الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
ان کا تو نہیں پتا البتہ کنویں کے مینڈکوں کو ہرگز نہیں سمجھ آئے گی.
جو لوگ ذرا سی بھی سمجھ نہ ہونے کے باوجود قرآن و حدیث کو سمجھنے کا دعوی کریں تو سلام ہے ان کی عقل کو.
لا حول ولا قوۃ الا باللہ
کیا آپ کو اندازہ ہوا کہ آپ نے فقہی اختلافات کو کفر و اسلام کے اختلاف سے جا ملایا ہے؟
بہتر تھا کہ آپ کی نظر اس آیت پر جاتی:
ففہمناہا سلیمان۔ و کلا آتینا حکما و علما۔
محترم ابن داود بھائی!
انتہائی معذرت کے ساتھ، میں آپ کی بات کاٹنے پر مجبور ہوں۔
جو الفاظ آپ استعمال کر رہے ہیں:
انہیں پڑھ کر مجھے دلی طور پر دکھ اور افسوس ہوا ہے اور قریب تھا کہ میرے ہاتھ بھی کی بورڈ پر متحرک ہو جاتے کہ میں نے خود کو روک لیا۔
میں نے انتہائی محبت اور احترام کے ساتھ آپ سے بات...
میں سمجھ نہیں سکا.
بندہ اختلافی مسائل میں اس قسم کے طرز عمل کا سخت مخالف ہے چاہے کسی حنفی کی طرف سے ہو یا اہل حدیث کی. جس چیز کی اجازت دربار نبوی ص سے ملی ہوئی ہے اس میں کسی کو مورد الزام ٹھہرانا خود کو الزام میں لانا ہے.
مجھے اس سے انکار نہیں کہ ہمارے اہل حدیث بھائی بھی کثرت سے احناف کو حدیث کا...
السلام علیكم و رحمۃ الله و بركاتہ
اب میں کیا کہوں جب کوئی یہ دیکھ لے کہ سخاویؒ کا کلام مطلقا شاذ کے بارے میں ہے نہ کہ زیادۃ ثقہ کے بارے میں جب کہ ابن حجرؒ کا کلام زیادۃ ثقہ کے بارے میں ہے۔
قال السخاوی:
[معنى الشاذ لغة واصطلاحا والخلاف فيه] والشاذ لغة: المنفرد عن الجمهور، يقال: شذ يشذ بضم الشين...
اس طرح کے مجمل جملے بہت سے علماء نے کہے ہیں۔ اور ابن حجر، سیوطی اور کئی علماء نے اس کے خلاف تصحیح و تحسین کے جملے بھی کہے ہیں۔ ان کی مانیں اور ان کی نہ مانیں تو بھلا کیوں؟ صرف اس لیے کہ ہمیں یہ قول پسند ہے اور وہ نہیں؟
اس لیے ہمیں روایات پر خود توجہ دینی چاہیے۔
اب سوال یہ ہے کہ یہ شام میں ابدال ہونا کیا قیاس یا عقل سے سمجھ میں آنے والی چیز ہے؟ یا یہ ان اخبار غیب میں سے ہے جن پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خبر کے بغیر مطلع ہونا ممکن نہیں ہے؟
میں نے اسی کی بابت عرض کیا ہے کہ
امام احمد کے علاوہ جنہوں نے اس روایت کو ذکر کیا ہے انہوں نے دو نام ذکر کیے ہیں. عبد اللہ بن صفوان اور صفوان بن عبد اللہ
یہ نام جو امام احمد نے ذکر کیا ہے عبد اللہ بن صفوان بن عبد اللہ یہ اور کسی نے ذکر نہیں کیا.
ابن حجر نے المطالب العالیہ میں اسحاق رح کے حوالے...
زہری کے شیوخ میں ہیں عبد اللہ بن صفوان بن امیہ القرشی۔ ان کی صحابیت میں اختلاف ہے۔ ابن اثیر نے اسد الغابه اور ابن حجر نے الاصابہ میں انہیں صحابہ میں ذکر کیا ہے اور ابن حجرؒ نے ابن حبان کا ان کے بارے میں صحبت کا قول بھی تہذیب میں ذکر کیا ہے اور یہ بھی کہ ابن حبان نے ان کا تابعین ثقات میں بھی ذکر...
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
اسحاق بھائی اس میں اور موجودہ مسئلے میں ذرا سا فرق ہے۔ اس میں خاوند نے عورت سے یہ جملہ کہا ہے۔ اور صورت مسئولہ میں خاوند نے ساس سے یہ کہا ہے:
حالانکہ خاوند نے بیوی کو یہ بات نہیں کہی۔