الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
جزاكم الله خیرا
ایك لنك ہے جو مجهے بہت عمدہ معلوم ہوا۔ اس میں کچھ اچھی تفصیل ہے۔
http://www.alifta.net/Fatawa/fatawaDetails.aspx?BookID=2&View=Page&PageNo=4&PageID=2916
جزاک اللہ خیرا۔
یہ بھی وضاحت فرما دیجیے گا کہ یہ تفریق کچھ لحاظ سے ہونے کا کیا مطلب ہے؟ یعنی کس لحاظ سے تفریق ہو سکتی ہے اور اس تفریق کا فائدہ کہاں کہاں ہوگا۔
جی ہاں۔ کیوں کہ مجبوری یہ ہے کہ آپ کے لکھنے سے فقہ حنفی پر کوئی اثر نہیں پڑ رہا۔ میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ اس قسم کی مباحث کا فائدہ کوئی نہیں ہو رہا اور تقسیمات زیادہ ہو رہی ہیں۔
بہر حال جو مناسب معلوم ہو وہ کیجیے۔
جزاک اللہ خیرا۔
اس سے قبل یہ بات چل رہی تھی کہ متواتر کی بحث متکلمین کی پیدا کردہ ہے۔ اس پر یہ حوالہ عرض کیا تھا کہ یہ فقہ سے متعلق ہے۔
باقی جب محدثین نے اسے باقاعدہ علم حدیث میں ذکر کرنا شروع کر دیا ہے (چاہے فقہ سے شغل کی وجہ سے) تو یہ اس میں شامل ہو گئی۔ اس طرح فنون میں کثرت سے ہوتا ہے کہ ایک...
ایک چھوٹا سا سوال ہے۔ بے شک یہ موضوع دینی اور قانونی ہر لحاظ سے حساس ہے لیکن اگر اہل علم بھی اس موضوع سے دور بھاگیں گے تو عوام کو شر پسندوں کے جال میں پھنسنے سے کون بچائے گا؟
اسی دور ہٹنے اور خاموش رہنے سے تو گزشتہ سالوں میں اتنا فساد کھڑا ہوا ہے۔
اگر آپ کی مراد یہ شرط ہے:
تو چونکہ محدثین کرام نے اس شرط کو ذکر نہیں کیا اس لیے اس کے پورا ہوئے بغیر کسی روایت کو متواتر قرار دیا جائے گا۔ اور یہ شرط ساقط الاعتبار ہے۔
ملاحظہ: متواتر کی شرط یہ ہے کہ ایسی جماعت ہو جس کا کذب پر جمع ہونا محال ہو۔ یہ صفت جماعت کی ہے یعنی ایسی "کثیر" جماعت ہو۔ باقی...
محترم بھائی! میں آپ کی پریشانی کو سمجھ سکتا ہوں۔ لیکن مجھے اتنا ترجمہ لکھنے میں کافی دقت ہوتی ہے۔
ارادہ یہ ہے کہ آئیندہ عربی عبارت کا خلاصہ اردو میں لکھ دیا کروں گا ان شاء اللہ۔
میں آپ کی بات بخوبی سمجھ گیا ہوں۔ جزاک اللہ۔
بھائی جان بات یہ ہے کہ تواتر کا تعلق نفس روایت سے ہوتا ہے ذات راوی سے نہیں۔ مثال کے طور پر آپ حدیث من "کذب علی متعمدا" کو ہی لے لیں۔ اگر یہ حدیث میں نے صرف ایک استاد سے پڑھی ہے تو آپ کے ارشاد کے مطابق یہ میرے لیے متواتر نہیں ہونی چاہیے۔ لیکن ایسا نہیں...
دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ متواتر سے حاصل ہونے والا علم قطعی ہوتا ہے یا ظنی اور خبر واحد سے حاصل ہونے والا علم کیسا ہوتا ہے؟ اسی کے ضمن میں یہ بھی آ جاتا ہے کہ عقیدہ کے ثبوت کے لیے کیا خبر متواتر شرط ہے؟
اس کی تفصیل ان شاء اللہ آئیندہ۔
خبر متواتر کی تعریف یہ کی گئی ہے:
عدد كثير أحالت العادة تواطؤهم على الكذب.
رووا ذلك عن مثلهم من الابتداء إلى الانتهاء.
وكان مستند انتهائهم الحس.
وانضاف إلى ذلك أن يصحب خبرهم إفادة العلم لسامعه.
نزہۃ النظر 1۔43 ط مطبعۃ الصباح
هو ما يكون (مستقرا في) جميع (طبقاته) ، أنه من الابتداء إلى الانتهاء...
تواتر کی اس تعریف پر امام شافعیؒ نے رد کیا ہے جو اسی تھریڈ میں مذکور ہے۔ لیکن کیا محدثین میں سے جمہور تواتر کی یہ تعریف کرتے ہیں؟ میرا خیال ہے کہ نہیں۔ شاید ہی کسی نے کی ہو۔
بلکہ محدثین اور فقہاء تواتر اسے کہتے ہیں غالبا جسے امام شافعیؒ نے خبر العامۃ عن العامۃ کہا ہے۔
اگر شیوخ محترم اس كا جواب ارشاد نہیں فرماتے تو میں ان شاء اللہ پانچ چھ دن میں اس کا جواب عرض کرتا ہوں۔ آپ اس سلسلے سے متعلق اگر اور تحاریر ہیں تو وہ بھی نقل کر دیجیے۔
یہ بہت خطرناک محسوس ہونے والے سوالات ہیں اصول حدیث پر۔ ان میں سے کچھ میرے ذہن میں بھی آتے رہے ہیں جن میں سے بعض کو اپنے اساتذہ...
جی یہ تو مجھے اندازہ ہے کہ یہ کسی صریح صحیح حدیث میں موجود نہیں ہے۔ لیکن اس سے یہ بدعت یا شرک کے زمرے میں کیسے آتا ہے یہ میں نہیں سمجھ سکا۔
میں آپ کے جواب کا منتظر رہوں گا۔ جزاک اللہ خیرا
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ
محترم ابن داؤد بھائی اگر آپ میری پچھلے چند مہینے کی فورم پر حاضری دیکھیں تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ میں نے بحثوں میں حصہ لینا تقریبا چھوڑ دیا ہے۔ صرف چند علمی ابحاث میں کوئی کوئی جواب بھیج دیتا ہوں۔ اور اس کی ایک وجہ تو مصروفیت ہے جس کے سبب میرا مطالعہ بھی بہت کم...
یہ میں نے ابھی پڑھا۔
لیکن ذرا سا فرق ہے۔ ہو سکتا ہے مکان یا زمان کی وجہ سے یہ فرق ہو۔
لیکن جو آج کل ہمارے سامنے ہے اس میں ایک تو کسی کی حرمت، جاہ، برکت وغیرہ کو ایسا لازم نہیں سمجھا جاتا کہ اس حوالے سے اللہ پاک دعا ضرور قبول کریں گے۔ بلکہ اگر اس کے لیے یہ لفظ کہا جائے کہ"حوالہ دیا جاتا ہے" تو...
جزاک اللہ خیرا
ایک مزید وضاحت کر دیجیے۔
وسیلہ کی ہم جو عموما دیکھتے ہیں لوگوں میں کچھ قسمیں ہیں:
1: بعض لوگ بزرگ کو وسیلہ بمعنی واسطہ یا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ یعنی جو ملے گا وہ بزرگ کے ذریعے سے ملے گا۔ بزرگ کا بیچ میں دخل ہوگا۔
2: بعض لوگ بزرگ کا واسطہ دے کر دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ فلاں بزرگ کے...
السلام علیكم و رحمۃ الله
شیخ محترم پر میں كوئی اعتراض نہیں کر رہا لیکن ایک عمومی مسئلہ ہے کہ ہم میں سے جو علماء رد مسالک اور دفاع مسالک کا کام کرتے ہیں وہ احادیث کی تضعیف بہت زیادہ کرتے ہیں۔ جو حدیث خلاف موقف ہو اس میں کوئی معمولی سی علت بھی مل جائے تو فورا تضعیف کر دیتے ہیں۔
حالانکہ حدیث کو...