الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
غلط فہمی
علامہ محمد طاہر گجراتی نے اپنی مشہور تصنیف '' قانون الاخبار الموضوعہ والرجال الضعفاً'' میں تقریباً دو ہزار ایسے اشخاص کے نام دئیے ہیں، جو زندگی بھر احادیث گھڑتے رہے۔ (دو اسلام ص ۷۹)
ازالہ
دو ہزار کی تعداد صحیح نہیں کتاب مذکور میں تقریباً ایک ہزار راویوں کا حال ہے، جن میں سے اکثر ضعیف...
غلط فہمی
برق صاحب تحریر فرماتے ہیں:
مغیرہ شعبی، اعمش اور قاسم جیسے علمائے تابعین جمع احادیث کو ناجائز سمجھتے رہے۔ (دو اسلام ص ۷۸)
ازالہ
یہ روایتیں سراسر باطل اور افترا ہیں:
امام شعبی کی روایت کے دو طریق ہیں۔ اول میں عبداللہ بن یحییٰ اور عمر بن محمد جمحی مجہول ہیں، اور علی بن عبدالعزیز اور محمد...
حدیث مذکور اور مزید غلط فہمیاں
اس حدیث پر برق صاحب نے تین مادی اعتراض کیے ہیں، ان کا جواب اتنا ہی کافی ہے کہ '' فعال لما یرید '' (اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے کرتا ہے) روحانی باتوں کو مادی ترازو میں تولنا، کوئی مناسب فعل نہیں، بہرحال برق صاحب کا پہلا اعتراض یہ ہے کہ '' جب خطا کاری کی استعداد ہی سے...
اس قسم کی آیات قرآن مجید میں بیسیوں مقامات پر بیان ہوئی ہیں، ان آیات سے ثابت ہوتا ہے کہ افکار اور خیالات کا مرکز سینہ ہے، اب بتائیے سینہ میں دل ہے یا دماغ ، ظاہر ہے کہ سینہ میں تو دل ہی ہے، تو پھر مرکز خیال دل ہوا، نہ کہ دماغ کیونکہ دماغ تو کھوپری میں ہے، ایک اور آیت سنیے:
{ لَھُمْ قُلُوْبٌ...
غلط فہمی
برق صاحب تحریر فرماتے ہیں:
دل کے دو حصے ہیں... دل ایک پمپ ہے... یہ صرف گوشت کا ایک لوتھڑا ہے، جو ہاتھ پاؤں کی طرح لذت والم کا احساس نہیں نہیں کرتا، نہ ہی وہ خیر و شر کا محرک، تمام افکار، جذبات، خیالات اور تصورات کا مرکز دماغ ہے ، خیر و شر کی تحریک یہیں پیدا ہوتی ہے ، اور ارادے یہیں...
غلط فہمی
برق صاحب تحریر فرماتے ہیں:
ایک اور حدیث ملاحظہ ہو۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے کہ آپ کے پاس جبریل آیا، آپ کو پکڑا، زمین پر گرایا، سینہ چیر کو دل نکالا، پھر دل کو چیرا، اور ایک ٹکڑے کے متعلق کہا کہ یہ شیطان والا حصہ ہے، اس حصہ کو سونے کے...
غلط فہمی
برق صاحب تحریر فرماتے ہیں:
اتنی کانٹ چھانٹ کے بعد آپ کی بعض احادیث بدستور محل نظر ہیں، مثلاً عتبان بن مالک کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضور سے التماس کی کہ وہ میرے گھر میں آکر نماز پڑھیں، آپ نے یہ التجا قبول فرمائی، آپ کے ہمراہ چند صحابہ بھی تشریف لائے، صحابہ نے منافقین کا ذکر چھیڑ...
غلط فہمی
بہرحال جو احادیث آپ (حضرت انس رضی اللہ عنہ ) سے مروی ہیں، ان کی تعداد ۱۲۸۶ ہے، جن میں سے ۱۶۸ کی صحت پر ائمہ حدیث کا اتفاق ہے، اور باقی ۱۱۱۸ کو ناقابل توجہ سمجھا جانا ہے، امام بخاری نے ان متفقہ احادیث میں سے صرف ۸۳ نقل کی ہیں، مسلم نے ۷۱ اور باقی کو مشکوک سمجھ کر نظر انداز کردیا۔ (دو...
غلط فہمی
حضرت انس رضی اللہ عنہ کے متعلق برق صاحب تحریر فرماتے ہیں:
آپ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم خاص تھے، اور عمر میں بہت چھوٹے، یعنی جب حضور مدینہ میں تشریف لائے تھے تو انس رضی اللہ عنہ کی عمر صرف ساڑھے نو برس تھی ، اور رحلت رسول کے وقت تقریباً بیس برس، اپنے اردگرد نظر ڈال کر...
خلاصہ
صحیح مسلم کی حدیث سے قرآن و حدیث کو یکجا لکھنے کی ممانعت ہے اور سنن ابوداؤد کی حدیث میں احادیث کو علیحدہ لکھنے کی اجازت، لہٰذا دونوں میں کوئی تضاد نہیں، اور دونوں صحیح ہیں مزید برآں کتابت حدیث کی احادیث متواتر ہیں، اور اس لحاظ سے قطعی الصحت ہیں۔
انتباہ: دو اسلام میں غالباً کتابت کی غلطی...
غلط فہمی
برق صاحب تحریر فرماتے ہیں:
ابوداؤد میں یہ حدیث ملتی ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ کیا میں آپ کے اقوال لکھ سکتا ہوں تو حضور نے فرمایا نعم انی لا اقوال الاحقا بیشک لکھ لیا کرو، اس لیے کہ میں ہمیشہ سچ بولتا ہوں، حیرت ہے کہ جس ہستی نے...
باب ۲
'' تدوین حدیث''
غلط فہمی
برق صاحب تحریر فرماتے ہیں:
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جمع احادیث کے خلاف تھے۔ (دو اسلام ص ۷۰)
ازالہ
صحابہ کرام جمع احادیث کے خلاف نہیں تھے، مفصل جواب باب اول میں دیا جاچکا ہے، اور متعدد صحابہ کرام کے صحائف کا تذکرہ بھی اسی باب میں کردیا گیا ہے، وہیں ملاحظہ فرمائیں،...
باب اول کا خلاصہ
اس باب میں ائمہ دین کے جو اقوال برق صاحب نے نقل فرمائے ہیں ان میں سے اکثر گھڑے ہوئے اور ان پر بہتان ہیں، اور جو صحیح ہیں ان کی وضاحت اوپر کردی گئی ہے برق صاحب نے ان موضوعہ اقوال کو صحیح سمجھا۔ اس لیے نقل فرمایا: بہرحال یہ برق صاحب بھی مانتے ہیں کہ یہ اقوال احادیث صحیحہ کی مخالفت...
غلط فہمی
ابوبکر بن عیاش نے فرمایا تھا (جس کو برق صاحب نے اعتراضا نقل کیا ہے)
خدا کی قسم مجھے فساق سے اتنا خطرہ محسوس نہیں ہوتا، جتنا اہل حدیث سے۔ (دو اسلام ص ۶۹)
ازالہ
یہ مغیرہ کا قول ہے، اس قول کی سند صحیح نہیں، اس کا راوی اسحاق بن ابراہیم وجال ہے (تذکرۃ الموضوعات ص ۲۳۸) لہٰذا یہ روایت جھوٹی...
غلط فہمی
برق صاحب تحریر فرماتے ہیں:
ایک مرتبہ امام اعمش نے طلبہ حدیث سے کہا مجھے حدیث حنظل سے بھی زیادہ کڑی معلوم ہوتی ہے تم جس شخص کے قریب جاتے ہو، اسے جھوٹ بولنے (یعنی احادیث پڑھنے) کی ترغیب دیتے ہو۔ (دو اسلام ص ۶۸)
ازالہ
امام اعمش کے اصل الفاظ یہ ہیں:
لْد رود تموہ حتی صارفی حلقی امر من العلقم...
غلط فہمی
برق صاحب تحریر فرماتے ہیں:
ایک دفعہ چند طلباء حدیث سفیان بن عینیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو آپ نے انہیں دیکھ کر فرمایا: تم میری آنکھ کی جلن ہو، اور ساتھ ہی کہا، اگر آج عمر بن خطاب زندہ ہوتے اور ہم سب کو دیکھ پاتے تو مار مار کر ہمارا پلستر بگاڑ دیتے۔ (دو اسلام ص ۶۷)
ازالہ
یہ بھی کذب و...
غلط فہمی
برق صاحب تحریر فرماتے ہیں:
محمد بن سلام حضرت عمر کے اس قول کے راوی ہیں کہ میں نے حدیث سے بہتر کوئی علم اور اہل حدیث سے زیادہ ذلیل کوئی مخلوق نہیں دیکھی۔ (دو اسلام ص ۶۶۔۶۷)
ازالہ
اول تو اس قول کی سند معتبر نہیں، پھر یہ عقلاً بھی محال ہے کہ جس چیز کو اشرف کہا جائے اس کے حاملین کو ذلیل کہا...
غلط فہمی
برق صاحب تحریر فرماتے ہیں:
سفیان ثوری کا قول ہے '' انا فی الحدیث منذستین سنۃ وردوت ان خرجت منہ کفافا لاعلی ولا لی'' میں گزشتہ ساٹھ برس سے حدیث کی دلدل میں پھنسا ہوا ہوں۔ اور اب اس سے اس حالت میں نکلنا چاہتا ہوں کہ اس کے فائدہ اور نقصان ہر دو سے محفوظ رہوں۔(دو اسلام ص ۶۶)
ازالہ
یہ روایت...
غلط فہمی
برق صاحب تحریر فرماتے ہیں:
امام داؤد طائی سے کسی نے پوچھا کہ آپ احادیث کی روایت کیوں نہیں کیا کرتے ''فرمایا میں بچوں کا کھلونا نہیں بننا چاہتا۔'' (دو اسلام ص ۶۴)
ازالہ
اس روایت سے یہ ثابت ہوا کہ طلباء حدیث ان کی غلطیاں پکڑتے تھے اور وہ اس سے بچنا چاہتے اور یہ عبارت خود ان سے مروی ہے،...
غلط فہمی
برق صاحب تحریر فرماتے ہیں:
ابی الدرداء (صحابی ) کہتے ہیں آؤ میں تمہیں بتاؤں کہ سب سے بہتر عمل جس سے تمہارے مدارج بہت بلند ہو جائیں، کون سا ہے؟ ایسا عمل جو سونے اور چاندی کی قربانی اور جہاد سے بھی بہتر ہو، وہ جہاد جس میں تم دشمن کا سر کاٹتے ہو، اور وہ تمہارا، لوگوں نے کہا، فرمائیے کہا...