حادثوں نے ہر صورت اپنی زد میں رکھنا تھا
ہم نے چل کہ دیکھا ہے راستے سے ہٹ کر بھی
آگہی کی منزل سے لوٹ جائیں ہم کیسے
اِس جگہ نہیں جائز دیکھنا پلٹ کر بھی
ہم نے لاکھ سمجھایا، دل مگر نہیں مانا
مطمئن سا لگتا ہے، کرچیوں میں بٹ کر بھی
دشتِ دل سے جو اُٹھا ہو کہ صورتِ شبنم
رُک گیا ہے پلکوں پر، وہ غبار َچھٹ...