• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّ إِلَيْنَا إِيَابَهُمْ ﴿٢٥﴾
بیشک ہماری طرف ان کا لوٹنا ہے۔

ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا حِسَابَهُم ﴿٢٦﴾
پھر بیشک ہمارے ذمہ ہے ان سے حساب لینا۔ (۱)
۲۔۱ مشہور ہے کہ اس کے جواب میں [اللَّهُمَّ! حَاسِبْنَا حِسَابًا يَسِيرًا] پڑھا جائے۔ یہ دعا تو نبی ﷺ سے ثابت ہے جو آپ ﷺ اپنی بعض نمازوں میں پڑھتے تھے، جیسا کہ سورۂ انشقاق میں گزرا۔ لیکن اس کے جواب میں پڑھنا، یہ آپ ﷺ سے ثابت نہیں ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
سورة الفجر

(سورہ فجر مکی ہے اور اس میں تیس آیتیں ہیں۔)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

وَالْفَجْرِ‌ ﴿١﴾
قسم ہے فجر کی! (۱)
۱۔۱ اس سے مراد مطلق فجر ہے، کسی خاص دن کی فجر نہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلَيَالٍ عَشْرٍ‌ ﴿٢﴾
اور دس راتوں کی! (١)
٢۔١ اس سے اکثر مفسرین کے نزدیک ذوالحجہ کی ابتدائی دس راتیں ہیں۔ جن کی فضیلت احادیث سے ثابت ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا ”عشرہ ذوالحجہ میں کیے گئے عمل صالح اللہ کو سب سے زیادہ محبوب ہیں۔ حتیٰ کہ جہاد فی سبیل اللہ بھی اتنا پسندیدہ نہیں، سوائے اس جہاد کے جس میں انسان شہید ہی ہو جائے“۔ (البخاری، كتاب العيدين، باب فضل العمل في أيام التشريق)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ‌ ﴿٣﴾
جفت اور طاق کی! (۱)
۳۔۱ اس سے مراد جفت اور طاق عدد ہیں یا وہ معدودات جو جفت اور طاق ہوتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں، کہ یہ دراصل مخلوق کی قسم ہے، اس لیے کہ مخلوق جفت (جوڑا) یا طاق (فرد) ہے۔ اس کے علاوہ نہیں۔ (ایسر التفاسیر)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَاللَّيْلِ إِذَا يَسْرِ‌ ﴿٤﴾
اور رات کی جب وہ چلنے لگے۔ (۱)
٤۔۱ یعنی جب آئے اور جب جائے، کیوں کہ سَيْرٌ (چلنا) آتے، جاتے دونوں صورتوں میں ہوتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
هَلْ فِي ذَٰلِكَ قَسَمٌ لِّذِي حِجْرٍ‌ ﴿٥﴾
کیا ان میں عقلمند کے واسطے کافی قسم ہے؟ (١)
٥۔١ ذَلِكَ سے مذکور مقسم بہ اشیاء کی طرف اشارہ ہے یعنی کیا ان کی قسم اہل عقل و دانش کے واسطے کافی نہیں ہے؟ حِجْرٌ کے معنی ہوتے ہیں، روکنا، منع کرنا۔ انسانی عقل بھی انسان کو غلط کاموں سے روکتی ہے، اس لیے عقل کو بھی حجر کہا جاتا ہے، جس طرح اسی مفہوم کے اعتبار سے اسے نھیۃ بھی کہتے ہیں۔ جواب قسم یا مقسم علیہ لَتُبْعَثُنَّ ہے کیوں کہ مکی سورتوں میں عقیدے کی اصلاح پر زور دیا گیا ہے۔ بعض کے نزدیک جواب قسم آگے آنے والے الفاظ ﴿إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ﴾ ہے۔ آگے بہ طریق استشہاد اللہ تعالیٰ بعض ان قوموں کا ذکر فرما رہا ہے جو تکذیب وعناد کی بنا پر ہلاک کی گئی تھیں۔ مقصد اہل مکہ کو تنبیہ ہے کہ اگر تم ہمارے رسول ﷺ کی تکذیب سے باز نہ آئے تو تمہارا بھی اسی طرح مواخذہ ہو سکتا ہے، جیسے گزشتہ قوموں کا اللہ نے کیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَلَمْ تَرَ‌ كَيْفَ فَعَلَ رَ‌بُّكَ بِعَادٍ ﴿٦﴾
کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آپ کے رب نے عادیوں کے ساتھ کیا کیا۔ (١)
٦۔١ ان کی طرف حضرت ہود عليہ السلام نبی بنا کر بھیجے گئے تھے انہوں نے تکذیب کی، بالآخر اللہ تعالیٰ نے سخت ہوا کا عذاب ان پر نازل کیا جو متواتر سات راتیں اور آٹھ دن چلتی رہی (الحاقہ: ۷-۱۰) اور انہیں تہس نہس کر کے رکھ دیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِرَ‌مَ ذَاتِ الْعِمَادِ ﴿٧﴾
ستونوں والے ارم کے ساتھ (١)
٧۔١ إِرَمَ، عَادٍ سے عطف بیان یا بدل ہے۔ یہ قوم عاد کے دادا کا نام ہے۔ ان کا سلسلہ نسب ہے، عاد بن عوص بن ارم بن سام بن نوح۔ (فتح القدیر) اس کا مقصد یہ وضاحت ہے کہ یہ عاد اولیٰ ہے۔ ذات العماد (ستونوں والے) سے اشارہ ہے ان کی قوت و طاقت اور دراز قامتی کی طرف۔ علاوہ ازیں وہ فن تعمیر میں بھی بڑی مہارت رکھتے تھے اور نہایت مضبوط بنیادوں پر عظم الشان عمارتیں تعمیر کرتے تھے۔ ذات العماد میں دونوں مفہوم شامل ہو سکتے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
الَّتِي لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ ﴿٨﴾
جس کی مانند (کوئی قوم) ملکوں میں پیدا نہیں (۱) ہوئی۔
۸۔۱ یعنی ان جیسی دراز قامت اور قوت و طاقت والی قوم کوئی اور پیدا نہیں ہوئی۔ یہ قوم کہا کرتی تھی ﴿مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً﴾ (حم السجدة: ۱۵) "ہم سے زیادہ کوئی طاقت ور ہے"؟
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَثَمُودَ الَّذِينَ جَابُوا الصَّخْرَ‌ بِالْوَادِ ﴿٩﴾
اور ثمودیوں کے ساتھ جنہوں نے وادی میں بڑے بڑے پتھر تراشے تھے۔ (۱)
۹۔۱ یہ حضرت صالح عليہ السلام کی قوم تھی، اللہ نے اسے پتھر تراشنے کی خاص صلاحیت و قوت عطا کی تھی، حتیٰ کہ یہ لوگ پہاڑوں کو تراش کر ان میں اپنی رہائش گاہیں تعمیر کر لیتے تھے، جیسا کہ قرآن نے کہا ہے ﴿وَتَنْحِتُونَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوتًا فَارِهِينَ﴾ (الشعراء: ۱۴۹)
 
Top