الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
الْحَكِيمُ
(دانا و بینا)
حکمت والا اور ہر بہتر چیز کو سب سے بہتر انداز میں سمجھنے والا۔ اس کی ذات اور صفات بے مثل ہیں، جس کی پوری معرفت بھی اس کے سوا کسی کو نہیں۔ (الغزالی) حکیم بمعنی حُکم کے بھی ہے جس کی تفصیل گزر چکی مگر اسم حکم میں زائد فائدہ یہ ہے کہ ہر چیز کو ثابت کرنے والا اور خوبصورت...
الْوَاسِعُ
(کشادہ و وسیع)
جس کی جودو سخا مخلوق کے اندازوں سے کہیں بڑھ کر ہے اور اس کی رحمت و علم ہر چیز پر محیط ہے اور اس کا رزق سب کے لیے کافی ہے۔ (بیھقی۔قاضی محمد سلیمان منصور پوری)
الْمُجِيبُ
(دعا قبول کرنے والا)
جو سائل کی مدد کرے، پکارنے والوں کو جواب دے، حاجتمندوں کی ضروریات کو نہ صرف پورا کرے بلکہ پکارنے سے پیشتر انعامات کی بارش سے نوازتا رہے۔ اور دعاء سے پہلے نوازشیں کرتا رہے۔ یہ شان صرف ایک اللہ کی ہے جو بندوں کی ضروریات کو ان کے سوال کرنے سے پیشتر جانتا ہے۔ (الغزالی)۔
الْكَرِيمُ
(بڑا بزرگ اور سخی)
جو باوجود قدرت کے معاف کرے، جو ہمیشہ وفا کرے اور اُمید سے بڑھ کر دے۔ مانگنے سے راضی ہو، اگر کسی اور سے مانگا جائے تو ناراض ہو۔ دنیا میں گناہ گاروں کی ان کے گناہوں پر گرفت نہ کرے۔ اس کی طرف رجوع کرنے والوں کو تمام سفارشیوں اور وسیلوں سے بے نیاز کر دے۔ (الغزالی)۔
الْمُقِيتُ
(روزی دینے والا)
خود پیدا کرے اور بندوں تک پہنچائے یا سب کو کافی ہو۔ (الغزالی) اور بقول زجاج یہ معنی بھی ہیں کہ وہ ہر چیز پر قدرت و نگاہ رکھنے والا ہے۔ قرآن کریم میں ہے۔
وَكَانَ اللَّـهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ مُّقِيتًا ﴿٨٥﴾۔ النساء
اور الله تعالی ہر چیز پر نگہبان ہے۔
قاضی سلیمان منصور...
الْعَلِيُّ
(بلند)
کیونکہ وہ اپنی ساری مخلوق سے بلند ہے۔ (الزجاج) وہ سات آسمانوں سے اوپر عرش پر ہے۔
الرَّحْمَـٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَىٰ ﴿٥﴾-طہ
اللہ مستوئ عرش ہے۔
الشَّكُورُ
(تھوڑی سی محنت پر بہت زیادہ اجر دینے والا)
یعنی جو قلیل عبادت پر زیادہ درجات عطا فرمائے اور دنیا کی قلیل عبادت پر آخرت کی لامحدود نعمتیں عطا کرے۔ (الغزالی) کیونکہ اللہ تعالی عمل کے بدلے اجر دیتے ہیں اس لیے اسے بھی شکر کہا گیا ہے۔ (الزجاج)
الْغَفُورُ
(بخشنے والا)
یہ بھی غفار کی طرح مبالغہ کے معنی رکھتا ہے مگر غفار میں تکرار کے معنی ہیں (یعنی باربار بخشنے والا) اور غفور میں کمال اور تمام کے یعنی سب گناہ بخشنے والا۔ (الغزالی)
الْحَلِيمُ
(بردبار)
جو عذاب کرنے میں جلدی نہیں کرتا۔ نافرمانوں کی نافرمانی اور حکم کی مخالفت کے باوجود اسے نہ غصہ آتا ہے اور نہ غضب کہ وہ اپنے بندوں کو جلد پکڑ لے۔ اس کا غصہ و غضب اسے فوری انتقام پر آمادہ نہیں کرتا۔ (الغزالی)
الْخَبِيرُ
(خبردار)
جس سے کوئی بھی چیز پوشیدہ نہ ہو بلکہ ہر حرکت اور سکون، اضطراب و اطمینان الغرض سب کی اس کو خبر ہے۔ علم ہر ظاہر و پوشیدہ چیز کے لیے عام ہے مگر پوشیدہ چیزوں کے جاننے کو خبرۃ کہا جاتا ہے اور جاننے والے کو خبیر۔ (الغزالی)
اللَّطِيفُ
(نرمی کرنے والا)
لطف کے معنی گفتار اور کردار میں نرمی اور مہربانی کے ہیں۔ اس کی مہربانی اور لطف جملہ امور میں ہے۔ اس کے لطف نے صوری مادی چیزوں، حسین صورتوں، موزوں ہیئت اجسام لطیفہ اور اجرام نورانیہ کو عمدہ مناسبت اور نورانیت، شفافیت اور ہمہ اقسام رنگ بخشے اس کے علمی لطف نے انبیاء،...
الْحَكَمُ
(حاکم یا فیصلہ دینے والا)
اصل معنی ہیں منع کرنا یا روکنا، کیونکہ حاکم دو افراد یا گروہ کو آپس میں لڑنے سے روکتا ہے۔ اللہ تعالی قیامت کے دن اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرنے والے ہیں، نہ کہ کوئی اور۔ جو دنیا میں فیصلہ کرتے ہیں وہ بھی اس کی نازل شدہ شریعت سے استفادہ کرتے ہیں۔ (الزجاج)...