• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

The Price of Marriage حقِ مہر

یوسف ثانی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
ستمبر 26، 2011
پیغامات
2,763
ری ایکشن اسکور
5,401
پوائنٹ
562
جزاک اللہ خیرا یوسف ثانی بھائی
صحیح بات ہے، ان بری، داج، مایوں، مہندی اور دیگر فضول رسموں نے شادی کو مشکل بنا دیا ہے، آپ نے ان کی قباحت کو اچھی طرح واضح کیا۔ ایک بات کی سمجھ نہیں آئی،آپ نے کہا:

قیمت تو سونے کی بھی کم ہو سکتی ہے، اکثر ایسا ہوتا تو نہیں ہے سونے کی قیمت بڑھتی ہی ہے، لیکن قیمت گرنے کا بھی کوئی پتہ نہیں، مثلا ایک شخص سونا دیتا ہے تو اس وقت سونے کی قیمت فی تولہ پچاس ہزار ہے، ایک سال بعد ادا کرنے پر اس کی قیمت چالیس ہزار ہو جاتی ہے۔ میرے خیال میں جو کچھ لکھا جائے وہ اسی وقت ادا کر دیا جائے، پھر لڑکی کی قسمت جو اسے ملے، یا صرف وہی کچھ لکھا جائےجو اس وقت دینے کی حیثیت ہو۔
آپ کیا کہتے ہیں؟
سونا اور ڈالر کی قیمت فی زمانہ اوپر ہی اوپر جارہا ہے۔ اَپ اینڈ ڈاؤن ہونا الگ بات ہے لیکن سال بہ سال کبھی بھی سونا یا ڈالر سستا نہیں ہوا۔ آپ پچلے پچاس سال کا ریکارڈ اٹھا کر دیکھ لیں۔
دوسری بات یہ کہ سونے کے زیورات استعمال ہونے کے باوجود کم یا ختم نہیں ہوتے۔ پھر خواتین کو سونے کے زیورات محبوب بھی بہت ہوتے ہیں (یوں سنہری زیورات دینے والا بھی محبوب بن جاتا ہے۔ ابتسامہ)
آپ مہر میں روپیہ لکھائیں ہی نہیں بلکہ (حسب توفیق) ایک تولہ، دو تولہ، پانچ تولہ، دس تولہ ۔۔۔ سونے کے زیورات لکھوائیں اور یہی دیں۔
ویسے آپ دینے کو تو کرنسی نوٹوں میں بھی مہر دے سکتے ہیں۔ لیکن ایک تو کرنسی نوٹ تو جلد ہی خرچ ہوجاتے ہیں۔ گھر میں جب ضرورت ہو اور شوہر رقم نہ دے رہا ہو ، نہ دے سکتا ہو تو بیوی از خود اپنا پیسہ خرچ کرلے گی۔ سونا ہونے کی صورت میں اس کے خرچ ہونے کا امکان کم ہے
اور اگر آپ مہر میں روپیہ دیتے ہیں تو کیا بیوی کو زیورات کا تحفہ بھی دیں گے یا نہیں دیں گے۔ اگر نہیں دیا اور بیوی کو اس کے میکہ والوں نے بھی زیور نہ دیا، نہ دے سکے تو بغیر زیور والی دلہن تو شادی کے دن بھی اور اس کے بعد بھی اداس اداس ہی رہے گی۔ لہٰذا اآپ ابھی سے سونے کے زیورات حسب توفیق بنوا لیں، ورنہ ۔ ۔ ۔ (ابتسامہ)
 

مشکٰوۃ

سینئر رکن
شمولیت
ستمبر 23، 2013
پیغامات
1,466
ری ایکشن اسکور
937
پوائنٹ
237
السلام علیکم
یہ مڈل ایسٹ میں ھے ایشیا میں نہیں۔ پاکستان میں تو اب بھی کچھ والدین اپنی بیٹیوں کی شادی پر حق مہر 32 روپے لکھوانے کا کہتے ہیں جس پر مولانا صاحب اس وقت کے مطابق 32 کا جو نعم البدل بنتا ھے وہ بتا دیتے ہیں۔ اور کچھ والدین اندازہ سے جتنا چاہے لکھواتے ہیں مگر اس پر نکاح سے پہلے بات چیت سے تہہ کر لیا جاتا ھے تاکہ نکاح کے وقت کوئی نیا بکھیڑا نہ کھڑا ہو جائے۔

عرب ممالک میں حق مہر پر وقت کے مطابق ایک کثیر رقم کا مطالبہ کیا جاتا ھے جو نکاح سے پہلے ادا کرنا ہوتی ھے۔

والسلام
وعلیکم السلام

ایشیا میں بھی حقِ مہر ’’ترقی‘‘ کرتا جا رہا ہے۔۔اس لئے اس ٹاپک کو شروع کیا ہے۔۔۔


اور لڑکی کے والدین کو اس قدر مطالبہ سے گریز کرنا چاہیئے۔ویسے بھی حق مہر لڑکی کے لیے ہوتا ہے ،والدین کے لیے نہیں!
جزاک اللہ خیر سٹر دراصل مین پوائنٹ یہی ہے کہ مہر حق کس کا ہے مطالبہ کون کرے گا اور راضی کون ہو گا۔۔۔۔؟

السلام علیکم
مگر پاکستان میں حق مہر کوئی بڑا مسئلہ نہیں اور نہ ہی اس کی وجہ سے کسی کی شادی میں کوئی رکاوٹ پیدا ہوتی ھے۔

نکاح نامہ میں مہر کا حصہ دیکھتے ہیں۔


مُعَجِّل: فوراً، اسی وقت۔

مُوَجَّل: جس کے لیے مہلت دی گئی ہو۔

حق مہر کی رقم کم ہو یا زیادہ موجل لکھی جاتی ھے۔ اگر دلہا والوں کی حیثیت کے مطابق ھے تو پھر چاہیں تو وہیں ادا کر دیں یا دلہا اسی دن دلہن کو ادا کر دیتا ھے۔

پاکستان میں مسئلہ جہیز پر ھے، مہر کے بغیر کسی کی شادی ہونے سے نہیں رکتی، مہر پر مسئلہ مڈل ایسٹ میں یا فرنٹیئر کے کچھ حصوں میں۔

والسلام
جی یہی بات ہے کہ پاکستان میں جہیز کا ایشو پھر بھی کچھ نہ کچھ حل ہوتا نظر رہا ہے لیکن اس مسئلے کا سنجیدگی سے نہیں دیکھا جا رہا۔۔۔۔خاص افراد کے لئے رکاوٹ جہیز بھی نہیں ہے ،بعض کے لئے حقِ مہر بھی رکاوٹ ہے۔۔۔
 

مشکٰوۃ

سینئر رکن
شمولیت
ستمبر 23، 2013
پیغامات
1,466
ری ایکشن اسکور
937
پوائنٹ
237
The Price of Marriage حقِ مہر ۔ اس عنوان میں انگریزی ترجمہ غلط ہے۔ حقِ مہر، “شادی کی قیمت” نہیں بلکہ یہ Marriage Gift ہے، “شادی کا تحفہ”
اردو ترجمہ غلط کہہ سکتے ہیں انگلش نہیں کیونکہ اس سٹوری کا ٹائیٹل یہی ہے اور اس کا مقصد اسی ٹائیٹل سے واضح ہو رہا ہے۔۔۔اگر لڑکی والے اپنی بیٹی کی قیمت جہیز کی صورت میں دیتے ہیں تو لڑکے والے اپنے بیٹے کی قیمت حقِ مہر کی صورت میں دیتے ہیں۔۔۔۔اس لحاظ سے لڑکے کے لئے تو یہ شادی کی قیمت ہی ہوئی نا۔؟
ہم نے تو یہ بھی کہتے سنا ہے
’’اتنا حقِ مہر لکھ کر ہمارا بیٹا گروی رکھہ دیا‘‘

حقِ مہر کا تعلق انگلش ٹائیٹل سے نہیں ہے ۔۔بلکہ یہ ٹیگ کے طور پر تھا۔۔۔


جزی اک اللہ بہنا عمدہ شئیرنگ ہے ۔۔۔۔ہمارے محلے میں بھی اسی طرح ایک شادی نکاح کے وقت محض زیادہ مہر کی وجہ سے نہ ہو سکی ڈیمانڈ بھی ایسی کہ لڑکا مہر میں پانچ لاکھ نقد دے اور ہر ماہ پانچ ہزار الگ سے جیب خرچ جو گھر کے خرچ کے علاوہ ہو ہر جگہ صرف لڑکے والے ہی نہیں کہیں کہیں لڑکی والے بھی ظالم سماج کا کام کرتے ہیں اور اس طرح نہ صرف دوسروں کی تضحیک کرتے ہیں بلکہ خود اپنی تضحیک کا باعث بنتے ہیں ۔اللہ ہدایت دے ایسے بھٹکے ہوؤں کو۔
وایاک!
جی سسٹر اب یہ تو استطاعت کے مطابق ہی ہے ۔۔معاشرہ خود ہی یہ سب مسائل خودکھڑا کر لیتاہے اور پھر الزام بھی معاشرے کو ہی۔۔۔
جس میں استطاعت ہے وہ دے جس کی استطاعت نہیں ہے اس کا دین پسند ہے تو والدین کو دین کو اولیت دینی چاہیئے نا کہ امیر لوگ دیکھتے دیکھتے دین تو دین دنیا بھی برباد کر لیں۔۔۔لوگوں کو کہتے سنا ہے زیادہ حقِ کے زریعے ہم لڑکی کا مستقبل محفوظ کر لیتے ہیں۔۔حالانکہ حقِ مہر سے قسمت کے فیصلے نہیں ہوتے جس نے بہتر سلوک کرنا ہے وہ مختصر حقِ مہر سے بھی کر لے گا اور زیادہ حقِ مہر والے حالات ایسے پیدا کر دیں کہ طلاق نہیں خلع ہی لو پھر مہر بھی گیا اور جہیز بھی۔۔۔۔۔دین بھی گیا اور دنیا بھی۔۔۔۔

۔مجھے یاد ہے کہ آج سے چند سال قبل اسلام آباد کی ایک مشہور شخصیت کے بیٹے کا نکاح ہوا، نکاح ڈاکٹر فضل الٰہی حفظہ اللہ نے پڑھایا تھا۔جب حق مہر کی بات ہوئی تو پچاس تولہ سونا اور پانچ یا دس لاکھ سن کر ہی مجمع کو سانپ سونگھ گیا اور لڑکے کے والد حیران کہ یہ کیا کہہ رہے ہیں لیکن فورا ہی لڑکے کی آواز آئی ’’ادا کر دیا گیا ہے‘‘۔۔۔

اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں جائیں تو ایک لوہے کے چھلے کی عوض، چند سورتیں حفظ کروانے کے عوض اور تو اور اسلام قبول کرنے کی عوض نکاح ہوگئے،تو دوسری جانب صاحبِ استطاعت صحابی اپنی استطاعت کے مطابق حقِ مہر ادا کر دیتے تھے۔۔۔۔
 

کنعان

فعال رکن
شمولیت
جون 29، 2011
پیغامات
3,564
ری ایکشن اسکور
4,420
پوائنٹ
521
السلام علیکم

اگر لڑکی والے اپنی بیٹی کی قیمت جہیز کی صورت میں دیتے ہیں تو لڑکے والے اپنے بیٹے کی قیمت حقِ مہر کی صورت میں دیتے ہیں۔۔۔۔
اس لحاظ سے لڑکے کے لئے تو یہ شادی کی قیمت ہی ہوئی نا۔؟
ہم نے تو یہ بھی کہتے سنا ہے
’’اتنا حقِ مہر لکھ کر ہمارا بیٹا گروی رکھہ دیا‘‘
میری رائے میں ایسا نہیں، اس پر آگے چل کر لکھتا ہوں، آپ نے جو کلپ پیش کیا ھے اس میں ڈالر کا ذکر ھے اور یہ کلپس لبنان سے ھے، عرصہ دراز سے لبنان میں لبنانی روبیہ کی ویلیو ختم ہو چکی ہوئی ھے اس لئے وہاں ڈالر چلتا ھے۔

حق مہر سے لڑکی بیچی نہیں جاتی پہلے پاکستان میں فرنٹیئر کے حوالہ سے ہم بھی یہی سمجھتے تھے مگر جب الامارات میں عرب نیشنل سے اس پر رائے لی تو ان کا کہنا ھے کہ جن کے گھر بیٹی پیدا ہو وہ کسی دوسرے کی امانت ہوتی ھے اس لئے اس نے اپنے اصل گھر جانا ھے۔ اس پر جب لڑکی امانت ھے تو پھر اس کی تعلیم بڑے ہونے تک کے اخراجات، اور شادی پر جو بھی خرچ ہونا ھے سب لڑکے والے جن کو امانت سونپی جا رہی ھے وہ ادا کریں گے، اس پر کوئی حساب نہیں لکھا ہوتا بلکہ ایک اندازہ سے لم سم مہر کی ڈیمانڈ کی جاتی ھے۔

پاکستان میں حق مہر عموماً خاندان کی حیثیت کے مطابق ہی پہلے تہہ کر کے لکھا جاتا ھے اگر لڑکی والے کہیں کہ حق مہر پر ہماری کوئی ڈیمانڈ نہیں آپ جو بہتر سمجھیں لکھ سکتے ہیں کیونکہ ہم نے جب اپنی لڑکی دے دی تو پھر اور پیچھے کیا رہ گیا ہم نے اپنی لڑکی بسانی ھے آگے اس کے جو نصیب۔

کبھی کبھی ایسا ہوتا ھے کہ لڑکی والوں کو اگر شکوک ہوں اور پہلے بات نہ کی ہو تو نکاح کے حق دوران حق مہر پر اچانک اتنی بڑی ڈیمانڈ کر دینا اس پر اکثر معاملہ بگڑ جاتا ھے کیونکہ اسی دوران لڑکے والوں کو بھی شکوک پیدا ہو جاتے ہیں کہ شائد یہ بعد میں کوئی ایسا بکھیڑا نہ کھڑا کر دیں جس سے ہمیں اتنی بڑی رقم دے کر جان چھڑوانی پڑے، اس پر اگر گھر میں بڑے بزورگ موجود ہوں تو وہ سمجھداری سے کام لیتے ہوئے اس پر راضی ہو جاتے ہیں کہ ہم بھی اسے بسانے کے لئے لے جا رہے ہیں اس لئے ان کی ڈیمانڈ کے مطابق حق مہر کی جو رقم بنتی ھے وہ موجل میں لکھوا لیتے ہیں۔

جہیز وہ جو والدین اپنی خوشی سے اپنی بیٹی کو دیں اس پر تو کوئی منع نہیں کر سکتا مگر وہ جہیز جو ڈیمانڈ سے لیا جاتا ھے وہ درست نہیں۔

اس وقت جو دور چل رہا ھے اس پر خواجہ صاحب کی عدالت میں انہوں نے بتایا تھا کہ لڑکی والوں کو حق مہر اور جو اپنی بیٹی کو دے رہے ہیں وہ نکاح نامہ میں درج کروانا چاہئے یہ ان کی بیٹی کا حق ھے تاکہ بعد میں اگر کوئی ان کی بیٹی کو طلاق دیتا ھے تو وہ اس کے کام آئیں۔

جسٹس صاحب کی بات بھی درست ھے مگر جس نے طلاق دینی ھے وہ ماحول ہی ایسا بنا دیتے ہیں کہ لڑکی والوں کو سب کچھ دے کر طلاق حاصل کرنی پڑتی ھے۔

وہ آج تک کبھی ایسا نہیں دیکھا کہ کہیں ایسا معاملہ ہوا ہو اور کسی نے آرام دے سامان واپس بھیج دیا ہو سونے پر تو سب سے پہلے قبضہ جماتے ہیں ایسے لالچی لوگ۔

اسی لئے کہتے ہیں کہ رشتے سوچ سمجھ اور پرکھ کے ساتھ برابری میں کرنے چاہئیں۔

والسلام
 

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,865
ری ایکشن اسکور
41,088
پوائنٹ
1,155
آسان الفاظ میں کہا جا سکتا ہے کہ حق مہر کی صورت میں دولت دیکھ کر جو شادیاں کی جاتی ہے ،وہ کامیاب نہیں ہوتی۔
ویڈیو میں ایک نوجوان ہے جو الصلاۃ و صوم کا پابند ہے ،مگر اس کی کمائی کم ہے۔ایسی صورت میں لڑکی کا والد ایک کثیر رقم کا مطالبہ کرتا ہے،نوجوان اس بات سے پریشان ہو جاتا ہے اور تگ ودو سے وہ رقم جمع کرنے لگتا ہے ،یہاں تک کہ اسے اپنی ماں کے زیوارات بھی داؤ پر لگانے پڑ جاتے ہیں۔لیکن جب اس رقم کا آدھا حصہ وہ جمع کر کے لڑکی کے والد سے ملاقات کرتا ہے تو اسے کہا جاتا ہے کہ اس نے دیر کر دی اور رقم"مہر" کسی اور نے ادا کر دی ہے اور اسی سے اس لڑکی کی شادی ہو جاتی ہے۔۔۔۔۔پیسوں کی خاطر کی گئی اس شادی سے نہ لڑکی خوش اور نہ وہ لڑکا جو نیک ہوتے ہوئے بھی معاشرے کے مادیت پرستوں کا شکار ہوتا ہے۔
جزاک اللہ خیرا مشکوۃ سسٹر۔۔۔بہت اچھی کاوش ہے۔
اور لڑکی کے والدین کو اس قدر مطالبہ سے گریز کرنا چاہیئے۔ویسے بھی حق مہر لڑکی کے لیے ہوتا ہے ،والدین کے لیے نہیں!
اس ضمن میں کسی لڑکے کے پاس جو علم دین ، سیرت ،قابلیت ،اور صلاحیت ہے وہ مدنظر رکھی جائے۔۔۔ان شاء اللہ سنت نبوی آسان لگے گی۔
جزاک اللہ خیرا
بہت اچھی وضاحت کی آپ نے
 

یوسف ثانی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
ستمبر 26، 2011
پیغامات
2,763
ری ایکشن اسکور
5,401
پوائنٹ
562
السلام علیکم


حق مہر سے لڑکی بیچی نہیں جاتی پہلے پاکستان میں فرنٹیئر کے حوالہ سے ہم بھی یہی سمجھتے تھے مگر جب الامارات میں عرب نیشنل سے اس پر رائے لی تو ان کا کہنا ھے کہ جن کے گھر بیٹی پیدا ہو وہ کسی دوسرے کی امانت ہوتی ھے اس لئے اس نے اپنے اصل گھر جانا ھے۔ اس پر جب لڑکی امانت ھے تو پھر اس کی تعلیم بڑے ہونے تک کے اخراجات، اور شادی پر جو بھی خرچ ہونا ھے سب لڑکے والے جن کو امانت سونپی جا رہی ھے وہ ادا کریں گے، اس پر کوئی حساب نہیں لکھا ہوتا بلکہ ایک اندازہ سے لم سم مہر کی ڈیمانڈ کی جاتی ھے۔

والسلام

اہل علم سے درخواست ہے کہ شریعت کی روشنی میں اس ”جواز“ کی وضاحت کریں۔

میری رائے تو یہ ہے کہ گو مندرجہ بالا جواز غیر منطقی، غیر اخلاقی اور غیر شرعی بھی ہے۔ لیکن اس کے باوجود لڑکی (یا اس کے اہل خانہ) حق مہر میں سونے کا پہاڑ بھی طلب کرسکتے ہیں اور اگر لڑکا (اور اُس کے اہل خانہ) اس مہر پر راضی ہوجائیں تو اس میں کوئی بات “غیر شرعی“ نہیں ہے۔ تاہم ”منطقی“ بات یہی ہے کہ لڑکی حق مہر اتنا ہی طلب کرے، جتنا دینا لڑکے کے استطاعت میں ہو۔ اگر لڑکے کی حیثیت سے زیادہ حق مہر طلب کیا جائے تو لڑکا کیسے ادا کرے گا۔ یا تو وہ جھوٹ اور فراڈ کا سہارا لے گا کہ بعد میں ادا کردے گا یا پھر اس شادی سے ہی انکار کردے گا۔ لہٰذا لڑکی اور اس کے والدین کو چاہئے کہ اس معاملہ میں لڑکے کی حیثیت کو مد نظر رکھیں۔

واللہ اعلم بالصواب
 

مشکٰوۃ

سینئر رکن
شمولیت
ستمبر 23، 2013
پیغامات
1,466
ری ایکشن اسکور
937
پوائنٹ
237
حق مہر سے لڑکی بیچی نہیں جاتی پہلے پاکستان میں فرنٹیئر کے حوالہ سے ہم بھی یہی سمجھتے تھے مگر جب الامارات میں عرب نیشنل سے اس پر رائے لی تو ان کا کہنا ھے کہ جن کے گھر بیٹی پیدا ہو وہ کسی دوسرے کی امانت ہوتی ھے اس لئے اس نے اپنے اصل گھر جانا ھے۔ اس پر جب لڑکی امانت ھے تو پھر اس کی تعلیم بڑے ہونے تک کے اخراجات، اور شادی پر جو بھی خرچ ہونا ھے سب لڑکے والے جن کو امانت سونپی جا رہی ھے وہ ادا کریں گے، اس پر کوئی حساب نہیں لکھا ہوتا بلکہ ایک اندازہ سے لم سم مہر کی ڈیمانڈ کی جاتی ھے۔

باقی باتوں سے اتفاق ہے لیکن یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ اگر دو لڑکیوں کی تعلیم پر ایک جتنا خرچ ہو ایک کو مہر مناسب ملے اور ایک کو کم یا لڑکی غریب گھر کی ہو اور لڑکا مہر زیادہ دے سکتا ہو تو خرچ سے زیادہ لینا مناسب ہو گا؟
یوں بھی وہاں تو جہیز کا تصور نہیں بات پاکستانی معاشرے کی ہے جہاں ایک ہاتھ دو دوسرے ہاتھ لو کی پالیسی ہے۔۔۔
لڑکے والے جہیزکا مطالبہ کرتے ہیں اور لڑکی والے زیادہ حقِ مہر جس میں غالبا جہیز کی رقم بھی پوری ہو جائے۔۔۔۔

شاید ہم ویڈیو کے اصل مو ضوع سے دور جا رہے ہیں۔۔۔۔

اگر کہا جا تا ہے جہیز کی وجہ سے لڑکے کو سٹینڈ لینا پڑے گا تو دوسری جانب لڑکی کو زیادہ حقِ مہر اور دنیا دار کی جگہ کم حقِ مہر اور دین دار کو ترجیح دینی پڑے گی ۔۔۔۔وہی بات کہ حقِ مہر پر رضا مندی لڑکی کے والدین کی نہیں لڑکی کی ہوتی ہے۔۔۔کیونکہ براہِ راست لڑکی کی زندگی کا معاملہ ہے والدین کی زندگی کا نہیں ،
ہمیں جلبیب رضی اللہ عنہ کا قصہ بھی یاد رکھنا ہو گا جس میں والدین کے انکار پر لڑکی نے خود رضا مندی دی تھی۔۔۔






بہنو سے خصوصی توجہ کی وجہ ویڈیو کی ایک لائن تھی جس میں لڑکی کے باپ نے کہا تھا کہ اگر میری بیٹی کا حقِ مہر ارد گرد کی لڑکیوں سے کم رکھاگیا تو وہ غمگیں ہو گی۔۔۔۔
انتباہ:یہ لفظ بہ لفظ ترجمہ نہیں ہے ۔۔۔ابتسامہ
 

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,865
ری ایکشن اسکور
41,088
پوائنٹ
1,155
جلبیب رضی اللہ عنہ کے واقعے میں ایک اور چیز بھی دیکھنے کو ملتی ہیں، کہ لڑکی کے والدین نے کچھ سوچ بچار کیا تو لڑکی نے خودرضا مندی کا اظہار کیا۔

لیکن آج کل ایسی نام نہاد اپنے آپ کو دین دار سمجھنے والی خواتین بھی دیکھی گئی ہیں جو کہتی ہیں کہ ایک دیندار لڑکی اپنی ماں سے اپنی رضامندی ظاہر نہیں کر سکتی۔
 

اخت ولید

سینئر رکن
شمولیت
اگست 26، 2013
پیغامات
1,792
ری ایکشن اسکور
1,290
پوائنٹ
326
موضوع بہت اچھا ہے مگر میرے پاس کہنے کو فی الحال کچھ نہیں ہے!!!
’’بیچارا‘‘۔ ۔ ’’مظلوم‘‘۔ ۔ ‘‘ظالم‘‘ کی لپ سروس کے بعد جب عمل کا وقت آئے گا تو میرے اور آپ کے سامنے ‘‘معاشرتی مسائل و تقاضے‘‘ سامنے آ جائیں گے۔ پھر ہم جہیز بھی لیں گے اور لڑکے کی استطاعت سے بڑھ کر مہر بھی مانگیں گے۔ ۔ اپنی شادی پروالدین نہیں مانیں گے اور اولاد کی شادی پر بچے نہیں مانگیں گے!!!
لہذا اس موضوع پر بحث کی ضرورت باقی نہیں۔ ۔ ۔
 

مشکٰوۃ

سینئر رکن
شمولیت
ستمبر 23، 2013
پیغامات
1,466
ری ایکشن اسکور
937
پوائنٹ
237
یعنی آپ ’’تبدیلی‘‘ کی امید نہیں رکھتیں۔۔):
 
Top