• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نتائجِ‌تلاش

  1. ساجد

    رجب المرجب کے اہم واقعات!

    ٭ ہجرت حبشہ اولیٰ (رجب ۵ نبوت) مسلمانوں پر مشرکین کے مظالم کی انتہا ہوگئی تو ان مسلمانوں نے مکہ سے حبشہ کی جانب بعثت نبو ی کے پانچویں برس رجب کے مہینہ میں ہجرت کی۔ ہجرت کرنے والوں میں بارہ مرد اور چار عورتیں تھیں۔جب رسو ل اللہﷺنے دیکھاکہ مسلمان مشرکین مکہ کے ظلم و ستم سے کسی طرح نجات نہیں...
  2. ساجد

    رجب المرجب کے اہم واقعات!

    ٭ وفد سعد بن بکر (رجب ۵ ہجری) بنی سعد بن بکر نے رجب ۵ ہجری میں ضمام بن ثعلبہ کو جو بہت زیادہ بال اور زلفوں والے تھے بطور وفد رسول اللہﷺکے پاس بھیجا، وہ آپﷺکے پاس آئے اور آپؐ سے سوال کیااور سوال کرنے میں بہت سختی کی۔پوچھا کہ آپ کو کس نے رسول بنایا اور کن امور کا رسول بنایا؟اور آپﷺسے شرائع...
  3. ساجد

    رجب المرجب کے اہم واقعات!

    متفرقات وفد مزنیہ (رجب ۵ ہجری) قبیلہ مُضر کا سب سے پہلا وفد جو رسول اللہﷺکی خدمت میں حاضرہوا۔یہ مزنیہ کے چار سو افراد پر مشتمل تھا جو رجب ۵ ہجری کو نبی کریم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ رسول اللہﷺنے ان کے مکانوں میں رہنے ہی کو ہجرت قرار دیا کہ تم لوگ جہاں رہو مہاجر ہو، لہٰذا تم لوگ اپنے ماہ و متاع...
  4. ساجد

    رجب المرجب کے اہم واقعات!

    خالد بن ولید﷜نے اکیدر کو اس شرط پر پناہ دی کہ وہ دومۃ الجندل آپ کو دے دے گا۔ خالد﷜ اس کو رسول اللہﷺکے پاس لے آئے۔ اس نے حضرت خالد﷜سے دو ہزار اونٹ، آٹھ سو دوسرے جانورچار سو نیزے پر صلح کرلی۔ آپ﷜نے نبی کریمﷺ کا مخصوص حصہ نکالا اور بقیہ اپنے ساتھیوں میں تقسیم کردیا کہ ہر شخص کو پانچ پانچ حصہ...
  5. ساجد

    رجب المرجب کے اہم واقعات!

    کچھ منافق لوگ آئے جو رسول اللہﷺسے بغیر کسی سبب کے پیچھے رہ جانے کی اجازت چاہتے تھے۔آپﷺنے انہیں اجازت دے دی۔رسول اللہﷺنے اپنے لشکر کا امیر حضرت ابوبکر صدیق﷜کو مقرر کیا اور مدینہ میں محمد بن مسلمہ﷜ کو اپنا قائم مقام بنایا۔آپؐ روانہ ہوئے تو عبداللہ بن اُبی اور جو اس کے ہمراہ تھا ، پیچھے رہ گیا،...
  6. ساجد

    رجب المرجب کے اہم واقعات!

    ٭ غزوہ ٔتبوک (رجب ۹ہجری) رجب ۹ ہجری میں نبی کریمﷺ کومعلوم ہوا کہ شام میں رومیوں نے کثیر مجمع جمع کیاہے اور ہرقل اپنے ساتھ بہت سے قبائل کوبھی لایا ہے۔ اِدھر رسول اللہﷺ کو ان کی تیاری کا علم ہوا تو آپﷺنے مسلمانوں کو نکلنے کی منادی کرائی اور اعلان فرمایا ، تاکہ لوگ مکمل تیار ی کرلیں، کیونکہ سخت...
  7. ساجد

    رجب المرجب کے اہم واقعات!

    ٭ سریہ زید بن حارثہ﷜ (وادی القریٰ کی جانب رجب ۶ہجری) رجب ۶ ہجری میں رسول اللہﷺنے حضرت زید بن حارثہ﷜ کی سرکردگی میں وادی القریٰ کی جانب ان کو روانہ فرمایا: (طبقات ابن سعد:۲؍۸۹) ٭ سریہ الخبط زیرقیادت ابوعبیدہ ابن الجراح﷜ (رجب ۸ ہجری) رجب۸ ہجری میں نبی کریمﷺنے حضرت ابوعبیدہ بن الجراح﷜کو تین سو...
  8. ساجد

    رجب المرجب کے اہم واقعات!

    مجاہدین نے قافلہ کو دیکھا تو تعاقب کرتے ہوئے اس کے قریب جا پہنچے سب سے پہلے اس قافلہ کے سامنے عکاشہ بن محصن﷜پہنچے جن کا سرمنڈا ہواتھا اور وہ صورت سے بڑے ہی دہشت ناک لگ رہے تھے۔چنانچہ اس قافلہ میں شامل تمام لوگوں نے انہیں دیکھتے ہی ہتھیار ڈال دیئے۔ واقد بن عبداللہ نے تیر چلا کر عمرو بن حضرمی کو...
  9. ساجد

    رجب المرجب کے اہم واقعات!

    غزوات و سرایا ٭ سریہ عبداللہ بن حجش اسدی﷜ (سریۂ نخلہ رجب ۲ ہجری) ماہ رجب سنہ ۲ ہجری میں اس مہم پر رسول اللہﷺنے حضرت عبداللہ بن جحش﷜ کی سرکردگی میں بارہ مہاجرین کا ایک دستہ بطن نخلہ کی طرف روانہ فرمایا ہر دو آدمیوں کے لیے ایک اونٹ تھا جس پر باری باری دونوں سوار ہوتے تھے۔ (طبقات ابن سعد:۲؍۱۰)...
  10. ساجد

    رجب المرجب کے اہم واقعات!

    اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا۔مہینوں کی تعداد بارہ مقرر کردی، اور ان کے نام بھی رکھ دیئے اور ان مہینوں کے احکام بھی بیان کردیئے جن کاذکر تمام آسمانی کتابوں میں آیا ہے۔ ان میں سے ایک خاص حکم سال کے چار مہینوں (رجب، ذو القعدہ، ذی الحجہ اور محرم الحرام) کو خاص اہمیت دی۔ان کااحترام لازم...
  11. ساجد

    رجب المرجب کے اہم واقعات!

    قرآن کریم میں صرف حرمت والے مہینوں کا ذکر اس طرح ہے:
  12. ساجد

    رجب المرجب کے اہم واقعات!

    رجب المرجب کے اہم واقعات! (1 نبوی تا11ہجری) محمد شفیق کوکب رجب اسلامی تقویم کے ساتویں مہینے کا نام ہے۔یہ مہینہ أشھرحرم میں سے ہے۔ اسی مہینہ میں عمرہ ادا کیاجاتا تھا جو ظہورِ اسلام سے پہلے حج کے ان لازمی ارکان میں سے تھا جو مکہ معظمہ سے متعلق تھے، اسی لئے اسے خدائی امن کا مہینہ سمجھا جاتا ہے...
  13. ساجد

    مجھے بھی اپنالیں۔

    اہلا و سہلا و مرحبا خوش آمدید اللہ آپ کی ہر نیک خواہش پوری فرمائے۔ آمین
  14. ساجد

    توہین رسالت کرتے ہو؟

    انجام کو اک دن پہنچے گی، اے مغرب والو یہ دنیا اعمال ترازو میں ہوں گے، سب دیکھیں گے سچا جھوٹا پھر بول اٹھے گا محشر میں، فن کار کا اک اک فن پارہ لو اپنی خباثت پہچانو! توہین رسالت کرتے ہو؟ ……………………
  15. ساجد

    توہین رسالت کرتے ہو؟

    اس فعل شنیع کا مغرب میں ڈنمارک سے آغاز ہوا اک ارذل، فاسق اہل قلم، بدبخت ہے،بندۂ آز ہوا تضحیک ہے جس کی خصلت میں بدخو وہ شعبدہ باز ہوا ان سب سے کہہ دو حیوانو! توہین رسالت کرتے ہو؟ ……………………
  16. ساجد

    توہین رسالت کرتے ہو؟

    توہین رسالت کرتے ہو؟ گوہر ملسیانی اے ظالم، جابر انسانوں! اے جام نجس کے دیوانو! اے شمع ہوس کے پروانوں! اے عقل وخرد سے بیگانو! اخلاق سے عاری نادانوں! اے بے خبر، اے شیطانو! اے کافر، مشرک فرزانوا! توہین رسالت کرتے ہو؟ ……………………
  17. ساجد

    اِحترامِ رسولﷺ

    الحاصل، رسول اللہﷺکی ذات اَقدس کے بارہ میں گفتگو کرتے وقت بڑے احتیاط کی ضرورت ہے، اس بارہ میں ہر ایسا کلمہ استعمال کرنے سے گریزکیا جائے جو ادنیٰ سی بے اَدبی پر بھی مشتمل ہو، کیونکہ نبی کریمﷺ کی بے اَدبی اور گستاخی کرنا کفر ہے اور اس کی سزا قتل ہے، لیکن اس قتل کا حق نہ تو عوام کو دیا جاسکتا ہے...
  18. ساجد

    اِحترامِ رسولﷺ

    اسی طرح حضرت علی﷜سے مروی ہے کہ ایک یہودیہ عورت شان ِرسالت مآب میں بے اَدبی اور ہجو کیا کرتی تھی ایک آدمی نے ا س کا گلا گھونٹ کر اسے مار دیا تو رسول اللہﷺ نے مرنے والی کا خون رائیگاں کردیا۔ (رقم الحدیث:۴۳۶۲) شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ﷫ فرماتے ہیں: یاد رہے کہ یہ حکم رسول اللہﷺکے ساتھ خا ص ہے کہ...
  19. ساجد

    اِحترامِ رسولﷺ

    نیز فرماتے ہیں: اگر اَحادیث و آثار کی طرف مراجعت کی جائے تو ان سے بھی یہ بات عیاں ہے ، کہ شاتمِ رسول واجب القتل اور مباح الدم ہے، جیسا کہ سنن ابی داؤد میں عکرمہ﷜حضرت عبداللہ بن عباس﷢ سے روایت کرتے ہیں کہ ’’ایک نابینا صحابی﷜ کی اُم ولد (لونڈی) رسول اکرمﷺ کی شان میں گستاخی اور عیب جوئی کیا کرتی...
  20. ساجد

    اِحترامِ رسولﷺ

    شاتم رسول کا قتل شیخ الاسلام﷫ نے شاتمِ رسول اور آپﷺ کے بے اَدب کو قتل کرنے پر اِجماع نقل کیا ہے۔ وہ اسحاق بن راہویہ کا قول نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
Top