• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نتائجِ‌تلاش

  1. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    دوستوں کی محفل سے اب دل اٹھ سا گیا ہے چل پھر سے تنہائیوں کی نگری آباد کرتے ہیں
  2. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    مجھے محبت ہے اپنے ہاتھ کی سب اُنگلیوں سے دوست نہ جانے کسی انگلی کو پکڑ کر ماں نے مجھے چلنا سکھایا ہو گا
  3. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    راہِ محبت میں عجب رہا پتھروں سے واسطہ نہ زخم نظر آتا ہے نہ درد سہا جاتا ہے
  4. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    چلے جائیں گے تجھے چھوڑ کر تیری خوشی کی خاطر دوست قدر کیا ہوتی ہے یہ تجھے وقت سکھا دے گا
  5. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    گرتے رہے سجدوں میں ہم اپنی ہی حسرتوں کی خاطر ہم عشقِ خدا میں گرے ہوتے تو کوئی حسرت باقی نہ رہتی
  6. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    محبت بُری ہے بُری ہے محبت کہے جا رہے ہیں کیئے جا رہے ہیں
  7. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    لمبی مسافتوں نے چپکے سے یہ کہا تنہا جو آرہے تو محبت سے کیا ملا
  8. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    توڑا کچھ اس ادا سے تعلق اُس نے دوست کہ ساری عمر ہم اپنا قصور ڈھونڈتے رہے
  9. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    راہِ محبت میں عجب رہا پتھروں سے واسطہ نہ زخم نظر آتا ہے نہ درد سہا جاتا ہے
  10. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    مجھے محبت ہے اپنے ہاتھ کی سب اُنگلیوں سے دوست نہ جانے کسی انگلی کو پکڑ کر ماں نے مجھے چلنا سکھایا ہو گا
  11. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    وقت تھوڑا سا بدلا تو درد بھی دل کو یہ کہہ کر چھوڑ گیا کون اس اجڑے ہوئے گھر کی نگرانی کرے
  12. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    پھولوں کی نزاکت کو وہ نہ سمجھ سکا مجھے توڑ کر کہتا ہے کہ تیرا خیال رکھوں گا
  13. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    اپنا بنا لیا کبھی بیگانہ کر دیا یہ دھوپ چھاؤں حسب ضرورت بھی خوب ہے
  14. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    لبوں پر تلخی مئے ایام ہے ورنہ ہم تلخئ ایام پر مائل ذرا نہ تھے
  15. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    موت کو سمجھا ہے غافل اختتامِ زندگی ہے یہ شامِ زندگی صبح دوامِ زندگی
  16. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    مت کیا کر اتنے گناہ توبی کی آس پر اے ابنِ آدم بے اعتیبار کی موت ہے نہ جانے کب آجائے
  17. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    رکھتے ہیں جو اوروں کے لئے پیار کا جذبہ وہ لوگ کبھی ٹوٹ کے بکھرا نہیں کرتے
  18. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    ہم بھی پھولوں کی طرھ اکثر تنہا رہتے ہیں کبھی خود سے ٹوٹ جاتے ہیں کبھی کوئی توڑ جاتا ہے
  19. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    زمین پہ پاؤں رکھنے دے انہیں‌ اے ناز یکتائی کہ اب ان کے نقش قدم کہیں پائے نہیں جاتے
  20. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    ایسے چلن کسی محفل میں‌ پائے نہیں‌ جاتے کہ بلوائے ہوئے مہمان اٹھوائے نہیں جاتے
Top