الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
(٦)وَإِمَّا يَنزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللَّـهِ ۖ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ﴿٣٦﴾ فصلت
(٦)اور اگر شیطان كی طرف سے كوئی وسوسہ آئے تو اللہ كی پناہ طلب كرو، یقینا وہ بہت ہی سننے والا جاننے والا ہے(36)
(٧) قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ ﴿١﴾ مَلِكِ النَّاسِ ﴿٢﴾...
استعاذہ کا حکم اور اس کے صیغے (الفاظ):
قرآن مجید کی قراٴت کرتے وقت استعاذہ مطلوب ہے اور جمہور کا مذہب یہ ہے کہ یہ مندوب یعنی مستحب ہے (جس کے ترک کرنے میں کوئی گناہ نہیں ہے)۔البتہ امام عطاء کے بارے میں ذکر کیا جاتا ہے کہ انہوں نے اس کو واجب کہا ہے۔اور اس کے صیغہ اداء کے لئے جمہور نے ”أَعُوذُ...
المُسْتَعَاذُ مِنْہُ:
”مُسْتَعَاذَہُ مِنْهُ“سے مراد ہر وہ شر ہے جو انسان کو پہنچتا ہے ۔امام ابن قیم نے اس شرکے انواع کی اس طرح تلخیص کی ہےکہ :وہ شر جو انسان کو پہنچتا ہے وہ دو قسموں سے خالی نہیں ہوگا۔یا تو وہ گناہ ہونگے جو اس سے سر زد ہوتے ہیں اس کا تعلق خود انسان سے ہے یا وہ شر جو انسان کو کسی...
المُسْتَعَاذُ بِهِ :
”یا مُسْتَعَاذ“ ۔یہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ہے۔ اور فقط اللہ سے اور اس کے اسماء حسنیٰ اور صفات العلیٰ اور کلمات تامہ کے ذریعے سے ہی استعاذہ جائز ہے اور اللہ کے سوا مخلوق میں سے کسی سے استعاذہ جائز نہیں ہے۔ اور اللہ تعالیٰ ایمان لانے والے جنات کی بات نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں ...