الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
وضاحتیں
i. مفسر قرآن حضرت قتادہ کا قول یہ ہے کہ اگر اصل باپ معروف ہو تب غیر سے نسبت کی گنجائش نکل سکتی ہے، ان کی دلیل حضرت مقداد بن اسود کی نسبت ہے، جن کے والد کا نام توعمرو تھا لیکن اس کے باوجود اُنہیں کتب ِحدیث وغیرہ میں مقداد بن اسود ہی لکھا جاتا ہے اور وہ ابن اسود سے ہی مشہور ہیں۔(الاصابہ...
ڈى اين اے كى حيثيت ؛ اثباتِ جرم ميں
يوں تو ہمارا موضوع اثباتِ نسب ميں قرائن كى حيثيت تك محدود تها، ليكن اس كے ايك اور پہلو پر مختصر بحث بهى تتمہ كے طور پر ملاحظہ فرمائيے- جہاں تك اثباتِ نسب كا تعلق ہے تو وہ صرف نكاح سے ثابت ہوتا ہے اورنكاح كے بعد بعض شبہات كى موجودگى ميں قرائن يا ڈى اين اے كے...
علم القيافة فقہا كى نظر ميں
قيافہ كے علم كے دو پہلو ہيں: ايك تو كهوجى جو قدموں كے نشانات سے كسى وقوعہ كا كهوج لگاتا ہے، اسے قيافة الأثر كہتے ہيں- دوسرا قيافة البشرجس كا مقصد مشابہتوں كى بنا پر آپس ميں نسبى تعلقات كو جوڑنا ہوتا ہے-
جمہور فقہا( مالكى، شافعى اور حنابلہ ) كے نزديك اختلاف كے وقت...
قرعہ اندازى
جب ايك عورت سے دو مردوں كا تعلق اس انداز سے قائم ہو كہ يہ تعلق اپنى اصل كے اعتبار سے ناجائز نہ ہو تو اس صورت ميں بعض اوقات قرعہ اندازى سے بهى فيصلہ كيا جاسكتا ہے- حضرت على كو دورِ نبوى ميں يمن ميں قاضى بناكر بهيجا گيا تو وہاں آپ نے ايسے ہى ايك مسئلہ ميں فيصلہ فرمايا اور جب يہ...
قيافہ، ڈى اين اے(v) وغيرہ كى حيثيت
مذكورہ بالا تفصيلات كے بعد يہ امر تو بالكل واضح ہے كہ اسلام ميں نسب كو ثابت كرنے كا صرف ايك ہى طریقہ ہے اور وہ ہے 'نكاح'- نكاح كے بغير كسى كا نسب ثابت ہونا شريعت اسلاميہ كى رو سے ممكن نہيں ہے- نكاح كے بعد بعض صورتوں ميں قيافہ اور ڈى اين اے ٹيسٹ سے بهى فيصلہ...
ولد الزنا كس كو ديا جائے؟
مذكورہ بالاتفصيلات سے پتہ چلتا ہے كہ ولد الزنا ، زانى سے منسوب نہيں ہوگا- البتہ بچہ كے قصور وار نہ ہونے كى و جہ سے اس كو ماں كى حضانت (تربيت وپرورش) كے حق سے محروم نہيں كيا جائے گا- البتہ جب شادى شدہ زانيہ عورت كو رجم كى سزا دى جائے تو ايسى صورت ميں يہ بچہ ماں كے ورثا...
فقہا كا نقطہ نظر
امام شافعى اپنى كتاب 'احكام القرآن ' ميں لکھتے ہيں:
امام ابو بكر جصاص حنفى اپنى كتاب 'احكام القرآن' ميں لكھتے ہيں:
امام سرخسى اپنى معروف كتاب المبسوطميں لكھتے ہيں:
امام ابن حزم ظاہرى اپنى معروف كتاب المحلّٰى بالآثارميں لكهتے ہيں :
كويت ميں 45 جلدوں ميں تيار ہونے والے...
زنا كى صورت ميں 'نسب' كس كے لئے؟
يہاں بڑا اہم سوال يہ پيدا ہوتاہے كہ نسب كى صحت كے لئے كيا صرف يہ كافى ہے كہ بچہ كسى مرد كے نطفے سے پيدا ہو يا مرد كا عورت كے ساتھ شرعى نكاح ہونا بهى ضرورى ہے؟ اس سلسلے ميں اسلام كا اُصولى موقف يہ ہے كہ بچے كو صرف اسى شخص كے ساتھ ملحق كيا جائے گا جو اس كا جائز...
نسب صرف 'باپ' كے لئے
قرآنِ كريم ميں اس بارے ميں صريح حكم آيا ہے :
صحيح بخارى ميں ہے كہ يہ آيت حضرت زيد بن حارثہ كے بارے ميں نازل ہوئى كيونكہ اُنہيں اوائل اسلام ميں نبى كريمﷺ كا بيٹا كہا جاتا تها- (7)
صحيح بخارى كى ہى ايك او رحديث ميں ہے :
نسب ونسل كى اہميت كے پيش نظر قرآنِ كريم ميں اس كے...
نسب كا مفہوم
نسب كا لغوى مطلب 'باپ كى طرف منسوب' كرنا ہے-اصطلاحى تعريف يہ ہے :
جواہر الإكليل ميں ہے كہ نسب كا لفظ 'معين والد كى طرف منسوب ' كرنے پر بولا جاتا ہے-( 6)
نسب كا تحفظ الہامى شريعتوں كا ہى امتياز ہے !
نسل كى حفاظت كے احكامات اورلوازمات اسلام كے علاوہ تمام الہامى مذاہب ميں بهى موجود رہے ہيں، جيسا كہ اس سلسلے ميں يہود سے نبى كريم كا مشہور مكالمہ صحيح بخارى ميں موجود ہے كہ ايك يہودى مرد وعورت نے زنا كا ارتكاب كيا تو يہودى آپ كے پاس ان كا قضيہ لے كر...
'نسب كا تحفظ' رشتہ دارى اور خاندانى نظام كى پہلى كڑى ہے!
مسلمانوں كے آپس ميں رشتہ دارى كے تعلقات اور صلہ رحمى ايسا امتياز ہيں جس سے مغربى معاشرے محروم ہيں- مسلمانوں ميں ہر پيدا ہونے والا بچہ اپنے خاندان كے ساتھ مل كر ايك مستقل شناخت ركهتا ہے،جس كے فرائض او رحقوق كى پورى تفصيلات شريعت ِاسلاميہ...
اسلام میں نسب ونسل کا تحفظ (اثباتِ نسب میں قیافہ وقرائن اور DNA ٹیسٹ وغیرہ کی حیثیت)
ڈاکٹر حافظ حسن مدنی
يورپ ميں نكاح كے بغير جنسى تعلقات معمول كى بات ہے- نسب كے تحفظ كے ذرائع اختيار نہ كرنے كى بنا پر اُنہوں نے نسب كے تعين كے لئے طبعى ذرائع پرانحصار كرركها ہے، جس ميں جديد سائنسى طريقہDNA...