الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
پردہ نشین غَلیل
ہم نے ذاکر حسین مذکور کے ’سوال‘ اور مفتی صاحب کے ’الجواب‘ (فتویٰ) کے مندرجات کو سمجھنے میں کافی دماغ سوزی کی ہے۔ ان دونوں دستاویزات کے اُسلوب نگارش،انتخاب الفاظ، جملوں کی دروبست، سوالات اور جوابات کی یکسانیت اور پھر اس فتویٰ کے آخر میں پیش کی گئی ’خوش خبری‘ پر جس قدر زیادہ...
ہمیں ان کے نام کے ساتھ یہ’علامہ‘ اور ’مفتی‘ کے الفاظ محض تشہیری سابقوں سے زیادہ معلوم نہیں ہوتے اور پھر ’مکی‘ کا لاحقہ ظاہرکرتا ہے کہ وہ مکہ مکرمہ میں بھی شاید حصولِ تعلیم کے لیے گئے ہوں گے۔ یہ فتویٰ تحریر کرکے ہم سمجھتے ہیں انہوں نے ان سارے سابقوں اور لاحقوں کی مٹی پلید کی ہے۔ ہمیں معلوم ہے...
ان مختصر تمہیدی جملوں کے بعد سائل کے لیے ہمارا جواب وہی ہے جو حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی کے امداد الفتاویٰ (دارالعلوم کراچی ایڈیشن) کی پہلی جلد میں ہے کہ مصاحف کی شکل میں اختلافِ قراء ت کو شائع کرنا تو درکنار عوام کے سامنے اختلافِ قراء ت پر مبنی تلاوت کرنے سے منع کرنا بھی واجب ہے۔‘‘...
افسوس ان تکلیف دہ سازشوں کو سمجھنے کی صلاحیت اور بصیرت سے محروم نادان دوست خود ہی ان کے جال میں پھنس گئے۔ لیکن اللہ تعالیٰ تو غافل نہیں ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ لوگ اس کے کام میں تعاون کرکے سعادت عظمیٰ میں شریک ہوں ’’إِنْ تَنْصُرُوا اﷲَ یَنْصُرْکُمْ‘‘ (محمد:۷) لیکن اگر کوئی بدقسمت محروم رہنا چاہتا ہے...
اس کے بعد عباسی دور میں بھی پورے عالم اسلام میں یہی اعراب والا مصحف رائج رہا۔ پھر خلافت عثمانیہ (ترکی) میں یہی رائج رہا۔ غرض جب تک مسلمانوں کا خلافت کی صورت میں اجتماعی شیرازہ برقرار رہا۔ تمام اُمت کا اسی مصحف پراجماع رہا۔ حضرت علی اور حضرت معاویہ کی، صحابہ کرام کی، خلافت سے چل کر ان کے بعد...
حیرت ہے اب اسلام کے کچھ نادان دوست اس کام کی جرأت کریں جس کی جرأت غیر مسلم تک نہ کرسکے۔ ان نادان دوستوں کی پُشت پر معلوم ہوتا ہے کہ کوئی ایسا دماغ کام کررہا ہے جو چاہتا ہے کہ خلافتِ راشدہ سے خلافت عثمانی (ترکی) تک کے اجماع امت کے خلاف ان سے اس بدعت کی جرأت کرائے جو درحقیقت قرآن دشمنی پر منتج...
اب ہم آتے ہیں مفتی محمد طاہر مکی صاحب کے ’فتویٰ‘ کی طرف۔ایک صورت تو یہ ہے کہ ہم قبلہ مفتی صاحب کے ’فتویٰ‘ سے کچھ مطلب کی سطور نکال کر یہاں نقل کردیں، ان کے سیاق و سباق کو بیان نہ کریں اور مفصل ’فتویٰ‘ کو بطور ضمیمہ اس مضمون کے آخر میں درج کردیں۔اصولاً ایسا ہی کرنا چاہئے بصورتِ دیگر مضمون کا...
ہم کاوش بسیار کے باوجود سائل ذاکر حسین کی اس خبر کہ ’’اب موجودہ قرآن کے علاوہ مزید ۱۶ قاریوں کے اختلاف والے ۱۶ قرآنی مصاحف وہ (یعنی انتہا پسند گروپ) شائع کردے گا‘‘ کو تلاش نہیںکرپائے ہیں۔ اس کے برعکس مذکور بالا تحریر میں تو واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ یہ کام کویت کے ایک ادارے کے ’ایما پر کیا گیا...
’’جمع کتابی کے سلسلہ میں کلیّۃ القرآن، جامعہ لاہور الاسلامیہ اور دیگر اداروں کی خدمات
کلية القرآن الکریم ، جامعه لاهورالاسلاميه:
’کلیۃ القرآن‘، جامعہ لاہور الاسلامیہ نے جہاں خدمتِ قرآن کے بہت سے سلسلے شروع کررکھے ہیں، وہاں جمع کتابی کے سلسلہ میں بھی کسی سے پیچھے نہیں رہا اور اس میں وہ کام کیا...
ہماری مندرجہ بالا شگفتہ خاطری سے اگر کوئی صاحب یہ نتیجہ نکال رہے ہیں کہ مفتی صاحب نے حضرت اشرف علی تھانوی کی رائے کو نقل کرنے پر ہی اکتفا کرکے اپنی پیدائشی نالائقی کا ثبوت دیا ہے تو ہم ان صاحب کی خدمت میں یہی عرض کریں گے کہ وہ مفتی صاحب کے متعلق قائم کئے جانے والے اس سوئے ظن سے توبہ کرلیں۔ مفتی...
فتویٰ کے متن کا پوسٹ مارٹم
ہم نے ’نقد‘ یا ’تنقید‘ کی بجائے شعوری طور پر ’پوسٹ مارٹم‘ (جراحی پس از مرگ) کے الفاظ استعمال کئے ہیں۔ ایک مردہ لاش کی توہین کے لیے یا تو اس پر کوڑے برسائے جاتے ہیں اور یا پھر ’پوسٹ مارٹم‘ کے ذریعے اس کا تیا پانچہ کرکے رکھ دیا جاتا ہے۔ ہمارے نزدیک زیر نظر ’فتویٰ‘ ایک...
فتویٰ
مفتی طاہر مکی صاحب نے ذاکر حسین کے سوال کے جواب میں جو فتویٰ تحریر کیا ہے اور بعد میں افادۂ عوام کے لئے اِس کی تشہیر پر مال خرچ کیا ہے اس کا مکمل متن دو صفحات کے بعد اسی مضمون میں ملاحظہ کریں۔ (یا اس سے پچھلا مضمون دیکھیں جس میں سوال وجواب دونوں مکمل طور پر موجود ہیں۔)
کیا سائل ذاکر حسین، جن کو ابھی تک ہم نے اپنے مفروضے اور ان کے دستخطوں کی وجہ سے ’سائل‘ بیان کیا ہے، نے’اس زمانہ کی نئی بدعت‘ اور ’غالی اہل حدیث گروپ کی پہلی جرأت‘ کے متعلق جس طرح خدشات کا اظہار کیا ہے ان کی کوئی حقیقت بھی ہے؟ کیا یہ معاملہ مسلمانوں کے لیے واقعی قابل تشویش ہے؟ کیا یہ کوئی ایسی...
ذاکر حسین نے اپنے سوال میں وضاحتاً بتایا ہے ’’اگر ان ۲۰ مصاحف میں آپس میں اختلافات نہ ہوتے تو پھر ان کو علیحدہ علیحدہ مصاحف کی صورت میں چھاپنے کی ضرورت ہی کیوں آتی؟‘‘ نجانے موصوف نے یہ سوال داغنے کی ضرورت کیوں محسوس کی؟ آخر کس کافر نے انکا رکیا ہے کہ یہ ’اختلافات‘ نہیں ہیں؟ جو اصل بات مفتی صاحب...
معلوم ہوتا ہے کہ ذاکر حسین قبلہ مفتی صاحب کی رگِ نازک اور حساسیت سے بخوبی واقف ہیں۔ اسی لیے انہوں نے سوال کی پہلی سطر میں ہی ان کے غیظ و غضب کو بھڑکانے کے لیے ’اہل حدیثوں کے ایک انتہا پسند گروپ‘ کے الفاظ کا استعمال ضروری خیا ل کیا۔ ایک ’اہل حدیث‘ اور وہ بھی ’انتہا پسند گروپ‘۔ جب ذاکر حسین نے...
سوال:
’’جناب حضرت مفتی محمد طاہر مکّی صاحب ،صدر قرآنی مرکز ودارالموطا کراچی و مفتی مدینۃ العلوم اورنگ آباد ۔
السلام علیکم ورحمة اﷲ و برکاته،وبعد:
جناب گرامی!
لاہور سے اہلحدیثوں کے ایک اِنتہا پسند گروپ کا ماہنامہ ’رُشد‘ نکلتا ہے جس نے اپنے جون ۲۰۰۹ء کے شمارے کے صفحہ ۶۷۸ پرلکھا ہے کہ اختلافِ...
ذاکر حسین، جن کا ابھی ذکر ہوا ہے اور جو ہماری گذارشات کے ’ممدوح خاص‘ ہیں، کراچی میں ناظم آباد میں کہیں گوشۂ نشین ہیں۔ نہیں معلوم کہ ماہنامہ ’رُشد‘کا جون ۲۰۰۹ء کا شمارہ ان کے ہاتھ کیسے لگا۔ ممکن ہے کسی پردۂ نشین ’شکاری‘ نے انہیں غلیل کے طور پر استعمال کیا ہو اور موصوف ’گولہ باری‘ پر اتر آئے...
اِختلاف قراء ت پر مبنی مصحف کی اِشاعت کے خلاف منفی
پراپیگنڈہ … حقائق کیا ہیں؟
محمد عطاء اللہ صدیقی
اِسے فکر وتدبر کی موت کہا جائے، فہم و اِدراک کا قصور یا پھر شیطانی فطرت کے فتور کا نام دیا جائے کہ یکے از سفیہان عروس البلاد (کراچی) کو الہام ہوا ہے (ملہم قادیان کے ہفوات ذہن میں رہیں) کہ خطۂ...