• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نتائجِ‌تلاش

  1. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    ٹوٹ گئے تو کرچیوں کے سوا اور کیا دیں گے کانچ کے پیڑ خیالوں میں لگایا نہ کرو گر بچھڑنا پڑا ہم سے تو جیو گے کیسے ؟ دل کی گہرائیوں سے اتنا ہمیں چاہا نہ کرو
  2. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    دل تاجگر، کہ ساحلِ دریائے خوں ہے اب اس رہ گزر میں جلوۂ گل، آگے گرد تھا جاتی ہے کوئی کشمکش اندوہِ عشق کی ! دل بھی اگر گیا، تو وُہی دل کا درد تھا
  3. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    دل لے کے مفت، کہتے ہیں کچھ کام کا نہیں الٹی شکائیتیں ہوئیں، احسان تو گیا ڈرتا ہوں دیکھ کر دلِ بے آرزو کو میں سنسان گھر یہ کیوں نہ ہو، مہمان تو گیا داغ دہلوی
  4. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    اس مے سے نہیں مطلب، دل جس سے ہے بیگانہ مقصود ہے اس مے سے دل ہی میں جو کھنچتی ہے واں دل میں کہ صدمے دو، یاں جی میں کہ سب سہہ لو ان کا بھی عجب دل ہے، میرا بھی عجب جی ہے اکبر الٰہ آبادی
  5. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    ایک میں دل ریش ہوں ویسا ہی دوست زخم کتنوں کے، سنا ہے، بھر چلے خواجہ میر درد
  6. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    دل میں کوئی اس طرح کی آرزو پیدا کروں لوٹ جائے آسماں میرے مٹانے کے لیے اس چمن میں مرغِ دل گائے نہ آزادی کا گیت آہ، یہ گلشن نہیں ایسے ترانے کے لیے اقبال
  7. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    یاد کرنا ہر گھڑی اس یار کا ہے وظیفہ مجھ دلِ بیمار کا عاقبت کیا ہووے گا، معملوم نہیں دل ہوا ہے مبتلا دلدار کا کیا کہے تعریف دل ہے بے نظیر حرف حرف اس مخزنِ اسرار کا ولی دکنی
  8. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    اس دل کے دریدہ دامن کو، دیکھو تو سہی، سوچو تو سہی جس جھولی میں سو چھید ہوئے، اس جھولی کا پھیلانا کیا پھر ہجر کی لمبی رات میاں، سنجوگ کی تو یہی ایک گھڑی جو دل میں ہے لب پر آنے دو، شرمانا کیا، گھبرانا کیا ابنِ انشا
  9. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    دل دھڑکتا ہے سفر کے ھنگام کاش پھر کوئی بلانے آئے اب تو رونے سے بھی دل دکھتا ہے شاید اب ہوش ٹھکانے آئے احمد فراز
  10. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    صبحدم چھوڑ گیا نکہتِ گل کی صورت رات کو غنچہء دل میں سمٹ آنے والا احمد فراز
  11. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    دلوں کی بات بدن کی زباں سے کہہ دیتے یہ چاہتے تھے مگر دل ادھر نہیں آیا افتخار عارف
  12. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    جینا وہ کیا کہ دل میں نہ ہو تیری آرزو باقی ہے موت ہی دلِ بے مدعا کے بعد مولانا محمد علی جوھر
  13. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    دلِ فطرت شناس آخر، کہیں یونہی دھڑکتا ہے فریبِ حسن ہے جشنِ چراغاں ، ہم نہ کہتے تھے سیف الدین سیف
  14. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    جینا وہ کیا کہ دل میں نہ ہو تیری آرزو باقی ہے موت ہی دلِ بے مدعاّ کے بعد
  15. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    پھر آج میکدہ سے لوٹ آئے ہیں پھر آج ہمکو ٹھکانے کا ہم سبو نہ ملا۔
  16. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    مدت ہوئی ہے کوئے بتاں کی طرف گئے آوارگی سے دل کو کہاں‌تک بچائیں ہم
  17. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    اس مئے سے نہیں مطلب دل جس سے ہے بیگانہ مقصود ہے اس مئے سے دل ہی میں جو کھینچتی ہے
  18. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    اہلِ اور بھی ہیں‌اہلِ وفا اور بھی ہیں‌ ایک ہم ہی نہیں دنیا سے خفا اور بھی ہیں
  19. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    ہاں‌کیا ہوا وہ حوصلہِ دل ؟ اہلِ دل۔ دیکھو وہ نقاب اُٹھائے ہوئے تو ہیں
  20. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    یہ تو ممکن ہی نہیں‌دل سے بھلادوں تجھکو جان بھی جسم میں آتی ہے تیرے نام کے ساتھ
Top