الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
اپنے مراسلہ جات "تازہ ترین" یا "نئی پوسٹس" میں نظر نہیں آتے۔ اس کے لیے آپ کو" آپ کے موضوعات اور پوسٹس"میں جانا ہوتا ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ لعن اللہ الیھود والنصٓاری اتخذوا قبور انبیائھم وصٓالحیھم مساجد۔ البخاری۔ مسلم۔
اللہ تعالٰی یہود و نصاریٰ پر لعنت فرمائے جنہوں نے اپنے پیغمبروں اور صالحین کی قبروں کو مسجدیں بنا لیا۔
عمررضی اللہ عنہ کی خلافت میں عراق میں دانیال علیہ السلام کی قبر دریافت ہوئی تو...
السلام علیکم ورحمۃ اللہ !
اس کے لیے آسان طریقہ ہے
ڈریگ اینڈ ڈراپ
تصوریر کو پکڑیں اور یہاں پر چھوڑ دیں۔
اور یہاں پر چھوڑنے کے بعد
آنے والی آپشن میں سے
پوری تصویر کی آپشن استعمال کریں
دیوبندیوں نے اپنے مسلک کے دفاع کے لئے قرآن و حدیث کو بھی معاف نہیں کیا اور اپنے مسلک کو صحیح اور درست ثابت کرنے کے لئے قرآن و حدیث میں تحریف کر ڈالی۔۔۔۔دلائل کی روشنی میں حقائق جاننے کے لیےقرآن وحدیث میں تحریف کا مطالعہ کریں۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
محترم وہم بھائی!
آپ نے جس طریقے سے اراکین کو ٹیگ کرنے کی کوشش کی ہےوہ ناکام ہوئی ہے۔
کسی رکن کو ٹیگ کرنے کے لیے فورم میں ایک سائن استعمال ہوتا ہے جو کہ آپ اپنے" کی بورڈ" سے "شفٹ کی" اور "2" کو پریس کر کے حاصل کرسکتے ہیں ، اس طرح @
اس سائن کے فورا بعد آپ کسی رکن کا نام...
اس طرح وقت میں سفر ابھی تک ایسی دہری اور متضاد صفت کا حامل ہے جس نے سب کو پریشان کر رکھا ہے..
یہ بیک وقت ممکن بھی ہے اور نا ممکن بھی..
ممکن اس طرح کہ یہ کبھی کبھی ہوجاتا ہے..
اور نا ممکن اس طرح کہ کسی بھی زمانے میں اس کے راز سے پردہ اٹھانے اور اس کے وقوع ہونے کے قاعدوں کو سمجھنے کا کوئی ذریعہ...
لیکن نوے کی دہائی کے آخر کے سائنسدانوں نے معاملے کو بالکل ایک الگ زاویے سے دیکھا..
ان کا خیال تھا کہ جو کچھ ہوا تھا وہ عام معنوں میں فوری منتقلی نہیں تھی بلکہ زمان ومکان میں منتقلی تھی..
اس نئی سوچ کے ساتھ انہوں نے تجربے کا دوبارہ آغاز کیا، معاملے کو درست طور پر سمجھنے کے لیے انہوں نے سکے کا...
اسی کی دہائی کی شروع میں سائنسدانوں کا پہلا خواب ایک ایسے مرحلے تک رسائی تھی جسے وہ رابطے یعنی کمیونیکیشن اور کائنات میں منتقلی کی انتہاء قرار دے سکیں، اسے انہوں نے “فوری منتقلی” کا نام دیا..
فوری منتقلی کی اصطلاح کا مطلب ہے ایک جگہ سے دوسری ایسی جگہ تک منتقلی جو پہلی جگہ سے بہت زیادہ فاصلہ...
لیکن اس سے مایوس ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ تمام حیران کن نظریات جنہوں نے زمین اور علم کی تاریخ کا رخ موڑا اسی طرح شروع ہوئے تھے..
نا ممکن سی لگنے والی باتیں..
چنانچہ نئے حل کی تلاش کے لیے سائنسدانوں نے اپنی فائلیں دوبارہ سے چیک کیں کہ شاید کہیں کوئی پرانا خیال ہی وقت میں سفر کو ممکن بنا سکے...
مگر ٹھہریے..
کیا وقت میں سفر حقیقت ہے یا خیال ہے؟!
کیا کبھی ایسا وقت آئے گا جب انسان وقت میں ماضی اور مستقبل کا سفر کر سکے گا جیسا کہ ویلز کی مشہور کہانی میں آیا ہے..
یعنی کیا یہ عملی طور پر ممکن ہوسکے گا؟!
چونکہ سوال قائم تھا چنانچہ سائنسدانوں کی کوششیں بھی جاری تھیں..
وہ بھی کم سے کم تین برِ...
جب ورم ہول دریافت ہوئے تو بحث کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوگیا اور ایک بار پھر وجوہیت کو بطور دلیل پیش کر کے کسی انسان کے ماضی میں جانے کو نا ممکن قرار دیا گیا چاہے اس کی کتنی ہی علمی توجیہ کیوں نہ ہو..
یہاں شاید معاملے کو سلجھانے کی غرض سے ایک نیا نظریہ پیش کیا گیا..
نئے نظریے کے مطابق ماضی کے مسافر...
کوئی فلکیات دان جب کسی ایسے ستارے کا مشاہدہ کر رہا ہوتا ہے جو ہم سے سو نوری سال دور ہو تو وہ یہ اچھی طرح جانتا ہے کہ وہ دراصل یہ دیکھ رہا ہے کہ ستارہ ایک سو نوری سال پہلے کیسا تھا نا کہ وہ اب کیسا نظر آتا ہے..
اس طرح وہ علمی طور پر ستارے کا ماضی دیکھ رہا ہوتا ہے نا کہ حال..
ہم فرض کرتے ہیں کہ...
بیسویں صدیں کی اسی کی دہائی میں امریکی سینما نے سائنس فکشن کا ایک بہترین اور یادگار سلسلہ بعنوان “مستقبل کی طرف واپسی” پیش کیا جسے سٹیفن سپلبرگ نے ڈائرکٹ کیا تھا..
اس سلسلے میں نوجوان ہیرو “مارٹی” ایک کار کے ذریعے وقت میں ماضی اور مستقبل کا سفر کرتا ہے تاکہ اپنے خاندان کی حالت بدل سکے، اپنے والد...
اس کا جواب بہت آسان ہے..
سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ ہم نے اب تک جس قدر ترقی کی ہے وہ ایک ایسا طاقتور خلائی جہاز بنانے سے قاصر ہے جو کسی سیاہ شگاف تک پہنچ کر اس کے اندر سے گزرنے کی کوشش کر سکے، کیونکہ اس کے لیے عظیم تر توانائی کی ضرورت ہوگی، سائنسدانوں نے اندازہ لگایا ہے کہ یہ اس توانائی کا دس...