الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
أَيَحْسَبُ أَن لَّمْ يَرَهُ أَحَدٌ ﴿٧﴾
کیا (یوں) سمجھتا ہے کہ کسی نے اسے دیکھا (ہی) نہیں؟ (۱)
۷۔۱ اس طرح اللہ کی نافرمانی میں مال خرچ کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ کوئی اسے دیکھنے والا نہیں ہے؟ حالاں کہ اللہ سب کچھ دیکھ رہا ہے۔ جس پر وہ اسے جزا دے گا۔ آگے اللہ تعالیٰ اپنے بعض انعامات کا تذکرہ فرما...
يَقُولُ أَهْلَكْتُ مَالًا لُّبَدًا ﴿٦﴾
کہتا (پھرتا) ہے کہ میں نے بہت کچھ مال خرچ کر ڈالا۔ (١)
٦۔١ لُبَدًا۔ کثیر، ڈھیر۔ یعنی دنیا کے معاملات اور فضولیات میں خوب پیسہ اڑاتا ہے، پھر فخر کے طور پر لوگوں کے سامنے بیان کرتا پھرتا ہے۔
لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي كَبَدٍ ﴿٤﴾
یقیناً ہم نے انسان کو (بڑی) مشقت میں پیدا کیا ہے۔ (١)
٤۔١ یعنی اس کی زندگی محنت و مشقت اور شدائد سے معمور ہے۔ امام طبری نے اسی مفہوم کو اختیار کیا ہے، یہ جواب قسم ہے۔
وَوَالِدٍ وَمَا وَلَدَ ﴿٣﴾
اور (قسم ہے) انسانی باپ اور اولاد کی۔ (١)
٣۔١ بعض نے اس سے مراد حضرت آدم علیہ السلام اور ان کی اولاد لی ہے اور بعض کے نزدیک یہ عام ہے، ہر باپ اور اس کی اولاد اس میں شامل ہے۔
وَأَنتَ حِلٌّ بِهَـٰذَا الْبَلَدِ ﴿٢﴾
اور آپ اس شہر میں مقیم ہیں۔ (١)
٢۔١ یہ اشارہ ہے اس وقت کی طرف جب مکہ فتح ہوا، اس وقت اللہ نے نبی ﷺ کے لیے اس بلد حرام میں قتال کو حلال فرما دیا تھا جب کہ اس میں لڑائی کی اجازت نہیں ہے چنانچہ حدیث میں ہے، نبی ﷺ نے فرمایا (اس شہر کو اللہ نے اس وقت سے حرمت والا...
سورة البلد
(سورہ بلد مکی ہے اور اس میں بیس آیتیں ہیں۔)
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔
لَا أُقْسِمُ بِهَـٰذَا الْبَلَدِ ﴿١﴾
میں اس شہر کی قسم کھاتا ہوں۔ (١)
١۔١ اس سے مراد مکہ مکرمہ ہے جس میں اس وقت، جب اس سورت کا...
يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ﴿٢٧﴾
اے اطمینان والی روح۔
ارْجِعِي إِلَىٰ رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً ﴿٢٨﴾
تو اپنے رب کی طرف (۱) لوٹ چل اس طرح کہ تو اس سے راضی وہ تجھ سے خوش۔
۲۸۔۱ یعنی اس کے اجر و ثواب اور ان نعمتوں کی طرف جو اس نے اپنے بندوں کے لیے جنت میں تیار کی ہے۔ بعض کہتے...
فَيَوْمَئِذٍ لَّا يُعَذِّبُ عَذَابَهُ أَحَدٌ ﴿٢٥﴾
پس آج اللہ کے عذاب جیسا عذاب کسی کا نہ ہو گا۔
وَلَا يُوثِقُ وَثَاقَهُ أَحَدٌ ﴿٢٦﴾
نہ اس کی قید و بند جیسی کسی کی قید و بند ہو گی۔ (۱)
٢٦-۱ اس لیے کہ اس روز تمام اختیارات صرف ایک اللہ کے پاس ہوں گے۔ دوسرے، کسی کو اسکے سامنے رائے یا دم زنی نہیں ہو...
يَقُولُ يَا لَيْتَنِي قَدَّمْتُ لِحَيَاتِي ﴿٢٤﴾
وہ کہے گا کاش کہ میں نے اپنی زندگی کے لیے کچھ پیشگی سامان کیا ہوتا۔ (۱)
۲٤۔۱ یہ افسوس اور حسرت کا اظہار، اسی ندامت کا حصہ ہے جو اس روز فائدہ مند نہیں ہو گی۔
وَجِيءَ يَوْمَئِذٍ بِجَهَنَّمَ ۚ يَوْمَئِذٍ يَتَذَكَّرُ الْإِنسَانُ وَأَنَّىٰ لَهُ الذِّكْرَىٰ ﴿٢٣﴾
اور جس دن جہنم بھی لائی جائے گی (١) اس دن انسان کو سمجھ آئے گی مگر آج اسکے سمجھنے کا فائدہ کہاں؟ (٢)
٢٣۔١ ستر ہزار لگاموں کے ساتھ جہنم جکڑی ہوئی ہو گی اور ہر لگام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے ہوں گے...
وَتُحِبُّونَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّا ﴿٢٠﴾
اور مال کو جی بھر کر عزیز رکھتے ہو۔ (١)
٢٠-۱ جَمًّا بمعنی كَثِيرًا۔
كَلَّا إِذَا دُكَّتِ الْأَرْضُ دَكًّا دَكًّا ﴿٢١﴾
یقیناً جس (١) وقت زمین کوٹ کوٹ کر برابر کر دی جائے گی۔
٢١-۱ یا تمہارا عمل ایسا نہیں ہونا چاہئے جو مذکور ہوا، کیوں کہ ایک وقت آنے والا...
وَلَا تَحَاضُّونَ عَلَىٰ طَعَامِ الْمِسْكِينِ ﴿١٨﴾
اور مسکینوں کے کھلانے کی ایک دوسرے کو ترغیب نہیں دیتے۔
وَتَأْكُلُونَ التُّرَاثَ أَكْلًا لَّمًّا ﴿١٩﴾
اور (مردوں کی) میراث سمیٹ سمیٹ کر کھاتے ہو۔ (۱)
۱۹۔۱ یعنی جس طریقے سے بھی حاصل ہو، حلال طریقے سے یا حرام طریقے سے لَمَّا بمعنی جَمْعًا۔
كَلَّا ۖ بَل لَّا تُكْرِمُونَ الْيَتِيمَ ﴿١٧﴾
ایسا ہرگز نہیں (١) بلکہ (بات یہ ہے) کہ تم (ہی) لوگ یتیموں کی عزت نہیں کرتے۔ (٢)
١٧۔١ یعنی بات اس طرح نہیں ہے جیسے لوگ سمجھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مال اپنے محبوب بندوں کو بھی دیتا ہے اور ناپسندیدہ افراد کو بھی، تنگی میں بھی وہ اپنوں اور بیگانوں دونوں کو...
وَأَمَّا إِذَا مَا ابْتَلَاهُ فَقَدَرَ عَلَيْهِ رِزْقَهُ فَيَقُولُ رَبِّي أَهَانَنِ ﴿١٦﴾
اور جب وہ اس کو آزماتا ہے اس کی روزی تنگ کر دیتا ہے تو وہ کہنے لگتا ہے کہ میرے رب نے میری اہانت کی (اور ذلیل کیا)۔ (۱)
۱٦۔۱ یعنی وہ تنگی میں مبتلا کر کے آزماتا ہے تو اللہ کے بارے میں بدگمانی کا اظہار کرتا ہے۔
فَأَمَّا الْإِنسَانُ إِذَا مَا ابْتَلَاهُ رَبُّهُ فَأَكْرَمَهُ وَنَعَّمَهُ فَيَقُولُ رَبِّي أَكْرَمَنِ ﴿١٥﴾
انسان (کا یہ حال ہے) کہ جب اسے اس کا رب آزماتا ہے اور عزت و نعمت دیتا ہے تو کہنے لگتا ہے کہ میرے رب نے مجھے عزت دار بنایا۔ (١)
١٥۔١ یعنی جب اللہ کسی کو رزق و دولت کی فراوانی عطا فرماتا...