول نہیں کیا جائےگااور وہ آخرت میں ناکام و نامراد رہے گا‘‘
١٠
جواللہ کے دین سے اعراض کرتا ہے،اسے سیکھتا ہےاورنہ ہی اس پر عمل کرتا ہے،وہ بھی کافر ہے۔
اس کی دلیل اللہ رب العزت کا یہ فرمان ہے:
وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰيٰتِ رَبِّهٖ ثُمَّ اَعْرَضَ عَنْهَا اِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِيْنَ مُنْتَقِمُوْنَؒ(السجدہ:۲۲)
’’اور اُس سے بڑا ظالم کون ہوگا جسے اس کے ربّ کی آیات کے ذریعہ سے نصیحت کی جائے اور پھر وہ ان سے منہ پھیر لے ۔ ایسے مجرموں سے تو ہم انتقام لے کر رہیں گے‘‘
تنبیہات:

۱:ان تمام نواقض میں اس اعتبار سے کوئی فرق نہیں کہ ان کا ارتکاب خواہ ہنسی مذاق کی حالت میں کیا جائےیا سنجیدگی سےیا کسی خوف کی بنا پر تمام صورتوں میں ان کا مرتکب کافر سمجھا جائے گاالبتہ جو مجبور ولاچار کر دیا جائےوہ اس سے مستثنیٰ ہےبشرطیکہ دل سے کفر نہ کرے۔
۲:ایمان و اسلام کا خاتمہ کر دنیے والےیہ تمام امور انتہائی سنگین اور خطرناک ہیں اور لوگ کثرت سےان کے مرتکب ہوتے رہتے ہیں،لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہےکہ ان سے بچنے کی کوشش کرےاوراس بات سے ڈرتا رہےکہ کہیں وہ ان کا ارتکاب نہ کر بیٹھے۔
 

عکرمہ

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 27، 2012
پیغامات
658
ری ایکشن اسکور
1,871
پوائنٹ
157
طاغوت کا انکار

طاغوت کی تعریف:
لغت کی رو سے لفظ طاغوت طغیان سے نکلا ہےجس کا معنی حد سے تجاوز کرنے کے ہیں۔
جب کسی مخلوق کو اس کی حد سے بڑھا کر معبود،متبوع اور مطاع کی شکل میں عبادت کے لائق بنا دیا جائے تو وہ طاغوت ہے۔
طاغوت کا کفر و انکار لازم ہے:
اللہ رب العزت نے انسان پرجو چیز سب سے پہلے فرض کی وہ یہ ہے کہ طاغوت کا انکار کیا جائے اور اللہ پر ایمان لایا جائے۔
اس کی دلیل اللہ عزوجل کا یہ فرمان ہے:
وَ لَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ(النحل:۳۶)
’’اور ہم نے ہر امت میں ایک رسول اس دعوت کی ساتھ بھیجا کہ اللہ ہی کی بندگی کرو اور طاغوت سے بچو‘‘
طاغوت کا کفر کیسے ہوگا؟:

١:غیر اللہ کی عبادت کے باطل ہونے کا اعتقاد رکھا جائے،اسے ترک کردیا جائےاوراس سے اظہار بغض و نفرت کیا جائے۔
٢:طاغوت کے ساتھیوں اور پیروکاروں کو کافر قرار دیا جائےاوران سے عداوت و دشمنی رکھی جائے۔
طاغوتوں کے سردار و لیڈر:

طاغوت بہت سے ہیں لیکن ان کے سرغنے پانچ ہیں:
١:ابلیس ملعون
٢:جسے اللہ کے سوا پوجا جائے اور وہ اس پر راضی ہو۔
٣:جو لوگوں کو اپنی پرستش کی دعوت دے
٤:جو علم غیب میں سے کسی چیز کے جاننے کا دعوی کرے۔
٥:جو اللہ کی نازل کردہ شریعت کے علاوہ کسی اور شے کی بنیاد پر فیصلے کرے
 

عکرمہ

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 27، 2012
پیغامات
658
ری ایکشن اسکور
1,871
پوائنٹ
157
اصول ثلاثہ(تین بنیادی اصول)

عقیدہ کے تین اہم اور بنیادی اصول درج ذیل ہیں
انسان کا اپنے رب کو پہچاننا
بندے کا اپنے دین کی معرفت حاصل کرنا
انسان کا اپنے نبی سیدنا محمدﷺکو پہچاننا
قبر میں بھی یہی تین سوال پوچھے جائیں گے۔ان کی توضیح حسب ذیل ہے۔
اصل اول:معرفت رب:

اس سلسلے میں درج ذیل مسائل قابل توجہ ہیں:
١: بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہی ہمارا رب ہےجس نے اپنی نعمتوں سے ہماری اور تمام جہانوں کی پرورش اور نگہداشت فرمائی۔
٢: اللہ عزوجل ہی معبودِ حقیقی ہےاس کے سوا ہمارا کوئی معبود نہیں۔
٣: ہم نے اپنے رب کواس کی مخلوقات اور عظیم نشانیوں کے ذریعے پہچانا۔
رات،دن،چاند،سورج وغیرہ اس کی آیات اور نشانیاں ہیں۔
اور اس کی مخلوقات میں سات آسمان،سات زمینیں اور وہ تمام چیزیں شامل ہیں جو ان دونوں کے مابین موجود ہیں،یا ان میں بستی ہیں۔
اصل دوم:معرفت دین:

اس میں درج ذیل مسائل اہم ہیں
اسلام ہی وہ دین ہےجس کے سوااللہ تعالیٰ کوئی اور دین قبول نہ فرمائے گا۔
اسلام کے معنی یہ ہیں کہ عقیدہ توحید کو اپناتے ہوئےاللہ تعالیٰ کے ہاں خودسپردگی کا اظہار کیا جائے،اطاعت باری تعالیٰ کے ذریعے شیؤہ تسلیم و رضا اختیار کیا جائےاور شرک اور اہل شرک سےاظہار بیزاری و لا تعلقی کی جائے۔
دین کے تین مراتب و مدارج ہیں اور وہ ہیں:اسلام ،ایمان اور احسان
اصل سوم:رسول اللہﷺکی معرفت:

اس اصول پر درج ذیل مسائل متفرع ہوتے ہیں۔
اسم و نسب:
آپﷺکا نام و نسب یہ ہے:محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم۔آپﷺکا تعلق عرب کے قبیلہ قریش سے ہے اورعرب سیدنا اسماعیل بن ابراہیم علیہ السلام کی اولاد ہیں۔
عمر مبارک:
رسول معظمﷺکی کل عمر مبارک تریسٹھ (۶۳)برس تھی۔ان میں سے چالیس سال نبوت سے پہلے بسر ہوئے اور تیٔس سال آپﷺنے نبی اور رسول کی حیثیت سے گزارے۔
نبوت و رسالت:
آپﷺپہلی وحی اقراء کے ذریعے نبی بنائے گئے اور سورۃ المدثر نازل فرما کرآپﷺکو شرفِ رسالت سے نوازا گیا۔
وطن اور جائے ہجرت:
رسول اللہﷺکا آبائی وطن مکہ مکرمہ تھا،بعد ازاں آپﷺ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی،جسے اس زمانے میں یثرب کہا جاتا تھا۔
موضوع دعوت:
اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺکو شرک سے ڈرانےاور توحید کی طرف بلانے کے لیے مبعوث فرمایا اور یہی آپﷺکی دعوت کا موضوع تھا۔
 

عکرمہ

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 27، 2012
پیغامات
658
ری ایکشن اسکور
1,871
پوائنٹ
157
کفر

تعریف:
لغت کی روسے کفر کے معنی چھپانے اور ڈھانکنے کے ہیں۔
شرعی پہلو سے اس کا مفہوم ہے:اسلام کے منافی اور متضاد رویہ
اقسام:

کفر کی دو قسمیں ہیں:
کفر اکبر
کفر اصغر
ان کی تفصیل درج ذیل ہے:
کفر اکبر:

اس میں درج ذیل مطالب ہیں:
تعریف:
اس سے مراد ہےاللہ اوراس کے پیغمبروں پر ایمان نہ لانا۔برابر ہےکہ اس کے ساتھ تکذیب شامل ہو یا نہ ہو یعنی دونوں صورتوں میں کفر اکبر ہوگا۔
حکم:کفر اکبر انسان کو دین و ملت سے خارج کر دیتا ہے۔
اقسام:کفر اکبر پانچ قسموں میں منقسم ہے:
١ کفر تکذیب:
اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:
وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهٗ اَلَيْسَ فِيْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْكٰفِرِيْنَ(العنکبوت:۶۸)
’’اس شخص سے بڑا ظالم کون ہو گا جو اللہ پر جھوٹ باندھے یا حق کو جھٹلائے جب کہ وہ اس کے سامنے آچکا ہو؟ کیا ایسے کافروں کا ٹھکانا جہنّم ہی نہیں ہے‘‘
٢ کفر انکار و استکبار:
یعنی انسان اللہ اور اس کے احکامات کی تصدیق تو کرتا ہو لیکن سرکشی اور انکار کی روش اپناتے ہوئے شریعت کو حقارت سے رد کر دے۔
اسکی دلیل اللہ عزوجل کا یہ فرمان ہے:
وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓىِٕكَةِ۠ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِيْسَ اَبٰى وَ اسْتَكْبَرَ١ٞۗ وَ كَانَ مِنَ الْكٰفِرِيْنَ(البقرہ:۳۴)
’’اور(یاد کرو)جبکہ ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کروتو انہوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے(نہ کیا)۔اس نے انکار کیا اور گھمنڈ کیا اور کافروں میں سے بن گیا‘‘
٣ کفر شک یا کفر ظن:
اس کی دلیل درج ذیل قرآنی آیات ہیں:
وَ دَخَلَ جَنَّتَهٗ وَ هُوَ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ قَالَ مَاۤ اَظُنُّ اَنْ تَبِيْدَ هٰذِهٖۤ اَبَدًاۙ وَّ مَاۤ اَظُنُّ السَّاعَةَ قَآىِٕمَةً وَّ لَىِٕنْ رُّدِدْتُّ اِلٰى رَبِّيْ لَاَجِدَنَّ خَيْرًا مِّنْهَا مُنْقَلَبًا۔ قَالَ لَهٗ صَاحِبُهٗ وَ هُوَ يُحَاوِرُهٗۤ اَكَفَرْتَ بِالَّذِيْ خَلَقَكَ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ سَوّٰىكَ رَجُلًاؕ۔ لٰكِنَّاۡ هُوَ اللّٰهُ رَبِّيْ وَ لَاۤ اُشْرِكُ بِرَبِّيْۤ اَحَدًا(الکھف:۳۵،۳۸)
’’پھر وہ اپنی جنت (باغ ) میں داخل ہوا اور اپنے نفس کے حق میں ظالم بن کر کہنے لگا: ’’ میں نہیں سمجھتا کہ یہ دولت کبھی فنا ہو جائے گی۔اور مجھے توقع نہیں کہ قیامت کی گھڑی کبھی آئے گی۔ تاہم اگر کبھی مجھے اپنے رب کے حضور پلٹایا بھی گیا تو ضرور اس سے بھی زیادہ شاندار جگہ پاؤں گا۔اس کے ہمسائے نے گفتگو کرتے ہوئے اس سے کہا : ’’ کیا تو کفر کرتا ہے اس ذات سے جس نے تجھے مٹی سے اور پھر نطفے سے پیدا کیا اور تجھے ایک پورا آدمی بنا کھڑا کیا۔رہا میں ! تو میرا رب تو وہی اللہ ہے اور میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا‘‘
٤ کفر اعراض:
اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:
مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَيْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّى وَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا عَمَّاۤ اُنْذِرُوْا مُعْرِضُوْنَ(الاحقاف:۳)
’’ہم نے زمین اور آسمانوں کو اور اُن ساری چیزوں کو جو اُن کے درمیان ہیں برحق ، اور ایک مدّتِ خاص کے تعین کے ساتھ پیدا کیا ہے ۔ مگر یہ کافر لوگ اُس حقیقت سے منہ موڑے ہوئے ہیں جس سے ان کو خبردار کیا گیا ہے‘‘
٥ کفر نفاق:
اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:
ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا فَطُبِعَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا يَفْقَهُوْنَ(المنافقون:۳)
’’یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ ان لوگوں نے ایمان لا کر پھر کُفر کیااس لیے ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی، اب یہ کچھ نہیں سمجھتے‘‘
کفر اصغر:

اس کے بارے میں درج ذیل نکات قابل توجہ ہیں:
تعریف:ہر وہ معصیت اور نافرمانی کفر اصغر ہے جسے شریعت میں کفر کہا گیا ہےبشرطیکہ وہ کفر اکبر کی حد تک نہ پہنچی ہو۔
حکم:یہ حرام ہے اور کبیرہ گناہوں میں شامل ہےلیکن اس کا مرتکب ملت اسلامیہ سےخارج نہیں ہوتا بلکہ مسلمان ہی رہتا ہے۔
مثالیں:کفر اصغر کی مثالیں درج ذیل ہیں:
کفر نعمت:
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَكَفَرَتْ بِاَنْعُمِ اللّٰهِ(النحل:۱۱۲)’’لیکن اس نے اللہ کی نعمتوں کا کفران شروع کر دیا‘‘

مسلمان سے قتال:ایک مسلمان کا اپنے دوسرے مسلمان بھائی سےلڑائی کرنا بھی کفر اصغر میں شامل ہے۔
نبی کریمﷺکا ارشاد ہے:
((سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ، وَقِتَالُهُ كُفْرٌ))
’’صحیح البخاری،کتاب الایمان،باب خوف المؤمن من أن یحبط عملہ وھو لایشعر،ح:۴۸۔صحیح مسلم،کتاب الایمان،باب بیان قول النبیﷺ:سباب المسلم فسوق و قتالہ کفر:ح:۶۴‘‘
’’مسلمان کو گالی دینا فسق و نافرمانی اوراس سے لڑائی کرنا کفر ہے‘‘
دوسروں کے نسب میں طعن کرنا
میت پر ماتم کرنا
ان دونوں کی دلیل رسول اللہﷺکا یہ فرمان ہے کہ:

((اثْنَتَانِ فِي النَّاسِ هُمَا بِهِمْ كُفْرٌ، الطَّعْنُ فِي النَّسَبِ، وَالنِّيَاحَةُ عَلَى الْمَيِّتِ))
’’صحیح مسلم،کتاب الایمان،باب اطلاق اسم الکفر علیٰ الطعن فی النسب و النیاحۃ،ح:۶۷‘‘
’’لوگوں میں دو باتیں ایسی ہیں جو کفر ہیں:ایک نسب میں طعن کرنا اور دوسری میت پر بین کرنا‘‘
 
Top