الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
ٹوٹ گئے تو کرچیوں کے سوا اور کیا دیں گے
کانچ کے پیڑ خیالوں میں لگایا نہ کرو
گر بچھڑنا پڑا ہم سے تو جیو گے کیسے ؟
دل کی گہرائیوں سے اتنا ہمیں چاہا نہ کرو
دل لے کے مفت، کہتے ہیں کچھ کام کا نہیں
الٹی شکائیتیں ہوئیں، احسان تو گیا
ڈرتا ہوں دیکھ کر دلِ بے آرزو کو میں
سنسان گھر یہ کیوں نہ ہو، مہمان تو گیا
داغ دہلوی
اس مے سے نہیں مطلب، دل جس سے ہے بیگانہ
مقصود ہے اس مے سے دل ہی میں جو کھنچتی ہے
واں دل میں کہ صدمے دو، یاں جی میں کہ سب سہہ لو
ان کا بھی عجب دل ہے، میرا بھی عجب جی ہے
اکبر الٰہ آبادی
یاد کرنا ہر گھڑی اس یار کا
ہے وظیفہ مجھ دلِ بیمار کا
عاقبت کیا ہووے گا، معملوم نہیں
دل ہوا ہے مبتلا دلدار کا
کیا کہے تعریف دل ہے بے نظیر
حرف حرف اس مخزنِ اسرار کا
ولی دکنی
اس دل کے دریدہ دامن کو، دیکھو تو سہی، سوچو تو سہی
جس جھولی میں سو چھید ہوئے، اس جھولی کا پھیلانا کیا
پھر ہجر کی لمبی رات میاں، سنجوگ کی تو یہی ایک گھڑی
جو دل میں ہے لب پر آنے دو، شرمانا کیا، گھبرانا کیا
ابنِ انشا