چراغ دیکھ کے توہینِ آفتاب نہ کر
تُو اپنی زیست کو محوِ فریبِ خواب نہ کر
حیا کا یوں نہ جنازہ اٹھا سرِ بازار
جبینِ غیرتِ آدم کو آب آب نہ کر
کبھی یہ سوچ تجھے بھی حساب دینا ہے
فقط تُو رات دن اوروں کا احتساب نہ کر
خدا کے خوف کے دعوے میں ہے اگر صادق
تُو میری مان معاصی کا ارتکاب نہ کر
بنے نہ باعثِ...