• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نتائجِ‌تلاش

  1. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    یہ درسِ اوّلیں مجھ کو ملا میرے بزرگوں سے بہت چھوٹے ہیں ‌وہ، اوروں کو جو چھوٹا سمجھتے ہیں
  2. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    ہم دعا لکھتے رہے وہ دغا پڑھتے رہے ۔۔ اک ہی نقطے نے محرم سے مجرم بنا دیا
  3. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    الگ ان ساری خبروں سے خبر اک اور باقی ہے لڑائی دیکھئے رہتی ہے کتنے روز تک جاری ادھر دو چار باقی ہیں ادھر اک اور باقی ہے سنبھل ہمدم،سفر دوگام سے زیادہ نہیں باقی کہ اب منزل کی راہ مختصر اک اور باقی ہے ستارے ساتھ لے کر ڈھونڈتا ہوں مہر و مہ اپنے فلک اک اور باقی ہے قمر اک اور باقی ہے ابھی افراد خانہ...
  4. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    جو تو میراتو سب میرا فلک میرازمیں میری اگر اک تو نہیں میراتو کوئی شے نہیں میری
  5. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    بیٹھ کر سایہ گل میں‌ناصر ہم بہت روئےجب وہ یاد آیا
  6. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    حوادث سے الجھ کر مسکرانا میری فطرت ہے مجھے ناکامیوں کے بوجھ تلے دبنا نہیں آتا
  7. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    اب کی بار اک خوشی ملی اور وہ بھی اتنی تلخ کہ شدت جذبات سے آنسو نکل گئے
  8. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    اگر کوئی شعیب آئے میسر شبانی سے کلیمی دو قدم آگے
  9. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    چہرے بدل بدل کر مجھے مل رہے ہیں لوگ اتنا برا سلوک میری سادگی کے ساتھ
  10. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    غم روگار کھو گیا کچھ میں بھی ندیم کچھ زمانہ اسکو اچھا لگا میں‌نے سنا
  11. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    ہر بات پر ملتا ہے ہمیں زہر کا پیالہ جینا ہے تو جرات اظہار نہ مانگو
  12. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    جہاں چوٹ کھانا وہیں مسکرانا مگر اس ادا سے کہ رو دے زمانہ
  13. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    حبس شب ھو تو اجالے بھی تیرے شہر سے آئیں خواب دیکھوں تو حوالے بھی تیرے شہر سے آئیں تیرے ھی شہر میں سر تن سے جدا ھو جائے اور خون بہا مانگنے والے بھی تیرے شہر سے آئیں
  14. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    کہتا تھا جب تغیر سنتا نہیں تھا کوئی اب لوگ کہہ رہے ہیں دنیا بدل رہی ہے
  15. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    جو میں سر بسجدہ ہوا کبھی تو زمین سے آنے لگی صدا تیرا دل ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں ؟ (اقبال)
  16. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    ہوا سے سرکشی میں پھول کا اپنا زیاں‌ہے سو جھکتا جا رہا ہے اب یہ سر آہستہ آہستہ پروین شاکر
  17. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    نغمے بیتاب ہیں تاروں کے نکلنے کے لیے طور مضطر ہے پھر اسی آگ میں‌جلنے کے لیے اقبال
  18. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    زندگی کے بارے میں‌اس قدر نہ سوچا کر جس نے زندگی دی ہے وہ بھی سوچتا ہوگا
  19. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    اگر چلو تو میرے ساتھ ہی چلو لیکن کٹھن سفر سے زیادہ ہے ہم سفر ہونا
  20. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    نہ رکھ تقلید کی کچھ بھی سند پھر اس پر اڑتے ہیں عجب دانا مقلد ہیں کہ بے ہتھیار لڑتے ہیں
Top