• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

یو تھ کی تباہی اور بربادی کا پروگرام !!!

شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,117
ری ایکشن اسکور
6,823
پوائنٹ
1,069
یو تھ کی تباہی اور بربادی کا پروگرام !!!
1483304_794177413929844_2129598608_n.jpg
100 ارب روپے کی رقم مختص، 15 فیصد سود پر، 7 فیصد سود گورنمنٹ آف پاکستان کے بینک اور 8 فیصد قرض دار ادا کرے گا۔

سود اللہ سے جنگ ہے یہ قوم کے نوجوانوں کے ساتھ دھوکہ نہیں؟

ن لیگ کا نوجوانوں کو آٹھ فیصد سود پر قرضہ دینے کا اعلان۔ سود پر قرضہ اللہ سے جنگ ہے اور اللہ سے جنگ قرض دار کو خوشحالی نہیں دے سکے گی جبکہ حکومت کو بھی یہ جنگ مہنگی پڑے گی۔

اللہ کا خوف کرو پاکستان کے حکمرانو !! کیا ہمارے بزرگوں نے اس ملک کے قیام کےلیے اس لیے قربانیاں دی تھیں ؟

جناح نے " لا الہ الا اللہ " کا نعرہ لگایا تھا کہ پاکستان کو اسلامی اصولوں کی مثالی ریاست بنایا جائے گا

نوجوانو !

بھوک سے مر جانا مگر سود لے کے اللہ سے جنگ نہ کرنا۔ سود پر لئے گئے پیسوں سے خوشحالی نہیں مل سکتی
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,117
ری ایکشن اسکور
6,823
پوائنٹ
1,069
حكومتى ادارے سے قرض لينا !!!
ہمارى حكومت تعليم سے فارغ ہونے والے نوجوانوں كو ملازمت كے عوض ميں قرض مہيا كرتى ہے، كيا يہ قرض حلال ہے يا حرام ؟

الحمد للہ:

علماء كرام كا اتفاق ہے كہ جب قرض ميں واپسى كے وقت زيادہ رقم ادا كرنے كى شرط ہو تو يہ سود اور حرام ہے.

ابن قدامہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" اور ہر وہ قرض جس ميں زيادہ واپسى كى شرط ركھى گئى ہو تو وہ بغير كسى اختلاف كے حرام ہے، ابن منذر كہتے ہيں: سب كا اتفاق ہے كہ جب قرض دينے والا قرض لينے پر واپسى كے وقت زيادہ رقم دينے يا كوئى ہديہ دينے كى شرط ركھے اور اس شرط پر ادھار لے ليا تو اس رقم سے زيادہ لينا سود ہے.

روايت كيا جاتا ہے كہ ابى بن كعب اور ابن عباس، اور ابن مسعود رضى اللہ تعالى عنہم ايسے قرض سے منع كيا كرتے تھے جو نفع لائے " انتہى.
ديكھيں: المغنى ابن قدامۃ ( 4 / 211 ).

اور ابن عبد البر كہتے ہيں:

ادھار اور قرض ميں ہر زيادہ يا كوئى ايسى منفعت جس سے ادھار دينے والا نفع اٹھائے وہ سود ہے، چاہے وہ چارے كى ايك مٹھى ہى ہو، اور اگر يہ شرط كے ساتھ ہو تو حرام ہے " انتہى.
ديكھيں: الكافى ( 2 / 359 ).

اور اس بنا پر اگر قرض سودى ہو وہ اس طرح كہ اگر اس ميں شرط ركھى گئى ہو كہ قرض واپس كرتے وقت حاصل كردہ رقم سے زيادہ رقم ادا كرن ہوگى، تو آپ كے ليے يہ مبلغ لينا جائز نہيں، كيونكہ يہ سودى معاہدہ ہے، اور آپ پر يہ بات مخفى نہيں ہونى چاہيے كہ سود كبيرہ گناہ ہيں، اور اللہ تعالى آپ كو اس قرض اور اس طرح كى دوسرى اشياء سے غنى كر دے، اور آپ كو اس كى ضرورت ہى نہ رہے.

ليكن اگر يہ قرض قرضہ حسنہ ہو نہ كہ سودى قرض تو مقروض شخص اتنى ہى رقم واپس كرنے كا پابند ہو جس قدر اس نے قرض ليا تھا اور اس ميں كسى بھى قسم كى كوئى زيادتى نہ ہو تو اس قرض كے حصول اور اس سے فائدہ اٹھانے ميں كوئى حرج نہيں.

واللہ اعلم .
الاسلام سوال و جواب
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,117
ری ایکشن اسکور
6,823
پوائنٹ
1,069
كيا سود كى حرمت كا علم ہونے سے قبل كمائے گئے سود سے بھى چھٹكارا حاصل كرنا واجب ہے

الحمد للہ :

اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:
{جو لوگ سود كھاتے ہيں وہ اسى طرح كھڑے ہونگے جس طرح شيطان كے چھونے سے خبطى بن جانے والا شخص كھڑا ہوتا ہے، يہ اس ليے كہ وہ يہ كہا كرتے تھے كہ تجارت بھى تو سود كى طرح ہے، حالانكہ اللہ تعالى نے تجارت كو حلال كيا اور سود حرام كيا ہے، جو شخص اپنے پاس آئى ہوئى اللہ تعالى كى نصيحت سن كر رك گيا اس كے ليے وہ جو گزر چكا، اور اس كا معاملہ اللہ تعالى كى طرف ہے، اور جو پھر دوبارہ ( حرام كى طرف ) لوٹا وہ جہنمى ہے، ايسے لوگ ہميشہ ہى اس ميں رہيں گے} البقرۃ ( 275 ).
ابن كثير رحمہ اللہ تعالى اس آيت كى تفسير ميں كہتے ہيں:

{جو شخص اپنے پاس آئى ہوئى اللہ تعالى كى نصيحت سن كر رك گيا اس كے ليے وہ جو گزر چكا، اور اس كا معاملہ اللہ تعالى كى طرف ہے}

يعنى جس تك يہ بات پہنچ گئى كہ اللہ تعالى نے سود سے روك ديا ہے تو وہ اپنے تك شريعت كے پہنچتے ہى اس سے باز آ گيا تو جو معاملہ پہلے ہو چكا وہ اس كے ليے ہے كيونكہ اللہ تعالى كا فرمان ہے: جو كچھ گزر چكا اللہ تعالى نے اسے معاف كرديا"

اور جيسا كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے بھى فتح مكہ والے دن فرمايا:

" جاہليت كا سارا سود ميرے ان قدموں كے نيچے ركھ ديا .... "
( لہذا جب سودى لين دين كرنے والوں كى جو رقم اصل مال سے زيادہ تھى اسے ختم كرديا گيا تو ) دور جاہليت ميں لى گئى زيادہ رقم كو واپس كرنے كا حكم نہيں ديا گيا.

( قولہ ) عفا ( اللہ ) عما سلف : جو كچھ ہو چكا اللہ تعالى نے معاف كرديا، يہ اللہ تعالى كے ( اس فرمان كى طرح ہى ) ہے:

{تو اس كے ليے وہى ہے جو گزر چكا اور اس كا معاملہ اللہ كى طرف}
سعيد بن جبير اور سدى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

اس كے ليے وہى ہے جو گزر چكا: ( يعنى )حرمت سے قبل جو سود كھايا كرتا تھا.
ديكھيں: تفسير ابن كثير بين القوسين عبارت وضاحت كے ليے ہے.

اوراس بنا پر آپ كے ليے وہ مال واپس كرنا لازم نہيں جو آپ نے حرمت معلوم ہو جانے سے قبل حاصل كيا تھا، ليكن جو سود آپ نے حرمت كا علم ہو جانے كے بعد وصول كيا ہے اگر تو وہ مال آپ كے پاس باقى ہے تو اسے واپس كرنا واجب ہے، اور اگر وہ مال آپ كے مال ميں مل گيا ہے اور آپ اس كا بالتحديد علم نہيں ركھتے تو آپ اس كا اندازہ لگائيں اور جو غالب ظن ہو اسے نكال ديں.

ہم اللہ تعالى سے دعا كرتے ہيں كہ وہ ہم سب كى توبہ قبول فرمائے اور ہمارے نبى محمد صلى اللہ عليہ وسلم پر اپنى رحمتيں نازل فرمائے.

واللہ اعلم .
الشيخ محمد صالح المنجد
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,767
ری ایکشن اسکور
8,515
پوائنٹ
964
جزاکم اللہ خیرا ۔
جب دینی سمجھ رکھنے والے حضرات اس طرح کے کاموں سے روکتے ہیں تو لوگوں کے پاس ایک معروف سوال نما جواب ہوتا ہے کہ :
’’ مولوی صاحب پھر آپ بتادیں کہ ہم کیا کریں ؟ ‘‘
فارغ بیٹھے رہیں ؟ چوریاں کریں ؟ ڈاکے ڈالیں ؟
اس کا آسان سا اور مختصر جواب تو حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں موجود ہے :
’’جو اللہ کی رضا کے لیے کسی ( غلط ) کام کوچھوڑ دیتا ہے اللہ اسے اس کا نعم البدل عطا فرمادیتے ہیں ۔ ‘‘
اور دوسری طرف الزامی جواب یہ ہے کہ :
اگر ’’ کام چلانا ‘‘ یا ’’ گزارہ کرنا ‘‘ والی حجت کسی چیز کی حرمت کو ختم کرسکتی ہے تو معاشرے میں دیگر بڑھی بڑھی برائیاں بھی تو اسی بہانے کی جاتی ہیں مثلا چور کے نزدیک اس کاگزارا کب چوری کے بغیر ہوتا ہے؟ اسی طرح ڈکیتیاں کرنے والے ، جوے بازی کرنے والے ، عزتیں نیلام کرکے پیسے کمانے والے میں سے ہر ایک کے پاس یہی دلیل ہوتی ہے کہ اگر یہ کام نہ کروں تو گزارا نہیں ہوتا ۔
تو اب کیا یہ سب چیزیں جائز ہو جائیں گی ؟
بہر صورت ایسے موضوعات پر تفصیلی گفتگو ہونی چاہیے کہ یہ معاشرے کی اہم ضرورت ہیں ۔
علماء وفضلاء سے گزارش ہے کہ اپنے اپنے رشحات فکر سے نوازیں ۔
محترم سرفراز فیضی صاحب ، محترم یوسف ثانی صاحب ، محترم باذوق صاحب اور دیگر معززین فورم ۔
 

یوسف ثانی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
ستمبر 26، 2011
پیغامات
2,767
ری ایکشن اسکور
5,412
پوائنٹ
562
یہ بات خاصی حد تک ”درست“ ہے کہ آج کے دور میں کوئی حکومت، ادارہ یا بنک وغیرہ کسی دوسرے فرد یا ادارہ کو مروجہ سود کے بغیر قرض دے کر سروائیو کر ہی نہیں سکتا۔ اور اس کی دیگر وجوہات میں ایک بنیادی وجہ ”پیپر کرنسی کی لعنت“ ہے۔ پاکستان میں اوریا مقبول جان اور ان کے ساتھیوں نے پیپر کرنسی کا متبادل سونے اور چاندی کے سکے مارکیٹ میں متعارف کرادئے ہیں۔ اگر حکومتیں اپنی ”سرکاری خرچہ پر عیاشی“ کا سلسلہ بند کرنے پر رضامند ہوجائیں تو ملک میں سونے چاندی کے سکے رائج کرکے سود، مہنگائی، افراط زر کا بآسانی خاتمہ کرسکتی ہے۔

پیپر کرنسی میں قرض دینے والا دنیوی اعتبار سے سراسر خسارے میں رہتا ہے۔ اور مسلسل خسارے میں جانے والا کوئی کام اول تو کوئی حکومت، بنک یا تجارتی ادارہ کرنے کو تیار نہیں ہوگا۔ اور اگر ایک دو بار ایسا کر بھی لے تو پھر وہ مزید ایسا کرنے کے ”قابل“ نہیں رہتا۔ مثلاً فرض کریں آج حکومت کسی نوجوان کو ایک لاکھ روپے کا قرض دیتی ہے جسے 5 سال بعد نوجوان نے واپس کرنا ہے۔ آج اس ایک لاکھ کی مالیت تقریباً 20 گرام سونا ، تقریباً ایک ہزار انٹر نیشنل کرنسی یعنی ڈالر بنتی ہے۔ لیکن 5 سال بعد جب حکومت کو ایک لاکھ روپے واپس ملے گا تو اس کی مالیت یقیناً 20 گرام سونے یا 1000 ڈالر سے بہت کم ہوگی۔ یہ تو سراسر ”نقصان“ کا سودا ہے۔ اور کوئی بھی ”دکاندار“ ایسا گھاٹے کا سودا کرنا پسند نہیں کرے گا۔

اگر فی الوقت حکومت اقتصادی نظام کو اسلامی سانچے میں نہیں ڈھال سکتی یا اس کی اہلیت نہیں رکھتی تب بھی وہ ملک کے نوجوانوں کو سود کی لعنت سے بچا سکتی ہے اور خود بھی ”خسارے کی دکانداری“ سے بچ سکتی ہے۔ اس کا ایک بہت سادہ سا حل ہے۔ وہ نوجوانوں کو بطور قرض روپیہ نہین بلکہ سونا دے۔ وہ آج ایک نوجوان کو 20 گرام سونا قرض دے۔ 5 سال بعد 20 گرام سونا یکمشت واپس لے لے۔ یا 4 گرام سالانہ قسطوں میں یا ایک گرام سہ ماہی قسطوں میں وصول کرلے۔ اسے ”وصولی“ بھی پوری ہوجائے گی اور سود لینے سے بھی بچ جائے گی۔ اور نوجوان بھی سود دینے سے بچ جائے گا۔ اب کوئی کہہ سکتا ہے کہ سونے کا ”لین دین“ بہت مشکل اور اَن پریکٹیکل ہے۔ کسی حد تک یہ بات درست ہے۔ اس کا حل یہ ہے کہ قرض کا لین دین تو سونے کی مقدار پر مقرر ہو۔ لیکن معاہدہ میں یہ بھی لکھ دیا جائے کہ 20 گرام سونا یا اس کے مساوی پاکستانی روپیہ یا اس کے مساوی انٹرنیشنل ڈالر۔ اب جس دن نوجوان نے قرض کی ”رقم“ وصول کرنا ہو وہ چاہے تو 20 گرام سونا لے یا اس کے مساوی روپیہ یا ڈالر ۔۔۔ یہی صورتحال قرض کی واپسی کا ہو۔ سہ ماہی میں نوجوان ایک گرام سونا واپس کرے یا اس روز کی ریٹ کے مطابق مساوی روپیہ یا ڈالر

ایک اور طریقہ بھی ہے سود سے بچ کر قرض کی لین دین کا، جو اس وقت ”اسلامی بنکوں“ نے اپنایا ہوا ہے۔ وہ سائل کو پیپر کرنسی میں قرض نہیں دیتے بلکہ اس سے پوچھتے ہیں کہ وہ قرض کس لئے لے رہا ہے۔ فرض کریں وہ کہتا ہے کہ مجھے مجھے ایک تجارتی بس خرید کر کاروبار کرنا ہے، جو اس وقت مارکیٹ میں ایک کروڑ روپے میں دستیاب ہے۔ بنک کہتا ہے کہ آپ ہم سے بس خرید لیجئے۔ نقد مین اس کی قیمت ایک کروڑ روپے ہی ہے لیکن اگر آپ 60 ماہانہ قسطوں میں خریدیں گے تو اس بس کی قیمت سوا کروڑ ہوگی۔ نقد اور ادھار کی قیمتوں میں فرق ہوا کرتا ہے اور اسے اسلام بھی ”قبول“ کرتا ہے۔ اس طرح کی ڈیلنگ میں سود سے پاک قرض کا لین دین بھی ممکن ہوگیا۔ سائل کا مسئلہ بھی حل ہوگیا اور بنک کا کاروبار بھی خسارے سے بچ گیا۔

واللہ اعلم بالصواب
 

شاکر

تکنیکی ناظم
رکن انتظامیہ
شمولیت
جنوری 08، 2011
پیغامات
6,595
ری ایکشن اسکور
21,399
پوائنٹ
891
ایک اور طریقہ بھی ہے سود سے بچ کر قرض کی لین دین کا، جو اس وقت ”اسلامی بنکوں“ نے اپنایا ہوا ہے۔ وہ سائل کو پیپر کرنسی میں قرض نہیں دیتے بلکہ اس سے پوچھتے ہیں کہ وہ قرض کس لئے لے رہا ہے۔ فرض کریں وہ کہتا ہے کہ مجھے مجھے ایک تجارتی بس خرید کر کاروبار کرنا ہے، جو اس وقت مارکیٹ میں ایک کروڑ روپے میں دستیاب ہے۔ بنک کہتا ہے کہ آپ ہم سے بس خرید لیجئے۔ نقد مین اس کی قیمت ایک کروڑ روپے ہی ہے لیکن اگر آپ 60 ماہانہ قسطوں میں خریدیں گے تو اس بس کی قیمت سوا کروڑ ہوگی۔ نقد اور ادھار کی قیمتوں میں فرق ہوا کرتا ہے اور اسے اسلام بھی ”قبول“ کرتا ہے۔ اس طرح کی ڈیلنگ میں سود سے پاک قرض کا لین دین بھی ممکن ہوگیا۔ سائل کا مسئلہ بھی حل ہوگیا اور بنک کا کاروبار بھی خسارے سے بچ گیا۔
اس کے بعد اگر سائل کسی ماہ کی قسط وقت مقررہ پر ادا نہ کر سکے تو سود در سود نہیں لگے گا بلکہ معاہدہ توڑنے کا "کفارہ" ادا کرنا پڑے گا۔ ابتسامہ۔
سوائے اس کے کہ ٹرمنالوجی مختلف ہے، عملاً ان کے اور سودی بنکوں کے طریقہ کار میں کوئی فرق سرے سے پایا ہی نہیں جاتا۔
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,117
ری ایکشن اسکور
6,823
پوائنٹ
1,069
يہ تو بعينہ سود ہے !!!

ايك شخص نے كسى بنك سے بغير فائدہ كے قرض حاصل كرنا چاہا كيونكہ فائدہ سود شمار ہوتا ہے، ليكن اس بنك كے ايك ذمہ دار نے اسے يہ كہا كہ: جب تم سود سے دور رہنا چاہتے ہو تو آپ كے ليے يہ ممكن ہے كہ ہم سے ايك ملين كى رقم لو اور اگر آپ كے پاس طاقت ہو تو دو ملين ہميں دے دينا ايك ملين ہمارا حق اور باقى ايك ملين كى رقم ايك سال تك ہمارے ملين كے بدلے ميں ايك برس تك ہمارے پاس رہے گا اور ايك برس بعد تم اپنا ملين واپس لے لينا، تو كيا يہ سود شمار ہو گا كہ نہيں ؟ ہميں تفصيلات فراہم كريں اللہ تعالى آپ كو جزائے خير عطا فرمائے.

الحمد للہ :

يہ بالكل اور بعينہ سود ہے، كسى بھى حالت ميں يہ جائز نہيں، كيونكہ قرض كى غرض اور مقصد مسلمان شخص كى مصلحت اور اسے آسانى فراہم كرنا ہے، ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما سے مروى ہے كہ:

" باشبہ صدقہ دو بار صدقہ كى جگہ ہے"
لہذا جب ايك برس كے ليے بنك آپ كو ايك ملين كى رقم دے تو ايك برس گزرنے كے بعد آپ قرض ليا ہوا ايك ملين واپس كريں اور اس قرض كے بدلے ميں ايك ملين زيادہ ديں جو ان كے پاس ايك برس تك رہے، تو بالاتفاق مسلمانوں كے ہاں يہ حرام ہے، كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا ہے:

" ہر وہ قرض جو نفع لائے وہ سود ہے"
بغوى نے ان الفاظ كے ساتھ روايت كيا ہے.

تو بنك نے آپ كو ايك ملين اس شرط پر ديا ہے كہ آپ اس كے حق سے زيادہ ايك ملين كى رقم ديں تا كہ وہ اس سے خريد و فروخت كرسكے، اور اس سے حاصل ہونے والا نفع اس ( بنك ) كے ليے خاص ہو گا، تو اس شرط نے نفع كھينچا ہے، اور مسلمانوں كے اتفاق سے يہ شرط باطل ہے، لہذا ميرے بھائى آپ صرف بنك كو ايك ملين كى ہى رقم ادا كريں جو آپ نے بطور قرض حاصل كى ہے، اور اسے ايك برس تك كے ليے ايك ملين كى زيادہ رقم بالكل نہ ديں، كيونكہ علماء كرام كے اتفاق سے ايسا كرنا جائز نہيں.

لہذا بنك كو صرف اس كى رقم ہى واپس كى جائيگى كيونكہ اللہ تعالى فرماتا ہے:


{اے ايمان والو! اللہ تعالى كا تقوى اختيار كرو اور اگر تم مومن ہو تو جو سود باقى بچ گيا ہے اسے چھوڑ دو، اگر تم ايسا نہيں كرو گے تو پھر اللہ تعالى اور اس كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم سے جنگ كے ليے تيار ہو جاؤ، اور اگر تم توبہ كر لو تو تمہارے ليے تمہارے اصل مال ہيں، نہ تو تم ظلم كرو اور نہ ہى تم پر ظلم كيا جائے گا} البقرۃ ( 278 - 279 ) .
ماخوذ از: فتاوى سماحۃ الشيخ عبد اللہ بن حميد صفحہ نمبر ( 185 ).
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,117
ری ایکشن اسکور
6,823
پوائنٹ
1,069
كمپنى ملازمين كو سودى قرض ديتى ہے !!!

ايك كمپنى اپنے ملازمين كو قرض ديتى ہے، جو بنك سے جائداد كى مد ميں ملتا ہے، قرض پر لگنے والا سود كمپنى ادا كرتى ہے، اور ملازم كو قرض پر كچھ ٹيكس حكومت كو ادا كرنا پڑتے ہيں، اصل پر كوئى ٹيكس نہيں، تو كيا ملازمين كے ليے يہ قرض حلال ہے كہ نہيں ؟

الحمد للہ :

ملازمين كے ليے يہ قرض لينا جائز نہيں، حالانكہ - حقيقت ميں - وہ معاہدے كے ايك فريق ہيں، اور سنت نبويہ حديث شريف سے ثابت ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے سود كھانے اور كھلانے اور اسے لكھنے اور دونوں گواہوں پر لعنت فرمائى ہے.


جابر رضي اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ:

" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے سود خور اور سود كھلانے اور اسے لكھنے اور اس كے دونوں گواہوں پر لعنت فرمائى، اور فرمايا: وہ سب برابر ہيں" صحيح مسلم حديث نمبر ( 1598 ).

ظاہر ہے كہ كمپنى قرض اس وقت تك نہيں ليتى جب تك وہ اس قرض كے حصول ميں ملازم كى رغبت كى درخواست وصول نہ كرلے، لہذا ملازم كمپنى كے ساتھ سودى قرض كے حصول ميں متعاون ہے اور اس كا سبب ہى وہ خود ہے.


حالانكہ اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

{اور تم گناہ اور ظلم و زيادتى ميں ايك دوسرے كا تعاون نہ كرو}
المائدۃ ( 2 ) .

لہذا ملازمين پر واجب اور ضرورى ہے كہ وہ اس قرض سے بے پرواہ اور مستغنى ہو جائيں، اور اسے ترك كے اللہ تعالى سے اجروثواب كے حصول كى نيت ركھيں، ہو سكتا ہے اللہ تعالى انہيں اس كے چھوڑنے كے عوض ميں بہتر اور اچھى چيز مہيا كردے.

واللہ اعلم .
الاسلام سوال وجواب
 
Top