• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نتائجِ‌تلاش

  1. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    ثُمَّ رَ‌دَدْنَاهُ أَسْفَلَ سَافِلِينَ ﴿٥﴾ پھر اسے نیچوں سے نیچا کر دیا۔ (۱) ۵۔۱ یہ اشارہ ہے انسان کے ارذل عمر (بہت زیادہ عمر) کی طرف۔ جس میں جوانی اور قوت کے بعد بڑھاپا اور ضعف آجاتا ہے اور انسان کی عقل اور ذہن بچے کی طرح ہو جاتا ہے۔ بعض نے اس سے کردار کا وہ سفلہ پن لیا ہے جس میں مبتلا ہو کر...
  2. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ ﴿٤﴾ یقیناً ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا۔ (١) ٤۔١ یہ جواب قسم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر مخلوق کو اس طرح پیدا کیا ہے کہ اس کا منہ نیچے کو جھکا ہوا ہے صرف انسان کو دراز قامت، سیدھا بنایا ہے جو اپنے ہاتھوں سے کھاتا پیتا ہے۔ پھر اس کے اعضا کو...
  3. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    وَهَـٰذَا الْبَلَدِ الْأَمِينِ ﴿٣﴾ اور اس امن والے شہر کی۔ (١) ٣۔١ اس سے مراد مکہ مکرمہ ہے، جس میں قتال کی اجازت نہیں ہے۔ علاوہ ازیں جو اس میں داخل ہو جائے، اسے بھی امن حاصل ہو جاتا ہے۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ دراصل تین مقامات کی قسم ہے، جن میں سے ہر ایک جگہ میں جلیل القدر، صاحب شریعت پیغمبر...
  4. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    سورة التین (سورہ تین مکی ہے اور اس میں آٹھ آیتیں ہیں۔) بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے. وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ ﴿١﴾ قسم ہے انجیر کی اور زیتون کی۔ وَطُورِ‌ سِينِينَ ﴿٢﴾ اور طور سینین کی۔ (١) ٢۔١ یہ وہی کوہ طور ہے...
  5. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    وَإِلَىٰ رَ‌بِّكَ فَارْ‌غَب ﴿٨﴾ اور اپنے پروردگار ہی کی طرف دل لگا۔ (١) ٨۔١ یعنی اسی سے جنت کی امید رکھ، اسی سے اپنی حاجتیں طلب کر اور تمام معاملات میں اسی پر اعتماد اور بھروسہ رکھ۔
  6. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    فَإِذَا فَرَ‌غْتَ فَانصَبْ ﴿٧﴾ پس جب تو فارغ ہو تو عبادت میں محنت کر۔ (١) ٧۔١ یعنی نماز سے، یا تبلیغ سے یا جہاد سے، تو دعا میں محنت کر، یا اتنی عبادت کر کہ تو تھک جائے۔
  7. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ‌ يُسْرً‌ا ﴿٥﴾ پس یقیناً مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ‌ يُسْرً‌ا ﴿٦﴾ بیشک مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ (۱) ٦۔۱ یہ آپ ﷺ کے لیے اور صحابہ رضی الله عنہم کے لیے خوشخبری ہے کہ تم اسلام کی راہ میں جو تکلیفیں برداشت کر رہے ہو تو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے بعد ہی اللہ...
  8. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    الَّذِي أَنقَضَ ظَهْرَ‌كَ ﴿٣﴾ جس نے تیری پیٹھ توڑ دی تھی۔ وَرَ‌فَعْنَا لَكَ ذِكْرَ‌كَ ﴿٤﴾ اور ہم نے تیرا ذکر بلند کر دیا۔ (۱) ٤۔۱ یعنی جہاں اللہ کا نام آتا ہے وہیں آپ ﷺ کا نام بھی آتا ہے۔ مثلاً اذان، نماز اور دیگر بہت سے مقامات پر، گزشتہ کتابوں میں آپ ﷺ کا تذکرہ اور صفات کی تفصیل ہے، فرشتوں میں...
  9. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    وَوَضَعْنَا عَنكَ وِزْرَ‌كَ ﴿٢﴾ اور تجھ پر سے تیرا بوجھ ہم نے اتار دیا۔ (١) ٢۔١ یہ بوجھ نبوت سے قبل چالیس سالہ دور زندگی سے متعلق ہے۔ اس دور میں اگرچہ اللہ نے آپ ﷺ کو گناہوں سے محفوظ رکھا، کسی بت کے سامنے آپ ﷺ سجدہ ریز نہیں ہوئے، کبھی شراب نوشی نہیں کی اور بھی دیگر برائیوں سے دامن کش رہے، تاکہ...
  10. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    سورة الشرح (سورہ الم نشرح مکی ہے اور میں آٹھ آیتیں ہیں۔) بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔ أَلَمْ نَشْرَ‌حْ لَكَ صَدْرَ‌كَ ﴿١﴾ کیا ہم نے تیرا سینہ نہیں کھول دیا۔ (١) ١۔١ گزشتہ سورت میں تین انعامات کا ذکر تھا، اس سورت...
  11. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَ‌بِّكَ فَحَدِّثْ ﴿١١﴾ اور اپنے رب کی نعمتوں کو بیان کرتا رہ۔ (۱) ۱۱۔۱ یعنی اللہ نے تجھ پر جو احسانات کیے ہیں، مثلا ہدایت اور رسالت و نبوت سے نوازا، یتیمی کے باوجود تیری کفالت و سرپرستی کا انتظام کیا، تجھے قناعت و تونگری عطا کی وغیرہ۔ انہیں جذبات تشکر و ممنونیت کے ساتھ بیان...
  12. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    وَأَمَّا السَّائِلَ فَلَا تَنْهَرْ‌ ﴿١٠﴾ اور نہ سوال کرنے والے کو ڈانٹ ڈپٹ۔ (۱) ۱۰۔۱ یعنی اس سے سختی اور تکبر نہ کر، نہ درشت اور تلخ لہجہ اختیار کر۔ بلکہ جواب بھی دینا ہو تو پیار اور محبت سے دو۔
  13. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    فَأَمَّا الْيَتِيمَ فَلَا تَقْهَرْ‌ ﴿٩﴾ پس یتیم پر تو بھی سختی نہ کیا کر۔ (۱) ۹۔۱ بلکہ اس کے ساتھ نرمی و احسان کا معاملہ کر۔
  14. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    وَوَجَدَكَ عَائِلًا فَأَغْنَىٰ ﴿٨﴾ اور تجھے نادار پا کر تونگر نہیں بنا دیا؟ (۱) ۸۔۱ تونگر کا مطلب ہے، اپنے سوا تجھ کو ہر ایک سے بے نیاز کر دیا، پس تو فقر میں صابر اور غنا میں شاکر رہا ہے۔ جیسے خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی فرمان ہے کہ "تونگری، ساز و سامان کی کثرت کا نام نہیں ہے، اصل تونگری...
  15. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    وَوَجَدَكَ ضَالًّا فَهَدَىٰ ﴿٧﴾ اور تجھے راہ بھولا پا کر ہدایت نہیں (١) دی۔ ٧۔١ یعنی تجھے دین شریعت اور ایمان کا پتہ نہیں تھا، ہم نے تجھے راہ یاب کیا، نبوت سے نوازا اور کتاب نازل کی، ورنہ اس سے قبل تو ہدایت کے لیے سرگرداں تھا۔
  16. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيمًا فَآوَىٰ ﴿٦﴾ کیا اس نے یتیم پا کر جگہ نہیں دی؟ (١) ٦۔١ یعنی باپ کے سہارے سے بھی تو محروم تھا، ہم نے تیری دست گیری اور چارہ سازی کی۔
  17. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَ‌بُّكَ فَتَرْ‌ضَىٰ ﴿٥﴾ تجھے تیرا رب بہت جلد (انعام) دے گا اور تو راضی (و خوش) ہو جائے گا۔ (١) ٥۔١ اس سے دنیا کی فتوحات اور آخرت کا اجر و ثواب مراد ہے۔ اس میں وہ حق شفاعت بھی داخل ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی امت کے گناہ گاروں کے لیے ملے گا۔
  18. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    وَلَلْآخِرَ‌ةُ خَيْرٌ‌ لَّكَ مِنَ الْأُولَىٰ ﴿٤﴾ یقیناً تیرے لیے انجام آغاز سے بہتر ہو گا۔ (١) ٤۔١ یا آخرت دنیا سے بہتر ہے۔ دونوں مفہوم معانی کے اعتبار سے صحیح ہیں۔
  19. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    مَا وَدَّعَكَ رَ‌بُّكَ وَمَا قَلَىٰ ﴿٣﴾ نہ تو تیرے رب نے تجھے چھوڑا ہے اور نہ وہ بیزار ہو گیا ہے۔ (۱) ۳۔۱ جیسا کہ کافر سمجھ رہے ہیں۔
  20. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَىٰ ﴿٢﴾ اور قسم ہے رات کی جب چھا جائے۔ (۱) ۲۔۱ سَجَى کے معنی ہیں سکن، جب ساکن ہو جائے۔ یعنی جب اندھیرا مکمل چھا جائے، کیونکہ اس وقت ہر چیز ساکن ہو جاتی ہے۔
Top