الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
اسی یونیورسٹی سے وابستہ ایک مشہور معلمہ جس کا نام ہائی پیشیا (Hypatia) تھا، عیسائی تعصبات کا شکار ہوگئی۔ وہ فلسفہ ارسطو کی تشریحات میں مہارت رکھتی تھی۔ ایک دن وہ اپنے مدرسہ جا رہی تھی کہ پادریوں اور عیسائی راہبوں نے اسے گھیر لیا اور بیچ بازار میں کپڑے پھاڑ کر اسے بالکل برہنہ کردیا پھر گھسیٹتے...
اسکندریہ یونیورسٹی
سکندرِ اعظم نے ۳۳۴ قبل مسیح میں مصر پر قبضہ کیا اور ۳۳۳ قبل مسیح میں اسکندریہ کی بنیاد رکھی جو یورپ اور ایشیا کی تجارت کا مرکز ہونے کے باعث رفتہ رفتہ تہذیب وثقافت اور فکر ودانش کا مرکز بن گیا۔ اس میں موجود یونیورسٹی قریباً چھ سو سال تک تشنگانِ علم کو سیراب کرتی رہی۔ اس میں...
جدید علوم اور عیسائیت کا طرزِ عمل
اسلام کی معارف پروری کے برعکس عیسائیت کا علوم کے ساتھ طرزِ عمل ملاحظہ کیجئے۔ عیسائی راہبوں نے علم کو مذہب سے متصادم قرار دیاہے۔ اس کے خلاف اعلانِ جنگ کیا۔ جس شخص کو انہوں نے تحصیل علم اور اس کی تدریس وتعلیم میں منہمک دیکھا، اسے یا تو ختم کردیا، یا مستوجب ِسزا...
صقلیہ میں فریڈرک دوم اور اس کے جانشینوں نے مختلف علوم وفنون (فلسفہ، سائنس اور طب) کی کتابیں لاطینی میں بکثرت ترجمہ کروائیں۔ یورپ میں اندلس کے اسلامی علوم وفنون کی اشاعت بھی فریڈرک کے واسطے سے اٹلی (اطالیہ) اور سسلی (صقلیہ) کی راہ سے ہوئی اور فلسفہ وطب کے علاوہ دیگر علوم کی کتب بھی لاطینی زبان...
جدید سائنسی ارتقا میں مسلمانوں کا حصہ
اس دور میں جب پورا یورپ جہالت کے اندھیروں میں ٹامک ٹوئیاں مار رہا تھا، مدارسِ اسلامیہ بالخصوص غرناطہ، طلیطلہ اور بغداد میں علم کی قندیلیں روشن تھیں۔ یورپ کے بیشتر جویانِ علم مسلمان اساتذہ کے سامنے زانوے تلمذ تہ کرکے اپنی علمی تشنگی دور کرتے تھے۔ اس حقیقت...
اسلام کی اس حقیقت پسندانہ سوچ کے باوجود عصر حاضر کا یہ عظیم المیہ ہے کہ مسلمانوں کا جس قدر علمی عروج اسلام کے ابتدائی دور سے لے کر کئی صدیوں تک قائم رہا، اسی قدر وہ آج انحطاط وتنزل کا شکار ہیں۔ صرف علم میں فقدان کے باعث ہم کئی اور شعبوں میں بھی مغرب کے غلام بن چکے ہیں۔ معیشت ، معاشرت، ثقافت...
یہ معمولی واقعہ ہی اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ نبی اقدسﷺ کی نگاہوں میں تحصیل علم کس قدر ضروری تھا۔ اسلام بجا طور پر جملہ مباح علوم کی اور بالخصوص سائنس کی افادیت کو نہ صرف تسلیم کرتاہے بلکہ دائرہ اسلام میں رہتے ہوئے اس کی ترویج کو مقتضاے شریعت کی تکمیل تصور کرتا ہے۔ جو مذاہب انسان کو دنیا سے فرار...
علم کی اہمیت سے صرفِ نظر کرنا ممکن نہیں۔ زمانہٴ قدیم سے دورِ حاضر تک کا ہر متمدن ومہذب معاشرہ علم کی اہمیت سے واقف ہے۔ فطرتِ بشری سے مطابقت کی بنا پر اسلام نے بھی علم حاصل کرنے کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ اس کے ابتدائی آثار ہمیں صدرِ اسلام یعنی رسولﷺ کے عہد ِمبارک میں ملتے ہیں۔ چنانچہ غزوئہ بدر...
مسلم نوجوانوں کے لیے جدید علوم کی ضرورت و اہمیت
محمد آصف احسان
اسلام دین فطرت ہے جو اپنے واضح احکام وفرامین کی کشش کے باعث قلب ِانسانی میں گھر کرتا ہے، فطرتِ بشری کی تجزیہ کاری اس کے متنوع علوم ومعارف کی تصدیق کرتی ہے اور ان کی افادیت کی مظہر ہے۔ درحقیقت اسلام ہی وہ واحد دین ہے جو انسان کو...
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
الله تعالی آپ کے دوست کو مزید زندگی عطا فرمائے اور برکت والی زندگی دے آمین۔ الله آپ کے دوست کو شفاء کاملہ عطا فرمائے۔ آمین
إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّآ إِلَيْهِ رَٰجِعُونَ
اللہ تعالی ان کے اہل خانہ کو صبر جمیل دے اور مرحومہ کی تمام دنیاوی لغزشوں کو معاف کرتے ہوئے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام دے۔ آمین
51الضعفاء الصغير،ص 154، رقم:230، التاريخ الكبیر:6؍62، رقم:1713
52ضوابط الجرح والتعديل، 145
53تاریخ یحییٰ بن معین:4؍89، رقم 3289، تاریخ عثمان بن سعید دارمی:ص 148، رقم 506، الضعفاء الکبیر للعقیلی:3؍54، رقم 1014
54الجرح والتعدیل للرازی:6؍20،رقم 107
55ایضًا
56لسان المیزان:4؍99 دوسرا نسخہ 81...
21نصب الرایۃ: 1؍188
22کتاب الضعفاء والمتروکین :ص 290
23ايضًا: 1؍286
24الجرح والتعدیل: 3؍524
25تقریب التہذیب: ص 104
26الاصابہ:2؍282
27کتاب الضعفاء والمتروکین: 1؍286
28پہلے مذکور جرح کرنے والے ائمہ کے مقابلہ میں بعض کے اِس کو صدوق کہنے سے دھوکہ نہیں کھانا چاہئے کیونکہ اِن صدوق کہنے والے...
لہٰذا نہ تو یہ روایت نبی ﷺ سے ثابت اور نہ ہی اس سے ان حضرات کا یہ دعویٰ ثابت ہوتا ہے کہ ''اُمت ِمسلمہ میں شرک نہیں پایا جا سکتا اور کوئی مسلمان شرک نہیں کر سکتا۔''
اسی طرح مسند احمد،حلیۃ الاولیاء72 اور ان سے سیر اعلام النبلاء 73کے حوالے سے شداد بن اوس سے ہی ایک اور روایت بیان کی جاتی ہے جس میں...
خلاصۂ بحث
قارئین کرام! یہ تھی شداد بن اَوس سے مروی اس روایت کی سندکی حقیقتِ حال جس پر بزعم خویش نئی مذہبی سوچ کی بنیاد بڑے بلند دعوؤں کے ساتھ رکھی گئی تھی۔
٭ اِس روایت کی پہلی سند جو ابن ماجہ میں ہے، تین علتوں کی وجہ سے ضعیف ہے۔
٭ جبکہ دوسری سند جو مسند احمد70 ، حاکم، طبرانی، حلیۃ الاولیاء...
17. امام نسائی فرماتے ہیں: «لیس بثقة ولا یکتب بحدیثه»
''یہ ثقہ نہیں ہے اور اِس کی بیان کردہ حدیث کو لکھا (بھی) نہیں جائے گا۔''
18. امام ترمذی فرماتے ہیں: ''یہ ضعیف اور ذاهب الحدیث ہے۔''
19. امام جوزانی فرماتے ہیں :''یہ کذاب ہے۔''
20. علی بن الجنید فرماتے ہیں: ''یہ راوی متروک ہے۔''
21. امام...
11. حافظ ابن حجر فرماتے ہیں:
12. اُسید بن زید نے زہیر بن معاویہ سے بیان کیا ہے کہ
''میں نے عطا بن عجلان اور ایک دوسرے آدمی جن کا اُنہوں نے ذکر کیا، کے علاوہ کسی کو متہم قرار نہیں دیا۔ وہ کہتے ہیں میں نے اِس کا حفص بن غیاث سے ذکر کیا تو انہوں نے اِس بات کی تصدیق کی۔''
13. «وقال عمرو بن علي...
7. امام دار قطنی فرماتے ہیں: ''یہ ضعیف ہے (اور متابعات و شواہد میں بھی) قابل اعتبار نہیں ہے اور ایک مرتبہ فرمایا کہ یہ متروک ہے۔''66
8. امام سعدی فرماتے ہیں :''یہ کذاب ہے ۔''
9. امام ابن عدی جرجانی اس کی بیان کردہ بعض روایتیں ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
10. امام ذہبی فرماتے ہیں:
''واهٍ...