• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نتائجِ‌تلاش

  1. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    اہلِ گلشن کے لئے بابِ گلشن بند ہے اس قدر کم ظرف کوئی باغباںدیکھا نہیں
  2. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    پتھر ذہن گلاب نہیں ہوندے كورے كاغذ كتاب نہیں ہوندے
  3. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    گھٹی گھٹی ہی سہی،صدائیں اٹھتی ہیں زمانہ جیسے کوئی انقلاب چاہتا ہے
  4. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    شہر جب خوف سے چپ ہو محسن ایک دل ہے کہ بہت بولتا ہے
  5. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    نشیمن پر نشیمن یوں تعمیر کرتا جا کہ بجلی گرتے گرتے آپ ہی بے زار ہو جائے
  6. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    اللہ کرے سلامت رہیں ہمیشہ وہ لوگ جنہیں بڑے خلوص سے ہم روز یاد کرتے ہیں
  7. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    بِک رہا تھا وقت کے بازار میں میری گفتگو کا لہو مُڑ کا دیکھا تو میرے اپنے ہی خریدار نکلے
  8. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    ہمیں شکوہ نہیں‌کسی سے اپنے بھول جانےکا ہم اس قابل ہی کہاں تھے کہ کسی کو یاد رہ جاتے
  9. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    وقت نے بدل دیا لوگوں کا معیارِ ذوق ورنہ ہم بھی وہ لوگ تھے جو اکثر یاد آیا کرتے تھے
  10. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    میرے آنسوئوں کی طاقت کو ذرا غور سے دیکھ کل میری آنکھیں نم تھیں آج سارا شہر بھیگا ہے
  11. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    بس بھی کر دے اے بادل برسنا تُو غلطی کر دی تجھے اپنی غمِ داستاں سُنا کر
  12. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    بہت بے کیف لمحے ہیں عجب بوجھل سی زندگی ہے نہ غم سے دل بہلتا ہے نہ خوشیاں راس آتی ہیں
  13. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    گزر رہی ہے تمہاری کیسے بچھڑ کر ہم سے رُلا کے ہم کو حقیقتوں کو ضرور لکھنا اَنا کی خاطر چھپا نہ لینا
  14. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    یہ سنگ دلوں کی دنیا ہے یہاں سُنتا نہیں کوئی کسی کی یہاں ہنستے ہیں لوگ جب برباد ہوتا ہے کوئی
  15. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    اُس سے کہنا جُفت اور طاق کا ہم سے نہیں واسطہ کوئی ہمیں تو جب بھی لگی ضرب لگی اور بس تقسیم ہوئے
  16. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    کم بخت دل مانتا ہی نہیں اُس کو بھلانے کو میں ہاتھ جوڑوں تو وہ پائوں پڑ جاتا ہے
  17. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    نہ کمزور پڑا میرا تم سے تعلق اور نہ کہیں اور ہوئے سلسلے مضبوط یہ وقت کی سازش ہے کبھی تم مصروف تو کبھی ہم مصروف
  18. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    بھیڑ میں بھی مل ہی جائوں گا آسانی سے تمہیں کھویا کھویا سا رہنا نشانی ہے میری دوستوں
  19. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    ہو جو تعلق تو رُوح سے ہو دل تو اکثر بھر ہی جاتے ہیں
  20. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    نہ جانے کیسا امتحان ہے مجھ پہ آجکل کہ مقدر اور زندگی الجھے سے رہتے ہیں
Top