• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَسَنُيَسِّرُ‌هُ لِلْعُسْرَ‌ىٰ ﴿١٠﴾
تو ہم بھی اس کی تنگی و مشکل کے سامان میسر کر دیں گے۔ (۱)
۱۰۔۱ عُسْرَى (تنگی) سے مراد کفر و معصیت اور طریق شر ہے۔ یعنی ہم اس کے لیے نافرمانی کا راستہ آسان کر دیں گے، جس سے اس کے لیے خیر و سعادت کے راستے مشکل ہو جائیں گے۔ قرآن مجید میں یہ مضمون کئی جگہ بیان کیا گیا ہے کہ جو خیر و رشد کا راستہ اپناتا ہے، اس کے صلے میں اللہ اسے خیر کی توفیق سے نوازتا ہے اور جو شر و معصیت کو اختیار کرتا ہے، اللہ اس کو اس کے حال پر چھوڑ دیتا ہے اور یہ اس تقدیر کے مطابق ہی ہوتا ہے جو اللہ نے اپنے علم سے لکھ رکھی ہے۔ (ابن کثیر) یہ مضمون حدیث میں بھی بیان کیا گیا ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا تم عمل کرو، ہر شخص جس کام کے لیے پیدا کیا گیا ہے، وہ اس کے لیے آسان کر دیا جاتا ہے، جو اہل سعادت سے ہوتا ہے، اسے اہل سعادت والے عمل کی توفیق دے دی جاتی ہے اور جو اہل شقاوت سے ہوتا ہے، اس کے لیے اہل شقاوت والے عمل آسان کر دیئے جاتے ہیں۔ (صحيح البخاری، تفسير سورة الليل)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَمَا يُغْنِي عَنْهُ مَالُهُ إِذَا تَرَ‌دَّىٰ ﴿١١﴾
اس کا مال اسے (اوندھا) گرنے کے وقت کچھ کام نہ آئے گا۔ (۱)
۱۱۔۱ یعنی جب جہنم میں گرے گا تو یہ مال، جسے وہ خرچ نہیں کرتا تھا، کچھ کام نہ آئے گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّ عَلَيْنَا لَلْـهُدَىٰ ﴿١٢﴾
بیشک راہ دکھا دینا ہمارا ذمہ ہے۔ (۱)
۱۲۔۱ یعنی حلال اور حرام، خیر اور شر، ہدایت اور ضلالت کو واضح اور بیان کرنا ہمارے ذمے ہے۔ (جو کہ ہم نے کر دیا ہے)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَإِنَّ لَنَا لَلْآخِرَ‌ةَ وَالْأُولَىٰ ﴿١٣﴾
اور ہمارے ہی ہاتھ آخرت اور دنیا ہے۔ (١)
١٣۔١ یعنی دونوں کے مالک ہم ہی ہیں، ان میں جس طرح چاہیں تصرف کریں اس لیے ان دونوں کے یا ان میں سے کسی ایک کے طالب ہم سے ہی مانگیں کیوں کہ ہر طالب کو ہم ہی اپنی مشیت کے مطابق دیتے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَأَنذَرْ‌تُكُمْ نَارً‌ا تَلَظَّىٰ ﴿١٤﴾
میں نے تو تمہیں شعلے مارتی ہوئی آگ سے ڈرا دیا ہے۔

لَا يَصْلَاهَا إِلَّا الْأَشْقَى ﴿١٥﴾
جس میں صرف وہی بد بخت داخل ہو گا۔

الَّذِي كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ ﴿١٦﴾
جس نے جھٹلایا اور (اس کی پیروی سے) منہ پھیر لیا۔ (١)
١٦-۱ اس آیت سے مرجئہ فرقے نے (جو ایک باطل فرقہ گزرا ہے) استدلال کیا ہے کہ جہنم میں صرف کافر ہی جائیں گے۔ کوئی مسلمان چاہے کتنا ہی گناہ گار ہو، وہ جہنم میں نہیں جائے گا۔ لیکن یہ عقیدہ ان نصوص صریحہ کے خلاف ہے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے مسلمان بھی، جن کو اللہ تعالیٰ کچھ سزا دینا چاہے گا، کچھ عرصے کے لیے جہنم میں جائیں گے، پھر وہ نبی ﷺ، ملائکہ اور دیگر صالحین کی شفاعت سے نکال لیے جائیں گے، یہاں حصر کے انداز میں جو کہا گیا ہے، اس کا مطلب ہے کہ جو لوگ پکے کافر اور نہایت بدبخت ہیں، جہنم دراصل ان ہی کے لیے بنائی گئی ہے، جس میں وہ لازمی اور حتمی طور پر اور ہمیشہ کے لیے داخل ہوں گے۔ اگر کچھ نافرمان قسم کے مسلمان جہنم میں جائیں گے تو وہ لازمی اور حتمی طور پر اور ہمیشہ کے لیے نہیں جائیں گے، بلکہ بطور سزا ان کا یہ دخول عارضی ہو گا۔ (فتح القدیر)

وَسَيُجَنَّبُهَا الْأَتْقَى ﴿١٧﴾
اور اس سے ایسا شخص دور رکھا جائے گا جو بڑا پرہیزگار ہو گا۔ (۱)
۱۷۔۱ یعنی جہنم سے دور رہے گا اور جنت میں داخل ہو گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
الَّذِي يُؤْتِي مَالَهُ يَتَزَكَّىٰ ﴿١٨﴾
جو پاکی حاصل کرنے کے لیے اپنا مال دیتا ہے۔ (١)
١٨۔١ یعنی جو اپنا مال اللہ کے حکم کے مطابق خرچ کرتا ہے تاکہ اس کا نفس بھی اور اس کا مال بھی پاک ہو جائے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَمَا لِأَحَدٍ عِندَهُ مِن نِّعْمَةٍ تُجْزَىٰ ﴿١٩﴾
کسی کا اس پر کوئی احسان نہیں کہ جس کا بدلہ دیا جا رہا ہو۔ (١)
١٩-۱ یعنی بدلہ اتارنے کے لیے خرچ نہ کرتا ہو۔

إِلَّا ابْتِغَاءَ وَجْهِ رَ‌بِّهِ الْأَعْلَىٰ ﴿٢٠﴾
بلکہ صرف اپنے پروردگار بزرگ و بلند کی رضا چاہنے کے لیے۔ (١)
٢٠۔١ بلکہ اخلاص سے اللہ کی رضا اور جنت میں اس کے دیدار کے لیے خرچ کرتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلَسَوْفَ يَرْ‌ضَىٰ ﴿٢١﴾
یقیناً وہ (اللہ بھی) عنقریب رضا مند ہو جائے گا۔ (١)
٢١۔١ یا وہ راضی ہو جائے گا، یعنی جو شخص ان صفات کا حامل ہو گا، اللہ تعالیٰ اسے جنت کی نعمتیں اور عزت و شرف عطا فرمائے گا، جس سے وہ راضی ہو جائے گا۔ اکثر مفسرین نے کہا ہے بلکہ بعض نے اجماع تک نقل کیا ہے کہ یہ آیات حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ کی شان میں نازل ہوئی ہیں۔ تاہم معنی و مفہوم کے اعتبار سے یہ عام ہیں۔ جو بھی ان صفات عالیہ سے متصف ہو گا، وہ بارگاہ الٰہی میں ان کا مصداق قرار پائے گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
سورة الضحى

(سورہ ضحى مکی ہے اور اس میں گیارہ آیتیں ہیں۔ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہو گئے دو تین راتیں آپ نے قیام نہیں فرمایا، ایک عورت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی۔ اے محمد (ﷺ) معلوم ہوتا ہے کہ تیرے شیطان نے تجھے چھوڑ دیا ہے، دو تین راتوں سے میں دیکھ رہی ہوں کہ وہ تیرے قریب نہیں آیا۔ جس پر اللہ نے یہ سورت نازل فرمائی۔ صحیح البخاری، تفسیر سورۃ الضحی۔ یہ عورت ابو لہب کی بیوی ام جمیل تھی۔ فتح الباری)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

وَالضُّحَىٰ ﴿١﴾
قسم ہے چاشت کے وقت کی۔ (١)
١۔١ چاشت (ضُحًى) اس وقت کو کہتے ہیں، جب سورج بلند ہوتا ہے۔ یہاں مراد پورا دن ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَىٰ ﴿٢﴾
اور قسم ہے رات کی جب چھا جائے۔ (۱)
۲۔۱ سَجَى کے معنی ہیں سکن، جب ساکن ہو جائے۔ یعنی جب اندھیرا مکمل چھا جائے، کیونکہ اس وقت ہر چیز ساکن ہو جاتی ہے۔
 
Top