• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نتائجِ‌تلاش

  1. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    تمہارے زلف میں پہنچی تو حسن کہلائی وہ تیرگی جو میرے نامہ سیاہ می تھی
  2. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    ابھی اس راہ سے کوئی گیا ہے کہے دیتی ہے شوخی نقش پا کی
  3. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    کافر ہے تو شمشیر پر کرتا ہے بھروسہ مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہی سپاہی
  4. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    جفا کی تیغ سے گردن وفا شعاروں کی کٹی ہے برسر میداں مگر جھکی تو نہی
  5. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    خاموش اے دل! بھری محفل میں چلانا نہیں اچھا ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں (اقبال)
  6. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    اے طایر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کو تاہی
  7. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    میری زندگی کا مقصد تیرے دین کی سر فرازی میں اسی لیے مجاہد میں اسی لیے ہوں غازی
  8. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    قاصد کے آتے آتے میں خط اور لکھ رکھوں میں جانتا ہوں جو وہ لکھینگے جواب میں
  9. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    خود بدلتے نہی قرآن کو بدل دیتے ہیں کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر
  10. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    گئے دن کے تنہا تھا میں انجمن میں یہاں اب میرے رازداں اور بھی ہیں
  11. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    رقیبوں نے رپٹ لکھوائی ہے جا جا کے تھانے میں کہ اکبر نام لیتا ہے خدا کا اس زمانے میں
  12. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    یہ رتبہ بلند ملا جس کو مل گیا ہر مدعی کے واسطے دار و رسن کہاں
  13. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    نہ خنجر اٹھیگا نہ تلوار ان سے یہ باذو میرے آزماے ہوے ہیں
  14. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    ابھی اس راہ سے کوئی گیا ہے کہے دیتی ہے شوخی نقش پا کی
  15. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    خرد کا نام جنوں رکھ دیا جنوں کا خرد جو چاہے آپ کاحسن کرشمہ ساز کرے
  16. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    اسی باعث تو قتل عاشقاں سے منع کرتے تھے اب اکیلے پھر رہے ہو یوسف بے کارواں ہو کر
  17. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    شاید بقید زیست یہ ساعت نہ آسکے تم داستان شوق سنو اور سنایں ہم
  18. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    کیوں گردش مدام سے گھبرا نہ جاے دل انساں ہوں پیا لہ و ساغر نہی ہوں میں
  19. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    میں کھٹکتا ہوں دل یزداں میں کانٹے کی طرح تو فقط اللہ ہو اللہ ہو اللہ ہو
  20. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    تمدن تصوف شریعت کلام بتاں عجم کے پجاری تمام حقیقت خرافات میں کھو گئی یہ امت روایات میں کھو گئی
Top