الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
حضرت قاری صاحب کی وفات حسرتِ آیات
قاری صاحب نے ۱۶ دسمبر ۱۹۹۱ء بروز سوموار حسب معمول یونیورسٹی میں پڑھایا پھر ان کے شاگرد آ گئے۔ شاگردوں کو رخصت کر کے اپنے پرچے بنانے بیٹھ گئے تقریباً ساڑھے گیارہ بجے آرام کی غرض سے لیٹے۔
۱۷ دسمبر صبح ان کے بیٹے اور بہو سمجھے کہ شاید تھکاوٹ ہو گئی ہے اس لیے...
تمغۂ حسن کار کردگی
۱۴ اگست ۱۹۸۷ میں حکومت پاکستان نے خدمات کے اعتراف کے طور پر قاری اظہار صاحب کو تمغۂ حسن کارکردگی کے لئے نامزد کیا اور ۲۳ اگست ۱۹۸۸ء کو صدر پاکستان جنرل ضیاء الحق مرحوم نے حضرت قاری صاحب کو اس تمغہ سے نوازا ۔
عالمی مقابل حسن قراء ت منعقدہ کوالالمپور ملائیشیا میں منصفی کے فرائض
۱۹۶۹ء میں حضرت قاری صاحب عالمی مقابلہ حسن قراء ت منعقدہ کوالالمپور ملائیشیا میں پاکستان کی طرف سے جج نامزد کر دیئے گئے ، نیز دو قاری صاحبان بھی شرکت کے لئے بھیجے گئے۔ ۱۹۷۴ء میں حضرت قاری صاحب حج بیت اللہ کے لئے سعودی عرب گئے...
جامع مسجد چوبرجی کوارٹر میں امامت وخطابت
ستمبر ۱۹۶۱ء میں حضرت قاری صاحب جامع مسجد چو برجی گورنمنٹ کواٹر ملتان روڈ لاہور تشریف لائے۔ قاری صاحب نے تیس سال کا طویل عرصہ گزارنے کے بعد آخری جمعہ پڑھایا اور یہیں پر وفات پائی۔
کرو اللہ کی ہی صرف تم بڑائی
کہ دنیا میں ہے اسی کی بادشاہی
سانحہ ہوا یہ...
عملی زندگی
قاری صاحب نے ۱۹۵۲ء میں پنجاب یونیورسٹی سے ’’منشی فاضل‘‘ اور ۱۹۵۴ء میں ’’ مولوی فاضل ‘‘ کا امتحان پاس کیا۔ اور کچھ عرصہ یونیورسٹی میں پڑھاتے رہے۔ قاری صاحب نے پرانی انار کلی چرچ روڈ پر دار العلوم اسلامیہ کی بنیاد رکھی، پھر اسی مدرسہ میں حضرت قاری عبد المالک سے تحصیل فن تجوید وقراء ت...
حضرت کی اہلیہ محترمہ فرماتی تھیں کہ اسی کمرہ میں قاری عبد الوہاب مکی صاحب، قاری صدیق احمدلکھنوی صاحب، حتی کہ قاری عبدالمالک صاحب بھی یہاں تشریف لاتے رہے۔ قاری اظہارصاحب شروع اوئل میں مفتی محمد حسن کے کہنے پر جامعہ اشرفیہ میں تدریس کرتے رہے۔ اس کے ساتھ ساتھ رہائش کے قریب مقدس مسجد میں امامت...
متفرق واقعات
۱۹۵۹ء میں شہید ملت خان لیاقت علی خان ( جو پاکستان کے پہلے وزیر اعظم تھے) کو شہید کر دیا گیا۔ اس زمانہ میں قاری اظہار صاحب روزنامہ انقلاب میں کام کرتے تھے۔ قاری صاحب فرماتے ہیں :
کہ جب مجھے شہادت کی خبر ہوئی، تو یہ بھی پتہ چلا کہ ۱۰ اکتوبر کی شام کو جالندھر سے چلنے والی ٹرین ۱۳...
اَولاد
۱۹۵۶ء میں آپ کے ہاں پہلے بچے کی ولادت ہوئی۔ جس کا نام احمد ندیم رکھا گیا۔ لیکن وہ زیادہ دیر تک زندہ نہیں رہ سکا اور چودہویں دن وفات پاگیا۔ ۱۹۵۷ء میں دوسرے صاحبزادے بختیار احمد پیدا ہوئے۔ جبکہ ۱۹۵۹ء میں عمار احمد، ۱۹۶۱ء میں عمیر احمد، ۱۹۶۳ میں عزیر احمد اور ۱۹۶۶ء میں نجم الصبیح پیدا...
اَزداوجی زندگی
جب قاری صاحب کے گھر والے لاہور منتقل ہوئے تو ان کی شادی مظفر نگر کی ایک مہاجر خاندان کی لڑکی سے ہو گئی ان کا نکاح حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلوی نے پڑھایا۔
مظاہر العلوم کے شب و روز
قاری اظہار صاحب کو حصول علم کا بہت زیادہ شوق تھا،مگر ساتھ ساتھ اس بات کا بھی خیال تھا کہ گھر والوں پر بوجھ نہ بنیں۔ چنانچہ مظاہر العلوم کو وظیفہ کی بناء پر ترجیح دی اور داخلہ لے لیا۔ قاری صاحب نے مظاہر العلوم میں پہلے سال شرح وقایہ ، نور الأنوار، تعلیم المتعلم، مختصر...
اَساتذہ کا احترام اور ان کی خدمت
قاری صاحب اپنے اساتذہ کی بے حد عزت کرتے تھے۔ ایک دفعہ ابتدائی استاد میر احمد میرٹھی آئے تو قاری صاحب کمرکی تکلیف کے باوجود دو زانو ہو کر بیٹھے۔ مولانا محی الدین بنگالی کو رہائش کا مسئلہ ہوا تو قاری صاحب نے انہیں اپنے گھر میں رہنے کے لئے جگہ دی۔
ابتدائی تعلیم
آپ چار سال کی عمر میں ناظرہ قرآن پڑھنے کی لیے حکیم الامت کی خانقاہ میں قائم کردہ مدرسہ امداد العلوم میں بٹھائے گئے۔ اس کے بعد یہیں سے آپ نے حفظ بھی کیا۔
جب لڑکوںمیں اس بات کی شرط لگتی کہ کون مدرسہ میں پہلے آئے گا تو سب سے پہلے قاری صاحب پہنچتے اور مسجد کا دروزاہ کھلنے تک دائیں...
ننھے اظہار سے اُستاذ القراء تک
تھانہ بھون ضلع مظفر نگر یوپی کا ایک چھوٹا سا قصبہ ہے، جو ہندوستان کے دیگر مشہور مقامات کے مقابلے میں کم مشہور ہے لیکن جب تحریک جہاد کا نعرہ بلند ہوا تو اس غیر معروف قصبے کا نام سرخیل آزادی کے متوالوں میں سب سے بلند رہا۔ اسی قصبے میں ۹ ذوالقعدہ ۱۳۴۵ھ بروز منگل...
خاندانی پس منظر
حضرت کے آباؤ اجداد اصلا عرب اور خلیفہ اول سیدنا حضرت ابوبکر صدیق کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔آپ کاسلسلۂ نسب اٹھائیس واسطوں سے حضرت عبد اللہ بن ابی بکر کے ذریعے سے حضرت ابو بکر صدیق سے جا ملتا ہے۔ آپ کے والد گرامی کا نام حافظ اعجاز احمد تھانوی، اور دادا کا نام منشی...
تھانہ بھون کا مختصر تعارف
حالات و واقعات قلم بند کرنے سے پہلے یہ ضروری ہے کہ اس قصبے کا ذکر کیا جائے جہاں حضرت قاری اظہار احمد تھانوی صاحب پیدا ہوئے۔ ان کی جائے پیدائش تھانہ بھون ہے، جو کہ ایک ہندو راجے کے نام سے موسوم ہے۔ اس قصبے میں بہت سے رؤساء اور صلحاء ِ وقت پیدا ہوئے، جن میں نواب عنایت...