الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
چند دن پہلے واٹس اپ پر کسی ہندوستانی ساتھی کی ویڈیو آئی تھی ۔
جس میں بتایا گیا تھا کہ فیس بک کا مالک ایک یہودی شخص ہے اور اسرائیل کا رہنے والا ہے ۔ باوجود اس کے کہ فیس بک کو بہت سارے مسلمان استعمال کرتے ہیں ، اس کے یہودی مالک نے اسرائیل کے ظلم کے خلاف ، اور فلسطینی مظلوموں کی حمایت میں ایک لفظ...
مجھے اس بارے میں زیادہ جانکاری نہیں ، حقیقت حال پتہ نہیں کیا ہے لیکن پھر بھی مجھے ’’ بد دعاؤں والی باتیں نکال کر ‘‘ ’’ امت ‘‘ کے اس اعلامیے سے کوئی زیادہ اختلاف نہیں ہے ۔
شہاب صاحب کے بارے میں میں بھی یہ کہنا چاہوں گا کہ گو صوفیت میں گرفتار ہوگئے لیکن ان کی تحریروں میں معاشرتی برائیوں کو ’’ اچھائیوں ‘‘ کا لبادہ پہنا کر پیش کرنے کی سعی مذموم نہیں کی گئی جو کہ عموما معاصر ادباء کا طرہ امتیاز سمجھا جاتا ہے ۔
بلکہ قدرت اللہ شہاب نے معاشرتی و اجتماعی برائیوں پر اپنے...
مل بیٹھیں تو حل نکل ہی آتا ہے ۔
مولوی متبادل نظام کرے تو اچھا ہے لیکن ضروری نہیں ہے ۔ بعض دفعہ مولوی صاحب کی اتنی مصروفیات ہوتی ہیں کہ کوئی اور کام کرنے کے لیے وقت یا طاقت نہیں ہوتی ۔
مسجد کے باقی سب کام پیسے دے کر ہوتے ہیں ، مثلا مسجد کی تعمیر ، بجلی کا کام ، پانی کام وغیرہ وغیرہ ، آخر مولوی...
آپ نے جو مقدمہ قائم کیا وہ آپ کا حسن ظن ہے ورنہ ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں جو ’’ دوستی یاری ‘‘ کو فیشن کے نام پر نہ صرف برداشت کرتے ہیں بلکہ ترغیب دلاتے ہیں ۔
ہاں ایسے لوگ بھی ہیں جن پر آپ کی یہ بات صادق آتی ہے تو اس کی وجہ شاید ’’ حسن ظن ‘‘ ہے ، حالانکہ ایسی جگہوں پر حسن ظن کو ’’ کبوتر کا بلی...
انصار عباسی صاحب نے جس بات کا ذکر کالم میں کیا ہے واقعتا وہ ہمارے معاشرے کا المیہ ہے ۔ان مسائل کو مساجد و مدارس کے متولیان اور ائمہ کرام ہی آپس میں مل کر حل کرسکتے ہیں ۔
حکومت کے بس کا روگ نہیں ۔ حکومت کی جو ذمہ داریاں ہیں وہ ان کو پورا نہیں کرسکتی تو مولویوں کو کس منہ سے سمجھا سکتی ہے ؟
مساجد و...
والله اعلم ۔
البتہ اس جیسی اور کتابیں اردو میں ہیں ۔
http://kitabosunnat.com/bsearch?cck=book&searchword=%D9%86%D9%88%D9%85%D9%88%D9%84%D9%88%D8%AF&art_state=1&search=concatenate_field_search&task=search
اس میں خانہ کعبہ پر حملے کی بات کہیں بھی نہیں ہے ۔ نہ عربی تقریر کے اندر اور نہ ہی اردو تحریر میں ۔ بلکہ ان کا ارادہ سعودی عرب پر حملہ کرنا اور حرمین سعودیوں کے قبضے سے چھڑانا ہے ۔ اللہم اجعل تدبیرہم تدمیرہم ۔