الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
کسی خاندان کی خصوصیت ثابت نہیں:
پھر یہ کیسے باور کیا جا سکتا ہے کہ نبی ﷺ یہ کہہ کر اپنے خاندان کو خصوصیت دیں کہ جو ان کا خون بہائے گا۔ اس پر اللہ کا غصہ بھڑکے گا۔ کیونکہ یہ بات پہلے ہی مسلم ہے کہ ناحق قتل شریعت میں حرام ہے، عام اس سے کہ ہاشمی کا ہو یاغیر ہاشمی کا:
پس قتل کی اباحت و حرمت میں...
قاتلین حسینکے متعلق روایات:
رہی وہ روایت جو بیان کی جاتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کہ
تو یہ روایت بالکل جھوٹی ہے اورا ن لوگوں کی بنائی ہوئی ہے جو رسول اللہ ﷺ پر تہمت باندھنے سے نہیں شرماتے۔ کہاں آدھی دوزخ کا عذاب، اور کہاں ایک حقیر آدمی؟ فرعون اور دوسرے کفار ومنافقین، قاتلین انبیاء او ر...
یزید پر لعنت بھیجنے کا مسئلہ:
رہا سوال یزید پر لعنت کرنے کا تو واقعہ یہ ہے کہ یزید بھی بہت سے دوسرے بادشاہوں اور خلفاء جیسا ہی ہے بلکہ کئی حکمرانوں سے وہ اچھا تھا۔ وہ عراق کے امیر "مختار بن ابی عبید الثقفی" سے کہیں اچھا تھا۔ جس نے حضرت حسین کی حمایت کا علم بلند کیا۔ ان کے قاتلوں سے انتقام لیا...
یزید نے حضرت حسین کے قتل کا حکم نہیں دیا:
متعدد مؤرخین نے جو نقل کیا ہے وہ یہی ہے کہ یزید نے حضرت حسین کے قتل کا حکم نہیں دیا اور نہ یہ بات ہی اس کے پیش نظر تھی بلکہ وہ تو اپنے باپ معاویہ کی وصیت کے مطابق ان کی تعظیم وتکریم کرنا چاہتا تھا۔ البتہ اس کی یہ خواہش تھی کہ آپ خلافت کے مدعی ہوکر...
شہادت حسین کا نتیجہ
صحابہ سے بدگمانی اور بدعات محرم کا ظہور:
شہادت حسین کی وجہ سے شیطان کو بدعتوں اور ضلالتوں کے پھیلانے کا موقعہ مل گیا۔ چنانچہ کچھ لوگ یوم عاشوراء میں نوحہ وماتم کرتے ہیں، منہ پیٹتے ہیں، روتے چلاتے ہیں، بھوکے پیاسے رہتے ہیں، مرثیے پڑہتے ہیں، یہی نہیں بلکہ سلف و صحابہ کو...
ماتم اور بین کرنے والے ہم میں سے نہیں:
حدیث صحیح میں آیا ہے، رسول اللہﷺ نے فرمایا:
نیز نبی ﷺ نے صَالِقَہ، حَالِقَہ اور شَاقَّہ سے اپنے تئیں بری بتایا ہے:
نیز فرمایا:
اس قسم کی ایک عورت حضرت عمر کے پاس لائی گئی تو آپ نے اسے مارنے کا حکم دیا۔ سزا کے دوران میں اس کا سر کھل گیا تو لوگوں نے...
یزید کے بارے میں افراط وتفریط:
اس تفصیل کے بعد اب ہم کہتے ہیں کہ یزید کے بارے میں لوگوں نے افراط وتفریط سے کام لیا ہےایک گروہ تو اسے خلفائے راشدین اور انبیائے مقربین میں سے سمجھتا ہے اور یہ سراسر غلط ہے دوسرا گروہ اسے باطن میں کافر و منافق بتاتا ہے اور کہتا ہے کہ اس نے قصداً حضرت حسین رضی اللہ...
حضرت حسین کا مقام بلند:
اس تفصیل سے ثابت ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کا ائمہ و خلفاء کے ظلم پر صبر کرنے اور ان سے جنگ وبغاوت نہ کرنے کا حکم مناسب اور امت کے دین ودنیا کےلیے زیادہ بہتر تھا اور جنہوں نے بالقصد یا بلا قصد اس کی مخالفت کی۔ ان کے فعل سے امت کو فائدہ کے بجائے نقصان ہی پہنچا۔ یہی سبب ہے...
حفظ مصالح اور دفع مفاسد:
غرض امت کی مصلحتوں کا لحاظ مقدم ہے اگر کسی فعل میں بھلائی اور برائی دونوں موجود ہوں تو دیکھا جائے گا کہ کس کا پلہ بھاری ہے اگر بھلائی زیادہ نظر آئے تو اس فعل کو پسند کیا جائے گا۔ اگر برائی غالب دکھائی دے تو اس کے ترک کو ترجیح دی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو اس...
حضرت عبداللہ بن زبیر :
بادشاہوں پر خلیفہ کا اطلاق؟
پس اگر اہل سنت ان بادشاہوں میں سے کسی کو خلیفہ یا امام کہتے ہیں تو اس سے مقصود صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے زمانے میں خودمختار تھا، طاقتور تھا، صاحب سیف تھا۔ عزل ونصب کرتا تھا، اپنے حکام کے اِجراء کی قوت رکھتا تھا۔ حدود شرعی قائم کرتا تھا کفار...
سانحۂ کربلا اور حضرت حسین و حضرت یزید شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی نظر میں
اقتباس از رسومات محرم الحرام اور سانحۂ کربلا
تاليف حافظ صلاح الدين يوسف حفظہ اللہ
بشکریہ اردو مجلس
تمہید:
علماء اسلام میں کوئی ایک بھی یزید بن معاویہ کو ابو بکر، عمر، عثمان اور علی کی طرح خلفائے...
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
جی باذوق بھائی یہ خبر سچی ہے۔جمشید بھائی سے پرسنل بات چیت میں انہوں نے یہ بات شیئر کی تھی۔اور پھر میں نے جمشید بھائی کو یہ بھی کہا تھا کہ محبت صنف نازک ومصروفیات زندگی کہیں ہم سے دور نہ لے جائیں۔دکھ ہے کہ جس کا ڈر تھا وہی ہوا۔
آمین ثم آمین یا رب العالمین
نام:
حافظ عبدالمنان نور پوری رحمہ اللہ
مصنف:
مختلف اہل علم
ناشر:
شعبہ نشر واشاعت جامعہ اسلامیہ سلفیہ
ٹائٹل:
تبصرہ:
تاریخ نام ہی اس چیز کا ہے کہ اس دنیا میں زندگی گزارنےوالوں کی زندگیوں کو محفوظ کرنا تاکہ تاریخ ساز زندگیاں آئندہ آنے والی نسلوں کےلیے مشعل راہ بن سکیں اور مقصودومنزل آسان...
تسمیہ
آپﷺ بسم اﷲ الرحمن الرحیم پڑھتے تھے۔
ملحوظہ:
بسم اللہ الرحمن الرحیم جہراً پڑھنا بھی صحیح ہے، جیسا کہ سنن نسائی میں ہے۔
حضرت ابوہریرہؓ نے اونچی آواز میں پڑھی (۹) (نسائی:۹۰۶) اور سراً بھی درست ہے جیسا کہ صحیح ابن خزیمہ کی روایت نمبر ۲۹۵ (۱۰) اور ابن حبان الاحسان:۱۷۹۹ (۱۱) سے ظاہر ہے۔...
تعوذ
قراء ت سے پہلے آپ ﷺ أعوذ باﷲ من الشیطٰن الرجیم پڑھتے تھے۔
’’میں شیطان مردود (کے شر) سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتا ہوں۔‘‘
آپﷺ سے درج ذیل دعا بھی ثابت ہے۔
استفتاح
= رسول اللہﷺ تکبیر (تحریمہ) اور قرأت کے درمیان درج ذیل دعا (سراً یعنی بغیر جہر کے) پڑھتے تھے۔
= درج ذیل دعا بھی آپﷺ سے ثابت ہے۔
ان ثابت شدہ دعاؤں میں سے جو دعا بھی پڑھ لی جائے بہتر ہے۔