• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نتائجِ‌تلاش

  1. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    اک ہی زخم نہیں سارا وجود زخمی زخمی ہے درد بھی حیران ہے اٹھوں تو کہاں سے اٹھوں
  2. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    زنداں بدلتے ہیں لیک صیّاد کا ہے انداز وہی ہے نقشِ ارم میں تبدیلی شہداء کا ہے انداز وہی
  3. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    کیا ہوا جو تیرے ماتھے پہ ہیں سجدوں کے نشاں بندہ مومن ! کوئی ایسا سجدہ بھی کر جو زمین پہ نشان چھوڑ جائے
  4. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    اھل گلشن کیلئے باب ِگلشن بند ہے اس قدر کم ظرف کوئی باغباں دیکھا نہیں
  5. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    اُنگلیاں میری وفا پر نہ اٹھانا اے لوگو جس کو شک ہے وہ کبھی مجھ سے نبھا کر دیکھ لے
  6. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    دستار کے ہر تار کی تحقیق ہے لازم ہر صاحب دستار معزز نہیں ہوتا
  7. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    دھوکہ دیتی ہے معصوم چہروں کی چمک اکثر ہر کانچ کے ٹکڑے کو ہیرا نہیں کہتے
  8. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    یوں تو میرے خلوص کی قیمت ہی کم نہ تھی کچھ لوگ کم شناس تھے دولت پہ مر گئے
  9. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    یوں ہی موسم کی ادا دیکھ کر یاد آیا کہ کس قدر بدل جاتے ہیں لوگ
  10. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    ساحل ہیں تماشائی ڈوبنے والوں پر افسوس تو کرتے ہیں امداد نہیں کرتے
  11. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    کاش وہ اِک موقع دے دیتا بات کرنے کا ہم اُن کو بھ رُولا دیتے اُن کے ستم سُنا سُنا کر
  12. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    تقدیر بنانے والے تو نے کمی نہ کی کسی کو کیا ملا یہ مقدر کی بات ھے
  13. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    عادتیں مختلف ہیں ہماری دنیا والوں سے رابطہ تھوڑا ہی سہی مگر رکھتے دل سے ہیں
  14. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    تییری رحمت سے نا امید تو نہیں یارپ یہ دنیا میرا حوصلہ توڑ دیتی ھے
  15. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    دھوکہ دیتی ہے معصوم چہروں کی چمک اکثر ہر کانچ کے ٹکڑے کو ہیرا نہیں کہتے
  16. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    یہ نہ پوچھ کہ شکایتں ‌کتنی ہیں یہ بتا کہ کوئی ستم باقی تو نہیں
  17. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    ان بارشوں سے آدابِ محبت سیکھو اگر یہ روٹھ بھی جائیں تو برستی بہت ہیں
  18. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    فطرت اور حالات میں تصادم ہے ورنہ انسان کیسا بھی ہو دل کا بُرا نہیں‌ہوتا
  19. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    ناداں ہیں وہ جو رکھتے ہیں اُمید کسی پر اِک ذاتِ خدا کے سوا کوئی کسی کا نہیں ہوتا
  20. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    خواب بھی شاید کانچ سے کمزور ہوتے ہیں ہو روز بکھر جاتے ہیں فقن اِک آنکھ کے کُھلنے سے
Top