الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
فَكَذَّبُوهُ فَعَقَرُوهَا فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُم بِذَنبِهِمْ فَسَوَّاهَا ﴿١٤﴾
ان لوگوں نے اپنے پیغمبر کو جھوٹا سمجھ کر اس اونٹنی کی کوچیں کاٹ دیں، (۱) پس ان کے رب نے ان کے گناہوں کے باعث ان پر ہلاکت ڈالی (۲) اور پھر ہلاکت کو عام کر دیا اور اس بستی کو برابر کر دیا۔ (۳)
۱٤۔۱ یہ کام ایک...
فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّـهِ نَاقَةَ اللَّـهِ وَسُقْيَاهَا ﴿١٣﴾
اس کے پینے کی باری کی (حفاظت کرو)۔ (١)
١٣۔١ یعنی اس اونٹنی کو کوئی نقصان نہ پہنچائے، اسی طرح اس کے لیے پانی پینے کا جو دن ہو، اس میں بھی گڑبڑ نہ کی جائے۔ اونٹنی اور قوم ثمود دونوں کے لیے پانی کا ایک ایک دن مقرر کر دیا گیا تھا۔...
إِذِ انبَعَثَ أَشْقَاهَا ﴿١٢﴾
جب ان میں کا بد بخت اٹھ کھڑا ہوا۔ (١)
١٢۔١ جس کا نام مفسرین قدار بن سالف بتلاتے ہیں۔ اس کا ایسا کام کیا کہ یہ رئیس الاشقیاء بن گیا سب سے بڑا شقی (بدبخت)۔
كَذَّبَتْ ثَمُودُ بِطَغْوَاهَا ﴿١١﴾
(قوم) ثمود نے اپنی سرکشی کی باعث جھٹلایا۔ (۱)
۱۱۔۱ طُغْيَانٌ وہ سرکشی جو حد سے تجاوز کر جائے اسی طغیان نے انہیں تکذیب پر آمادہ کیا۔
وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا ﴿١٠﴾
اور جس نے اسے خاک میں ملا دیا وہ ناکام ہوا۔ (١)
١٠۔١ یعنی جس نے اسے گمراہ کر لیا، وہ خسارے میں رہا۔ دَسٌّ، تَدْسِيسٌ سے ہے، جس کے معنی ہیں ایک چیز کو دوسری چیز میں چھپا دینا۔ دَسَّاهَا کے معنی ہوں گے جس نے اپنے نفس کو چھپا دیا اور اسے بے کار چھوڑ دیا اور اسے اللہ...
قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا ﴿٩﴾
جس نے اسے پاک کیا وہ کامیاب ہوا۔ (١)
٩۔١ شرک سے، معصیت سے اور اخلاقی آلائشوں سے پاک کیا، وہ اخروی فوز و فلاح سے ہمکنار ہو گا۔
فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا ﴿٨﴾
پھر سمجھ دی اس کو بدکاری کی اور بچ کر چلنے کی۔ (۱)
۸۔۱ الہام کا مطلب یا تو یہ ہے کہ انہیں اچھی طرح سمجھا دیا اور انہیں انبیاء علیہم السلام اور آسمانی کتابوں کے ذریعے سے خیر و شر کی پہچان کروا دی۔ یا مطلب ہے کہ ان کی عقل اور فطرت میں خیر اور شر، نیکی اور...
وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا ﴿٧﴾
قسم ہے نفس کی اور اسے درست بنانے کی۔ (١)
٧۔١ یا جس نے اسے درست کیا۔ درست کرنے کا مطلب ہے، اسے متناسب الاعضاء بنایا، بے ڈھبا اور بے ڈھنگا نہیں بنایا۔
وَالنَّهَارِ إِذَا جَلَّاهَا ﴿٣﴾
قسم ہے دن کی جب سورج کو نمایاں کرے۔ (۱)
۳۔۱ یا تاریکی کو دور کرے، ظلمت کا پہلے ذکر تو نہیں ہے لیکن سیاق اس پر دلالت کرتا ہے۔ (فتح القدیر)
وَالْقَمَرِ إِذَا تَلَاهَا ﴿٢﴾
قسم ہے چاند کی جب اس کے پیچھے آئے۔ (۱)
۲۔۱ یعنی جب سورج غروب ہونے کے بعد وہ طلوع ہو، جیسا کہ پہلے نصف مہینہ میں ایسا ہوتا ہے۔
سورة الشمس
(سورہ شمس مکی ہے اور اس میں پندرہ آیتیں ہیں۔)
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔
وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا ﴿١﴾
قسم ہے سورج کی اور اس کی دھوپ کی۔ (۱)
۱۔۱ یا اس کی روشنی کی، یا مطلب ضحیٰ سے دن ہے۔ یعنی سورج کی اور...
أُولَـٰئِكَ أَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ ﴿١٨﴾
یہی لوگ ہیں دائیں بازو والے (خوش بختی والے)۔
وَالَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِنَا هُمْ أَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ ﴿١٩﴾
اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کے ساتھ کفر کیا یہ کم بختی والے ہیں۔
عَلَيْهِمْ نَارٌ مُّؤْصَدَةٌ ﴿٢٠﴾
انہی پر آگ ہو گی جو چاروں طرف سے گھیری...
ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَتَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِ ﴿١٧﴾
پھر ان لوگوں میں ہو جاتا ہے جو ایمان لاتے (١) اور ایک دوسرے کو صبر کی اور رحم کرنے کی وصیت کرتے ہیں۔ (٢)
١٧۔١ اس سے معلوم ہوا کہ مذکورہ اعمال خیر، اسی وقت نافع اور اخروی سعادت کا باعث ہوں گے جب ان کا...
وَمَا أَدْرَاكَ مَا الْعَقَبَةُ ﴿١٢﴾
اور کیا سمجھا کہ گھاٹی ہے کیا؟
فَكُّ رَقَبَةٍ ﴿١٣﴾
کسی گردن (غلام لونڈی) کو آزاد کرنا۔
أَوْ إِطْعَامٌ فِي يَوْمٍ ذِي مَسْغَبَةٍ ﴿١٤﴾
یا بھوکے والے دن کھانا کھلانا۔
يَتِيمًا ذَا مَقْرَبَةٍ ﴿١٥﴾
کسی رشتہ دار یتیم کو۔
أَوْ مِسْكِينًا ذَا مَتْرَبَةٍ ﴿١٦﴾...
فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ ﴿١١﴾
سو اس سے نہ ہو سکا کہ گھاٹی میں داخل ہوتا۔ (١)
١١۔١ عَقَبَةٌ گھاٹی کو کہتے ہیں یعنی وہ راستہ جو پہاڑ میں ہو۔ یہ عام طور پر نہایت دشوار گزار ہوتا ہے۔ یہ جملہ یہاں استفہام بمعنی انکار کے مفہوم میں ہے۔ یعنی (أَفَلا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ) کیا وہ گھاٹی میں داخل نہیں...
وَهَدَيْنَاهُ النَّجْدَيْنِ ﴿١٠﴾
ہم نے دکھا دیئے اس کو دونوں راستے۔ (١)
١٠۔١ یعنی خیر کی بھی اور شر کی بھی اور ایمان کی بھی، سعادت کی بھی اور شقاوت کی بھی۔ جیسے فرمایا، ﴿إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا﴾ (الدهر: ۳) نَجْدٌ کے معنی ہیں، اونچی جگہ۔ اس لیے بعض نے یہ...
وَلِسَانًا وَشَفَتَيْنِ ﴿٩﴾
اور زبان اور ہونٹ (نہیں بنائے) (۱)
۹۔۱ زبان سے وہ بولتا ہے اور مافی الضمیر کا اظہار کرتا ہے۔ ہونٹوں سے وہ بولنے اور کھانے کے لیے مدد حاصل کرتا ہے۔ علاوہ ازیں وہ اس کے چہرے اور منہ کے لیے خوب صورتی کا بھی باعث ہیں۔