الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
محمد علی جواد بھائی ، یہاں تک کہ ابن خلدون جیسا مورخ جو پہلے کے سب مورخین کو لکیر کا فقیر کہتا ہے اس معاملے میں کچھ نہیں کرسکا اس نے عبدالمالک اور حضرت عبداللہ بن الزبیر رضی اللہ عنہ کے جنگ میں دونوں کو مجتھدین کہا ہے اور آپ رضی اللہ عنہ کے قتل سے عبدالملک کو بری کردیا ہے خانہ کعبہ میں سنگ باری...
شکریہ بھائی ، بھائی میں نے کسی کتاب مین اردو کتاب تھی نام یاد نہیں آرہا اس مین ان کے بارے میں پڑھا تھا کہ یہ رد لکھنے کے بڑے شوقین تھے اور کوئی عالم اگر کوئی کتاب لکھتا تو یہ اس کا رد لکھ ڈالتے تھے یہاں تک کہ صحابہ کے معاملے میں بھی ایسا کیا تھا
کیا یہ سچ ہے ؟
اللہ تعالی زبیر زئی مرحوم پر رحمت کرے میرہ خیال ہے کہ یزید بن ابو سفیان رضہ کے اقتدا میں کبھی بھی قسطنطنیہ پر حملہ نہیں ہوا اور سیدنا عثمان رضہ کی خلافت میں تو وہ زندہ بھی نہیں تھے بلکہ سیدنا صدیق کی خلافت میں ہی فوت ہوگئے تھے ۔۔ عامر یونس بھائی یہ صرف یزید سے بغض کی بنا پر ہی ایسے لوگوں گمراھ...
سعودی عرب نے جو بھی اقدام کیا ہے مجھے نہیں پتا کہ کیا سوچ کہ کیا ہے اور میں نے جنرل سیسی کے یہودی ہونے کے بارے میں بھی نہیں پڑہا ۔۔ لیکن مجھے مصر کے بارے میں سعودی عرب کی پالیسی سے سخت اختلاف ہے ۔۔۔۔۔ سیسی نے وہاں ہزاروں معصومون کا خون کیا اور اب پھر 500 معصوم مارے جائیں گے ۔۔۔۔۔۔ پھر کیا خاک...
جزاک اللہ حافظ صاحب بہت ہی شکریہ مختصر اور درست جواب دیا ہے آپ نے ۔۔ ایک اور اہم بات کہ اس راوی محمد بن عبید بن ابی ایاس کی تعدیل موجود ہی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ اوپر سے اس کا تفرد ۔ امام حاکم نے مستدرک میں اس راوی کی ایک روایت کو صحیح کہا ہے اس لئے مجھے شبھہ ہوا تو سوچا کہ یہاں پر اس کا علمی جواب لیا...
https://www.facebook.com/permalink.php?id=351200548332438&story_fbid=362601503859009
عمر بن الخطاب قال قال رسول الله صلى الله علیه وسلم القرآن ألف ألف حرف وسبعة وعشرون ألف حرف فمن قرأه صابرا محتسبا کان له بکل حرف زوجة من الحور العین
مجمع الزوائد – الهیثمی – ج ۷ – ص ۱۶۳- دار الکتب العلمیة...
سکھر شہر ایک قدیمی شہر ہے اس کا نام سکھر شاید پراکرت زبان کا لفظ ہے یعنی را پر پیش سے جس کا مطلب ہے "اعلی " اس کا یہ نام شاید اس وجہ سے پڑا ہو کہ سندہ کا حکمران طبقہ یہیں پر ہوتا تھا اس کا ایک اور نام بھی ملتا ہے جو کہ دریاء ڈنو ہے یعنی ۔۔۔۔۔۔۔ دریاء کا چھوڑا ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ جھاں آج کل سکھر...
بھائی واللہ عالم ایسا ہو سکتا ہے ۔۔۔ لیکن جہاں تک میں نے سندہ کی تاریخ پڑہی ہے اس میں کولاچی ہے اور انگریز اسے کوراچی کہتے تھے جو کہ اب کراچی کہلاتا ہے۔۔۔ یہ کو سے ک کیسے ہوا اس کا سبب یہ ہے کہ جب انگریز اسے کولاچی کے بجائی کوراچی لکھتے تھے آفیشل لیٹرس وغیرہ پر اور یعنی ک پر پیش سے لیکن سندہی...
کراچی اصل میں ایک عورت کے نام پر ہے جو کہ ماہیگیر تھیں جسے مائی کولاچی کہا جاتا ہے اور اس کے نام سے آج تک کراچی میں ایک شاہراہ ہے۔۔ انگریز اسے کولاچی کے بجائے کوراچی کہتے تھے جو کہ بعد مین کراچی بن گیا ۔۔۔۔۔