الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
٭ پاکستانی مصاحف میں مدمتصل اور منفصل کے ضبط میں فرق رکھا گیا ہے جو ایک مستحسن امر ہے، بالکل اسی طرح ضبط کی تمام کتابوں میں نون ساکن ونون تنوین اور میم ساکن کے ضبط میں بھی غنہ، عدمِ غنہ اور اظہار ادغام وغیرہ کے اعتبار سے فرق رکھا گیا ہے جس کا ہمارے مصاحف میں لحاظ نہیں رکھا گیا۔ بعض اصحابِ خیر نے...
٭ اسی طرح پاکستانی مصاحف میں نون قطنی بعض مقامات پر لکھا گیا ہے جبکہ دیگر بعض مقامات پر نہیں لکھا گیا۔مثلاً تاج کمپنی کے مطبوعہ مصاحف میں ’’ اِنْ تَرَکَ خَیْرَا ڑ الْوَصِیَّۃُ ‘‘ (البقرۃ: ۱۸۰) میں نون قطنی لکھا گیا ہے جبکہ سورۃ الاخلاص میں ’’ قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ٭ اَللّٰہُ الصَّمَدُ...
٭ اسی طرح کلمہ ’’ فِی السَّمٰوٰتِ اِیْتُوْنِیْ ‘‘ (الأحقاف: ۴) کا ضبط تاء اور ہمزۂ وصلی کے کسرہ اور ہمزہ کے بعد یاء ساکنہ کے ساتھ کیا گیاہے۔ اگر اسے ملا کر پڑھا جائے تو ’’ فِی السَّمٰوٰتِ ائْتُوْنِیْ ‘‘ پڑھا جائے گا۔ یہاں بھی وصل کا اعتبار کرتے ہوئے ہمزۂ وصلی کو حرکت سے خالی اور اس کے بعد یاء...
٭ پاکستانی مصاحف میں کلمہ ’’ لِّأَنْعُمِہٖ اِجْتَبٰہُ ‘‘ (النحل: ۱۲۱) کا ضبط ہاء کی کھڑی زیر اور ہمزۂ وصلی کے نیچے زیر کے ساتھ مرسوم ہے۔ حد تو یہ ہے کہ بعض مصاحف میں اسے مد منفصل سمجھتے ہوئے ’’لِّأَنْعُمِہٖ‘‘ کی ہاء پر مد بھی ڈالی ہوئی ہے۔ اگر ’’لِّأَنْعُمِہٖ‘‘ پر وقف کرکے ’’اِجْتَبٰہُ‘ سے...
٭ اسی کلمہ طرح ’’إِنْ أَنَا إِلَّا‘‘ (الأعراف: ۱۸۸) کا الف وصلاً نہیں پڑھا جاتا لیکن وقفاً پڑھا جاتا ہے لہٰذا اس الف کے اوپر بھی کوئی ایسی علامت ہونی چاہئے تھی جو ’’ قَالُوْا ‘‘ میں موجود الف کی علامت سے مختلف ہوتی اور اس پر دلالت کرتی کہ یہ الف صرف وقفاً پڑھا جاتا ہے۔ لیکن پاکستانی مصاحف میں...
٭ پاکستانی مصاحف میں ضبط کی بعض اغلاط ایسی ہیں کہ بعض مقامات پر الف لکھا ہوا ہے مگر اس کے سائیلنٹ (یعنی وصلاً ووقفاً نہ پڑھے جانے) کی کوئی علامت نہیں لگائی گئی، مثلاً لفظ ’’ قَالُوْا ‘‘ (البقرۃ: ۱۱) کے آخر میں الف موجود ہے مگر اس پر کوئی علامت موجود نہیں ہے کہ اس کو پڑھا جائے گا یا نہیں،...
رسم عثمانی کے مطابق مذکورہ تمام کلمات تمام مصاحف عثمانیہ میں بغیر الف کے ہی مکتوب ہیں اور رسم کی جمیع کتب مثلا المقنع في معرفۃ رسم مصاحف الأمصار از امام ابی عمرو عثمان بن سعید الدانی، مختصر التبیین لہجاء التنزیل ازامام ابی داؤد سلیمان بن نجاح، عقیلۃ أتراب القصائد في بیان رسم المصاحف از قاسم...
ضبط چونکہ توقیفی نہیں بلکہ اجتہادی ہے تو اس کی اغلاط میں کسی حد تک گنجائش ہو سکتی ہے، لیکن رسم کے توقیفی (اور صحت ِقراء ت کا ایک معیار) ہونے کی وجہ سے اس کی اغلاط ناقابل ِقبول اور گناہ کا باعث ہیں، لیکن اہل فن کے ہاں ضبط کی غلطی کو بھی معیوب جانا جاتا ہے۔ بہتر یہی ہے کہ خالق ِکائنات کی اس عظیم...
مذکورہ اعداد وشمار سے ایسے محسوس ہوتاہے جیسے پاکستان میں قرآن مجید جیسی عظیم الشان کتاب کی مراجعت و تصحیح کا سرے سے کو ئی نظام ہی نہیں ہے۔ان اغلاط میں سے رسم کی غلطیاں ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہیں خصوصاً جب کہ ہمارے دینی مدارس میں علم الرسم پر ضخیم کتب پڑھائی جاتی ہیں اور علم الرسم کے ماہرین کی ایک...
قرآنِ مجید کی اس عظمت وشان کو سامنے رکھتے ہوئے چاہئے تو یہ تھا کہ ہم قرآنی مصاحف کی طباعت کے معاملے انتہائی احتیاط کرتے ہوئے سلف کی تحریر کردہ کتب ِرسم وضبط کو مد نظر رکھتے، متن قرآنی کو رسم عثمانی کے مطابق لکھتے اور سلف کی تحریر کردہ مستند کتب کو سامنے رکھ کر اس کی علاماتِ ضبط لگاتے۔ نیز...
قرآنِ مجید وہ عظیم الشان کتاب ہے، جسے خالق ِکائنات کا کلام ہونے کا شرف حاصل ہے۔ قرآنِ مجید کی اس عظمت وشان کی بنا پر مسلمانوں نے اس کے اندر پنہاں علوم وفنون پر لاتعداد کتب تصنیف فرمائی ہیں اور اس خدمت کو اللہ کے ساتھ اپنے تقرب کا ذریعہ بنایا ہے۔ اللہ تعالی کا وعدہ ہے کہ انہوں نے اس عظیم الشان...
آخری گذارش
مفتی محمد طاہر مکی صاحب اگر واقعی عالم دین ہیں اور اِس مسئلے کے متعلق اُن کی پریشانی کا محرک ’انکار حدیث‘ کا جذبہ نہیں ہے، تو انہیں چاہئے تھا کہ فتویٰ بازی، خطوط نویسی اور منفی پراپیگنڈہ کی مہم برپا کرنے سے پہلے وہ ماہنامہ ’رشد‘ کے اَکابرین سے رابطہ کرتے اور اپنے ذہنی ابہام کے متعلق...
ہمارا موضوع اُردو زبان و ادب نہیں ہے ورنہ اس پر مفصل حوالہ جات پیش کیے جاسکتے تھے۔ جس طریقے سے دکن، دہلی اور لاہور کی اُردو میں شروع شروع میں اختلاف املا تھا، اسی طرح عرب کے قدیم معاشرے کے مختلف قبائل کی زبان میں بعض الفاظ کی املا اور صوت میں معمولی فرق ہوا کرتا تھا، اسی طرح ’اختلاف قراء ت‘ کی...
شاہ داول کی مثنوی کا یہ شعر بھی غور طلب ہے۔
اندلا اگر مجذوب ہے، صورت طبع ناخوب ہے
جیسا اچھو محبوب ہے پیو باج کوئی پیارا نہیں
اس شعر میں ’اچھا‘ کے لیے ’اچھو‘ استعمال ہوا ہے۔ یہاں ’پیو‘ کا مطلب ’باپ‘ نہیں بلکہ شوہر ہے۔ آج یہ لفظ ہندی اور پنجابی میں بولا جاتا ہے، اس کی املا نہیں بدلی مگر اس کا...
اُردو اَدب سے اختلاف قراء ت کی مثالیں
جن لوگوں نے برصغیر پاک و ہند میں اُردو زبان و ادب کے ارتقاء اور تاریخ کو دیکھ رکھا ہے، انہیں بخوبی معلوم ہے کہ گذشتہ سات سو برسوں میں اُردو زبان میں مروّج بہت سے الفاظ یا تو متروک ہوگئے یا پھر ان کی املا میں تبدیلی آگئی۔ بعض الفاظ کی صوتی ہیئت میں بھی...
(٤) ’’ وَلَا یُقْبَلُ مِنْہَا شَفَاعَۃٌ وَلَا یُؤْخَذُ مِنْہَا عَدْلٌ وَّلَا ہُمْ یُنْصَرُوْنَ‘‘(البقرۃ:۴۸)
اس آیت مبارکہ کے لفظ ’ ولایقبل منہا ‘میں دوقراء تیں ہیں: امام ابن کثیر، ابو عمرو بصری اور یعقوب ’ وَلَا تُقْبَلُ مِنْہَا‘ جبکہ دیگر قراء ِکرام ’لَایُقْبَلُ مِنْہَا‘ پڑھتے ہیں۔
(٥)...
اِختلاف قراء ت کی مثالیں
وہ صاحبان جو ’اختلاف قراء ت‘ کا حقیقی مفہوم سمجھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں، ان کے لیے قرآن مجید کے درج ذیل مقامات اور الفاظ کے متعلق اختلاف قراء ت کی مثالیں پیش کی جاتی ہیں۔ وہ خود دیکھ سکتے ہیں کہ اس سے قرآن مجید کے متن یا مفہوم میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔
(١) ’’مٰلِکِ...