• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نتائجِ‌تلاش

  1. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    سورة الضحى (سورہ ضحى مکی ہے اور اس میں گیارہ آیتیں ہیں۔ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہو گئے دو تین راتیں آپ نے قیام نہیں فرمایا، ایک عورت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی۔ اے محمد (ﷺ) معلوم ہوتا ہے کہ تیرے شیطان نے تجھے چھوڑ دیا ہے، دو تین راتوں سے میں دیکھ رہی ہوں کہ وہ...
  2. محمد نعیم یونس

    شیعہ حضرات سے ایک سوال

    حضرات حضرات کر کے مخاطب کرنے سے بھی اگر منفی پہلو کسی کو محسوس ہوتا هے تو آئندہ مکرمی و محترم کے الفاظ کا بھی اضافہ کر دیا جائے؟ یا ان سے کوئی سوال ہی نہ کیا جائے؟
  3. محمد نعیم یونس

    اف یہ رشتے

    دور کی رشتہ داریاں یاد رکھنا تو کبھی اپنے بس کی بات نہیں رہی۔ بلکہ بعض اوقات قدیم زمانے میں کسی تقریب میں کوئی قریبی رشتہ دار مل جاتا تواس کا بھولا ہوا نام دیکھنے کے لیے جیبی فون ڈائیری سےدیکھ کر ازبر کرتے تھے اور اس کے لیے ساری ڈائری پر نظر دوڑانا پڑتی کہ مطلوبہ نام پر نظر پڑی گئی تو یاد آجائے...
  4. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    وَلَسَوْفَ يَرْ‌ضَىٰ ﴿٢١﴾ یقیناً وہ (اللہ بھی) عنقریب رضا مند ہو جائے گا۔ (١) ٢١۔١ یا وہ راضی ہو جائے گا، یعنی جو شخص ان صفات کا حامل ہو گا، اللہ تعالیٰ اسے جنت کی نعمتیں اور عزت و شرف عطا فرمائے گا، جس سے وہ راضی ہو جائے گا۔ اکثر مفسرین نے کہا ہے بلکہ بعض نے اجماع تک نقل کیا ہے کہ یہ آیات حضرت...
  5. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    وَمَا لِأَحَدٍ عِندَهُ مِن نِّعْمَةٍ تُجْزَىٰ ﴿١٩﴾ کسی کا اس پر کوئی احسان نہیں کہ جس کا بدلہ دیا جا رہا ہو۔ (١) ١٩-۱ یعنی بدلہ اتارنے کے لیے خرچ نہ کرتا ہو۔ إِلَّا ابْتِغَاءَ وَجْهِ رَ‌بِّهِ الْأَعْلَىٰ ﴿٢٠﴾ بلکہ صرف اپنے پروردگار بزرگ و بلند کی رضا چاہنے کے لیے۔ (١) ٢٠۔١ بلکہ اخلاص سے اللہ...
  6. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    الَّذِي يُؤْتِي مَالَهُ يَتَزَكَّىٰ ﴿١٨﴾ جو پاکی حاصل کرنے کے لیے اپنا مال دیتا ہے۔ (١) ١٨۔١ یعنی جو اپنا مال اللہ کے حکم کے مطابق خرچ کرتا ہے تاکہ اس کا نفس بھی اور اس کا مال بھی پاک ہو جائے۔
  7. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    فَأَنذَرْ‌تُكُمْ نَارً‌ا تَلَظَّىٰ ﴿١٤﴾ میں نے تو تمہیں شعلے مارتی ہوئی آگ سے ڈرا دیا ہے۔ لَا يَصْلَاهَا إِلَّا الْأَشْقَى ﴿١٥﴾ جس میں صرف وہی بد بخت داخل ہو گا۔ الَّذِي كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ ﴿١٦﴾ جس نے جھٹلایا اور (اس کی پیروی سے) منہ پھیر لیا۔ (١) ١٦-۱ اس آیت سے مرجئہ فرقے نے (جو ایک باطل...
  8. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    وَإِنَّ لَنَا لَلْآخِرَ‌ةَ وَالْأُولَىٰ ﴿١٣﴾ اور ہمارے ہی ہاتھ آخرت اور دنیا ہے۔ (١) ١٣۔١ یعنی دونوں کے مالک ہم ہی ہیں، ان میں جس طرح چاہیں تصرف کریں اس لیے ان دونوں کے یا ان میں سے کسی ایک کے طالب ہم سے ہی مانگیں کیوں کہ ہر طالب کو ہم ہی اپنی مشیت کے مطابق دیتے ہیں۔
  9. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    إِنَّ عَلَيْنَا لَلْـهُدَىٰ ﴿١٢﴾ بیشک راہ دکھا دینا ہمارا ذمہ ہے۔ (۱) ۱۲۔۱ یعنی حلال اور حرام، خیر اور شر، ہدایت اور ضلالت کو واضح اور بیان کرنا ہمارے ذمے ہے۔ (جو کہ ہم نے کر دیا ہے)
  10. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    وَمَا يُغْنِي عَنْهُ مَالُهُ إِذَا تَرَ‌دَّىٰ ﴿١١﴾ اس کا مال اسے (اوندھا) گرنے کے وقت کچھ کام نہ آئے گا۔ (۱) ۱۱۔۱ یعنی جب جہنم میں گرے گا تو یہ مال، جسے وہ خرچ نہیں کرتا تھا، کچھ کام نہ آئے گا۔
  11. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    فَسَنُيَسِّرُ‌هُ لِلْعُسْرَ‌ىٰ ﴿١٠﴾ تو ہم بھی اس کی تنگی و مشکل کے سامان میسر کر دیں گے۔ (۱) ۱۰۔۱ عُسْرَى (تنگی) سے مراد کفر و معصیت اور طریق شر ہے۔ یعنی ہم اس کے لیے نافرمانی کا راستہ آسان کر دیں گے، جس سے اس کے لیے خیر و سعادت کے راستے مشکل ہو جائیں گے۔ قرآن مجید میں یہ مضمون کئی جگہ بیان کیا...
  12. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَىٰ ﴿٩﴾ اور نیک بات کی تکذیب کی۔ (۱) ۹۔۱ یا آخرت کی جزاء و سزا اور حساب و کتاب کا انکار کرے گا۔
  13. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    وَأَمَّا مَن بَخِلَ وَاسْتَغْنَىٰ ﴿٨﴾ لیکن جس نے بخیلی کی اور بے پرواہی برتی۔ (۱) ۸۔۱ یعنی اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرے گا اور اللہ کے حکم سے بے پرواہی کرے گا۔ - یا آخرت کی جزا اور حساب کتاب کا انکار کرے گا۔
  14. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    فَسَنُيَسِّرُ‌هُ لِلْيُسْرَ‌ىٰ ﴿٧﴾ تو ہم بھی اسکو آسان راستے کی سہولت دیں گے۔ (۱) ۷۔۲ يُسْرَى کا مطلب نیکی اور الْخَصْلَةُ الْحُسْنَى ہے۔ یعنی ہم اس کو نیکی و اطاعت کی توفیق دیتے اور ان کو اس کے لیے آسان کر دیتے ہیں۔ مفسرین کہتے ہیں کہ یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ کے بارے میں نازل ہوئی...
  15. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَىٰ ﴿٦﴾ اور نیک بات کی تصدیق کرتا رہے گا۔ (۱) ٦۔۱ یا اچھے صلے کی تصدیق کرے گا، یعنی اس بات پر یقین رکھے گا کہ انفاق اور تقویٰ کا اللہ کی طرف سے عمدہ صلہ ملے گا۔
  16. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    فَأَمَّا مَنْ أَعْطَىٰ وَاتَّقَىٰ ﴿٥﴾ جس نے دیا (اللہ کی راہ میں) اور ڈرا (اپنے رب سے)۔ (۱) ۵۔۱ یعنی خیر کے کاموں میں خرچ کرے گا اور محارم سے بچے گا۔
  17. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    إِنَّ سَعْيَكُمْ لَشَتَّىٰ ﴿٤﴾ یقیناً تمہاری کوشش مختلف قسم کی ہے۔ (١) ٤۔١ یعنی کوئی اچھے عمل کرتا ہے، جس کا صلہ جنت ہے اور کوئی برے عمل کرتا ہے جس کا بدلہ جہنم ہے۔ یہ جواب قسم ہے۔ شَتَّى، شَتِيتٌ کی جمع ہے، جیسے مَرِيضٌ کی جمع مَرْضَى۔
  18. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ‌ وَالْأُنثَىٰ ﴿٣﴾ اور قسم ہے اس ذات کی جس نے نر و مادہ کو پیدا کیا۔ (١) ٣۔١ یہ اللہ نے اپنی قسم کھائی ہے، کیونکہ مرد و عورت دونوں کا خالق اللہ ہی ہے۔ ما موصولہ ہے۔ یعنی کوئی اچھے عمل کرتا ہے، جس کا صلہ جنت ہے اور کوئی برے عمل کرتا ہے جس کا بدلہ جہنم ہے۔
  19. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    وَالنَّهَارِ‌ إِذَا تَجَلَّىٰ ﴿٢﴾ اور قسم ہے دن کی جب روشن ہو۔ (۱) ۲۔۱۔ یعنی رات کا اندھیرا ختم ہو جائے اور دن کو اجالا پھیل جائے۔
  20. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    سورة اللیل (سورہ لیل مکی ہے اور اس میں اکیس آیتیں ہیں۔) بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ ﴿١﴾ قسم ہے رات کی جب چھا جائے۔ (۱) ۱۔۱ یعنی افق پر چھا جائے جس سے دن کی روشنی ختم اور اندھیرا ہو جائے۔
Top