الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ ﴿١٤﴾
یقیناً تیرا رب گھات میں ہے۔ (۱)
۱٤۔۱ یعنی تمام مخلوقات کے اعمال دیکھ رہا ہے اور اس کے مطابق وہ دنیا اور آخرت میں جزا دیتا ہے۔
الَّذِينَ طَغَوْا فِي الْبِلَادِ ﴿١١﴾
ان سبھوں نے شہروں میں سر اٹھا رکھا تھا۔
فَأَكْثَرُوا فِيهَا الْفَسَادَ ﴿١٢﴾
اور بہت فساد مچا رکھا تھا۔
فَصَبَّ عَلَيْهِمْ رَبُّكَ سَوْطَ عَذَابٍ ﴿١٣﴾
آخر تیرے رب نے ان سب پر عذاب کا کوڑا برسایا۔ (۱)
۱۳۔۱ یعنی ان پر آسمان سے اپنا عذاب نازل فرما کر ان کو...
وَفِرْعَوْنَ ذِي الْأَوْتَادِ ﴿١٠﴾
اور فرعون کے ساتھ جو میخوں والا تھا۔ (١)
١٠۔١ اس کا مطلب یہ ہے کہ بڑے لشکروں والا تھا جس کے پاس خیموں کی کثرت تھی جنہیں میخیں گاڑ کر کھڑا کیا جاتا تھا۔ یا اس سے اس کے ظلم و ستم کی طرف اشارہ ہے کہ میخوں کے ذریعے وہ لوگوں کو سزائیں دیتا تھا۔ (فتح القدیر)
وَثَمُودَ الَّذِينَ جَابُوا الصَّخْرَ بِالْوَادِ ﴿٩﴾
اور ثمودیوں کے ساتھ جنہوں نے وادی میں بڑے بڑے پتھر تراشے تھے۔ (۱)
۹۔۱ یہ حضرت صالح عليہ السلام کی قوم تھی، اللہ نے اسے پتھر تراشنے کی خاص صلاحیت و قوت عطا کی تھی، حتیٰ کہ یہ لوگ پہاڑوں کو تراش کر ان میں اپنی رہائش گاہیں تعمیر کر لیتے تھے،...
الَّتِي لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ ﴿٨﴾
جس کی مانند (کوئی قوم) ملکوں میں پیدا نہیں (۱) ہوئی۔
۸۔۱ یعنی ان جیسی دراز قامت اور قوت و طاقت والی قوم کوئی اور پیدا نہیں ہوئی۔ یہ قوم کہا کرتی تھی ﴿مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً﴾ (حم السجدة: ۱۵) "ہم سے زیادہ کوئی طاقت ور ہے"؟
إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ ﴿٧﴾
ستونوں والے ارم کے ساتھ (١)
٧۔١ إِرَمَ، عَادٍ سے عطف بیان یا بدل ہے۔ یہ قوم عاد کے دادا کا نام ہے۔ ان کا سلسلہ نسب ہے، عاد بن عوص بن ارم بن سام بن نوح۔ (فتح القدیر) اس کا مقصد یہ وضاحت ہے کہ یہ عاد اولیٰ ہے۔ ذات العماد (ستونوں والے) سے اشارہ ہے ان کی قوت و طاقت اور...
أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ ﴿٦﴾
کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آپ کے رب نے عادیوں کے ساتھ کیا کیا۔ (١)
٦۔١ ان کی طرف حضرت ہود عليہ السلام نبی بنا کر بھیجے گئے تھے انہوں نے تکذیب کی، بالآخر اللہ تعالیٰ نے سخت ہوا کا عذاب ان پر نازل کیا جو متواتر سات راتیں اور آٹھ دن چلتی رہی (الحاقہ...
هَلْ فِي ذَٰلِكَ قَسَمٌ لِّذِي حِجْرٍ ﴿٥﴾
کیا ان میں عقلمند کے واسطے کافی قسم ہے؟ (١)
٥۔١ ذَلِكَ سے مذکور مقسم بہ اشیاء کی طرف اشارہ ہے یعنی کیا ان کی قسم اہل عقل و دانش کے واسطے کافی نہیں ہے؟ حِجْرٌ کے معنی ہوتے ہیں، روکنا، منع کرنا۔ انسانی عقل بھی انسان کو غلط کاموں سے روکتی ہے، اس لیے عقل کو...
وَالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ ﴿٣﴾
جفت اور طاق کی! (۱)
۳۔۱ اس سے مراد جفت اور طاق عدد ہیں یا وہ معدودات جو جفت اور طاق ہوتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں، کہ یہ دراصل مخلوق کی قسم ہے، اس لیے کہ مخلوق جفت (جوڑا) یا طاق (فرد) ہے۔ اس کے علاوہ نہیں۔ (ایسر التفاسیر)
وَلَيَالٍ عَشْرٍ ﴿٢﴾
اور دس راتوں کی! (١)
٢۔١ اس سے اکثر مفسرین کے نزدیک ذوالحجہ کی ابتدائی دس راتیں ہیں۔ جن کی فضیلت احادیث سے ثابت ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا ”عشرہ ذوالحجہ میں کیے گئے عمل صالح اللہ کو سب سے زیادہ محبوب ہیں۔ حتیٰ کہ جہاد فی سبیل اللہ بھی اتنا پسندیدہ نہیں، سوائے اس جہاد کے جس میں...
سورة الفجر
(سورہ فجر مکی ہے اور اس میں تیس آیتیں ہیں۔)
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔
وَالْفَجْرِ ﴿١﴾
قسم ہے فجر کی! (۱)
۱۔۱ اس سے مراد مطلق فجر ہے، کسی خاص دن کی فجر نہیں۔
إِنَّ إِلَيْنَا إِيَابَهُمْ ﴿٢٥﴾
بیشک ہماری طرف ان کا لوٹنا ہے۔
ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا حِسَابَهُم ﴿٢٦﴾
پھر بیشک ہمارے ذمہ ہے ان سے حساب لینا۔ (۱)
۲۔۱ مشہور ہے کہ اس کے جواب میں [اللَّهُمَّ! حَاسِبْنَا حِسَابًا يَسِيرًا] پڑھا جائے۔ یہ دعا تو نبی ﷺ سے ثابت ہے جو آپ ﷺ اپنی بعض نمازوں میں پڑھتے تھے،...
لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُصَيْطِرٍ ﴿٢٢﴾
آپ کچھ ان پر داروغہ نہیں ہیں۔ (١)
٢٢-۱ کہ انہیں ایمان لانے پر مجبور کریں۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ ہجرت سے قبل کا حکم ہے جو آیت سیف سے منسوخ ہو گیا، کیوں کہ اس کے بعد نبی ﷺ نے فرمایا۔ [أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لا إِلَهَ إِلا اللهُ فَإِذَا...
فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنتَ مُذَكِّرٌ ﴿٢١﴾
پس آپ نصیحت کر دیا کریں (کیونکہ) آپ صرف نصیحت کرنے والے ہیں۔ (١)
٢١۔١ یعنی آپ کا کام صرف تذکیر اور تبلیغ و دعوت ہے، اس کے علاوہ یا اس سے بڑھ کر نہیں۔
وَإِلَى الْأَرْضِ كَيْفَ سُطِحَتْ ﴿٢٠﴾
اور زمین کی طرف کہ کس طرح بچھائی گئی ہے۔ (۱)
۲۰۔۱ یعنی کس طرح اسے ہموار کرکے انسان کے رہنے کے قابل بنایا ہے، وہ اس پر چلتا پھرتا، کاروبار کرتا اور فلک بوس عمارتیں تعمیر کرتا ہے۔
وَإِلَى الْجِبَالِ كَيْفَ نُصِبَتْ ﴿١٩﴾
اور پہاڑوں کی طرف کہ کس طرح گاڑ دیئے گئے ہیں۔ (۱)
۱۹۔۱ یعنی کس طرح انہیں زمین پر میخوں کی طرح گاڑ دیا گیا ہے تاکہ زمین حرکت نہ کرے۔ نیز ان میں جو معدنیات اور دیگر منافع ہیں، وہ اس کے علاوہ ہیں۔
وَإِلَى السَّمَاءِ كَيْفَ رُفِعَتْ ﴿١٨﴾
اور آسمان کو کہ کس طرح اونچا کیا گیا ہے۔ (۱)
۱۸۔۱ یعنی آسمان کتنی بلندی پر ہے، پانچ سو سال کی مسافت پر، پھر بھی بغیر ستون کے وہ کھڑا ہے۔ اس میں کوئی شگاف اور کجی بھی نہیں ہے۔ نیز ہم نے اسے ستاروں سے مزین کیا ہوا ہے۔
أَفَلَا يَنظُرُونَ إِلَى الْإِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ ﴿١٧﴾
کیا یہ اونٹوں کو نہیں دیکھتے کہ وہ کس طرح پیدا کیے گئے ہیں۔ (١)
١٧۔١ اونٹ عرب میں عام تھے اور ان عربوں کی غالب سواری یہی تھی، اس لیے اللہ نے اسی کا ذکر کر کے فرمایا کہ اس کی خلقت پر غور کرو، اللہ نے اسے کتنا بڑا وجود عطا کیا ہے اور کتنی...
لَّا يُسْمِنُ وَلَا يُغْنِي مِن جُوعٍ ﴿٧﴾
جو نہ موٹا کرے گا نہ بھوک مٹائے گا۔
وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَّاعِمَةٌ ﴿٨﴾
بہت سے چہرے اس دن تر و تازہ اور (آسودہ) حال ہوں گے۔
لِّسَعْيِهَا رَاضِيَةٌ ﴿٩﴾
اپنی کوشش پر خوش ہوں گے۔
فِي جَنَّةٍ عَالِيَةٍ ﴿١٠﴾
بلند و بالا جنتوں میں ہوں گے۔
لَّا تَسْمَعُ...