• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نتائجِ‌تلاش

  1. محمد نعیم یونس

    عصر حاضر میں خروج کا مسئلہ اور شبہات کا جائزہ

    اس مختصر وضاحت سے معلوم ہوا کہ موجودہ مسلم ریاستیں درحقیقت سرمایہ دارانہ ریاستیں ہیں گو اُنہیں چلانے والے مسلمان ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ ہمارے ریاستی اداروں کے ممبران بہر حال مسلمان ہی ہیں (جن میں سے کئی ایک مخلصین بھی ہیں)، مگر یہ ایسے ہی ہے جیسے مسلمان عیسائی یا ہندو ریاست قائم کرکے اس کے قانون...
  2. محمد نعیم یونس

    عصر حاضر میں خروج کا مسئلہ اور شبہات کا جائزہ

    ان نکات کی نوعیت سے واضح ہے کہ موجودہ مسلم ریا ستیں دانستہ و نا دانستہ طور پر ایک ایسے نظام پر مبنی اوراس کی حامی و ناصر ہیں جہاں خدا کے بجائے عوام کی حاکمیت، علومِ شرعیہ کے بجائے سرمایہ دارانہ علوم اور شرع کے بجائے دستور نافذ ہے۔ درحقیقت جدید مسلم ریاستیں ہیومن رائٹس کی بالا دستی کا اقرار کرکے...
  3. محمد نعیم یونس

    عصر حاضر میں خروج کا مسئلہ اور شبہات کا جائزہ

    3) موجودہ مسلم حکومتوں کی حیثیت : اقوالِ فقہا کو درست طور پر سمجھنے نیز موجودہ دور پر اُنہیں چسپاں کرنے کی غلطی سمجھنے کے لئے خلافت اور موجودہ مسلم ریاستوں کے فرق پر غور کرنے کی بھی سخت ضرورت ہے جس سے یہ واضح ہوسکے گا کہ اکثر و بیشتر مسلم ریاستیں خیر القرون کی خلافت تو کجا خلافتِ عثمانیہ و مغلیہ...
  4. محمد نعیم یونس

    عصر حاضر میں خروج کا مسئلہ اور شبہات کا جائزہ

    چہارم: حاکمیتِ کفر ایک ایسی ریاست جو شریعت کے برعکس کسی دوسری بنیاد (مثلاً ہیومن رائٹس) پر قائم ہوتی ہے۔ یہاں خود ساختہ قوانین کو شرع پر ترجیح دی جاتی ہے، حرام کو قوانین کا درجہ دے دیا جاتا ہے، حلال پر قدغنیں عائد کردی جاتی ہیں، شارع کے واضح احکامات کو بھی پس پشت ڈال کر دشمنانِ اسلام کے طریقوں...
  5. محمد نعیم یونس

    عصر حاضر میں خروج کا مسئلہ اور شبہات کا جائزہ

    سوم : امارتِ ضالہ کا معنیٰ ایسا مسلمان حکمران ہے جو انتہائی فاسق ،فاجر و ظالم ہو۔ تکبر ، ظلم و تعدی کی بنیاد ڈالتا ہے، نفس پرستی میں ہمت صرف کرتا ہے، فسق و فجور کے طریقوں کو عام کرنے کو اپنی پالیسی بنا لیتا ہے، بیت الما ل کو ذاتی ملکیت بنا لیتا ہے وغیرہ۔ گویا امارتِ جابرہ و ضالہ میں فرق کرنے...
  6. محمد نعیم یونس

    عصر حاضر میں خروج کا مسئلہ اور شبہات کا جائزہ

    دوم : امارتِ جابرہ سے مراد فاسق مسلمان حکمران ہے لیکن اس کا فسق انتہائی درجے کا نہیں ہوتا۔ یہ ایسا حاکم ہوتا ہے جس سے احکاماتِ شریعہ میں کوتاہی ہوجاتی ہے ، یعنی اطاعت ِنفس میں دائرۂ شریعت سے باہر نکل کر فسق و فجور میں مبتلا ہو جاتا ہے اور پھر اس پر پشیماں بھی نہیں ہوتا اور نہ ہی توبہ کی فکر کرتا...
  7. محمد نعیم یونس

    عصر حاضر میں خروج کا مسئلہ اور شبہات کا جائزہ

    اوّل: امارتِ عادلہ کا مفہوم یہ ہے کہ مسلمان حکمران عادل ہو جیسے عمر بن عبد العزیز، سلیمان بن عبد الملک، اورنگ زیب عالمگیروغیرہم ۔ یعنی نیابت رسولﷺ میں ظاہر شریعت حاکم کے ہاتھ سے نہ چھوٹتی ہو، نہ ہی فسق و فجور میں مبتلا ہوتا ہو۔ اگر معصیت میں مبتلا ہو بھی جائے تو اس پر دوام اختیار نہ کرتاہونیز...
  8. محمد نعیم یونس

    عصر حاضر میں خروج کا مسئلہ اور شبہات کا جائزہ

    ب ) خلافت ؍امارت؍ سلطنت سے مراد یہ ہے کہ نفاذِ شریعت و جہاد کے ساتھ ساتھ دنیاوی مقاصد، مثلاً مرغوبا تِ نفسانیہ ، مال وجاہ کی خواہش، اقربا پروری، اَمصار و بلدان پر تسلط اور طولِ حکومت کی آرزو وغیرہ بھی شامل حال ہوجاتے ہیں ۔ اس ہوا و ہوس کے بھی کئی مراتب ہیں جن کی بنا پر خلافت کی درجہ بندی کی...
  9. محمد نعیم یونس

    عصر حاضر میں خروج کا مسئلہ اور شبہات کا جائزہ

    الف) خلافتِ راشدہ: اس کا مفہوم یہ ہے کہ نیابت رسولﷺ میں بندگانِ خدا کی اصلاح ، امر بالمعروف ونہی عن المنکر ، نفاذ شریعت واعلاء کلمۃ اللہ کے لئے جہاد کے سوا ذاتی سطح پر ہرگز بھی کچھ مطلوب نہ ہو۔ یعنی اتباعِ نفس و مرغوباتِ نفسانیہ کا ہرگز بھی کوئی گذر نہیں ہوتا یہاں تک کہ رخصتوں ، مباحات و توسع کے...
  10. محمد نعیم یونس

    عصر حاضر میں خروج کا مسئلہ اور شبہات کا جائزہ

    پھر جیسے ہر ریاست کے ذمے چند اندرونی اور بیرونی مقاصد کا حصول اور اس کے لئے لائحۂ عمل وضع کرنا ہو تا ہے، اسی طرح خلافت کے بھی دو تقاضے ہیں: ریاست کے اندرونی معاملات کی سطح پر اقامتِ دین کے لئے نفاذ شریعت ، امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی بنیاد پر نظام اقتدار کی تشکیل اور بیرونی معاملات میں...
  11. محمد نعیم یونس

    عصر حاضر میں خروج کا مسئلہ اور شبہات کا جائزہ

    2) خلافتِ اسلامی کے درجات : خروج کے ضمن میں فقہاے کرام کے اقوال کی درست تعبیر بیان کرنے کےلئے اسلامی خلافت اور اس کے درجات پیش نظر رہنا بھی نہایت اہم امر ہے۔ ذیل میں اس کا مختصر خاکہ پیش کیا جاتا ہے: اسلامی خلافت وریاست (نظامِ اقتدار) کی بنیاد رسول اللہﷺ کی سیاسی نیابت ہے، یعنی یہ ماننا کہ...
  12. محمد نعیم یونس

    عصر حاضر میں خروج کا مسئلہ اور شبہات کا جائزہ

    چونکہ جمہوری نظام ریاست جس 'شیطانی انفرادیت'(یعنی ہیومن بینگ) کے وجود کا تقاضا کرتا ہے وہ انسانی فطرت کے کلیتاً منافی ہے، لہٰذا یہی وجہ ہے کہ دنیا کے کسی خطے میں آج تک جمہوری ریاست بذاتِ خود جمہوری طریقے سے نافذ نہیں کی جاسکی بلکہ اس کے لئے ابتدائی دور میں قتل و غارت گری اور جبر و استبداد سے کام...
  13. محمد نعیم یونس

    عصر حاضر میں خروج کا مسئلہ اور شبہات کا جائزہ

    درج بالا فرق کی وضاحت ہم جمہوریت کی مثال سے سمجھ سکتے ہیں۔ جمہوریت محض تبدیلی حکومت کے ایک مخصوص طریقے ( ووٹنگ) کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک مکمل ریاستی نظام ہے جس کا نقشہ کچھ یوں کھینچا جا سکتا ہے: جمہوری نظم ریاست کے کلیدی ادارے: مقننہ، بیوروکریسی (انتظامیہ ) وٹیکنوکریسی (سرمایہ دارانہ علوم کے...
  14. محمد نعیم یونس

    عصر حاضر میں خروج کا مسئلہ اور شبہات کا جائزہ

    حصہ اوّل: خروج کے ضمن میں چند اُصولی مباحث زیر بحث موضوع پر درست زاویہ نگاہ سے غور کرنے کے لئے چند اُصولی نکات کی وضاحت ضروری ہے، لہٰذا پہلے اُن کی مختصر وضاحت کی جاتی ہے: 1) ریاست و حکومت کا فرق : خروج کی بحث کو درست طورپر سمجھنے کے لئے حکومت و ریاست کا فرق سمجھنا نہایت ضروری امر ہے اور حقیقت...
  15. محمد نعیم یونس

    عصر حاضر میں خروج کا مسئلہ اور شبہات کا جائزہ

    مباحثِ مضمون چار حصوں میں تقسیم کئے گئے ہیں: 1. بنیادی مدعا یہ ہے کہ دورِ حاضر کی ریاستیں کسی بھی درجے میں خلافت اسلامیہ کے ہم پلہ نہیں بلکہ درحقیقت یہ سرمایہ دارانہ ریاستیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان ریاستوں کے خلاف خروج کی بحث اُصولاً غلط ہے کیونکہ خروج تو فاسق و فاجر مگر'اسلامی ریاست ' کے خلاف...
  16. محمد نعیم یونس

    عصر حاضر میں خروج کا مسئلہ اور شبہات کا جائزہ

    زیر نظر مضمون کے پیش نظر دو مقاصد ہیں: اوّلا ًاپنے موقف کو پیش کرنا (جس کا موقع پروگرام میں نہ مل سکا)، ثانیا دیگر شرکائے محفل کے موقف کا جائزہ پیش کرنا ۔ دھیان رہے نفس مضمون کا مقصد یہ ثابت کرنا نہیں کہ خروج کرنا ہر حال میں واجب ہے یا مصلحانہ اسلامی جدوجہد کرنا باطل ہے اور نہ ہی اس کا مقصد کسی...
  17. محمد نعیم یونس

    عصر حاضر میں خروج کا مسئلہ اور شبہات کا جائزہ

    شرکائے مجلس نے دلائل کے طور پر قرآنی آیات واحادیث سے بھی اپنے استدلال کو مزین فرمانے کی کوشش کی نیز اس سلسلے میں (سیاق و سباق سے کاٹ کر) کتبِ فقہ کی عبارات سے بھی اپنے دعوے کو تقویت پہنچانے کی کوشش کی گئی۔ ممانعتِ خروج کی حکمتوں پر انتہائی شدو مد کے ساتھ زور دیتے ہوئے کہا گیا کہ خروج سے منع کرنے...
  18. محمد نعیم یونس

    عصر حاضر میں خروج کا مسئلہ اور شبہات کا جائزہ

    چند روز1قبل ایک این جی او کی طرف سے راقم الحروف کو مکالمہ بعنوان 'عصر حاضر میں تکفیر وخروج' کے موضوع پر شرکت کی دعوت دی گئی جس میں مختلف مکاتبِ فکر کے علماے کرام نے شرکت فرمائی۔ چند وجوہات کی بنا پر راقم مکمل پروگرام میں شرکت نہ کرسکا، البتہ پروگرام کی ریکارڈنگ کے ذریعے شرکائے گفتگو کا مقدمہ اور...
  19. محمد نعیم یونس

    عصر حاضر میں خروج کا مسئلہ اور شبہات کا جائزہ

    عصر حاضر میں خروج کا مسئلہ اور شبہات کا جائزہ زاہد صدیق مغل ماہنامہ 'ساحل'سے متعارف ہونے والے کراچی کے فکری حلقے کے نمائندہ جناب زاہد صدیق مغل نے زیر نظر مضمون میں جمہوریت کا تجزیہ وتردید کرتے ہوئے خلافتِ اسلامیہ کے درجات متعین کئے ہیں۔ اُنہوں نے فی زمانہ خروج کی تحریکوں کی وجۂ جواز، اُمت ِمسلمہ...
  20. محمد نعیم یونس

    مجلس التحقیق الاسلامی با تصویر

    الحمد للہ ، ہم بھی اس کی زیات کر چکے ہیں۔
Top