الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
جب يہ تعزيرى قانون پہلے ہى سے ملك ميں موجود ہے تو پهر صرف قانونِ توہين رسالت كے طريق كار ميں ترميم كا كيا جواز ہے؟ دوسرے سنگين جرائم كا بهى ملك ميں جهوٹے مقدمات كے ذريعہ غلط استعمال ہورہا ہے- ان كے طريق كار ميں كوئى ترميم كيوں نہيں؟ صرف توہين رسالت كے جرم كے طريق كار ميں يہ ترميم كيوں مسلط كردى...
غلط مقدمات كے سدباب كے لئے موٴثر قانونِ تعزيرات موجود ہے- قانونِ تعزيرات كى دفعہ ١٩٤ كى رو سے اگر كوئى شخص كسى بے گناہ كو سزائے عمرقيد يا سزائے قتل دلانے كے ارادے سے غلط بيانى كرے يا جهوٹى شہادت دے تو اس كو عمر قيد كى سزا مقرر ہے- اور اگر كسى شخص پر سزائے موت لاگو ہوجائے اور بعد ميں ثابت ہو كہ...
قانونِ توہين رسالت ہونے كے باوجود ايسے سرفروش لوگوں كى كمى نہيں جو گستاخِ رسول كو موقع پاتے ہى جان سے مار ديتے ہيں۔ ہمارے ہى ايك مقدمہ كے قيدى يوسف كذاب جسے عدالت سيشن نے سزائے موت دى تهى كو جيل كے اندر ايك قيدى نے گولى مار كر ہلاك كرديا اور خود اقرارِ جرم كرليا- چند ماہ قبل لبنان كى ايك گلوكارہ...
اب رہ گيا يہ سوا ل كہ كيا توہين رسالت كے قانون كے طريق كار ميں ترميم سے اس قانون كا غلط استعمال رُك جائے گا؟
موجودہ طريق كار ميں ترميم سے پہلے ضابطہ فوجدارى كى دفعہ ١٥٦ كى رو سے پوليس اسٹيشن كے انچارج افسر كو دوسرے قابل دست اندازى پوليس جرائم كى طرح توہين رسالت كے جرم كى اطلاع پر ملزم كو گرفتار...
بادشاہ كى اس پريشانى كو دور كرنے كے لئے اس كے وزير انِ باتدبير نے اسے مشورہ ديا كہ اگر قانون كے طريق كار ميں تبديلى كى جائے تو يہ پيچيدہ مسئلہ حل ہوسكتا ہے وہ اس طرح كہ شراب نوشى كى ٨٠ كوڑوں والى سزا بهرصورت برقرار رہے گى ليكن طريق كار ميں ترميم كركے شرابى كے خلاف رپورٹ كرنے والے كو ١٠٠ كوڑے...
وزير مذہبى اُمور جناب اعجاز الحق نے برملا اعتراف كيا كہ پارليمنٹ كو توہين رسالت كى سزا ميں كمى يا تنسيخ كا كوئى اختيار حاصل نہيں اور نہ ہى حكومت كا ايسا كوئى ارادہ ہے۔ ليكن چونكہ اس قانون كا غلط استعمال ہورہا ہے، اس لئے حكومت چاہتى ہے كہ اصل قانون ميں كسى تبديلى كے بغير صرف طريق كار يعنى...
كرسچين كميونٹى كے نمائندہ ليڈر مسٹر محبوب صدا كى توجہ اس طرف دلائى گئى كہ بائبل ميں پيغمبروں كى توہين كى سزا موت ہے۔ خود امريكہ اور برطانيہ ميں جو سيكولر ہونے كے دعويدار ہيں وہاں بهى سزائے موت موقوف ہونے كے بعد توہين مسيح كى سزا عمر قيد كردى گئى ہے۔ اس پر موصوف نے جواب ديا كہ بائبل كى سزا يا اس...
مسز فوزيہ وہاب ايم اين اے اور كرسچين ليڈر كى رائے ميں توہين رسالت كے قانون كو ختم كيا جانا چاہئے- پاكستان كى باختيار پارليمنٹ كو ايسا كرنے كا حق حاصل ہے- مسز فوزيہ وہاب نے متبادل تجويز بهى پيش كى جس كے مطابق اس جرم كى سزا زيادہ سے زيادہ سزا سات سال ہونا چاہئے۔ جب ان سے پوچها گيا كہ تنسيخ يا...
يہاں اس بات كا ذكر بے محل نہ ہوگا كہ پاكستان كے ايك غير سركارى ٹى وى چينل نے ١٣/ مئى ٢٠٠٤ء كے ايك معروضى پروگرام ميں ’توہين رسالت ميں ترميم‘ كے اہم موضوع پر راقم كو اظہارِ خيال كى دعو ت دى- اس مذاكرے ميں راقم كے ساتھ وزيرمذہبى اُمور جناب اعجاز الحق، ركن قومى اسمبلى (پى پى پى) مسز فوزيہ وہاب اور...
مشرف حكومت كو ہمہ مقتدر صدر امريكہ جارج ڈبليو بش كى دست ِراست مس كنڈو ليزا رائس نے پہلے ہى وارننگ دى ہوئى ہے كہ اگر پاكستان نے امريكن گورنمنٹ كے خلافِ مرضى كوئى كام كيا تو امريكى ضرب المثل كے مطابق گاجر كى تواضع ختم ہوگى، پهر چهڑى (Stick) سے اسے راہ راست پر لايا جائے گا- چونكہ صدر مشرف امن پسند...
امريكہ اور يورپ يہ جانتے ہوئے بهى كہ جنرل مشرف نے يہ بات مصلحتاً كہہ دى ہے، اسے بهى وہ برداشت نہ كرسكے- امريكہ كى نيوكون (نئى قدامت پرست عيسائى) گورنمنٹ كے اسٹيٹ ڈيپارٹمنٹ نے ڈيموكريسى اور ہيومن رائٹس بيورو كے حوالے سے سال ٢٠٠٣ء ميں جوانٹرنيشنل رپورٹ تيار كى، سال ٢٠٠٤ء ميں پورى طرح منظر عام پر...
اس دوران جنرل موصوف بيرون ملك دوروں پر تهے، وہاں اُنہيں اس بگڑتى ہوئى صورتِ حال سے آگاہ كيا گيا، اس لئے انہوں نے اشك آباد سے واپسى پر ايئرپورٹ ہى سے قوم سے خطاب كرتے ہوئے بتلايا كہ يہ حكومت كے چند اہل كاروں كى طرف سے صرف ايك تجويز تهى جو نادانستہ طور پر پيش ہوگئى- قوم اگر اسے ناپسند كرتى ہے تو...
قانونِ توہين رسالت ميں ترميم كے مضمرات
محمد اسماعيل قريشى، ايڈووكيٹ
مملكت ِ خداداد ِ پاكستان كے صدر جنرل پرويز مشرف نے ٢١/ مئى ٢٠٠٠ء ميں اعلان كيا تها كہ توہين رسالت كے قانون كا غلط استعمال ہورہا ہے، اس لئے اس كے ضابطہ كار (Procedural Law) كو تبديل كرنا چاہئے- راقم نے اس تجويز سے اختلاف كرتے...
راقم الحروف کے مقدمہ ’محمداسمٰعیل قریشی بنام حکومت ِپاکستان‘ کی سماعت کے دوران تمام مکاتب ِفکر کے علما کے متفقہ بیان کے بعد بلا س فیمی لاء قرآن وسنت اور اجماعِ اُمت کے عین مطابق ہے۔ یہ فیصلہ فیڈرل شریعت کورٹ پاکستان نے سال ۱۹۹۰ء میں صادر کیا ہے۔ اس کی اپیل بھی سپریم کورٹ سے خارج کردی گئی ہے۔...
٭ برطانیہ میں دیگر مقدمات کے فیصلوں کے ایک اور مقدمہ میں یہ بھی فیصلہ دیاگیا ہے کہ توہین مسیح کے علاوہ کسی اور مذہب (مثلاً اسلام) کے رہنما اور پیغمبر کی گستاخی کو’بلاس فیمی‘ تصور نہیں کیا جائے گا۔ امریکہ اوربرطانیہ کی ریاستوں میں مسلمان اور دیگرمذاہب کے پیروکار وہاں کے شہری ہیں لیکن بلاس فیمی...
٭ برطانیہ میں قانونِ توہین مسیح وہاں کا کامن لاء (Common Law) ہے جس کے لئے پہلے سزاے موت تھی اور اس جرم پر عربوں کو آگ میں زندہ جلا دیا جاتاتھا۔ لیکن چونکہ اب وہاں سزاے موت کا قانون موقوف ہے، اس لئے بلاس فیمی کے سنگین جرم کی انتہائی سزا سزاے عمر قید کردی گئی ہے۔ انگلستان میں راقم الحروف کے...
٭ بظاہر یوں معلوم ہوتاہے کہ رپورٹ کے فاضل مصنّفین کو خود اپنے ملک یا برطانیہ اور یورپ کے دیگر ملکوں کے قانونِ توہین مذہب اور وہاں کی اعلیٰ ترین عدالتوں کے فیصلوں کا علم نہیں۔ امریکہ جو ایک سیکولر ریاست ہے وہاں ’بلاس فیمی لاء‘ (Blasphemy Law) یعنی توہین مسیح کاقانون موجود ہے۔ وہاں کی سپریم کورٹ...
’نیوکون‘ امریکہ کو اس کی پروا نہیں کہ وہ حقوقِ انسانی کی عالمی عدالت کا اشتہاری ملزم ہے۔ سب سے زیادہ ڈھٹائی کی اور حیران کن بات یہ ہے کہ حقوقِ انسان کی اس کھلی توہین کے باوجود اسی امریکہ کے جمہوریت نواز ہیومن رائٹس بیورونے بین الاقوامی مذہبی آزادی کے نام سے سالِ گذشتہ کے آخر میں ایک رپورٹ شائع...
اسلام کے عالمی منشور کی بات تو بہت اونچی ہے۔ یورپ اور خاص طور پر امریکہ کے ان نام نہاد علم برداروں نے حقوقِ انسانی کوجس طرح پامال کیا ہے، اس کی مثال بھی تاریخ کے کسی دور میں چنگیز خان کی ہلاکت آفرینوں اور اسپین کی رسوائے زمانہ کلیسائی عدالتوں کی مسلمانوں اور یہودیوں کے ساتھ خون آشام کارروائیوں...
تاریخ کی کسی جرح سے نہ ٹوٹنے والی یہ شہادت موجود ہے کہ دنیا میں سب سے پہلے آج سے چودہ سال قبل پیغمبر اسلام نے فرمانِ الٰہی کی تعمیل میں انسان کو انسان کی اور ہر طرح کی غلامی سے آزاد کردیا۔ اسے تحفظ ِجان و مال کی ضمانت عطا کی اور اس دنیا سے رخصت ہوتے ہوئے اپنے الوداعی خطاب میں آزادی اور حقوقِ...