الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
محترم بھائی آپ اور بہنا نسرین فاطمہ ہمارے ساتھ punishment of khipil کی طرح تو نہیں کر رہے کہ جب بادشاہ Shahpesh نے اسکو کہا کہ تم نے میری عدالت میں بیٹھنے کی کرسی کہاں بنائی ہے تو اسنے بیٹھنے کی پوزیشن میں اپنے آپ کو کر لیا اور کہا کہ جی یہ لیں کرسی حاضر ہے
کہیں آپ بھی ہمیں اسی طرح یہ باور تو...
جزاک اللہ محترم بھائی آپ کی باتیں بالکل درست ہیں میں نے یہ کہیں نہیں کہا کہ یہ عقلی امکانات نہیں ہیں
محترم بھائی مجھے لگ رہا ہے کہ آپ شاید کسی کی بات پر اسکے علم اور تقوی کی بنیاد پر اعتماد کرنے کو عقلی توجیہات میں سے خارج سمجھتے ہیں حالانکہ ایسا نہیں ہے یعنی تقلید بھی ایک قسم کی عقلی توجیہ ہی...
یہ باتیں تو موصوف نے بڑی زبردست لکھی ہیں لیکن اس پر مجھے کل کے جنگ اخبار میں مبشر علی زیدی کا لکھا ہوا ایک مکالمہ "بکواس" یاد آ گیا جو ایک چھوٹے بھائی اور بڑے بھائی کے درمیان ہوتا ہے مکالمہ کچھ یوں تھا
چھوٹا بھائی
بھائی جان وہ لمبو ہے نا- وہ روزانہ اپنے ابو کے بٹوے سے پیسے چراتا ہے
بڑا بھائی...
محترم بھائی میرے لئے جماعت تو دور کی بات اپنی ذات کے خیال قلم چلانا دشوار ہو جائے اس سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اور اس کے لئے اللہ کی رحمت کا آرزومند ہوں میں تو بار بار ولا یجرمنکم شنان قوم علی ان لا تعدلوا والی آیت اور کونوا قوامین بالقسط شھداء للہ ولو علی انفسکم------- (یعنی اپنے یا اپنے خلاف...
محترم بھائی کی اس بات سے (جو جماعت کے کچھ ساتھیوں کا طریقہ بھی ہے) مجھے اختلاف ہے اور یہ اختلاف دلائل کی بنیاد پر ہے جب کوئی بھائی مجھے دلائل دے دیں گے تو میں اصلاح کر دوں گا مگر ابھی تک مجھے کسی جماعتی ساتھی نے کوئی ٹھوس دلیل نہیں دی یا یوں کہ لیں کہ مجھے وہ ٹھوس نہیں لگی
جہاں تک منافقوں کی بات...
جزاک اللہ محترم بھائی میں نے آپ کے بتائے لنک پر بھی جواب دے دیا ہے
دوسرا محترم بھائی میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ میں مقلد کی طرح کسی تنظیم کی ہر بات پر سر تسلیم خم نہیں کرتا بلکہ جس میں سمجھ آتی ہے وہ مانتا ہوں پس بدعتیوں کو بلانے کے سخت خلاف ہوں البتہ یہ میرا اپنا نظریہ ہے جس پر دوسرے اہل حدیث...
مطلقا ایسی بات کرنا لاعلمی ہے اللہ سمجھ دے ہماری جماعت کا یہ موقف بالکل نہیں کیونکہ حاکم وقت نے کبھی بھی کشمیر کے جہاد کا حکم نہیں دینا پھر بھی ہم کشمیر اور افغانستان میں جہاد جاری رکھیں گے ان شاءاللہ
اصل میں جہاد کی مختلف قسمیں ہیں اقدامی جہاد میں تو آپ اوپر والی شرط لگا سکتے ہیں مگر دفاعی جہاد...
بہنا میں نے دوسرے مرحلے میں ابھی صرف اتنا پڑھایا ہے کہ جس پر پیش ہو وہ فاعل بن سکتا ہے اور جس پر زبر ہو وہ مفعول بن سکتا ہے لیکن یہ نہیں بتایا کہ جس پر زیر ہو وہ کیا بن سکتا ہے پس چونکہ یہاں قلوب پر زیر ہے تو وہ مفعول نہیں بن سکتا اسکے بارے بعد میں پڑھیں گے جزاک اللہ خیرا
جزاک اللہ خیرا محترم بھائی میں بھی اپنی سمجھ اور علم کے مطابق دلائل تو دے سکتا ہوں حقیقی غلط صحیح تو اللہ تعالی ہی جانتا ہے کہ کون ہے ہاں ہم جتنی چیز کے مکلف بنائے گئے ہیں اور ہمیں جتنی نعمت (عقل و علم) دی گئی ہے اسکے تحت ہم غلط درست کا ایک نظریہ قائم کر سکتے ہیں اور اس میں بھی اللہ تعالی نے...
بہنا آپ نے باقی مثالیں درست بتائی ہیں کیونکہ ان میں خالی نحو کے فاعل اور مفعول تھے مگر اوپر والی مثال میں نحو کے بھی فاعل اور مفعول تھے اور صرف کے بھی اسم فاعل اور مفعول تھے
لیکن آپ نے صرف کے اسم فاعل اور اسم مفعول (یعنی مار والے فعل کے فاعل اور مفعول) کا بتا دیا مگر اس مثال میں نحو کے فاعل اور...
آپ کا یہ کہنا کہ فاعل مفعول پر ہمیشہ مقدم ہوتا ہے درست نہیں اس کے بارے اوپر میں نے پوسٹ نمبر 36 مہں مہوش بہنا کو سمجھایا ہوا ہے کہ
عربی میں یہ صرف کچھ ضرورتوں کے تحت ہوتا ہے ان ضرورتوں میں ایک وہ بھی ہے کہ خاص کرنے کے لئے کسی چیز کی جگہ بدل دیتے ہیں چنانچہ اوپر جو آپ نے "ہی" کا لفظ...
جزاک اللہ بہنا آپ کو سٹیپ بائی سٹپ دوسرے طریقے سے سمجھاتا ہوں
1-فاعل کا معنی ہوتا ہے کام کرنے والا
2-کسی جملہ میں جو بھی کام آتا ہے اسکا ایک کرنے والا ہوتا ہے یعنی ہر کام کا علیحدہ فاعل ہوتا ہے
3-آپ ذرا غور کریں کہ اوپر جملے میں کتنے مادے کام کے لئے آئے ہیں
4-ایک ضرب (مارنا) کا مادہ ہے...
محترم شاکر بھائی نے میری اوپر وضاحت کے بالکل مطابق ہی ترجمہ کیا ہوا ہے اور انہوں نے صرف والے سانچے اور نحو والے فاعل مفعول کو علیحدہ ہی رکھا ہے ماشاءاللہ بڑی اچھی وضاحت کی ہے اللہ جزائے خیر دے امین
شاید اوپر سرخ کیے گیے لفظ کو ٹائپنگ ایرر کی وجہ سے مفعول لکھ گئے ہیں
بہنا یہاں تک آپ نے ایک ایک لفظ کا اکیلا ترجمہ یعنی پہلا مرحلہ مکمل کر لیا جیسا کہ اوپر محترم شاکر بھائی نے بتایا ہوا ہے کہ اس میں مادہ کا معنی اور صرف کے سانچے کا معنی استعمال ہوا ہے
بہنا یہاں سے آپ نے دوسرے مرحلے کا اطلاق کرنا تھا جس میں پڑھایا گیا تھا کہ جو پیش والا ہوتا ہے وہ فاعل ہوتا...
جزاک اللہ محترم بھائی میرا مطلب یہ نہیں تھا کہ الفاظ کی سمجھ نہیں آئی بلکہ ان الفاظ میں واضح طور پر بریلویوں کا رد نہیں بلکہ اس سے کہیں زیادہ واضح تو قرآنی آیات مل جاتی ہیں
اصل میں علامہ اقبال کی ذات کی ہی مجھے صحیح طور پر سمجھ نہیں آئی کہ انکا اصل موقف کیا تھا کیونکہ انکے کلام میں کثرت سے...