الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
http://www.islamimehfil.com/topic/20775-allah-her-jaga-hazir-nazir-allama-ahmed-saeed-kazmi-or-mufti-ahmed-yar-khan-per-aetaraz/
لیں جناب گنہگار صاحب آرام سے خود بھی پڑھیں اور اپنے دیوبندی بھائیوں کو بھی پڑھائیں۔
غیر مقلدین اہلحدیث کے فتاویٰ ستاریہ جلد نمبر ۲ ص ۸۴میں عبد الجبار سلفی نے لکھا کہ'اللہ تعالی کو ہر جگہ ماننا یہ جہمیہ معتزلہ وغیرہ فرق ضالہ کا باطل عقیدہ ہے اللہ تعالیٰ بذاتہ بنفسہ عرش پر مستوی ہے اور صفحہ ۳۷ پر لکھا کہ اللہ تعالیٰ ہرجگہ نہیں عرش پر ہے
بھائی فورم ڈیسکشن کرنی ہے کتابیں نہیں لکھنی۔اب ایک ایک کر کے اس کا جواب ۔آپ کی خد مت میں پیش ہو گا۔اس دوران کوئی بھائی پوسٹ نہ کرے ۔جب جوابات مکمل ہو جائے تو پھر آپ لوگ جواب دے دینا۔
یہاں پر حاظر ناظر کے ثبوت کی بات نہیں ہورہی ۔پھر گنہگار صاحب میں نے جو تقویۃالایمان کا حوالہ دیا ہے اور آپ کا موقف پوچھا ہے اس کی وضاحت نہیں۔اور اگر آپ کو اپنے اعتراض پر بھروسہ ہی نہیں تو کیا کیوں؟باقی کیونکہ اعتراض دیوبندیوں نے کیا ہے لہذا جواب بھی اسی کے موافق ہوگا
پھر شیخ جیلانی نے بھی لکھ دیا ہےکہ اس کا معنی دیکھنے والا ہو گا تو اس معنی میں شریف الحق صاحب نے بھی جائز قرار دیا ہے۔ایک بار پھر گزارش ہے کہ تسکین الخواطر کا مطالعہ کر لیا جائے تو بہتر ہے۔
پھر ہمارے پاس دارالسلام والوں کی چھپی ہوئی تقویۃ الایمان موجود ہے اس کے صفحہ 33 پر لکھا ہوا ہے کہ اللہ کو بذاۃ حاظر ناظر سمجھنا شرک ہے ۔اس کے حاشیے میں ہے کہ اللہ تعالی کو بذاۃ حاظر ناظڑ سمجھنا باطل عقیدہ ہے ۔اب اس پر تمام وہابی حضرات کیا عرض کرے گئے۔
جناب اگر شریف الحق امجدی کے فتوے کو غور سے دیکھا جائے تو اس میں ہی اس کا جواب موجود ہے کہ اللہ کو بطور سمیع وبصیر حاظر ناظر کہنا جائز ہے ہاں ذات کے لحاظ سے نہیں کہنا چاہیے۔پھر میں نے آپ لوگوں سے آپ کو موقف پوچھا تھا آپ نے بتایا نہیں۔
جناب ہمارے نزدیک غنیۃ الطالبین میں تحریف ہو چکی ہے باقی اس اعتراض کی بہت اچھے طریقے سے واضاحت حضور غزالی زماں نے تسکین الخواطر میں کی ہے وہاں دیکھیں۔اور آپ اپنا موقف بھی بتائیں کہ آپ کے نزدیک اللہ حاضر ناظر ہے کہ نہیں۔باقی گفتگو پھر صیح
جناب اگر خالی چھاپنے سے کتب معتبر ہوتیں ہیں تو وحید الزماں کی کتب کون چھاپتا ہے؟؟؟کیا اس سے آپ اس کو معتبر مان لیے گے۔جناب جب اس پر کفر کا فتوی ہے اب چاہے اس کو کوئی چھاپے یا کوئی سنی عالم بھی اس کی تائید کردے تو پھر بھی یہ معتبر نہیں بن سکتی کیوں کہ اس میں بہت سی خٌاف شرع باتیں ہیں۔اور کئی جگہ...
جنابہ کی مندرجہ بالا تعریف سے میلاد بدعت کیسے؟؟؟؟؟اور جو میں نے اوپر پوسٹیں لگائیں ہیں ان کے بارے میں بھی عرض کریں۔یہ بھی بتا دے کہ سیرت النبی کے جلسے دین کا حصہ کیسے ؟؟؟ان کی بھی وضاحت کریں ۔یاد
۱۔اشرف علی اور امداد اللہ مشرک
اشرف علی تھانوی نماز میں وساوس کا علاج بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ
یا شیخ کامل یا ایسی ہی چیز کا تصور اتجویز کر دے اس کا استعمال کرے (اشرف السوانح ج۲ ص ۲۲۳)
اسی طرح اشرف علی تھانوی سے کسی نے پوچھا کہ اگر آپ کا تصور کر لوں تو نماز میں جی لگتا ہے۔تو تھانوی نے جواب...
آپ وحید الزماں کو مشرک کہہ دے بات ختم ۔اس نے اپنی اسی کتاب یہ بھی کہا ہے قبلہ دیں مدد دے قاضی شوکا مدد دے تو جب اس نے غیر اللہ سے مدد مانگی ہے تو آپ اس کو مشرک کیوں نہیں کہتیں۔میٹھا میٹھا ہپ ہپ تے کوڑا کوڑا تھو تھو ۔اور عبد الغفور اثری صاحب کے بارے میں بھی کچھ عرض کریں۔
ہاہاہا۔۔۔۔۔جناب ہمیں مشرک کہہتے وقت تو آپ کو کوئی تردد نہیں ہوتا ادھر کیوں؟؟وحید الزمااہلحدیث نہیں تو مشرک کہو؟؟کیوں نہیں کہتیں آپ؟؟؟؟؟؟؟؟؟باقی جب تراجم کی بات ہو تو ہمارا وحید الزاماں (پاک و ہند میں اہلحدیث کی خدمات حدیث) اور جب کو ئی مطلب کے خلاف بات ہو تو ہمارا نہیں؟اگر تمہارا نہیں تو کہو...
یہاں کیونکہ اس مسئلہ پر بحث نہیں ہورہی اور نہ ہی ہم نے کرنی ہے مگر صرف ایک بات وہابی حضرات کے مولوی وحید الزمان کے قلم سے
یامحمد یا عبد القادر پکارنے کو شرک کہنا عجیب بات ہے (ھدیۃ المہدی ج 2 ص 23)
پھر عبد الغفور اثری نے پوری کتاب لکھی دی کہ نعرہ یا رسول اللہ جائز ہے ۔ملاحظہ ہو نعرہ یا...