الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَىٰ ﴿٤١﴾
تو اس کا ٹھکانا جنت ہی ہے۔
يَسْأَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَاهَا ﴿٤٢﴾
لوگ آپ سے قیامت کے واقع ہونے کا وقت دریافت کرتے ہیں۔ (١)
٤٢۔١ یعنی قیامت کب واقع اور قائم ہو گی؟ جس طرح کشتی اپنے آخری مقام پر پہنچ کر لنگر انداز ہوتی ہے اسی طرح قیامت کے...
وَآثَرَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا ﴿٣٨﴾
اور دنیاوی زندگی کو ترجیح دی (ہو گی)۔
فَإِنَّ الْجَحِيمَ هِيَ الْمَأْوَىٰ ﴿٣٩﴾
(اس کا) ٹھکانا جہنم ہی ہے۔
٣٩-۱ اس کےعلاوہ اس کا کوئی ٹھکانا نہیں ہو گا۔ جہاں وہ اس سے بچ کر پناہ لے لے۔
وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَىٰ...
وَأَغْطَشَ لَيْلَهَا وَأَخْرَجَ ضُحَاهَا ﴿٢٩﴾
اسکی رات کو تاریک بنایا اور اسکے دن کو نکالا۔
٢٩-۱ أَغْطَشَ أَظْلَمَ أَخْرَجَ کا مطلب أَبْرَز اور نَهَارَهَا کی جگہ ضُحَاهَا، اس لیے کہا کہ چاشت کا وقت سب سے اچھا اور عمدہ ہے۔ مطلب ہے کہ دن کو سورج کے ذریعے سے روشن بنایا۔
وَالْأَرْضَ بَعْدَ...
رَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوَّاهَا ﴿٢٨﴾
اسکی بلندی اونچی کی پھر اسے ٹھیک ٹھاک کر دیا۔ (١)
٢٨۔١ بعض نے سَمْكٌ کے معنی چھت بھی کیے ہیں، ٹھیک ٹھاک کرنے کا مطلب، اسے ایسی شکل و صورت میں ڈھالنا ہے کہ جس میں کوئی تفاوت، کجی، شگاف اور خلل باقی نہ رہے۔
أَأَنتُمْ أَشَدُّ خَلْقًا أَمِ السَّمَاءُ ۚ بَنَاهَا ﴿٢٧﴾
کیا تمہارا پیدا کرنا زیادہ دشوار ہے یا آسمان کا؟ (١) اللہ تعالیٰ نے اسے بنایا۔
٢٧۔١ یہ کفار مکہ کو خطاب ہے اور مقصود زجر و توبیخ ہے کہ جو اللہ اتنے بڑے آسمانوں اور ان کے عجائبات کو پیدا کر سکتا ہے، اس کے لیے تمہارا دوبارہ پیدا کرنا کون سا...
إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّمَن يَخْشَىٰ ﴿٢٦﴾
بیشک اس میں اس شخص کے لیے عبرت ہے جو ڈرے۔ (١)
٢٦۔١ اس میں نبی ﷺ کے لیے تسلی اور کفار مکہ کو تنبیہ ہے کہ اگر انہوں نے گزشتہ لوگوں کے واقعات سے عبرت نہ پکڑی تو ان کا انجام بھی فرعون کی طرح ہو سکتا ہے۔
فَحَشَرَ فَنَادَىٰ ﴿٢٣﴾
پھر سب کو جمع کر کے پکارا۔ (١)
٢٣-۱ اپنی قوم کو، یا قتال و محاربہ کے لیے اپنے لشکروں کو، یا جادوگروں کو مقابلے کے لیے جمع کیا اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی ربوبیت اعلیٰ کا علان کیا۔
فَقَالَ أَنَا رَبُّكُمُ الْأَعْلَىٰ ﴿٢٤﴾
تم سب کا رب میں ہی ہوں۔
فَأَخَذَهُ...
فَكَذَّبَ وَعَصَىٰ ﴿٢١﴾
تو اس نے جھٹلایا اور نافرمانی کی۔
ثُمَّ أَدْبَرَ يَسْعَىٰ ﴿٢٢﴾
پھر پلٹا دوڑ دھوپ کرتے ہوئے۔ (١)
٢٢۔١ یعنی اس نے ایمان و اطاعت سے اعراض ہی نہیں کیا بلکہ زمین میں فساد پھیلائے اور موسیٰ علیہ السلام کا مقابلہ کرنے کی سعی کرتا رہا، چنانچہ جادوگروں کو جمع کر کے ان کا مقابلہ...
فَأَرَاهُ الْآيَةَ الْكُبْرَىٰ ﴿٢٠﴾
پس اسے بڑی نشانی دکھائی۔ (١)
٢٠۔١ یعنی اپنی صداقت کے وہ دلائل پیش کیے جو اللہ کی طرف سے انہیں عطا کئے گئے تھے۔ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد وہ معجزات ہیں جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دیئے گئے تھے۔ مثلاً ید بیضا اور عصا اور بعض کے نزدیک آیات تسعہ۔
وَأَهْدِيَكَ إِلَىٰ رَبِّكَ فَتَخْشَىٰ ﴿١٩﴾
اور یہ کہ میں تجھے تیرے رب کی راہ دکھاؤں تاکہ تو (اس سے) ڈرنے لگے۔ (١)
١٩۔١ یعنی اس کی توحید اور عبادت کا راستہ، تاکہ تو اس کے عقاب سے ڈرے۔ اس لیے کہ اللہ کا خوف اسی دل میں پیدا ہوتا ہے جو ہدایت پر چلنے والا ہوتا ہے۔
فَقُلْ هَل لَّكَ إِلَىٰ أَن تَزَكَّىٰ ﴿١٨﴾
اس سے کہو کہ کیا تو اپنی درستگی اور اصلاح چاہتا ہے۔ (١)
١٨۔١ یعنی کیا ایسا راستہ اور طریقہ تو پسند کرتا ہے جس سے تیری اصلاح ہو جائے اور وہ یہ ہے کہ مسلمان اور مطیع ہوجا۔
اذْهَبْ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ إِنَّهُ طَغَىٰ ﴿١٧﴾
(کہ) تم فرعون کے پاس جاؤ اس نے سرکشی اختیار کر لی ہے۔ (١)
١٧۔١ یعنی کفر و معصیت اور تکبر میں حد سے تجاوز کر گیا ہے۔
هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ مُوسَىٰ ﴿١٥﴾
کیا موسیٰ (علیہ السلام) کی خبر تمہیں پہنچی ہے؟
إِذْ نَادَاهُ رَبُّهُ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى ﴿١٦﴾
جب کہ انہیں ان کے رب نے پاک میدان طویٰ میں پکارا۔ (١)
١٦۔١ یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب حضرت موسیٰ عليہ السلام مدین سے واپسی پر آگ کی تلاش میں کوہ طور پر پہنچ...
فَإِنَّمَا هِيَ زَجْرَةٌ وَاحِدَةٌ ﴿١٣﴾
(معلوم ہونا چاہیے) وہ تو صرف ایک (خوفناک) ڈانٹ ہے۔
فَإِذَا هُم بِالسَّاهِرَةِ ﴿١٤﴾
کہ (جس کے ظاہر ہوتے ہی) وہ ایک دم میدان میں جمع ہو جائیں گے۔ (١)
١٤۔١ سَاهِرَةٌ سے مراد زمین کی سطح یعنی میدان ہے۔ سطح زمین کو سَاهِرَةٌ اس لیے کہا گیا ہے کہ تمام...
قَالُوا تِلْكَ إِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌ ﴿١٢﴾
کہتے ہیں کہ پھر تو یہ لوٹنا نقصان دہ ہے۔ (١)
١٢۔١ یعنی اگر واقعی ایسا ہوا جیسا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہتے ہیں، پھر تو دوبارہ زندگی ہمارے لیے سخت نقصان دہ ہو گی۔
أَإِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةً ﴿١١﴾
کیا اس وقت جب کہ ہم بوسیدہ ہڈیاں ہو جائیں گے؟ (١)
١١۔١ یہ انکار قیامت کی مزید تاکید ہے کہ ہم کس طرح زندہ کر دیئے جائیں گے جب کہ ہماری ہڈیاں بوسیدہ اور ریزہ ریزہ ہو جائیں گی۔
يَقُولُونَ أَإِنَّا لَمَرْدُودُونَ فِي الْحَافِرَةِ ﴿١٠﴾
کہتے ہیں کہ کیا پہلی کی سی حالت کی طرف لوٹائے جائیں گے؟ (١)
١٠۔١ حَافِرَةٌ، پہلی حالت کو کہتے ہیں۔ یہ منکرین قیامت کا قول ہے کہ کیا ہم پھر اس طرح زندہ کر دیئے جائیں گے جس طرح مرنے سے پیشتر تھے؟
أَبْصَارُهَا خَاشِعَةٌ ﴿٩﴾
جس کی نگاہیں نیچی ہوں گی۔ (١)
٩۔١ یعنی أَبْصَارُ أَصْحَابِهَا، ایسے دہشت زدہ لوگوں کی نظریں بھی (مجرموں کی طرح) جھکی ہوئی ہوں گی۔
تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُ ﴿٧﴾
اس کے بعد ایک پیچھے آنے والی (پیچھے پیچھے) آئے گی۔ (١)
٧۔١ یہ دوسرا نفخہ ہو گا، جس سے سب لوگ زندہ ہو کر قبروں سے نکل آئیں گے۔ یہ دوسرا نفخہ پہلے نفخہ سے چالیس سال بعد ہو گا۔ اسے رَادِفَةٌ اس لیے کہا ہے کہ یہ پہلے نفخے کے بعد ہی ہو گا۔ یعنی نفخۂ ثانیہ، نفخۂ اولیٰ...