الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
دوسرا متابع
یہ روایت حلیۃ الأولیاء63 میں عطاء بن عجلان عن خالد محمود بن الربیع عن عبادة بن نسی عن شداد بن أوس سے مروی ہے۔اس کے متن کے الفاظ عبد الواحد بن زید بصری کے روایت کردہ الفاظ ہی ہیں۔
1. اِس سند میں راوی ابو محمد عطا بن عجلان بصری عطار کے متعلق حافظ ابن حجر فرماتے ہیں :
''یہ متروک ہے...
25. نیز حافظ ابن حجر فرماتے ہیں:
26. امام بخاری فرماتے ہیں:
نیز امام صاحب فرماتے ہیں:
یہ تو صورتحال تھی پہلے متابع کی، اب آتے ہیں دوسرے متابع کی طرف جس کی صورتِ حال اس سے بھی زیادہ خراب ہے:
21.
22. نیزحافظ ابن حجر فرماتے ہیں:
23. حافظ ابن حجر مزید فرماتے ہیں:
24. امام ابن حبان فرماتے ہیں:
پس ابن حبان کے اِس راوی عبد الواحد بن زید بصری کے بارے میں اِن مذکورہ ریمارکس سے ہی ابن حبان کے اِس راوی کو کتاب الثقات میں ذکر59 کرنے کا از خود ردّ بھی ہو جاتا ہے۔
16. امام یحییٰ بن معین فرماتے ہیں :لیس بشيءیعنی ''یہ (حدیث میں) کچھ بھی نہیں ہے۔''53
17. نیز فرماتے ہیں:
18. امام ابو حاتم فرماتے ہیں:
19. حافظ ابن حجر فرماتے ہیں:
20. «قال النسائي: لیس بثقة»
''امام نسائی فرماتے ہیں: یہ ثقہ نہیں ہے۔''
11. امام ذہبی فرماتے ہیں:'' امام بخاری نے فرمایا کہ یہ متروک ہے۔''47
12. امام ابن ابی حاتم رازی فرماتے ہیں:« عمرو بن علي قال کان عبد الواحد بن زید قاصا وکان متروك الحدیث»48
عمروبن علی فرماتے ہیں :''عبد الواحد بن زید قصہ گو اور «متروك الحدیثتھا۔»''
13. امام ابن الجوزی فرماتے ہیں: «قال...
5. علامہ البانی فرماتے ہیں:
''یہ روایت ضعیف جدًا یعنی انتہائی ضعیف ہے۔''42
6. شیخ شعیب أرناؤوط اور مسند احمد کی تحقیق میں اُن کے ساتھ محققین کی جماعت نے کہا ہے کہ اِس روایت کی سند ضعیف جدًا (انتہائی ضعیف) ہے۔43
7. علامہ مختار احمد ندوی شعب الایمان کی تحقیق وتعلیق میں اسی مذکورہ روایت پر بحث...
1. حالانکہ ان کے متعلق امام زیلعی لکھتے ہیں:
2. نیزدوسرے اَئمۂ حدیث نے امام حاکم کی طرف سے اِس روایت کی تصحیح کی تردید بھی کی ہے۔ امام منذری، امام حاکم کی تصحیح نقل کرنے کے بعد اِس کو رد کرتے ہوئے کہتے ہیں:
'' یہ روایت صحیح کیسے ہو سکتی ہے۔ حالانکہ اِس میں عبد الواحد بن زید متروک (راوی)...
متابعت
ابن ماجہ کی بیان کردہ اِس روایت کے دو متابع ذکر کیے جاتے ہیں:
متابع اوّل:یہ روایت مسند احمد31 ، مستدرک حاکم32 ، شعب الایمان للبیہقی33 ، طبرانی کبیر34 ، طبرانی اوسط 35،مسند شامیین36 اور حلیۃ الاولیاء37 میں عبد الواحد بن زید بصری عن عبادة بن نسی عن شداد بن أوس کی سند سے مروی ہے اور اس کو...
14. امام ابو احمد حاکم فرماتے ہیں:«تغیر بآخرة فحدث بآحادیث لم یتابع علیه»
''آخر میں اِس کا حافظہ خراب ہو گیا تھا۔ پس اس نے ایسی ایسی حدیثیں بیان کیں جن پر اس کی متابعت نہیں کی گئی۔''
15. امام محمد بن عوف الطائی فرماتے ہیں: «دخلنا عسقلان فإذا بِرواد قد اختلط»
''ہم عسقلان میں داخل ہوئے۔پس رواد...
تیسری علت: اِس میں ایک راوی روّاد بن الجراح ہے جس کے بارے میں
1. امام دار قطنی فرماتے ہیں :''یہ متروک ہے ۔''19
2. امام ذہبی فرماتے ہیں: «له مناكیر ضُعّف»20
''اِس کی (بیان کردہ روایتیں) منکر ہیں، اِسے ضعیف قرار دیا گیا ہے۔''
3. امام زیلعی لکھتے ہیں: «قال الشیخ في الإمام لیس بالقوي»21 ''یہ قوی...
دوسری علت: اِس روایت کے ضعیف ہونے کی دوسری علت عامر بن عبد اللہ ہے۔
1. حافظ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں:
'' روّاد کا شیخ عامر بن عبد اللہ مجہول ہے۔''14
2. امام منذری فرماتے ہیں: لا یعرف ''یہ راوی معروف نہیں،(یعنی مجہول) ہے۔ ''15
3. امام ذہبی فرماتے ہیں:
4. امام ابن عدی جرجانی فرماتے ہیں...
6. امام یحییٰ بن معین فرماتے ہیں:
''عجیب و غریب روایتیں بیان کرنے والا اور منکر الحدیث ہے۔''
اور فرمایا کہ کان قدریا ''یہ قدری (تقدیر کا منکر) تھا۔ ''
7. امام احمد بن حنبل بھی فرماتے ہیں:«أحادیثه أباطیل»
''اس کی بیان کردہ حدیثیں باطل ہیں۔''
8. امام اثرم فرماتے ہیں:
میں نے ابو عبد اللہ سے...
4. حافظ ابن حجر ،امام ابن عدی جرجانی سے ایک روایت کے متعلق بیان فرماتے ہیں کہ
5. نیز ایک روایت کے متعلق فرماتے ہیں:
جہاں تک مدلس کی عن کے ساتھ بیان کردہ روایت کے قابل حجت نہ ہونے کی بات ہے تو علامہ امام عینی حنفی فرماتے ہیں:
یہ سند حسن بن ذکوان کی تدلیس اور عنعنہ کی وجہ سے ضعیف ہے اور...
پہلی علت: حسن بن ذکوان ابو سلمہ بصری مدلس ہے اور عَن کے ساتھ بیان کرتا ہے اور اس نے سماع کی صراحت بھی نہیں کی جیسا کہ
1. حافظ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں:
2. مزید فرماتے ہیں:
3. امام علائی، ابوزرعہ ابن الصراقی، سیوطی، حلبی اور الدمینی نے بھی اِس کو مدلسین میں ذکر7 کیا ہے:
روایت ِمذکور کی تحقیق
ابن ماجہ کی یہ روایت «رواد بن الجراح عن عامر بن عبد الله عن الحسن ابن ذکوان عن عباده بن نسی عن شداد بن أوس» کی سند سے مروی ہے ۔
1. روایتِ مذکور پر علامہ البانی نے ضعف کا حکم لگایا ہے۔2
2. ڈاکٹربشار عواد معروف بھی اس روایت کو ضعیف قرار دیتے ہیں۔3
3. حافظ زبیر علی زئی...
روایتِ شداد بن اَوسؓ اور شرک ِاکبر کا وجود
نوٹ اس مضمون کو یونی کوڈ میں اور پی ڈی ایف میں حاصل کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
فن حدیث کی رو سے تحقیقی جائزہ
انہی دنوں بعض لوگوں نے یہ نیا دعویٰ شروع کردیا ہے کہ اُمت ِمسلمہ میں شرکِ اکبرنہیں پایا جا سکتا اور اِس اُمت کا کوئی فرد شرکِ اکبر نہیں کر...
آمین
صبر رب کریم کے فیصلے کا بہترین شکر ہے، اور انسان میں ہمت اور حوصلے کو بڑھاتا ہے۔
اللہ تعالی والدین کو بچی کا بہترین نعم البدل عظا فرمائے۔ حوصلہ اور ہمت عطا فرمائے اور صبرجمیل عطا فرماے،اور بچی کی والدہ کو کامل صحت عطا فرمائے۔
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ماں کو شفائے کاملہ عاجلہ عطا فرماتے ہوئے صبر کی توفیق کے ساتھ بیٹی کو ان کے بلندی درجات کا سبب بنائے۔آمین