الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
٭ مسلمانانِ پشاور کے عظیم اجتماع میں ۲۶؍نومبر ۱۹۴۵ء کو قائداعظم نے جو بیان دیا، وہ بے حد جامع اور ہمارے لیے راہنمائی کے اُصول فراہم کرتا ہے۔ آپ نے فرمایا:
قائداعظم کے یہ اور دیگر اس طرح کے بیانات ’حیاتِ قائداعظم‘، ’قائداعظم کا مذہب و عقیدہ‘، ’قائداعظم کی تقاریر و بیانات‘ جیسی مستند کتابوں میں...
ہماری خوش قسمتی ہے کہ اس موضوع پر مصورِ پاکستان، حکیم الامت علامہ محمد اقبال اور بانیِ پاکستان محمد علی جناح کے کئی ایک ارشادات ریکارڈ پر ہیں جن سے ہم راہنمائی حاصل کرسکتے ہیں۔ قائداعظم کے درجنوں بیانات تاریخ کے صفحات پر محفوظ ہیں۔
٭ ۱۹۴۶ء کا واقعہ ہے، قائداعظم الٰہ آباد میں مسلم لیگ کے اجلاس...
فوزیہ وہاب نے صحافیوں کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا :
اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ فوزیہ وہاب کو اسلام میں حاکمیت کے تصور اور اس تصور کے آئینِ پاکستان کی اَساس سے تعلق کے بارے شعور اور فہم نہیں ہے، ورنہ وہ یہ بیان کبھی نہ دیتی۔ معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی تاریخ میں خلیفہ یا امیرالمؤمنین کی...
قرآن،آئینِ پاکستان اور قائد اعظم
محمدعطاء اللہ صدیقی
حکمت و دانش کا تقاضا ہے کہ انسان جس موضوع کے بارے میں زیادہ معلومات نہ رکھتا ہو، اُس کے متعلق کوئی بات کرتے ہوئے یا حتمی رائے کے اظہار سے گریز کرنا چاہیے۔ ورنہ اُس کی کم علمی اور جہالت اُس کے لیے رسوائی اور خجالت کا باعث بن سکتی ہے۔ مگر...
ویلنٹائن ڈے کے متعلق پاکستان کے سابق چیف جسٹس سجاد علی شاہ نے ۲۰۰۲ء میں جن خدشات کا اظہار کیا تھا، وہ آج پہلے سے زیادہ حقیقی نظر آتے ہیں۔ اُنھوں نے کہا تھا:
٭۔۔۔۔٭۔۔۔۔٭
ویلنٹائن ڈے کے متعلق پاکستان کے سابق چیف جسٹس سجاد علی شاہ نے ۲۰۰۲ء میں جن خدشات کا اظہار کیا تھا، وہ آج پہلے سے زیادہ حقیقی نظر آتے ہیں۔ اُنھوں نے کہا تھا:
مغرب کی طرف سے درآمد کردہ ویلنٹائن جیسے فحش انگیز،بے ہودہ تہوار پاکستان جیسے اسلامی ملک کی تہذیب و ثقافت کے لیے سنگین خطرات پیدا کررہے ہیں۔ ویلنٹائن جیسے تہواروں کی حوصلہ شکنی بلکہ بیخ کنی کے لیے حکومت ِ پاکستان کو بھرپور اقدامات کرنے چاہئیں۔ اسلامی طرزِ حیات کو فروغ دینا حکومتِ پاکستان کا...
۱۹۹۷ء میں شائع ہونے والے انسائیکلو پیڈیا آف کیتھولک ازم (Catholicism) کے بیان کے مطابق سینٹ ویلنٹائن کا اس دن سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اصل الفاظ ملاحظہ کیجیے:
فرض کیجیے مسیحی یورپ یا روم کی تاریخ میں سینٹ ویلنٹائن نام کے کوئی ’شہید محبت‘ گذرے بھی ہیں، تب بھی ہمارے لیے ایسے تہواروں کو منانا نرم...
۱۴؍فروری کو سینٹ ویلنٹائن سے منسوب کیوں کیا جاتا ہے؟ اس کے متعلق کوئی مستند حوالہ تو موجود نہیں ہے البتہ ایک غیرمستند خیالی داستان پائی جاتی ہے کہ تیسری صدی عیسوی میں روم میں ویلنٹائن نام کے ایک پادری تھے جو ایک راہبہ (Nun) کی زلف ِ گرہ گیر کے اسیر ہوئے۔ چونکہ عیسائیت میں راہبوں اور راہبات کے...
ایک اور انسائیکلو پیڈیا ’بک آف نالج‘ میں اس دن کے بارے میں نسبتاً زیادہ تفصیلات ملتی ہیں مگر وہ بھی تہائی صفحہ سے زیادہ نہیں ہیں۔ اس کی پہلی سطر ہی رومان انگیز ہے:
اس کے بعد وہی پرندوں کے اختلاط کا ملتا جلتا تذکرہ ان الفاظ میں ملتا ہے:
جس دن ’ویلنٹائن ڈے‘ کو منا منا کر ہمارے بعض ’محبت کے متوالے‘ ہلکان ہوتے رہے ہیں، وہ ’تقریبِ شریف‘ تو اہلِ مغرب کے لیے بھی بدعتِ جدیدہ کا درجہ رکھتی ہے۔ ماضی میں یورپ میں بھی اس کو منانے والے نہ ہونے کے برابر تھے، اس دن کے متعلق مغربی ذرائع اَبلاغ بھی اس قدر حساس نہیں تھے۔ اگر یہ کوئی بہت اہم یا...
جو لوگ ویلنٹائن ڈے کو محض ’محبت کا تہوار‘ بناکر پیش کرتے ہیں اور اسے منانے میں کوئی اخلاقی قباحت محسوس نہیں کرتے، وہ حقائق سے چشم پوشی کررہے ہیں۔ یا تو اُنھیں اس یوم کے حوالے سے یورپ کی تاریخ کا علم نہیں ہے یا پھر وہ محبت کے جنوں میں کسی سچائی کو جان لینے کی خواہش نہیں رکھتے۔ حیرت تو یہ ہے کہ...
ویلنٹائن ڈے کے آنے میں ابھی چند روز باقی ہیں مگر ہمارے الیکٹرانک میڈیا کے بعض ٹی وی چینلز نے اس کی تشہیر کی مہم جاری کر رکھی ہے۔ خواتین اینکرپرسن اپنے پروگراموں میں ویلنٹائن ڈے منانے کا درس دے رہی ہیں۔ اُنھوں نے پروگرام روم کو کیوپڈ کے نشانات سے سجا رکھا ہے۔ اشتہارات میں ویلنٹائن ڈے کے تحائف...
ویلنٹائن ڈے اور ہماری نوجوان نسل
محمد عطاء اللہ صدیقی
۱۴؍فروری کو منایا جانے والا ویلنٹائن ڈے کا نام نہاد تہوار بھی جدید یورپ کی تہذیبی گمراہی اور ثقافتی بے اعتدالیوں کا شاخسانہ ہے۔ مغربی ذرائع ابلاغ نے بالآخر جنسی آوارگی، بے ہودگی اور خرافات کو مسلسل پراپیگنڈے کے زور پر ایک ’تہوار‘ بنا دیا...
مستقبل قریب میں پاکستان میں ترقیاتی منصوبہ بندی کے خدوخال بدل جائیں گے۔ سیلاب کی تباہی سے محفوظ رہنے کے لیے منصوبے بنانا ناگزیر ہوجائے گا۔ عین ممکن ہے کہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر کی مخالفت کرنے والے خاموش ہوجائیں۔ جنوبی پنجاب، سندھ و بلوچستان کے سیلاب زدہ علاقوں میں کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے لیے...
اگر تعلیم اور صحت کی بہترسہولتیں فراہم کردی جائیں تو ان علاقوں میں ذہنی تبدیلی ناگزیر ہوجائے گی۔ مکانات، سڑکیں،پل وغیرہ کی تعمیر کے لیے افرادی قوت کی ضرورت پڑے گی جو ان علاقوں کے غریب خاندانوں کے روزگار کا باعث بنے گی۔اس بات کا اِمکان ہے کہ بہت سے خاندانوں کو مناسب سرمایہ مل جائے گا جس سے وہ...
ہم سیلاب کے نتیجے میں رونما ہونے والی تباہی کو ترقی کے ’سنہرے موقع‘ کے طور پراستعمال کیسے کرسکتے ہیں؟یا دوسرا سوال یوں اُٹھایا جاسکتا ہے کہ سینکڑوں سال سے پسماندگی کا شکار یہ لوگ ترقی کے خواب کیونکر دیکھ سکتے ہیں؟ہمارا خیال ہے کہ ’معاشی جبر‘ اور ’تہذیبی جبر‘ بذاتِ خود قوموں میں تبدیلی کے عمل کو...
یہ بات قابل ذکر ہے کہ جنوبی پنجاب اور سندھ کے جن علاقوں میں سیلاب نے تباہی پھیلائی ہے، وہ تہذیبی اور معاشی اعتبار سے دیگر علاقوں کی نسبت پسماندہ ہیں۔ راقم الحروف کو سیلاب زدگان کی حالت دیکھ کر جن صدمات سے گزرنا پڑا، ان میں سے ایک صدمہ یہ بھی ہے کہ اُسے بار بار احساس ہوتا تھا گویا کہ وہ روانڈا...