الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
چنانچہ آج ہم تاریخ کے ایک ایسے منفرد موڑ پر کھڑے ہیں جہاں زمانے کی گردش دیکھنے سے تعلق رکھنے لگی ہے۔ ملت کا ہر فردآج جس قدر اہم ہوگیا ہے شاید وہ ہمارے اندازے سے باہر ہو۔ سب سے بڑھ کر گلہ ہمیں اپنے اس فرد سے ہوگا جو ’فیصلے کی اس گھڑی‘ کو قریب لانے میں کوئی بھی کردار ادا نہ کر رہا ہو، جبکہ یہ...
پس یہ ایک زبردست co-incidence ہے کہ ایک ملحد تہذیب بڑھاپے سے دوچار ہے تو عین دوسری طرف خدا آشنائی پر مبنی ایک جاندار اور نوخیز تہذیبی عمل آہستہ مگر تسلسل کے ساتھ رونما اور روز بروز نمایاں تر ہو رہا ہے، یہاں تک کہ خود ان کے اپنے گھروں میں مقبول ہورہا ہے۔ ڈیموگرافی کے کئی سارے بم الگ پھٹنے والے...
ایسی جنگ کا تو ’نتیجہ‘ اس قدر دلچسپ نہ ہونا چاہیے جس قدر کہ خود اس جنگ کے ’دواعی اور محرکات‘! پس اس ’جنگی سلسلہ‘ warfare کا نتیجہ دیکھنے کیلئے ہم زندہ رہیں یا نہیں، بلکہ تو یوں کہیے اس جنگ کا نتیجہ چاہے کچھ بھی رہے، اس کے تو ’غبار‘ سے کچھ حصہ پا لینا ہی ہمارے لئے کسی سعادت سے کم نہیں! پس آج کا...
یہ در اصل ایک خدائی انتظام ہے کہ وہ انسانی دنیا کے اندر تصادم اور کشمکش کا عنوان مسئلہء حق و باطل کو بہر حال رہنے دے اور ’مسئلہء ایمان و کفر‘ کو دنیا کے ایجنڈے سے غائب نہ ہونے دے۔ ورنہ ’شہباز اور ممولے‘ کا بھلا کیا مقابلہ؟؟!
واﷲ غالب علیٰ امرہ ولکن اکثر الناس لا یعلمون!!!۔ (1)
چنانچہ یہ جنگ اگر...
پس لازمی تھا کہ باقی سب اقوام یہاں حاشیائی ہوکر رہیں اور ’میدان‘ کے اندر یہی دو ملتیں باقی رہ جائیں۔ ایک ہم اور ایک وہ۔ داعیانِ ایمان اور داعیانِ الحاد۔ اندازہ کرلیجئے کتنی ہی قومیں ترقی، ٹیکنالوجی اور معیشت وغیرہ میں ہم سے آگے ہیں۔ چین، جاپان اور بھارت وغیرہ سے ہمارا کوئی موازنہ ہی نہیں۔...
الحاد.. اور قدروں کی پائمال
مغرب کے فکری وجود کا چوتھا عنصر جدید الحاد ہے
تاریخ کے بدترین ملحد آج کے مغرب نے ہی پیدا کئے ہیں۔ ڈارونزم، مارکسزم، کمیونزم، کیپیٹل زم، ریلیٹوزم، لبرلزم، سلطانیِ جمہوراور نجانے کیا کیا کفر انہی کی سوغات ہیں، جوکہ ایسے بڑے بڑے کفر تھے کہ کرہء ارض کے ایک کنارے سے دوسرے...
یا اللہ اپنی رحمت کے دروازے کھول دے
ہمارے عیب اور گناہ معاف فرمادے
اپنے رحم وکرم کی ہر جگہ بارش کردے
ہمارے سینوں میں سے حسد وبغض صاف کردے
اپنی رحمت سے محروم نہ کرنا
آج اپنی خاص رحمت کردے
یا اللہ ! یہ سچ ہے کہ ہم مجرم ہیں
مگر تیرے ہی بندے ہیں ، ہمیں معاف کردے
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ
نام کے لکی ہیں مگرسب سے زیادہ مشکلات کا سامنا آج کل ان محترم بھائی کو ہے۔ ۔۔ابتسامہ
اللہ تعالی لکی بھائی کی مشکلات کو آسان فرمائے۔ آمین
میں یہ کہنا چاہوں گا فطرت بلکل عقلی توجیہ پر پوری اترتی ہے۔ دراصل انسانی فطرت بسا اوقات کسی وجہ سے اپنی اصل سے دور ہوجاتی ہے مثلا میڈیا، غلط گھریلو حالات، غلط صحبت وغیرہ مگر جب اسے اللہ تعالٰی کی طرف سے ہدایت موصول ہوتی ہے اور وہ سچائی کو پہچان لیتی ہے۔ پھر وہ بیدار ہوجاتی ہے اور اپنی اصل کی طرف...
یہ تمام بیان کردہ کچھ مثالیں ہیں لاتعداد اشارات اور شہادتوں میں سے جو کائنات میں موجود ہیں جو کہ اللہ تعالیٰ کی عظمت کو بیان کرتی ہیں جو ہمارا خالق ہے۔ یہ بہت ہی غیر عقلی اور نامناسب ہوگا یہ سوچنا کہ کائنات ایک حادثہ کی وجہ سے وجود میں آئی ہے بغیر کسی خالق کے۔ یہ نپی تلی و تخمین شدہ تخلیق ظاہر...
*زمین سے نکلتی زہریلی گیسیں جو کہ زمانہ قدیم سے ہی زمین کے اندر سے آج تک نکل رہی ہیں، زمین کی فضا کو آلودہ کردیتی ہیں۔ یہ فضا ہمارے نظام تنفس سے ہم آہنگ ہوا پر مشتمل ہے۔ ہوا فطری طور پر صاف ہوتی ہے اور اپنے اندر وہ تمام ضروری گیسیں رکھتی ہے جن کی نہ صرف ہم کو بلکہ تمام اجسام کو زندہ رہنے کے لیے...
* اسی طرح اگر چاند اور زمیں کے درمیان فاصلہ گھٹ یا بڑھ جائے تو نتیجتاً سمندر کے مدو جزر میں تبدیلی ہوجائے گی اور پانی کی سطح بلند ہوجائے گی۔ ظاہر ہے کہ نتیجہ زمین کی تباہی ہوگا۔ کس نے یہ پیمائش درست طور پر مقرر کی ہے۔ یہ اللہ ہے۔
* فضائی تہہ کی موٹائی جس میں ہوا میں مختلف گیسوں کی متناسب مقدار...
* زمین اپنے مدار میں ایک مرتبہ چوبیس گھنٹے میں گھومتی ہے اور سورج کے گرد ایک سال میں ۔ یہ بہت ہی نپا تلا انتظام ہے۔
اگر کوئی زمین کے اس معمول میں مداخلت ہوجائے یا ذرا سی تبدیلی واقع ہوجائے یعنی اگر اس کی گردش کی رفتار میں کچھ رخنہ ہوجائے تو دن و رات کے طول میں تبدیلی ہوجائے گی۔ یہ دن و رات کا...
* اس زمیں کا حجم اور موٹائی، سورج اور چاند کے درمیان فاصلہ، سورج کا درجہ حرارت اور سورج کی شعاعوں کا زمین تک پہنچنا تاکہ زندگی ممکن ہوسکے، زمین میں موجود پانی کی مقدار، زندہ اجسام کے لیے مناسب مقدار میں آکسیجن اور نائٹروجن کا ہوا میں تناسب، یہ سب ایک متناسب اور منظم کائنات کے جز ہیں اور ٹھیک...
زاہد: اللہ تبارک تعالیٰ کا شکر ہے جس نے تم کو درست راستہ دکھایا اور اپنے (اللہ) کے وجود کی سچائی کو ثابت کیا۔ اب میں تم کو کچھ مزید وضاحت کرنا چاہتا ہوں۔ دیکھو ہم ہوا کو محسوس کرسکتے ہیں اور ہوا کے وجود کے قائل ہیں مگر ہوا کو دیکھ نہیں سکتے کیونکہ جن چیزوں سے ہوا مرکب ہے وہ ہماری بصری حدود سے...
طالب: آپ کے بیان کردہ نکات اور غیرجانبددارنہ ذہن کے ساتھ سوچنے کے بعد میں اس قابل ہوا ہوں کہ اس بات کا اقرار کروں کہ میری پچھلی زندگی انتہائی جہالت میں گزررہی تھی باوجود اسکے بہت ہی واضح علامتیں میرے اردگرد ہی موجود تھیں۔ مگر میں نے اس زاویہ سے کبھی نہیں سوچا جس کو آپ نے آج مجھ پر آشکار کیا ہے۔...
طالب: میرے نزدیک فرق ذہنی شعور، ادراک و محسوسات کا ہے۔
زاہد: زبردست۔ کیا آپ نے اس فرق کا مشاہدہ کیا ہے؟
طالب: میں سمجھتا ہوں کہ میں اس فرق کو محسوس کرسکتا ہوں
زاہد: تو کیا آپ نہیں سمجھتے کہ آپ اس خدا پر ایمان لے آئیں جس نے ان محسوسات کو آپ کے اندر ڈال دیا ہے تاکہ آپ محسوس کریں اور سوچیں۔ سوچیں...