الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
عافیہ صدیقی پرفردِ جرم اور اس کی سزا کا موازنہ کیا جائے تو یقین کرنا پڑتا ہے کہ امریکی جج کے ذہن میں ’ملزمہ‘ کا کوئی ایسا جرم بھی تھا جس کی وجہ سے وہ اُسے نشانِ عبرت بنانے کا تہیہ کرچکاتھا۔ اگر یہ ’جرمِ مسلمانی‘ نہیںتھا، تو افضال ریحان پھر بتائے، وہ آخر کون سا گھناؤنا جرم تھا جس کی عافیہ صدیقی...
ہم پوچھتے ہیں کہ امریکی عدالت کے اس فیصلے کو ’انصاف کا خون‘ قرار نہ دیا جائے تو کیا اسے ’انصاف کابول بالا‘ قرار دیا جائے؟ امریکہ ان ممالک میں سے ہے جہاں بعض ریاستوں (صوبوں) نے قتل جیسے گھناؤنے جرم کے لیے بھی سزاے موت منسوخ کردی ہے کیونکہ ان کے خیال میںموت کی سزا انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے زمرے...
راقم الحروف نے عافیہ صدیقی کو سنائی جانے والی سزا کے متعلق اُردو اور انگریزی کے اخبارات میں شائع ہونے والے کالموں کا مطالعہ کیا ہے۔ کوئی بھی معروف اورقابلِ ذکر کالم نگار نہیں ہے جس نے اس حقیقت اور ناانصافی پر مبنی فیصلے کی مخالفت میں اظہارِ خیال نہ کیاہو۔ حتیٰ کہ نذیر ناجی بھی جو عام طور پر قومی...
امریکی عدالت کا فیصلہ اورایک انتہا پسند کا نقطہ نظر
عطاء اللہ صدیقی
امریکی عدالت نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کوجس انداز میں ۸۶ سال کی سزا سنائی ہے، اس پر پاکستان میں اسلامی حلقوں کے علاوہ تمام قومی اور سیکولر طبقوں کی طرف سے بھی سخت احتجاج کیا جارہا ہے، وہ اسے بجاطور پر انصاف کاقتل قرار دے رہے ہیں۔...
اس قوم کی حالت ِزار کی طرف دیکھتا ہوں تو حیرت ہوتی ہے، جہاں مختاراں مائی کے لئے سڑکیں، شہر اور میڈیا سب احتجاج کرتے ہیں اور عافیہ صدیقی پر ساری انسانی حقوق کی ترجمانی کرتی انجمنوں کو چپ لگ جاتی ہے، سانپ سونگھ جاتا ہے۔ آئیے اس فردِ جرم کے بارے میں ذرا جان لیں جو ہم پر لگ چکی۔ اللہ فرماتے ہیں اور...
لیکن میراسر شرم سے اس لئے جھکتا ہے کہ میں بھی اس مملکت ِخداداد پاکستان کا شہری ہوں جس کے حکمرانوں میں فلپائن جیسے امریکی امداد پر پلنے والے ملک جتنی بھی غیرت نہیں۔جس ملک کا ایک ڈرائیور اینجلووڈی لاکروز عراق جنگ کے شروع میں اغوا ہوا تھا اور اغوا کاروں نے مطالبہ کیا تھا کہ عراق سے اپنی فوجیں واپس...
اب تک اس خاتون اور تین معصوم بچوں کو امریکیوں کے ہاتھ فروخت کئے ہوئے پانچ سال ہوچکے تھے اور اس قوم کی بے حسی اور خاموشی کو بھی اتنے ہی دن گذر چکے تھے۔ اس پریس کانفرنس کے بعد گیارہ جولائی کو کرنل رولی نیلسن گرین نے پھر ایک جھوٹ بولا کہ بگرام جیل میں کوئی عورت نہیں ہے۔ ادھر ایوان رڈلی شواہد کے...
پاکستانی قوم کی یہ کلمہ گو بیٹی اپنی تین معصوم بچوں کے ساتھ لاپتہ تھی اور ہم سب اپنی خواب گاہوں میں اپنے پیارے معصوم بچوں کو سینوں سے لپٹائے مزے کی نیند سورہے تھے۔ لیکن افغانستان میں طالبان کی قید میں ان کے اخلاق سے متاثر ہوکر اسلام کرنے والی برطانوی صحافی خاتون ایوان رڈلی نے اس خاتون کا پتہ...
ایک خاتون اپنے تین معصوم بچوں: سات سالہ محمد احمد، پانچ سالہ مریم اور ایک سالہ سلیمان کے ہمراہ اُٹھا لی گئی۔ وہ اس وقت آغاخان ہسپتال میں کام کررہی تھی اور کراچی میں اپنے کمسن بچوں کے ساتھ زندگی گزار رہی تھی۔ اگلے دن کے اخباروں میں یہ خبر شائع ہوئی۔ وزارتِ داخلہ کے ترجمان نے اِس کی تصدیق کردی...
ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور اہالیانِ پاکستان
عطاء اللہ صدیقی
ایک اور فردِ جرم اس قوم پر عائد ہوگئی۔ ظلم پر خاموشی او ربے حسی کی ایک اور ایف آئی آر قضا و قدر کے پہرے داروں اور تحریر نویسوں نے درج کرلی۔ کسی کو احساس تک نہیں کہ یہ ’فردِ جرم‘ سزا کے لئے نہ کسی جیوری کی محتاج ہے اورنہ استغاثہ اور صفائی...
یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ سیکولر دساتیر میں بھی سربراہِ ریاست کو اس طرح کوئی استثنا اگر دیا بھی گیا ہے، تو وہاں کے عوام بھی اپنے بادشاہ یا صدر سے بھی مثالی کردار کی توقع رکھتے ہیں۔ وہ اُنھیں اس طرح کی چھوٹ یا آزادی دینے کو بھی تیار نہیں ہیں جو ایک عام شہری کو حاصل ہے۔ ماضی قریب میں امریکا...
جنرل ضیاء الحق اور جنرل مشرف نے بطورِ صدر بہت سے اقدامات اِسی استثنا کی وجہ سے اُٹھائے۔راقم الحروف کا خیال ہے کہ جنرل مشرف نے جامعہ حفصہ کی معصوم طالبات کا قتلِ عام اور نواب اکبر بگٹی کا قتل جس بے خوفی سے کیا، اُس کے ذہن میں اِس استثنا کا تصور ضرور کام کررہا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان واقعات کی بنیاد...
۱۹۷۳ء میں جب پاکستان کا آئین بنایا گیا تو اس میں آرٹیکل۲۴۸؍اے بھی شامل کیا گیا جو صدر کو فوجداری مقدمات میں استثنا عطا کرتا ہے۔ گمان یہی ہے کہ اس معاملے میں بعض جدید ریاستوں کی دستوری روایات کو برقرار رکھا گیا۔ ۱۹۷۳ء کی قومی اسمبلی میں مولانا مفتی محمود، مولانا شاہ احمد نورانی، مولانا غلام غوث...
برطانیہ میں جمہوریت کا ارتقا ایک خاص نکتے پر آکر ٹھہر گیا۔ برطانوی قوم کی مخصوص نفسیات کی وجہ سے بادشاہت کا ادارہ قائم رکھا گیا۔ بادشاہ سے باقی سب اختیارات چھین لیے گئے، البتہ اُس کا یہ استحقاق باقی رکھا گیا کہ اُس کے خلاف کوئی قانونی یا عدالتی کاروائی نہیں ہوسکتی۔ بظاہر یہ جمہوریت کے تصورِ...
فوزیہ وہاب کا یہ بیان بھی لاعلمی کا آئینہ دار ہے کہ حضرت عمر فاروق ؓ کے دور میں آئین نہیں تھا۔جنابِ رسالت مآبﷺنے مدینہ کی ریاست کے قیام کے وقت ہی یہودیوں سے ’میثاقِ مدینہ‘ کی صورت میں معاہدہ فرمایا تھا۔ قرآن و سنت کے عظیم ضابطوں کو ہی خلافتِ راشدہ اور بعد کے اَدوار میں آئین کی حیثیت حاصل...
یہ موضوع شاید آنے والے دنوں میں بھی زیر ِ بحث رہے۔ اس لیے کچھ مزید اُصولی باتیں اور حقائق اگر پیش کردیے جائیں تو مناسب ہوگا۔ یہ بات تو سب کو معلوم ہے کہ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل۲کی رُو سے اسلام، اسلامی جمہوریہ پاکستان کا ریاستی مذہب ہے۔ آرٹیکل ۲۲۷ کے مطابق پاکستان میں کوئی ایسا قانون نہیں...
علامہ محمد اقبال نے ملتِ اسلامیہ کے لیے قرآنِ مجید کو آئین قرار دیا ہے۔ درحقیقت پوری اسلامی تاریخ میں مسلمانوں کی سیاسی فکر کا یہ بنیادی نکتہ رہا ہے اور اس کے متعلق کبھی شکوک و شبہات یا ذہنی تحفظات وارد نہیں کیے گئے۔ اسلامی تاریخ میں جن برگزیدہ ہستیوں نے اسلام کی سیاسی فکر پر قلم اُٹھایا ہے،...
ملّتی را رفت چوں آئین ز دست
مثل خاک اجزای اُو از ہم شکست
ہستیِ مسلم ز آئین است و بس
باطن دینِ نبیؐ این است و بس
آن کتاب زندہ قرآنِ حکیم
حکمت اُو لا یزال است و قدیم
نوعِ انسان را پیام آخرین
حامل او رحمتہ للعالمین
نسخۂ ی اسرارِ تکوینِ حیات
بی ثبات از قوتش گیرد ثبات
گر تو می خواہی...
٭ علامہ اقبال نے ۱۹۳۰ء میں خطبۂ الٰہ آباد میں مسلمانوں کے لیے الگ ملک کا تصور پیش کیا مگر یہ خیال کہ قرآن ملتِ اسلامیہ کا آئین ہے، آپ بہت پہلے پیش کرچکے تھے۔ فوزیہ وہاب جیسی سوچ کے حامل افراد کو اگر زبانی بتایا جائے تو شاید وہ یقین نہ کریں مگر یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ علامہ اقبال...