• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَمَا لَهُ مِن قُوَّةٍ وَلَا نَاصِرٍ‌ ﴿١٠﴾
تو نہ ہو گا اس کے پاس کچھ زور نہ مددگار۔ (۱)
۱۰۔۱ یعنی خود انسان کے پاس اتنی قوت ہو گی کہ وہ خدا کے عذاب سے بچ جائے، نہ کسی اور طرف سے اس کو کوئی ایسا مددگار مل سکے گا جو اسے اللہ کے عذاب سے بچا سکے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الرَّ‌جْعِ ﴿١١﴾
بارش والے آسمان کی قسم! (١)
١١۔١ رَجْعٌ کے لغوی معنی ہیں، لوٹنا پلٹنا۔ بارش بھی بار بار اور پلٹ پلٹ کر ہوتی ہے، اس لیے بارش کو رَجْعٌ کے لفظ سے تعبیر کیا ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ بادل، سمندروں سے ہی پانی لیتا ہے اور پھر زمین پر لوٹا دیتا ہے، اس لیے بارش کو رَجْعٌ کہا۔ بعض کہتے ہیں بطور تفاؤل عرب بارش کو رَجْعٌ کہتے تھے تاکہ وہ بار بار ہوتی رہے۔ (فتح القدیر)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَالْأَرْ‌ضِ ذَاتِ الصَّدْعِ ﴿١٢﴾
اور پھٹنے والی زمین کی قسم! (١)
١٢۔١ یعنی زمین پھٹتی ہے تو اس سے پودا باہر نکلتا ہے، زمین پھٹتی ہے تو چشمہ جاری ہو جاتا ہے اور اسی طرح ایک دن آئے گا کہ زمین پھٹے گی، سارے مردے زندہ ہو کر باہر نکل آئیں گے۔ اس لیے زمین کو پھٹنے والی اور شگاف والی کہا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّهُ لَقَوْلٌ فَصْلٌ ﴿١٣﴾
بیشک یہ (قرآن) البتہ دو ٹوک فیصلہ کرنے والا کلام ہے۔ (۱)
۱۳۔۱ یہ جواب قسم ہے، یعنی کھول کر بیان کرنے والا ہے جس سے حق اور باطل دونوں واضح ہو جاتے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَمَا هُوَ بِالْهَزْلِ ﴿١٤﴾
یہ ہنسی کی (اور بے فائدہ) بات نہیں۔ (١)
١٤۔١ یعنی کھیل کود اور مذاق والی چیز نہیں ہے هَزْلٌ، جِدٌّ (قصد وارادہ) کی ضد ہے ۔ یعنی ایک واضح مقصد کی حامل کتاب ہے، لہو و لعب کی طرح بے مقصد نہیں ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّهُمْ يَكِيدُونَ كَيْدًا ﴿١٥﴾
البتہ کافر داؤ گھات میں ہیں۔ (١)
١٥۔١ یعنی نبی ﷺ جو دین حق لے کر آئے ہیں، اس کو ناکام کرنے کے لیے سازشیں کرتے ہیں، یا نبی ﷺ کو دھوکہ اور فریب دیتے ہیں اور منہ پر ایسی باتیں کرتے ہیں کہ دل میں اس کے برعکس ہوتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَأَكِيدُ كَيْدًا ﴿١٦﴾
اور میں بھی ایک چال چل رہا ہوں۔ (١)
١٦۔١ یعنی میں ان کی چالوں اور سازشوں سے غافل نہیں ہوں، میں بھی ان کے خلاف تدبیر کر رہا ہوں یا ان کی چالوں کا توڑ کر رہا ہوں۔ كَيْدٌ خفیہ تدبیر کو کہتے ہیں، جو برے مقصد کے لیے ہو تو بری ہے اور مقصد نیک ہو تو بری نہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَمَهِّلِ الْكَافِرِ‌ينَ أَمْهِلْهُمْ رُ‌وَيْدًا ﴿١٧﴾
تو کافروں کو مہلت دے (١) انہیں تھوڑے دن چھوڑ دے۔
١٧۔١ یعنی ان کے لیے تعجیل عذاب کا سوال نہ کر، بلکہ انہیں کچھ مہلت دے دے۔ رُوَيْدًا: قَلَيلا یا قَرِيبًا یہ امہال و استدراج بھی کافروں کے حق میں اللہ کی طرف سے ایک کید کی صورت ہے جیسے فرمایا ﴿سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِنْ حَيْثُ لا يَعْلَمُونَ وَأُمْلِي لَهُمْ إِنَّ كَيْدِي مَتِينٌ﴾ (الأعراف: ۱۸۲-۱۸۳)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
سورة الأعلى


(سورہ اعلى مکی ہے اور اس میں انیس آیتیں ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سورت اور سورۃ الغاشیہ عیدین اور جمعہ کی نماز میں پڑھا کرتے تھے۔ اسی طرح وتر کی پہلی رکعت میں سورۃ الاعلی، دوسری میں سورۃ الکافرون اور تیسری میں سورۃ الاخلاص پڑھتے تھے۔)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

سَبِّحِ اسْمَ رَ‌بِّكَ الْأَعْلَى ﴿١﴾
اپنے بہت ہی بلند اللہ کے نام کی پاکیزگی بیان کر۔ (١)
١۔١ یعنی ایسی چیزوں سے اللہ کی پاکیزگی جو اس کے لائق نہیں ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ نبی ﷺ اس کے جواب میں سُبْحَانَ رَبِّيَ الأَعْلَى پڑھا کرتے تھے۔ (مسند أحمد ۱/ ۲۳۲۔ أبو داود، كتاب الصلاة، باب الدعاء في الصلاة، وقال الألباني صحيح)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
الَّذِي خَلَقَ فَسَوَّىٰ ﴿٢﴾
جس نے پیدا کیا اور صحیح سالم بنایا۔ (۱)
۲۔۱ دیکھیے سورۃ انفطار کا حاشیہ نمبر ۷

وَالَّذِي قَدَّرَ‌ فَهَدَىٰ ﴿٣﴾
اور جس نے (ٹھیک ٹھاک) اندازہ کیا اور پھر راہ دکھائی۔ (١)
٣۔١ یعنی نیکی اور بدی کی۔ اس طرح ضروریات زندگی کی۔ یہ ہدایت حیوانات کو بھی عطا فرمائی۔ قَدَرٌ کا مفہوم ہے، اشیا کی جنسوں، ان کی انواع و صفات اور خصوصیات کا اندازہ فرما کر انسان کی بھی ان کی طرف رہنمائی فرما دی تاکہ انسان ان سے استفادہ کر سکے۔
 
Top